محضر نامہ

تعار ف محضر نامہ


              محضر نامہ وہ اہم تاریخی دستاویز ہے جو جماعتِ احمدیہ نے 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنے مسلمان ہونے، اپنے بنیادی عقائد کی وضاحت اور جماعت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید کے لئے پیش کی تھی اور یہ بات شروع میں ہی واضح کر دی گئی تھی کہ جماعتِ احمدیہ کے نزدیک دُنیا کی کسی اسمبلی یا عدالت کو کسی شخص یا جماعت کے مذہب کی تعیین کا قطعاً کوئی اختیار نہیں کیونکہ اِس کا اختیار صرف خدا تعالیٰ کو ہے جو دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ اِسی طرح درد بھرے الفاظ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا تھا کہ یہ اسمبلی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُمّتِ محمدیہ (صلی الله علیہ وسلم) کے اِتحاد میں رخنہ ڈالنے کا موجب نہ بنے کیونکہ اِس سے ایک ایسی غلط اور خوفناک مثال قائم ہو گی جو آئندہ دوسرے فرقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
              جو محضر نامہ جماعتِ احمدیہ کو پیش کرنے کی توفیق ملی تھی وہ مِن و عَن ایک اہم تاریخی دستاویز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اِس محضر نامہ کے پیش کرنے کے بعد گیارہ روز تک پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملک کے اٹارنی جنرل اور مختلف علماء کی طرف سے جماعتِ احمدیہ پر بشدّت تنقید کی گئی اور اُس وقت کے امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ الله تعالیٰ نے پیش کردہ تمام اعتراضات کا ٹھوس، مدلّل اور اطمینان بخش جواب دیا۔


ایوان کی حالیہ قراردادوں پر ایک نظر

ہمارے محبوب مُلک پاکستان کی قومی اسمبلی کے تمام معزز ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اِس وقت دو قراردادیں خصوصی بحث کے لئے پیش ہیں ان میں سے ایک حزبِ اقتدار کی طرف سے اور ایک حزبِ اختلاف کی طرف سے ہے۔
ایک اُصولی سوال
پیشتر اس کے کہ ان دونوں قراردادوں میں اُٹھائے جانے والے سوالات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے۔ ہم نہایت اَدب سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ اُصولی سوال طَے کیا جائے کہ کیا دُنیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہٖ اِس بات کی مجاز ہے کہ
اوّل: کسی شخص سے یہ بُنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو؟
دوم: یا مذہبی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اِس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذہب ہے؟
انسان کا بنیادی حق اور دستور
ہم اِن دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک رنگ و نسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو اور دُنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔ اقوامِ متحدہ کے دستورالعمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔ (ضمیمہ نمبر1)اسی طرح پاکستان کے دستور اساسی میں بھی دفعہ نمبر ٢٠ کے تحت ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اِس لئے یہ امر اُصولاً طَے ہونا چاہئے کہ کیا یہ کمیٹی پاکستان کے دستورِ اساسی کی رُو سے زیرِ نظر قرار داد پر بحث کی مجاز بھی ہے یا نہیں؟
(اِس ضمن میں امام جماعتِ احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے ایک خطبہ کا انگریزی ترجمہ جس میں اس پہلو پر تفصیلی بحث کی گئی ہے ضمیمہ نمبر 2 کے طور پر لفِ ہٰذا کیا جاتا ہے۔)
انسانی فطرت اور عقل بھی کسی اسمبلی کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ کسی شخص یا فرقہ کو اِس حق سے محروم کر سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو کیونکہ ایسی صورت میں دُنیا کی ہر اسمبلی کو یہی حق دینا پڑے گا اور اِس اُصول کو تسلیم کرنے کے ساتھ جو مختلف قبیح صورتیں پیدا ہوں گی اُن میں سے بعض نمونۃ حسب ذیل ہیں:-
ا لف: ۔ دُنیا کی ہر قومی اسمبلی کو فی ذاتہٖ یہ حق بھی ہو گا کہ عیسائیوں کے بعض فرقوں کو غیرعیسائی یا ہندوؤں کے بعض فرقوں کو غیر ہندو قرار دے۔  وغیرہ وغیرہ
ب :۔ ہر مُلک میں موجود ہر مذہب کے ہر فرقے کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ قومی اسمبلی سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ فلاں فلاں فرقے کو غیر عیسائی یا غیر ہندو یا غیر مسلم قرار دینے پر غور کرے۔ وَعَلٰی ھٰذا القیاس۔
ج :  اگر جماعتِ احمدیہ کو بالخصوص زیرِ نظر رکھنے کی وجہ حالیہ فسادات ہیں تو اِس دلیل کی رُو سے پاکستان میں اب تک جتنے بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں یا اِمکاناً ہو سکتے ہیں ان سب کے بارہ میں بھی اِسی پہلو سے غور کرنا ضروری اور مناسب ہو گا۔
د : ۔دُنیا کی دیگر اسمبلیوں کو بھی یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ بعض مسلمان فرقوں کو اُن کے بعض عقائد کی رُو سے غیر مسلم قرار دے دیں۔ مثلاً ہندوستان کی قومی اسمبلی کا حق تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ مسلمان فرقوں کو یکے بعد دیگرے اُن فتاوٰی کی بناء پر جو اُن کے خلاف دیئے گئے غیر مسلم قرار دے کر ہندوستان کی غیر مسلم اکثریت میں جذب کر لے۔ (یاد رہے کہ اکثر ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں)
ہ:۔ اِسی طرح عیسائی حکومتیں اپنی عددی اکثریت کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرنے کی مجاز بھی ہوں گی کہ مسلمانوں کو اقلیت قرار دے کر شہری حقوق سے محروم کر دیں۔
یاد رہے کہ اِس وقت پاکستان میں عیسائی یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ انہیں شہری حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔
(دیکھئے پریس ریلیز جو شوافضل الدین تتمہ نمبر 3)
ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا صورتیں عقلاً قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں اور بشمول پاکستان دُنیا کے مختلف ممالک میں اَن گِنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔
قومی اسمبلی اور مذہبی اُمور پر فیصلہ کی اہلیت
کوئی قومی اسمبلی اِس لئے بھی ایسے سوالات پر بحث کی مجاز قرار نہیں دی جاسکتی کہ کسی بھی قومی اسمبلی کے ممبران کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ مذہبی اُمور پر فیصلے کے اہل بھی ہیں کہ نہیں؟
دُنیا کی اکثر اسمبلیوں کے ممبران سیاسی منشور لے کر رائے دہندگان کے پاس جاتے ہیں اور ان کا انتخاب سیاسی اہلیت کی بناء پر ہی کیا جاتا ہے۔ خود پاکستان میں بھی ممبرانِ اسمبلی کی بھاری اکثریت سیاسی منشور کی بناء پر اور علماء کے فتویٰ کے علی الرغم منتخب کی گئی۔
پس ایسی اسمبلی کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ کسی فرقہ کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ اس کا مذہب کیا ہے؟
یا کسی ایک عقیدہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ فلاں عقیدہ کی رُو سے فلاں شخص مسلمان رہ سکتا ہے یا نہیں؟
 اگر کسی اسمبلی کی اکثریت کو محض اِس بناء پر کسی فرقہ یا جماعت کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا مجاز قرار دیا جائے کہ وہ مُلک کی اکثریت کی نمائندہ ہے تو یہ مؤقف بھی نہ عقلاً قابلِ قبول ہے نہ فطرتاً نہ مذہباً  اِس قسم کے امور خود جمہوری اصولوں کے مطابق ہی دُنیا بھر میں جمہوریت کے دائرۂ  اختیار سے باہر قرار دیئے جاتے ہیں۔ اِسی طرح تاریخِ مذہب کی رُو سے کسی عہد کی اکثریت کا یہ حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ کسی کے مذہب کے متعلق کوئی فیصلہ دےاگر یہ اُصول تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باﷲ دُنیا کے تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ ظالمانہ تصور ہے جسے دُنیا کے ہر مذہب کا پَیروکار بِلا توقّف ٹھکرا دے گا۔
قرآن کریم اور ارشاداتِ نبوی ؐ   کا واضح ثبوت
قرآن کریم اور ارشاداتِ نبوی ؐ  کی رُو سے بھی کسی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ جبراً کسی کا مذہب تبدیل کرے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا لَا ٓاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ(البقرہ: 256) یعنی ”دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں”۔ اگر جسمانی ایذا رسانی کے ذریعے زبردستی کسی کا مذہب تبدیل کیا گیا ہو جبکہ اِلَّامَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ(النحل: 106) دِل حسبِ سابق ایمان پر قائم ہو تو ایسا طریق بھی   لَا ٓاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ  کی تعلیم کے منافی ہے اور زبردستی کسی مسلمان کو غیر مسلم یا ہندو کو مسلم قرار دینا بھی جبکہ اوّل الذکر اِسلام پر شرح صدر رکھتا ہو اور مؤخر الذکر ہندومذہب پر۔ تو یہ بھی آیت لَا ٓاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی نافرمانی میں داخل ہو گا  اس کی مزید تائید آیت وَلَا تَقُوْلُوْالِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا(النساء:94) کر رہی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ جو تمہیں مسلمانوں کی طرح ”السلام علیکم” کہے اُسے یہ کہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں کہ تُو مؤمن نہیں۔
آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا واضح فرمان یہی ہے کہ جو شخص توحیدِ باری تعالیٰ کا اقرار کرے اس پر یہ الزام لگانا کہ وہ زبان سے تواقرار کر رہا ہے مگر دِل سے مُنکر ہے لہٰذا مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔ اپنے حدِّاختیار سے تجاوز کرنا ہے۔ چنانچہ ذیل کی حدیثِ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم بالبداہت اِس امر پر روشنی ڈال رہی ہے:
حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں جُہینہ قبیلہ کے نخلستان کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح صبح اُن کے چشموں پر ہی اُن کو جالیا۔ مَیں نے اور ایک انصاری نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا۔ جب ہم نے اس کو جالیا اور اسے مغلوب کر لیا تو وہ بول اُٹھا لَآاِلٰہَ اِلَّا اﷲُ (خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں) اِس بات سے میرا انصاری ساتھی اس سے رُک گیا لیکن مَیں نے اس پر نیزے کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ واپس آئے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس بات کا علم ہؤا تو آپ ؐ نے فرمایا اَے اُسامہ کیا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ پڑھ لینے کے باوجود تم نے اُسے قتل کر دیا؟ مَیں نے عرض کیا یا رسول اﷲ! وہ صرف بچاؤ کے لئے (یہ الفاظ) کہہ رہا تھا۔ آپؐ بار بار یہ دُہراتے جاتے تھے یہاں تک کہ مَیں نے تمنّا کی کہ کاش آج سے پہلے مَیں مسلمان ہی نہ ہوتا  اَور ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبکہ اس نے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ  کا اقرار کر لیا پھر بھی تُو نے اُسے قتل کر دیا؟ مَیں نے عرض کیا اے اﷲ کے رسول! اس نے ہتھیار کے ڈر سے ایسا کہا تھا آپؐ نے فرمایا کہ کیوں نہ تُو نے اُس کا دِل چیر کر دیکھا کہ اُس نے دِل سے کہا ہے یا نہیں؟ حضور ؐ نے یہ بات اِتنی بار دُہرائی کہ مَیں تمنّا کرنے لگا کہ کاش مَیں آج مسلمان ہؤا ہوتا۔
 (بخاری کتاب المغازی باب بعث النّبی اُسامۃ بن زید الی الحرقات من جہینۃ صفحہ 612)
قراردادوں پر اسلامی نقطۂ نگاہ سے ایک بُنیادی اِعتراض
اِس سلسلہ میں نہایت ادب سے یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ نیشنل اسمبلی کے سامنے جس صورت میں موجودہ ریزولیوشن پیش ہؤا ہے اس پر اسلامی نقطۂ نگاہ سے ایک نہایت اہم بُنیادی اِعتراض وارد ہوتا ہے جس کی روشنی میں موجودہ قرار داد پر غور کرنے سے قبل اِس نکتۂ  استحقاق کا فیصلہ ضروری ہے۔
وہ یہ کہ ہمارے آقا و مَولا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ ”سَتَفْتَرِقُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ عَلٰی ثَـلَاثٍ وَّ سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھَافِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً” کہ میری اُمّت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔
حضرت محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اﷲ علیہ جو مسلمانانِ حجاز کی بھاری اکثریت اور اعلیٰ حضرت شاہ فیصل کے عقیدہ کے مطابق بارہویں صدی کے مجدّدتھے مندرجہ بالا حدیث درج کر کے ارشاد فرماتے ہیں:
’’فَھٰذِہِ الْمَسْئَلَۃُ اَجَلُّ الْمَسَائِلِ فَمَنْ فَھِمَھَا فَھُوَالْفَقِیْہُ وَمَنْ عَمِلَ بِھَا فَھُوَالْمُسْلِمُ‘‘۔
 (مختصر سیرۃِ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم لعلامہ محمد بن عبدالوہاب صفحہ 18 مطبوعہ دارالعربیۃ للطباعۃ و النشرو التوزیع بیروت لبنان)
یعنی تہترّفرقوں میں سے بہترّ کے ناری اور ایک کے جنتی ہونے کا مسئلہ ایک عظیم الشان مسئلہ ہے جو اسے سمجھتا ہے وہی فقیہہ ہے اور جو اس پر عمل کرتا یعنی بہتّر فرقوں کو عملاً ناری اور ایک کو جنتی قرار دیتا ہے صرف اور صرف وہی مسلمان ہے۔
جماعتِ اسلامی کا مشہور آرگن ”ترجمان القرآن” بابت جنوری1945ء لکھتا ہے:-
”اِسلام میں نہ اکثریت کا کسی بات پر متفق ہونا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے نہ اکثریت کا نام سوادِ اعظم ہے نہ ہر بھیڑ جماعت کے حُکم میں داخل ہے اور نہ کسی مقام کے مولویوں کی کسی جماعت کا کسی رائے کو اختیار کر لینا اجماع ہے ۔۔۔۔۔۔اس مطلب کی تائید اس حدیثِ نبوی ؐ سے ہوتی ہے جو عبداﷲ بن عمر ؓ سے بَایں الفاظ مروی ہے:-
اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَ تَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلاثٍ وَّسَبْعِیْنَ مِلَّۃً۔ کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً قَالُوْا مَنْ ھِیَ یَارَسُوْلَ اﷲِ ؟قَالَ مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ۔
یعنی بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بَٹ گئے تھے اور میری اُمّت تہتّر فرقوں میں بَٹ جائے گی جو سب کے سب جہنم میں پڑ جائیں گے بجز ایک کے۔ لوگوں نے پوچھا یہ کون لوگ ہوں گے یا رسول اﷲ؟آپؐ نے فرمایا وہ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوں گے”۔۔۔۔۔۔۔یہ گروہ نہ کثرت میں ہو گا نہ اپنی کثرت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا بلکہ اس اُمّت کے ٧٣ فرقوں میں سے ایک ہو گا اور اس معمور دُنیامیں ان کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہو گی جیسا کہ فرمایاہے:-
بَدَءَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَّسَیَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَءَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَآءِ۔۔۔۔۔۔۔
پس جو جماعت محض اپنی کثرتِ تعداد کی بناء پر اپنے آپ کو وہ جماعت قرار دے رہی ہے جس پر اﷲ کا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کے لئے تو اس حدیث میں امید کی کوئی کرن نہیں کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طریقہ پر بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہو گی دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہو گی”۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن جلد 62 عدد 3،4/جنوری، فروری 1945ء صفحہ 175،176۔ مرتبہ سیّد ابو الاعلیٰ مودودی۔ دارالعلوم جمال پور پٹھان کوٹ)
 آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا فرمان کے بالکل برعکس اپوزیشن کے علماء کی طرف سے پیش کردہ ریزولیوشن یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اُمّتِ مُسلمہ کے بہتّر فرقے تو جنتی ہیں اور صرف ایک دوزخی ہے جو قطعی طور پر حضرت خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارک کے خلاف اور آپ کی صریح گستاخی کے مترادف ہے۔
لہٰذا موجودہ شکل میں اِس ریزولیوشن پر غور کرنا بلکہ پیش کیا جانا اسلامی مملکتِ پاکستان کی معزز قومی اسمبلی کو ہر گز زیب نہیں دیتا البتہ اگر یہ قرار داد اِس رنگ میں پیش ہو کہ حدیثِ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کی روشنی میں واحد ناجی فرقہ کا تعیّن کیا جائے جو اس معمور دُنیا میں اجنبی اور اقلیت میں ہو گا تو ایسا کرنا عین منشاءِ نبویؐ کے مطابق ہو گا۔
حق و صداقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی درخواست
مندرجہ بالا اُمور کی روشنی میں ہم مؤدّبانہ مگر پُر زور گزارش کرتے ہیں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے معاملات پر غور کرنے اور فیصلہ کرنے سے گریز کرے جن کے متعلق فیصلہ کرنا اور غور کرنا  بُنیادی اِنسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اقوامِ متحدہ کے منشور اور پاکستان کے دستورِ اساسی کے خلاف ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ارشاداتِ نبوی ؐ کے بھی سراسر منافی ہے اور بہت سی خرابیوں اور فساد کو دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائم کردہ یہ مثال دیگر ممالک میں بسنے والے اقلیتی مذاہب اور فرقوں کے لئے شدید مُشکلات کا موجب بن سکتی ہے۔ بہرحال اگر پاکستان کی قومی اسمبلی مندجہ بالاگزارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود کو اِس امر کا مجاز تصور کرے کہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے کسی بھی فرقہ کو کسی عقیدہ یا قرآن کریم کی کسی آیت کی مختلف تشریح کی بناء پر دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینے کی مجاز ہے تو ہم یہ تجویز کریں گے کہ ایسی صورت میں حتّی المقدور احتیاط بَرتی جائے اور عقل و انصاف کے تقاضوں کو حدِّ امکان تک پورا کیا جائے اور ہر گز ایسے رنگ میں اِس مسئلہ پر ہاتھ نہ ڈالا جائے کہ غیر جانبدار دُنیا کی نظر میں یہ معاملہ تضحیک کا موجب ہو اور قومی وقار کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بنے۔
 سربراہِ قوم جنابِ وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی قوم سے اپنی نشری تقریر بتاریخ 13/مئی میں یہ وعدہ فرمایا تھا کہ زیرِ نظر مسئلہ کو عمدگی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔ قوم کے سربراہ کے اِس حتمی وعدہ کی بناء پر قومی اسمبلی پر دوہری ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ اِس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے انصاف اور معقولیت کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔

