Wednesday, 14 January 2015

استخارہ کرنا اسلام میں جائز ہے بجواب قادیانی اور استخارہ

ایک اعتراض بعض جاہل کرتے ہیں کہ یہ جو قادیانی / احمدی ہیں کہتے ہیں کہ استخارہ کرکے اللہ سے دریافت کرو  کہ مرزا صاحب امام مہدی اور وہی مسیح ہیں کہ نہیں جن کا حدیث میں وعدہ ہے  ، تو ان کی ایسی باتوں میں نہیں آنا یہ سب جھوٹ ہوتا ہے ۔۔

جواب میں یاد رہے کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو خدا پر بھی یقین نہیں! یا انہیں یہ گمان ہے کہ خدا ان سے سچ بولتا ہی نہیں؟ جانتا بھی ہے کہ ایک شخص نے جھوٹا دعویٰ کردیا پھر اس کی سچائی کے بارے میں لوگوں کوخوابوں میں جھوٹ بتاتا ہے۔؟
دوسرا یہ کہ استخارہ کے ذریعہ خدا سے ہدایت مانگناکوئی خلاف شریعت کام نہیں ہے ۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ    رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ۔  (بخاری ، کتاب الدعوات باب الدعا عندالاستخارۃ )

پس ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ خدا سے پوچھو،کیونکہ حضور ﷺنے ہمیں یہی سکھلایا ہے۔

4 comments:

bia tariq نے لکھا ہے کہ

Jazak ALLAH.... very informative....

M. Ghumnam نے لکھا ہے کہ

وایسے جب اسود عنسی نے دعویٰ نبوت کیا تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نبوت کے متعلق استخارہ کیا تھا یا صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کو استخارہ کرنے کا کہا تھا ؟ یا اسی طرح صحابہ اکرام نے مسلیمہ کذاب کے بارے میں استخارہ کیا تھا ؟

Ahsan Ahmad نے لکھا ہے کہ

اسود اور مسیلمہ نے دعویٰ کس بنیاد پر کیا تھا ؟ افسوس کہ اسلامی تاریخ سے محض ناواقف ہیں مجلس احرار کے تمام لوگ ، اگر ہندو کانگرس نے پابندی نہیں لگائی تو صحیح مسلم کی کتاب میں سے ابن صیاد اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان ہوئی گفتگو پڑھ لینی چاہیے ہر احراری کو تاکہ طفلانہ سوال پوچھ کر خود کو آئندہ شرمندہ نہ کریں ۔

Rana Farhan نے لکھا ہے کہ

اگر آپ مناسب سمجھیں تو اسے بھی جواب کا حصہ بنائیں کہ قرآن کریم میں بھی نبی کریم ﷺ کی صداقت معلوم کرنے لیے استخارے کی ہدایت ہے جیسے اللہ فرماتا ہے کہ کہ اللہ کے حضور دو دو تین تین کھڑے ہو جاؤ اور بھر سوچو کہ محمد ﷺ کوئی دیوانہ نہیں ہیں

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