مسلمان کی تعریف اور جماعتِ احمدیہ کا مؤقف


دُنیا بھر میں یہ ایک مسلّمہ امر ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی نَوع معیّن کرنے سے قبل اس نَوع کی جامع و مانع تعریف کر دی جاتی ہے جو ایک کسوٹی کا کام دیتی ہے اور جب تک وہ تعریف قائم رہے اِس بات کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ اس نَوع میں داخل شمار کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اِس لحاظ سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اِس مسئلے پر مزید غور سے قبل مسلمان کی ایک جامع و مانع متفق علیہ تعریف کی جائے جس پر نہ صرف مسلمانوں کے تمام فرقے متفق ہوں بلکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کا اس تعریف پر اتفاق ہو۔ اِس ضمن میں مندرجہ ذیل تنقیحات پر غور کرنا ضروری ہو گا۔
ا :۔ کیا کتاب اﷲ یا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے مسلمان کی کوئی تعریف ثابت ہے جس کا اطلاق خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں بِلااستثناء کیا گیا ہو؟ اگر ہے تو وہ تعریف کیا ہے؟
ب : ۔کیا اس تعریف کو چھوڑ کر جو کتاب اﷲ اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمائی ہو اور خود آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں اس کا اطلاق ثابت ہو۔ کسی زمانہ میں بھی کوئی اَور تعریف کرنا کسی کے لئے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟
ج : ۔مذکورہ بالاتعریف کے علاوہ مختلف زمانوں میں مختلف علماء یا فرقوں کی طرف سے اگر مسلمان کی کچھ دوسری تعریفات کی گئی ہیں تو وہ کون کون سی ہیں؟ اور اوّل الذکر شِق میں بیان کردہ تعریف کے مقابل پر ان کی کیا شرعی حیثیت ہو گی؟
د : ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں فتنۂ  اِرتداد کے وقت کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یا آپؐ کے صحابہ ؓ نے یہ ضرورت محسوس فرمائی کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں رائج شدہ تعریف میں کوئی ترمیم کریں؟
ر : ۔کیا زمانۂ  نبوی ؐ یا زمانۂ خلافتِ راشدہ میں کوئی ایسی مثال نظر آتی ہے کہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ کے اِقرار کے اور دیگر چار ارکانِ اسلام یعنی نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو؟
س :۔ اگر اِس بات کی اجازت ہے کہ پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو قرآن کریم کی بعض آیات کی ایسی تشریح کرنے کی وجہ سے جو بعض دیگر فرقوں کے علماء کو قابلِ قبول نہ ہو دائرۂِ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے یا ایسا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے جو بعض دیگر فرقوں کے نزدیک اِسلام کے منافی ہے تو ایسی تشریحات اور عقائد کی تعیین بھی ضروری ہو گی تاکہ مسلمان کی مثبت تعریف میں یہ شِق داخل کر دی جائے کہ پانچ ارکانِ اسلام کے باوجود اگر کسی فرقہ کے عقائد میں یہ یہ اُمور داخل ہوں تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔
ص : ۔پنج ارکانِ اسلام پر ایمان کے باوجود اگر مسلمان فرقوں کی تکفیر کا کوئی ایسا دروازہ کھول دیا جائے جس کا ذکر شِق ”ر” میں ہے توایسے تمام اُمور پر نظر کرنا عقلاً اور اِنصافاً ضروری ہے جن پر بِناء کرتے ہوئے مختلف علماء نے اپنے فرقہ کے علاوہ دیگر فرقوں کو قطعاً کافر، مُرتد یا دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا مثال کے طور پر چند اُمور درج ذیل کئے جاتے ہیں:
ا :۔ قرآن کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کا عقیدہ۔(اشاعرہ۔ حنابلہ)
ب : ۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بَشر نہیں بلکہ نُور یقین کرنا۔(بریلوی)
ج :۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو نُور نہیں بلکہ بَشر یقین کرنا۔(اہلحدیث)
د : ۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق یہ ایمان رکھنا کہ حاضر ناظر بھی ہیں اور عالم الغیب بھی۔ (بریلوی)
ھ : ۔یہ ایمان رکھنا کہ فوت شدہ بزرگان سے امداد طلب کرنا جائزہے اور بہت سے وفات یافتہ اَولیاء یہ طاقت رکھتے ہیں کہ عندالطلب کسی کی مُراد پوری کر سکتے ہیں۔(بریلوی)
و : ۔یہ عقیدہ رکھنا کہ قرآن کے سوا شریعت میں کوئی اَور چیز مُعتبر نہیں لہٰذا ہم سُنّتِ رسول ؐ اور احادیث رسول ؐ کی پیروی کے پابند نہیں خواہ کیسے ہی تواتر اور قوی روایات سے ہم تک پہنچی ہوں۔ (چکڑالوی۔ پرویزی)
ز : ۔یہ عقیدہ رکھنا کہ قرآن کے تیس پاروں میں درج سُورتوں کے علاوہ بھی کچھ سُورتیں ایسی نازل ہوئی تھیں جن میں حضرت علی کرّم اﷲ وجہہ، کا ذکر پایا جاتا تھا لیکن وہ سُورتیں ضائع کر دی گئیں لہٰذا جو قرآن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہؤا تھا وہ مکمل صورت میں ہم تک نہیں پہنچا۔ (غالی شیعہ)
ح: ۔یہ عقیدہ رکھنا کہ جماعت خانوں میں پنجوقتہ نماز کی بجائے کسی بزرگ کی تصویر سامنے رکھ کر مُناجات کرنا جائز ہے اور خدا سے مخاطب ہونےکی بجائے اس بزرگ کی تصویر سے مخاطب ہو کر دُعا کرنی جائز ہے اور یہی دُعا نماز کے قائم مقام ہے۔ (اسمٰعیلی فرقہ)
ط :۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ پنج تن پاک اور چھ دیگر صحابہ ؓ کے سوا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے تمام صحابہ ؓ بشمولیت خلفائے راشدینِ ثلاثہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضوان اﷲ علیہم اجمعین سب کے سب اِسلام سے برگشتہ ہو چکے تھے اور عیاذاً باﷲ منافق کا درجہ رکھتے تھے۔ نیز یہ عقیدہ کہ پہلے تین خلفاء نعوذ باﷲ غاصب تھے اِس لئے ان پر تبّرا کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ (شیعہ)
ی : ۔کسی بزرگ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ خدا اس میں عارضی یا مُستقل طور پر حلول فرما چکا ہے۔(حلولی فرقہ)
مندرجہ بالا تنقیحات پر غور کرنا اِس لئے ضروری ہے کہ قطعی اور ٹھوس شواہد سے یہ ثابت ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے متعلق مختلف مسلمان فرقوں کے علماء اور مجتہدین قطعی فتویٰ صادر فرما چکے ہیں کہ ایسے عقائد کے حامل خواہ دیگر ضروریاتِ دین پر ایمان بھی رکھتے ہوں یقینا دائرۂ  اسلام سے خارج ہیں اور اُن کے کُفر میں شک کرنے والا بھی بِلا شُبہ خارج از اسلام قرار دیا جائے گا۔
اِس ضمن میں بعض فتاویٰ ضمیمہ نمبر 4 میں ملاحظہ فرمائیے۔
مندرجہ بالا اُمور کی روشنی میں ہم پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ اگر حقیقتاً عقل اور انصاف کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اسلام میں جماعتِ احمدیہ کی حیثیت پر غور فرمانا مقصود ہے یا اسلام میں آیت خاتم النّبییّن کی کسی تشریح کے قائل ہونے والے کسی فرد یا فرقہ کی حیثیت کا تعیّن کرنا مقصود ہے تو پھر ایسا پیمانہ تجویز کیا جائے جس میں ہر منافی اسلام عقیدہ رکھنے والے کے کُفر کو ماپا جاسکتا ہو اور اس پیمانہ میں جماعتِ احمدیہ کے لئے بہرحال کوئی گنجائش نہیں۔
مندرجہ بالا تمام سوالات کے بارے میں جماعتِ احمدیہ کے مؤقف کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اوّل:       جماعتِ احمدیہ کے نزدیک مسلمان کی صرف وہی تعریف قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہو سکتی ہے جو قرآنِ عظیم سے قطعی طور پر ثابت ہو اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم سے قطعی طور پر مروی ہو اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں اسی پر عملثابت ہو۔ اِس اصل سے ہٹ کر مسلمان کی تعریف کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ رخنوں اور خرابیوں سے مبرّا نہیں ہو گی بالخصوص بعد کے زمانوں میں (جب کہ اسلام بٹتے بٹتے بہتّر فرقوں میں تقسیم ہو گیا) کی جانے والی تمام تعریفیں اس لئے بھی ردّ کرنے کے قابل ہیں کہ ان میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہے اور بیک وقت اُن سب کو قبول کرنا ممکن نہیں اور کسی ایک کو اختیار کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ اس طرح ایسا شخص دیگر تعریفوں کی رُو سے غیر مسلم قرار دیا جائے گا اور اس دَلدَل سے نکلنا کسی صورت میں ممکن نہیں رہے گا۔ جسٹس محمد منیر نے1953ء کی انکوائری کے دَوران جب مختلف علماء سے مسلمان کی تعریف پر روشنی ڈالنے کے لئے کہا تو افسوس ہے کہ کوئی دو)2 (عالم بھی کسی ایک تعریف پر متفق نہ ہو سکے۔ چنانچہ اِس بارے میں جسٹس منیر صاحب افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:-
’’علماء کی طرف سے کی گئی مختلف تعریفوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کیا اِس امر کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم کسی قسم کا تبصرہ کریں سوائے اس کے کہ کوئی بھی دو(2 )عالمانِ دین اِس بنیادی مسئلہ پر متفق نہیں اگر ہم بھی ایک عالمِ دین کی طرح اپنی طرف سے ایک تعریف کریں اور وہ باقی تمام تعریفوں سے مختلف ہو تو ہم خود بخود دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائیں گے اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی طرف سے کی گئی تعریف اختیار کریں تو ہم اس عالم کے نظریہ کے مطابق تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسری ہر تعریف کے مطابق کافر‘‘۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات 1953ء صفحہ 217،218) جسٹس منیر جس نتیجہ پر پہنچے ہیں اس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ مسلمان کی تعریف کے بارہ میں رپورٹ کی تدوین تک کبھی کوئی ایسا اجماع نہیں ہؤا جسے سَلفِ صالحین کی سَند حاصل ہو لہٰذا آج اگر کوئی بظاہر متفق علیہ تعریف پیش کی جائے تو اسے اُمّت کی اجماعی تعریف ہر گز قرار نہیں دیا جائے گا اور اُسے سلفِ صالحین کی سند حاصل نہیں ہو گی۔
پس جماعتِ احمدیہ کا مؤقف یہ ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے جو حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مُبارک سے ارشاد فرمائی اور جو اسلامی مملکت کے لئے ایک شاندار چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے جس کے لئے ہم تین احادیثِ نبویہ صلی اﷲ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں:
2- حضرت جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور ؐ سے پوچھا:”یَامُحَمَّدُ اَخْبِرْ نِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ: اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ وَتُقِیْمَ الصَّلٰوۃَ وَتُؤْتِی الزَّکٰوۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ البَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۔ قَالَ صَدَقْتَ۔ فَعَجِبْنَالَہ، یَسْئَلُہ، وَیُصَدِّقُہ،۔ قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ۔ قَالَ: اَنْ تُؤْمِنَ بِاﷲِ وَمَلٰۤئِکَتِہٖ وَکُتُبِہ! وَرُسُلِہ! وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ قَالَ صَدَقْتَ”۔
(مسلم کتاب الایمان باب نمبر 1)
2- ”جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَھْلِ نَجْدٍ ثَائِرَالرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہٖ وَلَا نَفْقَہُ مَا یَقُوْلُ حَتّٰی دَنَافَاِذَا ھُوَ یَسْأَلُ عَنِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خمْسُ صَلٰوَتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ فَقَالَ ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُ ھَا؟ قَالَ لَااِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصِیَامُ رَمَضَانَ قَالَ ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُہ،؟ قَالَ لَا اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ قَالَ وَذَکَرَلَہ، رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الزَّکَاۃَ قَالَ ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ لَا اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ قَالَ فأَدْبَرَالرَّجُلُ وَھُوَ یَقُوْلُ وَاﷲِ لَاأَزِیْدُ عَلٰی ھٰذَا وَلَا أَنْقُصُ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَفْلَحَ اِنْ صَدَقَ”۔
 (صحیح بخاری کتاب الایمان باب الزکاۃ من الاسلام)
 ترجمہ حدیث نمبر 1: کہ اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم! مجھے اِسلام کے بارے میں مطلع فرمائیں۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تُو گواہی دے کہ اﷲ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگرراستہ کی توفیق ہو تو بیت اﷲ کا حج کرو۔ اس شخص نے کہا کہ حضور ؐ نے بجا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب آیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اُس شخص نے پوچھا کہ مجھے ایمان کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ آپ اﷲ پر ایمان لائیں۔ اُس کے فرشتوں ، اُس کی کتابوں، اُس کے رسُولوں پر ایمان لائیں نیز یومِ آخر پر ایمان لائیں اور قضاء و قدر کے بارے میں خیر و شر پر بھی ایمان لائیں۔ اُس شخص نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا ہے۔
ترجمہ حدیث نمبر 2: اہلِ نجدمیں سے ایک شخص پراگندہ بالوں والا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سُنتے تھے مگر اس کی باتوں کو نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ وہ شخص زیادہ قریب ہو گیا تو معلوم ہؤا کہ وہ حضور ؐ سے اِسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاکہ دن اور رات میں پانچ نمازیں مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ ان پانچ کے علاوہ اَور بھی نمازیں ہیں؟ حضور ؐ نے فرمایا کہ نہیں بجز اس کے کہ تم بطور نفل ادا کرنا چاہو۔ حضور ؐ نے پھر فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے پوچھا کہ رمضان کے روزوں کے علاوہ اَور بھی روزے فرض ہیں؟ حضورؐ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل رکھنا چاہو۔ پھر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی اَور ہے؟ حضور ؐ نے فرمایا کہ نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل زیادہ ادا کرنا چاہو۔ وہ شخص مجلس سے اُٹھ کر چل پڑا اور یہ کہہ رہا تھا کہ بخدا مَیں ان احکام پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا رسولِ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ اپنے اس قول میں سچّا ثابت ہؤا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا۔
”مَن صَلّٰی صَلٰوتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَ اَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِیْ لَہ ذِمَّۃُ اﷲِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ فَـلَا تُخْفِرُوا اﷲ فِیْ ذِمَّتِہٖ”۔
(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب فضل استقبال القبلۃ)
”جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم ادا کرتے ہیں۔ اُس قبلہ کی طرف رُخ کیا جس کی طرف ہم رُخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اﷲ اور اُس کے رسول کا ذمّہ ہے۔ پس تم اﷲ کے دئے ہوئے ذمّے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو”۔ 1؎ ہمارے مقدس آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضور ؐ نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالمِ اسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بُنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اِس بُنیادکو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ اُمّتِ مُسلمہ کا شیرازہ ہمیشہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گاقرونِ اُولیٰ کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں میں مختلف زمانوں میں مختلف علماء نے اپنی من گھڑت تعریفوں کی رُو سے کُفر کے جو فتاوٰی صادر فرمائے ہیں ان سے ایسی بھیانک صورتِ حال پیدا ہوئی ہے کہ کسی ایک صدی کے بزرگانِ دین، علمائے کرام، صوفیاء اور اولیاء اﷲ کا اسلام بھی ان تعریفوں کی رُو سے بچ نہیں سکا اور کوئی ایک فرقہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا جس کا کُفر بعض دیگر فرقوں کے نزدیک مسلّمہ نہ ہو۔ اِس ضمن میں ضمیمہ نمبر 5 لف ھٰذا کیا جاتا ہے۔
فتاوٰی کُفر کی حیثیت
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان فتاوٰی کُفر کی کیا حیثیت ہے اور کیا کوئی عالمِ دین اِنفرادی حیثیت سے یا اپنے فرقہ کی نمائندگی میں کسی دوسرے فرد یا فرقہ پر کُفر کا فتویٰ دینے کا مجاز ہے یا نہیں اور ایسے فتاوٰی سے اُمّتِ مسلمہ کی اجتماعی حیثیت پر کیا اثر پڑے گا؟
 جماعتِ احمدیہ کے نزدیک ایسے فتاوٰی کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اِس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عند اﷲ کافر قرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حَشر نشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہو گا۔ اِس لحاظ سے ان فتاوٰی کو اِس دُنیا میں محض ایک انتباہ کی حیثیت حاصل ہے اور جہاں تک دُنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو اُمّتِ مُسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا اہل یا مجاز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے اور اس کا فیصلہ قیامت کے روز جزا سزا کے دن ہی ہو سکتا ہے۔ دُنیا کے معاملات میں ان فتاوٰی کا اطلاق اُمّتِ مُسلمہ کی وحدت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور کسی فرقے کے علماء کے فتویٰ کے پیش نظر کسی دوسرے فرقہ یا فرد کو اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔
 یہ مؤقف کہ ایک فرقہ کے کُفر کے بارہ میں اگر باقی تمام فرقوں کا اتفاق ہو جائے توایسی صورت میں دائرۂ اسلام سے اس فرقہ کا اخراج جائز قرار دیا جاسکتا ہے اِس بناء پر غلط اور نامعقول ہے کہ (جیسا کہ ضمیمہ میں درج شُدہ فتاوٰی کے مطالعہ سے ظاہر ہو گا) عملاً مسلمانوں کے ہر فرقہ میں کچھ نہ کچھ اعتقادات ایسے پائے جاتے ہیں جن کے متعلق اکثرفرقوں کا یہ اتفاق ہے کہ ان کا حامل دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور یہ صورتِ حال آسمانی حَکم و عَدل کا تقاضہ کرتی ہے۔
 اگر آج بعض اختلافات کی بناء پر جماعتِ احمدیہ کے خلاف دیگر تمام فرقوں کا اتفاق ممکن ہے تو کل اہلِ تشیع کے خلاف ان کے بعض خصوصی عقائد کے بارے میں بھی ایسا ہوناممکن ہے اور اہلِ قرآن اَلموسُوم چکڑالوی یا پرویزی کے متعلق بھی ایسا ہو سکتا ہے اور اہلِ حدیث ، وہابی یا دیوبندیوں کے بعض عقائد کے متعلق بھی دیگر فرقوں کے علماء کا عملاً اتفاق ہے۔ پس سوادِ اعظم کا لفظ ایک مبالغہ آمیز تصور ہے۔ کسی ایک فرقہ کو خاص طور پر مدِّنظر رکھا جائے تو اس کے مقابل پر دیگر تمام فرقے سوادِ اعظم کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اِس طرح باری باری ہر ایک فرقہ کے خلاف بقیہ سوادِ اعظم کا فتویٰ کُفر ثابت ہوتا چلا جائے گا۔
 ہمارے نزدیک یہ فتاوٰی ظاہر پر مبنی ہیں اور فی ذاتہا ان کو جنت کا پروانہ یا جہنم کا وارنٹ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جہاں تک حقیقتِ اسلام کا تعلق ہے حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں ہم حقیقی مسلمان کی تعریف درج کرتے ہیں:-
”اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اِس آیتِ کریمہ میں اُس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہُ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗ اَجرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اﷲ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔ مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔
”اِعتقادی” طور پر اِس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو درحقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خداتعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے اور ”عملی” طور پر اِس طرح سے کہ خالصاً ِﷲ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجا لاوے مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبودِ حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے
اَب آیاتِ ممدوحہ بالا پر ایک نظرِ غور ڈالنے سے ہرا یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اِسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود معہ اپنے تمام باطنی و ظاہری قویٰ کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خداتعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی مُعطیٔ حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اِعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اِسلام اور اس کی حقیقتِ کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے یعنی شخص مدعیٔ  اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دِل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا حِلم اور اس کا عِلم اور اس کی تمام رُوحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور سرور اور جو کچھ اس کا سَر کے بالوں سے پَیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے یہاں تک کہ اس کی نیّات اور اس کے دِل کے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اُس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔ غرض یہ ثابت ہو جائے کہ صدقِ قدم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے اور تمام اعضاء اور قویٰ الٰہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں کہ گویا وہ جوارح الحق ہیں۔
اور ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات بھی صاف اور بدیہی طور پر ظاہر ہو رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی کا وقف کرنا جو حقیقتِ اسلام ہے دو(2)قسم پر ہے۔ ایک یہ کہ خداتعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جاوے اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک باقی نہ رہے اور اُس کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیّت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضا و قدر کے امور بہ دل و جان قبول کئے جائیں اور نہایت نیستی اور تذلّل سے ان سب حُکموں اور حدّوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارادتِ تام سَر پر اُٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اُس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اُس کی ملکُوت اور سلطنت کے علو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اُس کے آلاء اور نعماء کے پہچاننے کے لئے ایک قوی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔
دوسری قسم اﷲ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کی یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور باربرداری اور سچی غمخواری میں اپنی زندگی وقف کردی جاوے۔ دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھاویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رَنج گوارا کر لیں۔
اِس تقریر سے معلوم ہؤا کہ اِسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے اور کوئی انسان کبھی اِس شریف لقب اہلِ اسلام سے حقیقی طور پر ملقّب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخُدا نہ کر دیوے اور اپنی انانیّت سے معہ اُس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اُٹھا کر اُسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔
پس حقیقی طور پر اُسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا کہ جب اُس کی غافلانہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اُس کے نفس امّارہ کا نقشِ ہستی مع اُس کے تمام جذبات کے یک دفعہ مِٹ جائے اور پھر اِس موت کے بعد مُحسن ﷲ ہونے کے نئی زندگی اُس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اُس میں بجُز طاعتِ خالق اور ہمدردیٔ  مخلوق کے اَور کچھ بھی نہ ہو۔
خالق کی طاعت اِس طرح سے کہ اُس کی عزت و جلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزّتی اور ذ ّلت قبول کرنے کے لئے مُستعد ہو اور اُس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں موتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشیٔ خاطر کاٹ سکے اور اُس کے اَحکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضاجوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلاوے کہ گویا وہ کھا جانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا بھَسم کر دینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بھاگنا چاہئے۔ غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیات چھوڑ دے اور اس کے پیوند کے لئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کے لئے سب نفسانی تعلقات توڑ دے۔
اور خلق اﷲ کی خدمت اِس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طُرق کی راہ سے قسّامِ اَزل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے اِن تمام امور میں محض ِﷲ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچّی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہو سکتی ہے ان کو نفع پہنچاوے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خدا داد قوت سے مدد دے اور اُن کی دُنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگاوے
سو یہ عظیم الشان لِلّٰہی طاعت و خدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حقیّتِ تامہ سے بھری ہوئی ہے یہی اسلام اور اِسلام کی حقیقت اور اِسلام کا لُبِّ لُباب ہے جو نفس اور خلق اور ہَوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے”۔
 (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ57 تا 62)

مقامِ خاتم النّبییّن ؐاورحضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کی عارفانہ تحریرات


اِنکارِ ختمِ نبوت کے اِلزام کا تجزیّہ

 یہ الزام بالبداہت غلط ہے اور اِفتراء پردازی کے مترادف ہے کہ نعوذ باﷲ جماعتِ احمدیہ آیت ”خاتم النّبییّن” کی مُنکر ہے اور آنحضور حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو ”خاتم النّبییّن” تسلیم نہیں کرتی۔ تعجب ہے کہ یہ الزام مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے ایک ایسی جماعت پر لگایا جاتا ہے جو یہ پُختہ ایمان رکھتی ہے کہ قرآن کریم کی ایک آیت تو کُجا ایک شعشہ یا ایک نقطہ بھی منسوخ نہیں حالانکہ اس کے برعکس دیگر فرقوں کے علماء کے نزدیک قرآن کی بعض آیات بعض دوسری آیات کے ذریعہ منسوخ ہو چکی ہیں اور اَب ان کی مثال گویا انسانی جسم میں اپینڈکس کی سی ہے۔ پھر کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ قرآن کریم میں پانچ سے لے کر پانچ صَد آیات تک منسوخ ماننے والے فرقے ایک ایسے فرقے پر قرآن کریم کی کسی آیت کے انکار کا الزام لگا رہے ہیں جو پانچ تو درکنار ایک آیت کے ایک نقطہ تک کی تنسیخ کا قائل نہیں ع

ناطقہ سَر بگریباں کہ اِسے کیا کہئے

 زبر دستی اور دَھونس کے سوا اِسے اَور کیا قرار دیا جاسکتا ہے؟ جب جماعتِ احمدیہ کی طرف سے یہ اصرار کیا جاتا ہے کہ ہمارا یہی عقیدہ ہے اور اسی کی بار بار ہمیں بانیٔ  سلسلہ احمدیہ کی طرف سے تلقین کی گئی ہے کہ قرآن خدا کی آخری اور کامل کتاب اور محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے آخری اور کامل رسُول اور خاتم النّبییّن ہیں تو مخالف علماء کی طرف سے ہمیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ تم یہ کہنے کے باوجود کسی نہ کسی معنٰی میں نبی کے آنے کے امکان کو باقی سمجھتے ہو لہٰذا اِس آیتِ کریمہ کے مفہوم کا انکار کرتے ہو۔ پس عملاً آیت ہی کے مُنکر شمار ہو گے۔

 مخالفینِ جماعت کا یہی وہ سب سے بڑا دھکّہ ہے جس کے زور سے وہ جماعتِ احمدیہ کو اسلام کے دائرہ سے باہر دھکیل دینے کا عزم لے کر اُٹھے ہیں۔ آئیے ذرا ٹھنڈے دِل سے اِس الزام کی حقیقت کا جائزہ لیں اور بڑے تحمل اور انصاف کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کہ یہ الزام لگانے والے کس حد تک حق بجانب ہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ خود ہی اپنے عائد کردہ الزام کی زَد میں آرہے ہوں اور بجاطور پر اس آیت کے مُنکر قرار دیئے جانے کے سزاوار ٹھہریں۔

 جماعتِ احمدیہ کا مؤقف یہ ہے کہ ہم آیت خاتم النّبییّن کے تمام ایسے معانی پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن و حدیث، اجماعِ سَلفِ صالحین اور محاورۂ عرب اور لُغتِ عربی کے مطابق ہوں۔ ہم اِس آیت کے لفظی معانی پر بھی ایمان لاتے ہیں اور حقیقی معنوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نبیوں میں سب سے کامل ہیں۔ نبیوں کی مُہر اور نبیوں کی زینت ہیں۔ نبوت کے سب کمالات آپ ؐ پر ختم ہو گئے اور ہر فضیلت کی کنجی آپؐ کو تھمائی گئی۔ آپؐ کی شریعت یعنی قرآن و سُنت کا سکّہ تا قیامت چلتا رہے گا اور دُنیا کے ہر کونے پر محیط ہو گا اور ہر انسان اُسے ماننے کا مکلّف ہو گا اور کوئی نہیں جو ایک شُعشہ بھی اِس شریعت کا منسوخ کر سکے۔ پس آپ ؐ آخری شریعت کے حامل رسول اور آخری واجب الاطاعت امام ہیں۔ آپؐ سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں جسمانی لحاظ سے بھی اور رُوحانی لحاظ سے بھی اور آپؐ کی اِس ضربِ خاتمیت سے کوئی نبی کسی پہلو سے بچ نہیں سکتا۔ آپؐ کے ظہور کے بعد یہ ممکن نہیں کہ کوئی پہلا نبی جسمانی لحاظ سے آپؐ کی ہمعصری میں زندہ رہے اور آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم اِس حال میں عالَمِ گزران سے کُوچ فرماجائیں کہ کوئی دوسرا نبی جسمانی لحاظ سے زندہ سلامت موجود ہو اور نعوذ باﷲ آپؐ کو جسمانی لحاظ سے ختم ہوتا ہؤا دیکھنے کے بعد وفات پائے۔

 حقیقی معنوں میں بھی آپؐ سب نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ کسی پہلے نبی کا فیض آپؐ کی بعثت کے بعد جاری رہے اور وہ کسی انسان کو کوئی ادنیٰ سا رُوحانی مقام بھی دلواسکے۔ آپ سب دوسرے نبیوں کے فیوض بند کرنے والے ہیں مگر خود آپؐ کے فیوض قیامت تک جاری رہیں گے اور وہ تمام رُوحانی فیوض اور انعام جو پہلے نبیوں کی متابعت سے انسانوں کو مِلا کرتے تھے پہلے سے بڑھ کر قیامت تک آپ ؐ کے اور صرف آپؐ ہی کے دستِ کوثر سے انسانوں کو عطا ہوں گے۔ غرضیکہ ہم لفظی اور حقیقی ہر معنی میں آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن تسلیم کرتے ہیں اور بادب اس تلخ حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروانے کی جرأت کرتے ہیں کہ مُنکرینِ حدیث کے سوا ہمارے تمام مخالف فرقوں کے علماء آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان معنوں میں خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ کہنے کے باوجود کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم سب نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں یہ متضاد ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نعوذ باﷲ حضرت عیسیٰ ؑ بن مریم ؑ کو نہ تو جسمانی لحاظ سے ختم فرما سکے نہ ہی رُوحانی لحاظ سے۔ آپ ؐ کے ظہور کے وقت ایک ہی دوسرا نبی جسمانی لحاظ سے زندہ تھا مگر افسوس وہ آپ ؐ کی زندگی میں ختم نہ ہو سکا آپؐ وفات پاگئے لیکن وہ زندہ رہا اور اَب تو وصالِ نبوی ؐ پر بھی چودہ سَو برس گزرنے کو آئے لیکن ہنوز وہ اسرائیلی نبی زندہ چلا آرہا ہے۔ ذرا انصاف فرمائیے کہ خاتَم کے جسمانی معنوں کے لحاظ سے حیاتِ مسیح ؑ کا عقیدہ رکھنے والوں کے نزدیک دونوں میں سے کون خاتَم ٹھہرا۔

 پھر یہی علماء رُوحانی لحاظ سے بھی عملاً مسیح ناصری ؑ ہی کو خاتَم تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم فیض رسانی کے لحاظ سے بھی مسیح ناصری ؑ کی فیض رسانی کو ختم نہ فرما سکے۔ دیگر نبیوں کے فیض تو پہلے ہی ختم ہو چکے تھے اور نجات کی دوسری تمام راہیں بند تھیں۔ ایک مسیح ناصری ؑ زندہ تھے مگر افسوس کہ ان کے فیض کی راہ بندنہ ہو سکی۔ یہی نہیں ان کی فیض رسانی کی قوت تو پہلے سے بھی بہت بڑھ گئی اور اُس وقت جبکہ اُمّتِ محمدیہ آنحضور صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی عظیم الشان قوتِ قدسیہ کے باوجود خطرناک رُوحانی بیماریوں میں مُبتلا ہو گئی اور طرح طرح کے رُوحانی عوارض نے اُسے گھیر لیا تو براہِ راست آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوتِ قُدسیہ تو اِس اُمّتِ مرحومہ کو نہ بچا سکی ہاں بنی اسرائیل کے ایک رسُول کے مسیحی دَموں نے اُسے موت کے چنگل سے نجات دلائی اور ایک نئی رُوحانی زندگی عطا کی۔ اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ کیا صریحاً اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حیاتِ مسیح ؑ کا عقیدہ رکھنے والے آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو افاضۂ  فیض کے لحاظ سے بھی سب نبیوں کا ختم کرنے والا نہیں سمجھتے بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک ہی نبی جو اُس وقت زندہ تھا اُس کی فیض رسانی کی قوت کو بھی آپ ؐ ختم نہ فرما سکے بلکہ نعوذ باﷲ وہ اِسرائیلی نبی اِس حال میں فوت ہؤا کہ اُمّتِ محمدیہ کا آخری رُوحانی مُحسن بن چُکا تھا۔

 غور فرمائیے! کہ کیا جسمانی اور رُوحانی دونوں معنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خاتم النّبییّن تسلیم نہیں کیا جارہا؟ کیا یہ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی صریح گُستاخی نہیں؟ کیا یہ آیت خاتم النّبییّن کی رُوح کو سبوتاژ کرنے کے مترادف نہیں؟ اور پھر بھی یہ دعویٰ ہے کہ احمدی خاتم النّبییّن کے مُنکر اور ہم خاتم النّبییّن کے قائل بلکہ محافظ ہیں۔ کیا دُنیا سے اِنصاف بالکل اُٹھ چکا ہے؟ کیا عقل کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے گا؟ کیا اِس قضئے کو عَدل کے ترازو پر نہیں تولا جائے گا بلکہ محض عددی اکثریت کے زور پر حق و باطل اور اُخروی نجات کے فیصلے ہوں گے؟ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ خدا ہر گز نہ کرے کہ ایسا ہو۔ لیکن ایسا اگر ہو تو پھر تقویٰ اﷲ کا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے۔ کیوں نہیں اسے جنگل کا قانون کہا جاتا اور کیوں اِس نااِنصافی کے لئے اﷲ اور رسول ؐ کے مقدّس نام استعمال کئے جاتے ہیں۔ ویرانے کا نام کوئی اچھا سا بھی رکھ لیں ویرانہ ویرانہ ہی رہے گا۔

 ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ تم مطلق طور پر آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اور تاویلیں کر کے ایک اُمّتی اور ظِلّی نبی کے آنے کی راہ نکال لیتے ہو اور اِس طرح ختمِ نبوت کو توڑنے کے مُرتکب ہو جاتے ہو۔

 ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ایسے اُمّتی نبی کا اُمّتِ محمدیہ ہی میں پیدا ہونا جو آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا کامل غلام ہو اور اپنے ہر رُوحانی مرتبے میں سَرتا پا آپؐ ہی کے فیض کا مرہونِ منّت ہو ہر گز آیت خاتم النّبییّن کے مفہوم کے منافی نہیں کیونکہ فانی اور کامل غلام کواپنے آقا سے جُدا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اِس بات کے مکلّف ہیں کہ اپنے اس مؤقف کو قرآنِ حکیم سے، ارشاداتِ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم سے، اقوالِ بزرگانِ اُمّت سے اور محاورہئ عرب سے ثابت کریں اور اِس سلسلہ میں ایک سیر حاصل بحث آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے مگر اس سے پہلے ہمیں رخصت دیجئے کہ ہم اُن لوگوں کا کچھ محاسبہ کریں جو ہم پر مُہرِنبوت کو توڑنے کا اِلزام لگاتے ہیں کہ خود ان کے عقیدہ کی حیثیت کیا ہے۔ وہ بظاہر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آنحضور صلی اﷲعلیہ وسلم کو مطلقاً بلا شرط و بِلا اِستثناء ہر معنٰی میں آخری نبی مانتے ہیں اور آپ ؐ کے بعد کسی قسم کے نبی کی بھی آمد کے قائل نہیں لیکن ساتھ ہی اگر پوچھا جائے تو یہ اقرار کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ ”سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو ضرور ایک دن اِس اُمّت میں نازل ہوں گے”۔

 جب آپ ان پر یہ جرح کریں کہ ابھی تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ آنحضورؐ مطلقاً، بِلااستثناء ان معنوں میں آخری نبی ہیں کہ آپ ؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا تو پھر اَب آپ کو یہ اِستثناء قائم کرنے کا حق کیسے مِل گیا؟ تو اس کے جواب میں اِنتہائی بے معنی اور بے جان تاویل پیش کرتے ہیں کہ وہ چونکہ پہلے نبی تھے اِس لئے ان کا دوبارہ آنا ختمِ نبوت کی مُہر کو توڑنے کا موجب نہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا وہ موسوی شریعت ساتھ لے کر آئیں گے؟ تو جواب مِلتا ہے نہیں بلکہ وہ بغیر شریعت کے آئیں گے۔ پھر جب پوچھا جائے کہ اس صورت میں اوامرونواہی کا کیا بنے گا؟ کس بات کی نصیحت فرمائیں گے اور کِس سے روکیں گے تو ارشاد ہوتا ہے کہ پہلے وہ اُمّتِ محمدیہ کے ممبر بنیں گے پھر اس شریعت کے تابع ہو کر نبوت کریں گے۔ مزید سوالات کے جوابات ان کے اختیار میں نہیں کہ آیا مسیح ناصری ؑ کو شریعتِ محمدیہ کی تعلیم علماء دیں گے یا براہِ راست اﷲ تعالیٰ سے وحی کے ذریعہ ان کو قرآن، حدیث اور سُنّت کا عِلم دیا جائے گا لیکن یہ امر تو اس جِرح سے قطعاً ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بھی آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو مطلقاً آخری نبی نہیں مانتے بلکہ یہ استثناء رکھتے ہیں کہ ایسا نبی جو پُرانا ہو صاحبِ شریعت نہ ہو اُمّتی ہو اور لفظاً لفظاً شریعتِ محمدیہ کا تابع ہو اور اسی کی تعلیم و تدریس کرے مُہرِ نبوت کو توڑے بغیر بعد ظہورِ نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم بھی آسکتا ہے۔

 ہم اہلِ عقل و دانش اور اہلِ انصاف سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا ایسا اعتقاد رکھنے والے کے لئے کسی بھی منطق یا انصاف کی رُو سے یہ کہنا جائز ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا بھی کوئی نبی نہیں آسکتا۔

 بات دراصل یہ ہے کہ کیا ہم اور کیا ہمارے غیر تمام قائلینِ حدیث ، فرمودات خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کی روشنی میں یہ عقیدہ رکھنے پر مجبور ہیں کہ ”عیسیٰ نبی اﷲ” اس اُمت میں نزول کریں گے۔ ہم قرآن و حدیث کی واضح تعلیم کے مطابق چونکہ یہ علم بھی رکھتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم ناصری فوت ہو چکے ہیں۔ اس لئے مذکورہ بالا فرمودات کا یہ مفہوم لیتے ہیں کہ آنے والا ”عیسیٰ نبی اﷲ” اُمّتِ محمدیہ ہی میں آپؐ کے غلاموں میں سے پیدا ہوگااور قرآن و حدیث اور اقوالِ بزرگان ہی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ آنے والا موعود ”نبی اﷲ” بھی ہو گا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا اُمّتی بھی ہو گا اور یہ عقیدہ خاتمیتِ محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہرگز منافی نہیں۔لیکن دیگر علماء اِس تاویل سے اپنے دِل کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر پُرانا نبی دوبارہ آجائے تو بوجہ اِس کے کہ وہ پہلے پیدا ہؤا تھا اور اسے پہلے نبوت عطا ہوئی تھی وہ آخری قرار نہیں دیا جاسکتا لہٰذا ایسے نبی کی آمد کا راستہ مُہرِ نبوت کو توڑے بغیر کھلا رہتا ہے۔

اِس اِستدلال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پہلے پیدا ہونے والا نبی آخری نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب ہم اِس استدلال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بھی انتہائی بودا اورلغو نظر آتا ہے۔                 سوال یہ ہے کہ آج اگر کسی بیس سالہ نوجوان کے سامنے کوئی بچہ پیدا ہو اور دیکھتے دیکھتے چند دِن میں فوت ہو جائے پھر وہ نوجوان اسّی سال بعد سَو سال کی عمر میں وفات پائے تو مؤرّخ کِس کو آخری لکھے گا یعنی ہر صاحبِ فہم اور ذی ہوش و حواس مؤرّخ کِس کو آخری قرار دے گا؟
اس بچّے کو جو بعد میں پیدا ہؤا مگر چند دِن کی زندگی پاکر فوت ہو گیا یا اس پہلے پیدا ہونے والے انسان کو جو اس بچے کی وفات کے اسّی80 سال بعد سَو 100سال عمر پاکر فوت ہؤا؟

 افسوس کہ بعینہٖ یہی صورت ہمارے مخالف علمائے کرام پیش کر رہے ہیں اور انہیں اِس منطق کا بودا پَن نظر نہیں آرہا۔ وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کم و بیش چھ صد سال کی تھی جب سَیّد کَونین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ 63 سال کی عمر میں حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی میں ہی آپ ؐ کا وصال ہؤا اور اس کے بعد اَب تک چودہ سَو سال مزید ہونے کو آئے کہ عیسیٰ نبی اﷲ زندہ سلامت موجود ہیں۔ بتائیے کہ جب وہ نازل ہو کر اپنا مشن پورا کرنے کے بعد بالآخر فوت ہوں گے تو ایک غیر جانبدار مؤرّخ زمانی لحاظ سے کِس کو آخری قرار دے گا۔

 جب علماءِ ظاہر کے نزدیک آیت خاتم النّبییّن زمانی اعتبار سے آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی اَور کو آخری ہونے کا حق نہیں دیتی تو پھر زمانی اعتبار سے ہی علماءِ ظاہر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری نبی قرار دینے کا کیا حق ہے؟ صرف مُنہ سے اِس حقیقت کا انکار کوئی معنے نہیں رکھتا جب کہ وہ عملاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اِس دُنیا میں آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے سینکڑوں سال بعد آنے والا سب سے آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔

حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے خاتمیتِ محمدیہ کے بارے میں جو جامع اور دلکش تصورپیش فرمایا ہے وہ بالکل یگانہ اور بے نظیر ہے۔ آپ نے قرآنِ پاک کی روشنی میں آیت خاتم النّبییّن کی تفسیر مختلف پیرایوں میں اپنی کتب میں ایسے انداز میں بیان فرمائی ہے کہ اس کا ہر حصّہ دعوتِ ایمان و عرفان دے رہا ہے۔ گویا کہہ رہا ہے ع

دامنم می کشد کہ جا اینجا است

 آپ نے کِس قدر شاندار اور کتنی موثر اصطلاح بیان فرمائی کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے ہماری کتاب قرآنِ مجید ایک زندہ کتا ب ہے اور ہمارا رسول حضرت خاتم النّبییّن محمدمصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ایک زندہ رسول ہے۔ اُمّتِ محمدیہ میں یہ اصطلاح پہلی مرتبہ آپ نے جاری فرمائی اور عشّاقِ محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم کو صحیح طور پر خاتمیّتِ محمدیہ سے متعارف کروایا۔

 یہ تینوں بُنیادی مسائل یعنی ایمان باﷲ، ایمان بالکتاب اور ایمان بالرسول ایک دوسرے کے ساتھ اِس طرح پیوست ہیں اور باہم ایسا گہرا ربطہ رکھتے ہیں کہ ایک مضمون کودوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پس ممکن نہیں کہ ان میں سے ایک مضمون کے متعلق حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے اعتقادات اور نظریات کا جائزہ دوسرے متعلقہ مضامین کے ذکر کے بغیر کما حقّہ، کیا جاسکے۔ پس لازماً ہمیں ختمِ نبوت کے بارہ میں بانی ٔ سلسلہ کے فرمودات پر نظر ڈالنے سے قبل ہستی باری تعالیٰ اور قرآنِ عظیم کے متعلق آپ کے ایمان، اعتقادات اور نظریات پر بھی نظر کرنی پڑے گی ورنہ ختمِ نبوت کے بارہ میں آپ کے تصور کا ادراک مکمل نہ ہو سکے گا۔

 اب ہم ہستی باری تعالیٰ کے مضمون سے ابتداء کرتے ہوئے حضرت بانیٔ  سلسلہ کے بعض اقتباسات پیش کرتے ہیں جو انشاء اﷲ بعد ازاں ختمِ نبوت کے مضمون کو ذہن نشین کروانے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔


ذاتِ باری کاعرفان ازافادات حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ



حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ اپنی کتاب ”سُرمہ چشم آریہ” میں فرماتے ہیں:-

”کئی مقام پر قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم ّ الوہیت ہیں ان کا کلام خدا کاکلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے”۔

”پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے اِس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے توحید مل سکے۔ نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتاہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے۔ تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس جن لوگوں کا وجود ضروری طور پر خدا کے قدیم قانونِ ازلی کے رُو سے    خد اشناسی کے لئے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے اُن پر ایمان لانا توحید کی ایک جزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ بغیر اُن آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص توحید جو چشمہء یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آسکے۔ وہی ایک قوم ہے جو خدا نما ہے جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر ہوتا ہے اور ہمیشہ سے وہ کنزِ مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ ورنہ وہ توحید جو خدا کے نزدیک توحید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اُس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے”۔

      (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 115،116)

 ”حضرات عیسائی خوب یاد رکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہونا سرمو ثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اٹھے بلکہ ُمردہ اور سب ُمردوں سے اوّل درجہ پر اورتنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں نہ ایمانی روح ان میں ہے نہ ایمانی روح کی برکت بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پرہیز کرنا ہے وہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے جیسے عاجز اور ناتوان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں نہ پتھر کی نہ آگ کی نہ آدمی کی نہ کسی ستارہ کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا ان کو ربوبیت کے کارؔخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں بلکہ ہمیشہ مسبب پرنظر رہے نہ اسباب پر۔ تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلّیات الہٰیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہریک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی غرض ہریک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔ یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہوجائیں۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں ”۔

  (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ 223، 224)

”رُوحانی قالب کے کامل ہونے کے بعد محبتِ ذاتیہ الٰہیہ کا شعلہ انسان کے دل پر ایک رُوح کی طرح پڑتا ہے اور دائمی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے کمال کو پہنچتا ہے اور تبھی روحانی حُسن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے۔ لیکن یہ حُسن جو روحانی حُسن ہے جس کو حُسنِ معاملہ کے ساتھ موسوم کر سکتے ہیں یہ وہ حُسن ہے جو اپنی قوی کششوں کے ساتھ حُسنِ بشرہ سے بہت بڑھ کر ہے۔ کیونکہ حُسنِ بشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہو گا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہو گی۔ لیکن وہ روحانی حُسن جس کو حُسنِ معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کششوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اور قبولیت دُعا کی بھی درحقیقت فلاسفی یہی ہے کہ جب ایسا رُوحانی حُسن والا انسان جس میں محبتِ الٰہیہ کی رُوح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لئے دُعا کرتا ہے اور اُس دُعا پر پورا پورا زور دیتا ہے تو چونکہ وہ اپنی ذات میں حُسنِ رُوحانی رکھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ پس ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لئے کافی ہوں۔ تجربہ اور خدا تعالیٰ کی پاک کتاب سے ثابت ہے کہ دنیا کے ہر ایک ذرّہ کو طبعاً ایسے شخص کے ساتھ ایک عشق ہوتا ہے اور اُس کی دُعائیں اُن تمام ذرّات کو ایسا اپنی طرف کھینچتی ہیں جیسا کہ آہن رُبا لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پس غیر معمولی باتیں جن کا ذکر کسی علمِ طبعی اور فلسفہ میں نہیں اس کشش کے باعث ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اور وہ کشش طبعی ہوتی ہے۔ جب سے کہ صانع مطلق نے عالمِ اجسام کو ذرّات سے ترکیب دی ہے ہر ایک ذرّے میں وہ کشش رکھی ہے اور ہر ایک ذرّہ رُوحانی حُسن کا عاشق صادق ہے اور ایسا ہی ہر ایک سعید رُوح بھی۔ کیونکہ وہ حُسن تجلّی گاہِ حق ہے۔ وہی حُسن تھا جس کے لئے فرمایا گیااُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْااِلَّااِبْلِیْسَاور اب بھی بہتیرے ابلیس ہیں جو اِس حُسن کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ حسن بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے۔

 نوح میں وہی حُسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزت جلّ شانہ، کو منظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ پھر اس کے بعد موسیٰ بھی وہی حُسن رُوحانی لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اٹھا کر آخر فرعون کا بیڑا غرق کیا۔ پھر سب کے بعد سیّد الانبیاء وخیرالوریٰ مولانا و سیّد نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ایک عظیم الشان روحانی حُسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے۔دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰییعنی وہ نبی جنابِ الٰہی سے بہت نزدیک چلا گیا۔ اور پھر مخلوق کی طرف جُھکا اور اس طرح پر دونوں حقوں کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا۔ اور دونوں قسم کا حُسن رُوحانی ظاہر کیا”۔

 (ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم روحانی خزائن جلد 21صفحہ 219تا 221)

 ”اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔ قدیم سے اہلِ حق حضرات واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوبِ ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناعِ ذاتی اور امکان بالواجب عزّاِسمہ، کا عقیدہ ہے یعنی یہ عقیدہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کے ہویت حقّہ کی یہ ذاتی خصوصیت ہے کہ عالم الغیب ہو مگر ممکنات جو ہالکۃ الذّات اور باطلۃ الحقیقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفت میں شراکت بحضرت باری عزّاسمہ، جائز نہیں اور جیسا ذات کی رُو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رُو سے بھی ممتنع ہے۔ پس ممکنات کے لئے نظراً علیٰ ذاتہم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔ خواہ نبی ہوں یا محدّث ہوں یا ولی ہوں۔ ہاں الہامِ الٰہی سے اسرارِ غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصّہ ملتا رہا ہے اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تابعین آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم میں پاتے ہیں”۔

 (تصدیق النبی ) ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔ روحانی خزائن جلد4 صفحہ 453،454)

” اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اُس کے قانون میں ہی داخل ہے جب ایک شخص اُس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضامندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جنا ب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اُس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قوی ہوں۔ اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میّت ہے خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہوکر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مرگیا ہے۔ مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق کرتا ہے اور چونکہ کوئی شخص اُس کے قانون کی حد بست نہیں کرسکتا اس لئے جلدی سے بغیر کسی قطعی دلیل کے جو روشن اور بدیہی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امر قانون قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حدبست نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کرسکتا ہے ؟ ”

 (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد23 صفحہ 104،105)

 ”اے سننے والو سنو!! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔ یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ بلکہ وہ سنتا ہے اور بولتا بھی ہے، اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔ وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔ وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے۔ اور دُور ہے باوجود نزدیک ہونے کے۔ وہ تمثّل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اُس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اُس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔ اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام محامد حقہ کا اور سرچشمہ ہے تمام خوبیوں کا۔ اور جامع ہے تمام طاقتوں کا۔ اور مبدء ہے تمام فیضوں کا۔ اور مرجع ہے ہر ایک شَے کا۔ اور مالک ہے ہر ایک ملک کا۔ اورمتصف ہے ہر ایک کمال سے۔ اور منزّہ ہے ہر ایک عیب اور ضعف سے۔ اور مخصوص ہے اِس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اُسی کی عبادت کریں اور اُس کے آگے کوئی بات بھی اَنْ ہونی نہیں اور تمام روح اور اُن کی طاقتیں اور تمام ذرّات اور اُن کی طاقتیں اُسی کی پیدائش ہیں۔ اُس کے بغیر کوئی چیز ظاہر نہیں ہوتی۔ وہ اپنی طاقتوں اور اپنی قدرتوں اور اپنے نشانوں سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور اُس کو اسی کے ذریعہ سے ہم پا سکتے ہیں اور وہ راستبازوں پر ہمیشہ اپنا وجود ظاہر کرتا رہتاہے اور اپنی قدرتیں اُن کو دکھلاتا ہے اِسی سے وہ شناخت کیا جاتا اور اِسی سے اُس کی پسندیدہ راہ شناخت کی جاتی ہے۔

 وہ دیکھتا ہے بغیر جسمانی آنکھوں کے۔ اور سنتا ہے بغیر جسمانی کانوں کے۔ اور بولتا ہے بغیر جسمانی زبان کے۔ اسی طرح نیستی سے ہستی کرنا اُس کا کام ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ خواب کے نظارہ میں بغیر کسی مادہ کے ایک عالم پیدا کر دیتا ہے اور ہر ایک فانی اور معدوم کو موجود دکھلا دیتا ہے پس اسی طرح اس کی تمام قدرتیں ہیں۔ نادان ہے وہ جو اُس کی قدرتوں سے انکار کرے۔ اندھا ہے وہ جو اُس کی عمیق طاقتوں سے بے خبر ہے۔ وہ سب کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے بغیر اُن امور کے جو اُس کی شان کے مخالف ہیں یا اُس کے مواعید کے برخلاف ہیں۔اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں۔ اور اُس تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے”۔

 (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ309تا 311)

 ” قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کے لئے کوشش کررہی ہیں۔ کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہے اور کہیں اُس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں۔ کیونکہ کسی کی محبت یا تو حُسن کے ذریعہ سے دل میں بیٹھتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا اور مبدأ ہے تمام مخلوق کا۔ اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا۔ اور مالک ہے تمام جزا سزا کا۔ اور مرجع ہے تمام امور کا۔ اور نزدیک ہے باوجود دُوری کے اور دُور ہے باوجود نزدیکی کے۔ وہ سب سے اُوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اَور بھی ہے۔ اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اُس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہرایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔ وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اُس نے ہرایک چیز کو اُٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اُٹھا رکھا ہو۔ کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیداہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہریک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔ وہ آسمان اور زمین کی ہریک چیز کا نور ہے اور ہریک نُور اسی کے ہاتھ سے چمکا۔ اور اُسی کی ذات کا پَرتَوہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔ کسی رُوح کی کوئی قوت نہیں جو اس سے نہ ملی ہو اور خود بخود ہو۔ اور اُس کی رحمتیں دو٢ قسم کی ہیں (1)ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرّات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیّا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جبکہ ہم خود موجود نہ تھے۔ نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔ غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں (٢)دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتّب ہوتی ہے اور اس کی تصریح کی کچھ ضرورت نہیں۔ ایسا ہی قرآن شریف میں وارد ہے کہ خدا کی ذات ہریک عیب سے پاک ہے اور ہر ایک نقصان سے مبرّا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اس کی تعلیم کی پیروی کر کے عیبوں سے پاک ہو۔ اور وہ فرماتا ہےمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہِ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰییعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا اور اُس ذات بے چوں کا اس کو دیدار نہیں ہوگا وہ مرنے کے بعد بھی اندھا ہی ہوگا اور تاریکی اس سے جُدا نہیں ہوگی کیونکہ خدا کے دیکھنے کے لئے اِسی دنیا میں حواس ملتے ہیں اور جو شخص ان حواس کو دنیا سے ساتھ نہیں لے جائے گا وہ آخرت میں بھی خدا کو دیکھ نہیں سکے گا۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف سمجھا دیا ہے کہ وہ انسان سے کس ترقی کا طالب ہے اور انسان اس کی تعلیم کی پیروی سے کہا ں تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اِسی دنیا میں دیدارِ الٰہی میسر آسکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖ اَحَدًایعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اِسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ اُن کی وجہ سے دل میں تکبّر پیدا ہو کہ مَیں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور ناتمام ہوں اور نہ اُن میں کوئی ایسی بدبو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو۔ نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے نہ ہوا نہ آگ نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا اُن پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کے قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اور نہ اپنے علم پرکوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز۔ بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت رُوح گری رہے اور دُعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کواپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا اور بے دست و پا بھی ہے اور اُس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیریں۔ پس اُس نے افتاں و خیزاں بہرحال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچا دیا اور اپنی لبوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا اور پھر قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ šاَللّٰہُ الصَّمَدُ šلَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْš وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا اَحَدٌ š۔یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اُس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے نہ کسی چیز کے صفات اُس کی صفات کے مانند ہیں۔ انسان کا علم کسی معلّم کا محتاج ہے اورپھر محدود ہے مگر اُس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور باایں ہمہ غیر محدود ہے۔ انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔ اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے۔ لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیرمحدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسےکہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔ اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔ پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔ کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔ اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔ یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے”۔

     (لیکچر لاہور روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 152 تا 155)

”اُس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قویٰ کے ظہورپذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے اور کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے اور نہ اُس کے تصرف سے نہ اُس کی خَلْق سے۔ اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اُس پاک نبی محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا اور ایسے خدا کوپایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا۔ اس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجود نہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔ وہ ہمارا سچا خدا بیشمار برکتوں والا ہے اور بیشمار قدرتوں والا اور بیشمار حسن والا ۔اور بے شمار احسان والا اُس کے سوا کوئی اور خدا نہیں”۔

 (نسیم دعوت روحانی خزائن جلد 19صفحہ 363)

” جب میں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور ان کی عظمت اورعجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادۂ الٰہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہوگیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔ نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے ان چیزوں کو کس مادّہ سے بنایا؟”

       (نسیم دعوت روحانی خزائن جلد 19 صفحہ425 حاشیہ)

”جاننا چاہئے کہ جس خداکی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اسکی اس نے یہ صفات لکھی ہیں:-

ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ۔ ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی  یُسَبِّحُ لَہُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ۔ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔ مٰلِک یَوْمِ الدِّیْنِ ۔اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ ۔اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۔لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا اَحَدٌ ۔

یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آجائے۔ اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا۔ وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنیٰ کو شریک کرنا ظلم ہے۔ پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سراپا دیکھنے سے قاصر ہیں۔ پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔ وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔ پھر فرمایا ھُوَ الرَّحْمٰن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔ جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔ اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔ اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ اَلرَّحِیْم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے۔ اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔ اور پھر فرمایا مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اس کا کوئی ایسا کارپرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔ وہی کارپرداز سب کچھ جزا سزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔ اور پھر فرمایا اَلْمَلِکُ القُدُّوْسُ یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔ اگر مثلاً تمام رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔ پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔ وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کرکے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بجز ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔ کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا؟ تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے لئے قانون بناتے ہیں۔ بات بات میں بگڑتے ہیں اور اپنی خودغرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیر مادر سمجھ لیتے ہیں۔ مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو تو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔ پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو یا تووہ کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوداع کہتا۔ بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ سچے انصاف پر چل رہا ہے۔ پھر فرمایا السَّلام یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔ اس کے معنے بھی ظاہر ہیں کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو پھراس بد نمونہ کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑا دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے بارے میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ  مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْالَہُ ط وَ اِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ مَا قَدَرُواللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ بلکہ اگر مکھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ مکھی سے چیز واپس لے سکیں۔ ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔ کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔ نہ اُس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے اور پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں۔ لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔ وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔

اور پھر فرمایا کہ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ۔ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کاموں کا بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے۔ اور فرمایا۔ ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی  ۔ یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پید اکرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔ رِحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔ تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اُسی کے نام ہیں۔ اور پھر فرمایا یُسَبِّحُ لَہُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔ اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں اور پھر فرمایا عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ یعنی خدا بڑا قادر ہے۔ یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے۔ کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا امید رکھیں اور پھر فرمایا رَبُّ الْعَالَمِیْنَ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔ مٰلِک یَوْمِ الدِّیْنِ ۔اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔ رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔ اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔ اور پھر فرمایا۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔ یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑکا رہے گا کہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا۔ اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس”۔

 (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 372 تا 376)

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبداء الانوار کا

بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیا

کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا

اُس بہار حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے

مت کرو کچھ ذکر ہم سے تُرک یا تاتار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف

جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

چشمۂ  خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں

ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا

تونے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک

اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا

کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص

کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر اُن اسرار کا

تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں

کس سے کھل سکتا ہے پیچ اس عقدۂ  دشوار کا

خوبروؤں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی

ہر گُل و گلشن میں ہے رنگ اُس ترے گلزار کا

چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے

ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا

آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سو سو حجاب

ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا

ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اِک تیغ تیز

جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غمِ اغیار کا

تیرے ملنے کیلئے ہم مل گئے ہیں خاک میں

تا مگر درماں ہو کچھ اِس ہجر کے آزار کا

ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا

جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا

شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر

خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا

 (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 52)



قرآنِ عظیم کی اعلیٰ و اَرفع شان حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کی نظر میں



”خاتم النبییّن کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الٰہی کے نزول کاعام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے اس قدر قوت و شوکت اس کلا م کی ہوتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے ا س اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات ِکمال آپؐ پر ختم ہوچکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے۔ اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہوگئے آپ ؐ خاتم النبییّن ٹھہرے اور آپؐ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔ جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہوسکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپؐ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت ، کیا باعتبار ترتیب مضامین، کیا باعتبار تعلیم، کیا باعتبار کمالات تعلیم، کیا باعتبار ثمرات تعلیم۔ غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیرطلب کی ہے یعنی جس سے چاہو مقابلہ کر و خواہ بلحاظ فصاحت وبلاغت ، خواہ بلحاظ مطالب و مقاصد، خواہ بلحاظ تعلیم خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے ۔”

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 26،27 جدید ایڈیشن)

قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ اول مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت او رعزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو گااور وحی الٰہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا۔کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی۔جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیاقُلْ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَلَیْکُمْ جَمِیْعًا اور مَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّارَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَجس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے اس الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیں ہوگا۔جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے ۔

 (ملفوظات جلد دوم صفحہ 40، 41جدید ایڈیشن)

 ” لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الٰہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولیٰ کریم سے ہوجاتا ہے خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مونہہ سے نکلتے ہی ایک قوی توکل ا ن کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الٰہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے اگر ان کے وجودوں کو ہاون مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز ُحبِّ الٰہی کے اور کچھ نہیں۔ دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور تر و بلند تر ہیں۔ خدا کے معاملات ان سے خارق عادت ہیں انہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خدا ہے۔ انہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی سنتا ہے۔ جب وہ پکارتے ہیں تو وہ انہیں جواب دیتا ہے جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ ان کی طرف دوڑتا ہے وہ باپوں سے زیادہ ان سے پیار کرتا ہے اور ان کی درودیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے پس وہ اس کی ظاہری و باطنی و روحانی و جسمانی تائیدوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ ہریک میدان میں ان کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے اور وہ ان کا ہے۔ یہ باتیں بلا ثبوت نہیں”۔

 (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ79 حاشیہ)

 ”سب سے سیدھی راہ اوربڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھر اہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصل کرنے کا متکفل ہوکر آیا ہے جس کی آیت آیت اورلفظ لفظ ہزارہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آبِ حیات ہماری زندگی کے لئے بھراہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ یہی ایک عمدہ محک ہے جس کے ذریعہ سے ہم راستی اور ناراستی میں فرق کرسکتے ہیں۔یہی ایک روشن چراغ ہے جو عین سچائی کی راہیں دکھاتا ہے۔ بلا شبہ جن لوگوں کو راہِ راست سے مناسبت اور ایک قسم کا رشتہ ہے اُن کا دل قرآن شریف کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں اور بغیر اس کے کسی جگہ قرار نہیں پکڑ تے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سن کر پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے اس کی ہریک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کرلیتے ہیں اور آخر وہی ہے جوموجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہوجاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر یک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔ راستبازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالتِ جدیدہ زمانہ نے اسلام کوکسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کار گر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے۔ ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث پودہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ۔ حال کے زمانہ میں بھی جب اوّل عیسائی واعظوں نے سراُٹھایا اور بد فہم اورنادان لوگوں کو توحید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سوفسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے اُن کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں برپا کر دیا آخر قرآن کریم ہی تھا جس نے انہیں پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے اور اُن کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹے”۔

 (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 381، 382)

 انسان کو یہ ضرورت ہے کہ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اس قدر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اس پر گرتی اور اس کے تقویٰ کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے وہ دور ہو جاوے مگر کیا وہ ناپاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح باربار پڑتے ہیں اور پرہیز گاری کے ہوش و حواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی خودتر اشیدہ پرمیشر کے تصوّر سے دور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رُک سکتے ہیں جس کا دُکھ اپنے نفس کو چُھوا بھی نہیں ؟ ہرگز نہیں یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تباہی جو اس بےباکی اور بے تعلقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصلی جڑھ گناہ اور معصیت ہے اُس سے کیونکر محفوظ رہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذّات کو محض ظنّی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بردار کراسکتا ہے مثلاً ایک بَن کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اُٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پچاس شیرببر بھی موجود ہیں اور ہزارہا خونخوار اژدہا بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دستکش ہو جائیں گے اسی طرح بغیر اس درجہ یقین کے گناہ بھی دور نہیں ہوسکتا۔ لوہا لوہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔ خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہئے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کردے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کرکے دکھلادے اور ایساخوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تا ر و پود نفسِ امّارہ کے ٹوٹ جائیں اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیاکرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہوسکے؟

 اِس لئے میں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتاہوں کہ وہ کتاب جو ان ضرورتوں کو پوراکرتی ہے وہ قرآن شریف ہے اُس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دُنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی سے آخر کار اپنے تئیں ظاہر کرتاہے اوروہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قومیں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتاہے اور عالم ملکوت کا اُس کو سیر کراتا ہے اور اپنے اَنَا الْمَوجُود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اُس کو خبر دیتا ہے مگر وید میں یہ ہنر نہیں ہے ہرگز نہیں ہے اور وید اُس بوسیدہ گٹھری کی مانند ہے جس کا مالک مر جائے اور یاجس کی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گٹھری ہے۔ جس پر میشر کی طرف وید بلاتا ہے اُس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ وید اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتاکہ اُس کا پرمیشر موجود بھی ہے اور وید کی گمراہی کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رُو سے ارواح اور پرمانو یعنی ذرّات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں۔ پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صانع کا کیونکر پتہ لگے ایسا ہی وید کلام الٰہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ نشانوں کامنکر ہے اور وید کی رُو سے پرمیشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسانشان ظاہر نہیں کرسکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسن ظن کیاجائے تواس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اورخدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا۔ غرض وید وہ معرفت عطا نہیں کرسکتا جو تازہ طور پرخدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کوزمین سے اٹھاکر آسمان تک پہنچا دیتی ہے مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی رُوحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کے دل کومنور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلاکرخدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اورعلوم غیب عطا فرماتا ہے اور دُعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتاہے اور ہرایک جواُس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کردیتا ہے کہ وہ اُس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے۔

 (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 306 تا 309)

 متبعین قرآن شریف کو جو انعامات ملتے ہیں اور جو مواہب خاصہ ان کے نصیب ہوتے ہیں اگرچہ وہ بیان اور تقریر سے خارج ہیں مگر ان میں سے کئی ایک ایسے انعاماتِ عظیمہ ہیں جن کو اس جگہ مفصّل طور پر بغرض ہدایت طالبین بطور نمونہ لکھنا قرین مصلحت ہے۔ چنانچہ وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں:

ازاں جملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوان نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب انسان فرقان مجید کی سچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امرونہی کے بکُلّی حوالہ کردیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی باقی نہیں رہتا۔ تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الٰہی کے جو کلام الٰہی میں پوشیدہ ہیں اس پر کھلتے ہیں اور ابرنیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔ وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے یُوْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآ ءُ وَمَنْ یُّوْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا۔ سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی و جہ سے بحرمحیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الٰہی کے تابعین کو دیئے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقّہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں۔ اور تائیداتِ الٰہیہ ہریک تحقیق اور تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان ان کے لئے میسر کردیتی ہیں جس سے بیان ان کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقعہ ہوتی ہے۔ سو جو جو علوم و معارف و دقائق حقائق و لطائف و نکات و ادلّہ و براہین ان کو سوجھتے ہیں وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے مرتبہ کاملہ پر واقع ہوتے ہیں کہ جو خارق عادت ہے اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تفہیم غیبی اور تائید صمدی ان کی پیش رو ہوتی ہے۔ اور اسی تفہیم کی طاقت سے وہ اسرار اور انوار قرآنی اُن پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دود آمیز روشنی سے کھل نہیں سکتے۔ اور یہ علوم و معارف جو اُن کو عطا ہوتے ہیں جن سے ذات اور صفات الٰہی کے متعلق اور عالم معاد کی نسبت لطیف اور باریک باتیں اور نہایت عمیق حقیقتیں اُن پر ظاہر ہوتی ہیں یہ ایک روحانی خوارق ہیں کہ جو بالغ نظروں کی نگاہوں میں جسمانی خوارق سے اعلیٰ اور الطف ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ عارفین اور اہل اللہ کا قدر و منزلت دانشمندوں کی نظر میں اِنہیں خوارق سے معلوم ہوتا ہے اور وہی خوارق ان کی منزلت عالیہ کی زینت اور آرائش اور ان کے چہرہ صلاحیت کی زیبائی اور خوبصورتی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ علوم و معارف حقہ کی ہیبت سب سے زیادہ اس پر اثر ڈالتی ہے اور صداقت اور معرفت ہریک چیز سے زیادہ اس کو پیاری ہے اور اگر ایک زاہد عابد ایسا فرض کیا جائے کہ صاحب مکاشفات ہے اور اخبارِ غیبیہ بھی اسے معلوم ہوتے ہیں اور ریاضاتِ شاقہ بھی بجالاتا ہے اور کئی اور قسم کے خوارق بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں مگر علم الٰہی کے بارہ میں سخت جاہل ہے۔ یہاں تک کہ حق اور باطل میں تمیز ہی نہیں کرسکتا بلکہ خیالاتِ فاسدہ میں گرفتار اور عقائد غیر صحیحہ میں مبتلا ہے ہریک بات میں خام اور ہریک رائے میںؔ فاش غلطی کرتا ہے تو ایسا شخص طبائع سلیمہ کی نظر میں نہایت حقیر اور ذلیل معلوم ہوگا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ جس شخص سے دانا انسان کو جہالت کی بدبو آتی ہے اور کوئی احمقانہ کلمہ اس کے منہ سے سن لیتا ہے تو فی الفور اس کی طرف سے دل متنفر ہوجاتا ہے اور پھر وہ شخص عاقل کی نظر میں کسی طور سے قابل تعظیم نہیں ٹھہرسکتا اور گو کیسا ہی زاہد عابد کیوں نہ ہو کچھ حقیر سا معلوم ہوتا ہے پس انسان کی اس فطرتی عادت سے ظاہر ہے کہ خوارق روحانی یعنی علوم و معارف اس کی نظر میں اہل اللہ کے لئے شرط لازمی اور اکابر دین کی شناخت کے لئے علامات خاصہ اور ضروریہ ہیں۔ پس یہ علامتیں فرقان شریف کی کامل تابعین کو اکمل اور اتم طور پر عطا ہوتی ہیں اور باوجودیکہ ان میں سے اکثروں کی سرشت پر اُ میت غالب ہوتی ہے اور علومِ رسمیہ کو باستیفاءحاصل نہیں کیا ہوتا لیکن نکات اور لطائف علم الٰہی میں اس قدر اپنے ہم عصروں سے سبقت لے جاتے ہیں کہ بسا اوقات بڑے بڑے مخالف ان کی تقریروں کو سن کر یا ان کی تحریروں کو پڑھ کر اور دریائے حیرت میں پڑ کر بلا اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ان کے علوم و معارف ایک دوسرے عالم سے ہیں جو تائیداتِ الٰہی کے رنگ خاص سے رنگین ہیں اور اس کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ اگر کوئی منکر بطور مقابلہ کے الٰہیات کے مباحث میں سے کسی بحث میں ان کی محققانہ اور عارفانہ تقریروں کے ساتھ کسی تقریر کا مقابلہ کرنا چاہے تو اخیرپر بشرط انصاف و دیانت اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ صداقت حقّہ اسی تقریر میں تھی جو ان کے منہ سے نکلی تھی اور جیسے جیسے بحث عمیق ہوتی جائے گی بہت سے لطیف اور دقیق براہین ایسے نکلتے آئیں گے جن سے روز روشن کی طرح ان کا سچا ہونا کھلتا جائے گا چنانچہ ہریک طالب حق پر اس کا ثبوت ظاہر کرنے کے لئے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔

ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے جس کو حفظِ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ عصمت بھی فرقان مجید کے کامل تابعین کو بطور خارق عادت عطا ہوتی ہے۔ اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں اور اگر کوئی لغزش بھی ہوجائے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان کا تدارک کرلیتی ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ عصمت کا مقام نہایت نازک اور نفس امارہ کے مقتضیات سے نہایت دور پڑا ہوا ہے جس کا حاصل ہونا بجز توجہ خاص الٰہی کے ممکن نہیں مثلاً اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ وہ صرف ایک کذب اور دروغ گوئی کی عادت سے اپنے جمیع معاملات اور بیانات اور حرفوں اور پیشوں میں قطعی طور پر باز رہے تو یہ اس کے لئے مشکل اور ممتنع ہوجاتا ہے۔ بلکہ اگر اس کام کے کرنے کے لئے کوشش اور سعی بھی کرے تو اس قدر موانع اور عوائق اس کو پیش آتے ہیں کہ بالآخر خود اس کا یہ اصول ہوجاتا ہے کہ دنیاداری میں جھوٹ اور خلاف گوئی سے پرہیز کرنا ناممکن ہے۔ مگر ان سعید لوگوں کے لئے کہ جو سچی محبت اور پُرجوش ارادت سے فرقان مجید کی ہدایتوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ صرف یہی امر آسان نہیں کیا جاتا کہ وہ دروغ گوئی کی قبیح عادت سے باز رہیں بلکہ وہ ہر ناکردنی اور ناگفتنی کے چھوڑنے پر قادر مطلق سے توفیق پاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے ایسی تقریبات شنیعہ سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے جن سے وہ ہلاکت کے ورطوں میں پڑیں۔ کیونکہ وہ دنیا کا نور ہوتے ہیں اور ان کی سلامتی میں دنیا کی سلامتی اور ان کی ہلاکت میں دنیا کی ہلاکت ہوتی ہے۔ اسی جہت سے وہ اپنے ہریک خیال اور علم اور فہم اور غضب اور شہوت اور خوف اور طمع اور تنگی اور فراخی اور خوشی اور غمی اور عسر اور یسر میں تمام نالائق باتوں اور فاسد خیالوں اور نادرست علموں اور ناجائز عملوں اور بے جا فہموں اور ہریک افراط اور تفریط نفسانی سے بچائے جاتے ہیں اور کسی مذموم بات پر ٹھہرنا نہیں پاتے کیوں کہ خود خداوند کریم ان کی تربیت کا متکفل ہوتا ہے اور جس شاخ کو ان کے شجرۂ  طیبہ میں خشک دیکھتا ہے۔ اس کو فی الفور اپنے مربیانہ ہاتھ سے کاٹ ڈالتا ہے اور حمایت ِالٰہی ہردم اور ہر لحظہ ان کی نگرانی کرتی رہتی ہے۔ اور یہ نعمت محفوظیت کی جو ان کو عطا ہوتی ہے۔ یہ بھی بغیر ثبوت نہیں بلکہ زیرک انسان کسی قدر صحبت سے اپنی پوری تسلی سے اس کو معلوم کرسکتا ہے۔

ازاں جملہ ایک مقام توکل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے ان کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے غیر کو وہ چشمہ صافی ہرگز میسر نہیں آسکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوشگوار اور موافق کیا جاتا ہے۔ اور نور معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہوکر اور اسباب عادیہ سے بکلّی اپنے تئیں دور پاکر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا ان کے پاس ہزارہا خزائن ہیں۔ ان کے چہروں پر تونگری کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے اور تنگیوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ سیرت ایثار اُن کا مشرب ہوتا ہے اور خدمتِ خلق ان کی عادت ہوتی ہے اور کبھی انقباض ان کی حالت میں راہ نہیں پاتا اگرچہ سارا جہان ان کا عیال ہوجائے اور فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی ستاری مستوجب شکر ہے جو ہر جگہ ان کی پردہ پوشی کرتی ہے اور قبل اس کے جو کوئی آفت فوق الطاقت نازل ہو ان کو دامن عاطفت میں لے لیتی ہے کیونکہ اُن کے تمام کاموں کا خدا متولّی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس نے آپ ہی فرمایاہے۔وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ لیکن دوسروں کو دنیاداری کے دل آزار اسباب میں چھوڑا جاتا ہے اور وہ خارق عادت سیرت جو خاص ان لوگوں کے ساتھ ظاہر کی جاتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جاتی۔ اور یہ خاصہ ان کا بھی صحبت سے بہت جلد ثابت ہوسکتاہے۔

ازاں جملہ ایک مقام محبتِ ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے رگ و ریشہ میں اس قدر محبت الٰہیہ تاثیر کرجاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہوجاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار ان کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت انس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پر مستولی ہوجاتا ہے کہ جو غیر سے بکلی منقطع اور گسستہ کردیتا ہے اور آتشِ عشقِ الٰہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبان صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہوجاتا ہے۔ جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور ان کی صورت اور ان کی آنکھ اور ان کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور ان کے بال بال سے مترشح ہورہا ہے وہ ان کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا۔ اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہوجاتا ہے اور سب سے بزرگ تر ان کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہریک چیز پر اختیار کرلیتے ہیں اور اگر آلام اس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔ کسی تلوار کی تیز دھار ان میں اور ان کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلیّہ عظمیٰ ان کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتے اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذّات پاتے اور اسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔ اگر چاہتے ہیں تو اسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔ تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اسی کے ہورہتے ہیں۔ اسی کے لئے جیتے ہیں۔ اسی کے لئے مرتے ہیں۔ عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور باخود ہوکر پھر بے خود ہیں نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔ لا یدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کرسکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور تفہّم سے صمٌّ و بکمٌ ہوتے ہیں اور ہریک مصیبت اور ہریک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اُس سے لذّت پاتے ہیں

عشق است کہ برخاک مذلت غلطاند

عشق است کہ برآتش سوزاں بنشاند

کس بہر  کسے  سر ندہد  جان  نہ  فشاند

عشق است کہ ایں کار بصد صدق کناند

 ازاں جملہ اخلاق فاضلہ ہیں جیسے سخاوت، شجاعت، ایثار، علوہمت، و فور شفقت، حلم حیا،مودّت یہ تمام اخلاق بھی بوجہ احسن اور انسب انہیں سے صادر ہوتے ہیں اور وہی لوگ بہ یمن متابعتِ قرآن شریف وفاداری سے اخیر عمر تک ہر یک حالت میں ان کو بخوبی و شائستگی انجام دیتے ہیں اور کوئی انقباض خاطر ان کو ایسا پیش نہیں آتا کہ جو اخلاق حسنہ کی کماینبغی صادر ہونے سے ان کو روک سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ خوبی علمی یا عملی یا اخلاقی انسان سے صادر ہوسکتی ہے وہ صرف انسانی طاقتوں سے صادر نہیں ہوسکتی بلکہ اصل موجب اس کے صدور کا فضل الٰہی ہے۔ پس چونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ مورد فضل الٰہی ہوتے ہیں اس لئے خود خداوند کریم اپنے تفضّلات نامتناہی سے تمام خوبیوں سے ان کو متمتع کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ حقیقی طور پر بجُز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کے لئے مسلمّ ہیں پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہوکر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر اخلاقِ الٰہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور سچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہٖ کچھ چیز نہیں ہے سو اخلاق فاضلہ الٰہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں اور تجربہ صحیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ ان سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگرچہ منہ سے ہریک شخص دعویٰ کرسکتا ہے اور لاف و گذاف کے طور پر ہریک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجربہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلّف اور تصنّع سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں اور ادنیٰ ادنیٰ امتحانوں میں ان کی قلعی کھل جاتی ہے اور تکلّف اور تصنّع اخلاقِ فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دنیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے اور اگرچہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تخم اخلاق کا ان میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبا رہتا ہے اور بغیر آمیزش اغراض نفسانی کے خالصاً للہ ظاہر نہیں ہوتا چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے اور خالصاًللہ انہیں میں وہ تخم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہورہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالیٰ غیریت کی لوث سے بکلّی خالی پاکر خود اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے اور ان کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کردیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلّق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کرلیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہوجاتے ہیں جس کی توسّط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور ان کو بھوکے اور پیاسے پاکر وہ آبِ زلال ان کو اپنے اس خاص چشمہ سے پلاتا ہے جس میں کسی مخلوق کو علیٰ وجہ الاصالت اس کے ساتھ شرکت نہیں۔

 اور منجملہ ان عطیات کے ایک کمال عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر رکھتے ہیں اور بشہود کبریائی حضرت باری تعالیٰ ہمیشہ تذلل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ذ ّلت اور مفلسی اور ناداری اور پُر تقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرضِ زوال میں ہوتی ہے۔ پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الٰہیہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلّی کھوئے جاتے ہیں اور عظمتِ الٰہی کا پُرجوش دریا اُن کے دلوں پر ایسا محیط ہوجاتا ہے کہ ہزارہا طور کی نیستی ان پر وارد ہوجاتی ہے اور شرک خفی کے ہریک رگ و ریشہ سے بکلّی پاک اور منزّہ ہوجاتے ہیں”۔

 (براہینِ احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد1 صفحہ 532 تا 543)

نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی نکلا

پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا

حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا

ناگہاں غیب سے یہ چشمہ ٔاصفٰی نکلا

یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے

جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا

سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں

مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا

کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ

وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا

پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں

پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا

ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور

ایسا چمکا ہے کہ صد نَیّرِ بیضا نکلا

زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں

جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا

 (براہینِ احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد ١ صفحہ 308-306حاشیہ در حاشیہ نمبر2)

جمال و حسن قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہے

قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے

نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا

بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے

بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں

نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے

کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز

اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے

خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو

وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے

ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی

سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے

بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز

تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے

ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا

زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے

خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے

خدا سے کچھ ڈرو یا رویہ کیسا کذب و بہتاں ہے

اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا

توپھر کیوں اسقدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے

یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے

خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے

ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ

کوئی جوپاک دل ہووے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے

 (براہینِ احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1صفحہ 198 تا 204)

شان خاتم الانبیاء بانی سلسلہ احمدیہ کی نگاہ میں




حضرت بانی ٔسلسلہ عالیہ احمدیہ جس شدّت، عقیدت اور معرفتِ تامّہ کے ساتھ خاتم الانبیاء و الاَصفیاء حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن یقین کرتے تھے اس کا اندازہ خود آپ ؑ کی تحریرات کے مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اِس ضمن میں آپؑ کی متعدد تحریرات سے بعض اقتباسات پیش ہیں۔ فرماتے ہیں:

’’مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اس کا لاکھواں حصہ بھی دُوسرے لوگ نہیں مانتے۔ اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وُہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے، مگر اُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا۔ بجزان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں‘‘۔

 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 227،228 جدید ایڈیشن)

’’ہماری کوئی کتاب بجُز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجُز محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجُز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا نبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکُتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجُز خادمِ اسلام ہونے کے اَور کوئی دعویٰ بالمقابل نہیں ہے اور جو شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے وہ ہم پر اِفتراء کرتا ہے۔ ہم اپنے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ فیضِ برکات پاتے ہیں اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں فیضِ معارف ملتا ہے۔ سو مناسب ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے خلاف کچھ بھی دِل میں نہ رکھے، ورنہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا جواب دِہ ہو گا۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں ہیں تو ہمارا سب کاروبار عبث اور مردود اور قابلِ مؤاخذہ ہے۔

 خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان 7/اگست 1899ء‘‘

 (مکتوباتِ احمدیہ جلد دوم صفحہ 249جدید ایڈیشن)

إنِّی أرٰی فِی وَجْھِکَ الْمُتَھَلِّلٖ

شأنًا یَفُوقُ شَمَائِلَ الانسانٖ

وَجْہُ الْمُھَیْمِنِ ظاھرٌ فی وَجْھِہ

و شُؤُنُہ لَمَعتْ بِھٰذا الشَّانٖ

فاق الْوَرٰی بِکَمالِہٖ و جمالِہٖ

و جلالِہٖ و جَنَانِہ الریّانٖ

لَا شَکَّ أنَّ مُحَمَّدًا خیرُالْوَرٰی

رِیْقُ الکِرامِ و نُخْبَۃُ الاَعْیانٖ

تمّتْ عَلیہ صِفَاتُ کُلِّ مَزِیّۃٍ

خُتِمتْ بِہٖ نَعْماءُ کُلِّ زَمانٖ

ھُوَ خیر کُلِّ مُقَرّبٍ مُتَقدِّم

والفضلُ بِالْخَیْراتِ لا بِزَمانٖ

یا رَبِّ صَلِّ علٰی نَبِیِّکَ دائمًا

فی ھٰذِہِ الدُّنْیا و بَعْثٍ ثانٖ

 (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ591تا 593)

نُورٌ عَلٰی نُوْر

”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملایک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں”۔

 (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 160، 161)

سیّد شان ، آنکہ نامش مصطفٰے است

رہبرِ ہر زمرہ صدق و صفا است

مے درخشد روئے حق در روئے او

بوئے حق آید ز بام و کوئے او

ہر کمال رہبری بر وے تمام

پاک روی و پاک رویان را امام

 (ضیاء الحق روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 254)

 سورۃ اٰل عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔

 (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 279،280 حاشیہ)

” ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہوگا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ”۔

 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 419)

”چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ، نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو”۔

(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد ٢ صفحہ ٧١ حاشیہ)

’’ وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا ۔۔۔۔۔۔ وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مَرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔

اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحییٰ اور ذکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرب اور وجیہ اور خداتعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اُس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ‘‘۔

 (اتمام الحجّہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)

 ”مجھے سمجھا یا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُرحکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں”۔

 (اربعین نمبر 1روحانی خزائن جلد17 صفحہ 345)

 ” وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی اشد محتاج تھی اور جو جو تعلیم دی گئی۔ وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی۔ اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللّٰہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علتِ غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا”۔

 (براہین احمدیہ ہرچہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ112،113)

 ” اعظم اور اکبر حصہ روح القدس کی فطرت کا حضرت سیدنامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔دنیا میں معصوم کامل صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوا ہے”۔

 (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 324حاشیہ در حاشیہ)

 ”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی”۔

(سراجِ منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ82)

 ”سبحان اﷲ ثم سبحان اﷲحضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے نبی ہیں۔ اللہ اللہ کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ اُمّت۔ جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ وَحَبِیْبِکَ سَیِّدِ الْاَنْبِیَآءِ وَاَفْضَلِ الرُّسُل وَخَیْرِالْمُرْسَلِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ”۔

       (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 272حاشیہ نمبر11)

 ”مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوںکہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لئے خدانے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذُرّیّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کُنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے نُور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں”۔

 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118، 119)

 ” اے نادانو!! اور آنکھوں کے اندھو! !!ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سیّدومولیٰ (اس پر ہزار ہاسلام) اپنے افاضہ کے رُو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں۔ کےونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہوگیا۔ اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مُردے ہیں۔ کوئی اُن میں زندگی نہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس اُمت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے۔ بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیح بناسکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا”۔

 (چشمہ مسیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 389)

”آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جمیع اَخلاق کے متمم ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ ؐ کے اخلاق کا قائم کیا ہے”۔

(الحکم 10/مارچ 1904ء صفحہ 8 کالم 2)

 ” صراط مستقیم فقط دین اسلام ہے اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اَتم واکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں”۔

 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1صفحہ 557 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

 ” اللہ جلّ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی”۔

 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ100 حاشیہ)

”آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خاتَم النّبییّن ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اِس اُمّت میں بڑی بڑی استعدادیں رکھ دی ہیں یہاں تک کہ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ بھی حدیث میں آیا ہے۔ اگرچہ محدّثین کو اِس پر جرح ہو مگر ہمارا نُورِ قلب اِس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بلاچُون و چرا اس کو تسلیم کرتے ہیں اور بذریعہ کشف بھی کسی نے اِس حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اگر کی ہے تو تصدیق ہی کی ہے”۔

(الحکم 17/24/اگست 1904ء صفحہ3 کالم نمبر3)

” تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔ کمال کو پہنچ گئیں”۔

 (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد10 صفحہ 367)

 ” بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار وبر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تأخّر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہوگئے اور چونکہ آپ صفاتِ الٰہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفاتِ جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی ”۔

(لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207)

 ” وجودِ با جود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہریک نبی کے لئے متمم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا۔ وہ چمک اٹھا۔ اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کرکے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود باجودپر ختم ہوگئے۔ وھذا فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔

 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد1صفحہ 292 حاشیہ نمبر11)

 ”جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرت کی تجلّیات کا پورا اور کامل حصّہ اُس کو ملا۔ اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اُس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحبِ خاتم ہے بجُز اُس کی مُہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی اُمّت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجُزاُس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مُہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے اُمّتی ہونا لازمی ہے۔ اور اُس کی ہمّت اور ہمدردی نے اُمّت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا۔ اوراُن پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیضِ وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص اُمّتی نہ ہو اُس پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو سو خدا نے اِن معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔ لہٰذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا اُمّتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پا سکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہو سکتا ہے کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی ہے مگر ظلّی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیضِ محمدی سے وحی پاناوہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفتِ الٰہیہ جو مدارِ نجات ہے مفقود نہ ہو جائے”۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ29 ،30)

 ”مَیں بڑے یقین اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے۔ وہ شخص جھوٹا اور مُفتری ہے جو آپ ؐ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اورآپ ؐ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا اور چشمۂ  نبوت کو چھوڑتا ہے۔ مَیں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سوا آپ ؐ کے بعدکسی اَور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ ؐ کی ختمِ نبوت کو توڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس وہی مُہرِ نبوتِ محمدی نہ ہو”۔

 (الحکم 10/جون1905ء صفحہ 2)

 ” خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرمادیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جلّ شانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَیعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مَردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے۔ سو اِس آیت کے پہلے حصّہ میں جو امر فوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لٰکن کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہِ راست فیوض نبوت منقطع ہوگئے۔ اور اب کمال نبوت صرف اُسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا ”۔

 (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 91 صفحہ 213،214)

 ” کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَکو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضر ت صلی١للہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہ، کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَلْ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَسَیِّدِنَا اِنِّیْ نَبِیٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰی وَجْہِ الْحَقِیْقَۃِ وَالْاِفْتِرَاءِ وَتَرَکَ الْقُرْآنَ وَاَحْکَامَ الشَّرِیْعَۃِ الْغَرَّاءِ فَھُوَ کَافِرٌ کَذَّابٌ۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیاکلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے”۔

 (انجامِ آتھم روحانی خزائن جلد 11صفحہ 27، 28 حاشیہ)

 ”ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول

”من نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب”

اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بِلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی”۔

 (ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 210 211,)

” اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیّٖن ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تومعصیت ہے اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَاور حدیث لَانَبِیَّ بَعْدِیْ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَاور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلّی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمدکی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَاس کے معنی یہ ہیں کہ لَیْسَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِ الدُّنْیَا وَلٰـکِنْ ھُوَاَبٌ لِرِجَالِ الْاٰخِرَۃ لِاَنَّہ، خَاَتَمُ النّبِیِّیْن وَلَا سَبِیْلَ اِلٰی فُیُوضِ اللّٰہ مِن غَیْرِتَوَسُّطِہٖ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا لہٰذا خاتم النبیّٖن کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسیٰ ؑکے اُترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنی لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کرغیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ اور نبی کارسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفّٰی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اوریہ آیت روکتی ہےلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ ط۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ اُمت مکالمات و مخاطبات الٰہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖکے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَمَنِ ادَّعٰی فَقَدْکَفَرَ۔ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبییّن کامفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبییّن پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبییّن میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلّی طورپر محمداور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمدؐ خاتم النبییّن ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اُسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسیٰ بغیر مُہر توڑنے کے آ نہیں سکتا ”۔

      (ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 تا 209)

 ”یاد رہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعداس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحبِ شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعتِ آنحضرت صلعم وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعتِ نبوی ؐ سے نعمتِ وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوتِ مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ وَلَاسَبِیْلَ اِلَیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ مِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَادَّعٰی اَنَّہ، نَبِیٌّ صَاحِبُ الشَّرِیْعَۃِ اَوْمِنْ دُوْنِ الشَّرِیْعَۃِ وَلَیْسَ مِنَ الْاُمَّۃِ فَمَثَلُہ، کَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَّرَہُ السَّیْلُ الْمُنْھَمِرُ فَاَلْقَاہُ وَرَائَہ، وَلَمْ یُغَادِرْحَتّٰی مَاتَ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی رُوحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حُکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیلِ نفوس کی جاتی ہے اور وحیٔ الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جلّ شانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہے ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَیعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اﷲ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکِنْ کا لفظ زبانِ عرب میں اِستدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارکِ مافات کے لئے۔ سو اِس آیت کے پہلے حصّہ میں جو امر فوت شُدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور پر کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لٰکِنْ کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ ؐ کے بعد براہِ راست فیوضِ نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمالِ نبوت صرف اُس شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباعِ نبوی ؐ کی مُہر رکھتا ہوگا اور اِس طرح پر وہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کا بیٹا اور آپ ؐ کا وارث ہو گا۔ غرض اِس آیت میں ایک طَور سے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طَور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُمیں ہے دُور کیا جائے ماحصل اِس آیت کا یہ ہؤا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو، اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقامِ نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغِ نبوتِ محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحبِ کمال ایک جہت سے تو اُمّتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتسابِ انوارِ محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اِس طَور سے بھی تکمیل نفوسِ مستعدہ اُمّت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باﷲ، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دونوں طور سے اَبتر ٹھہرتے ہیں نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند نہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور مُعترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام اَبتر رکھتا ہے۔

اب جبکہ یہ بات طے ہو چکی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوتِ مُستقلہ جو براہِ راست ملتی ہے اس کا دروازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی اُمتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمدیّہ کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا”۔

        (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 213 تا 215)

 ”تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گذر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدؐیہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اِس کے سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اِس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدؐیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اِس میں فیض ہے اِس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے مکالمہ مخاطبہ کا اُس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اِس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدؐیہ کی اس میں ہتک ہے ہاں اُمّتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اُس پر صادق آ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدؐیہ کی ہتک نہیں بلکہ اُس نبوت کی چمک اِس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیّت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔ اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہکُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِاور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْاُن کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ اُمّت محمدؐیہ ناقص اور ناتمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔ اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اُس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔ مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فرد اُمت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور اُمّتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے ایسے طور پر کہ اُن کا وجود اپنا وجود نہ رہا۔ بلکہ اُن کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہوگیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ نبیوں کی طرح اُن کو نصیب ہؤا”۔

 (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ311، 312)

”اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں ”۔

   (تجلیاتِ الٰہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411،412)

آیت خاتم النّبییّن کی تفسیر



مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ  ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا(سورۃ احزاب :41)

 محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن اﷲ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النّبییّن ہیں۔ کسی بالغ مَرد کا باپ نہ ہونا اِس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ وہ نبی نہیں ہے۔ اگر قرآن کریم نے یہ دلیل پیش کی ہوتی کہ جو شخص کسی بالغ مَرد کا باپ نہ ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا یا قرآن کریم سے پہلے بعض قوموں کا یہ عقیدہ ہوتا تو ہم کہتے کہ قرآن کریم میں اس عقیدہ کا اِستثناء بیان کیا گیا ہے یا اِس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے لیکن یہ تو کسی قوم کا مذہب نہیں کہ جو کسی مَرد کا باپ نہ ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ مسلمان اور عیسائی تو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی نبوت کے قائل ہیں اور یہودی ان کی بزرگی مانتے ہیں مگر یہ کوئی تسلیم نہیں کرتا کہ ان کے ہاں اَولاد تھی کیونکہ ان کی تو شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔ پس اِس آیت کے معنے کیا ہوئے کہ محمدؐ تم میں سے کسی بالغ مَرد کے باپ نہیں لیکن نبی ہیں۔ لازماً اِس فقرہ کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ پھر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ایک شخص جس کے متعلق لوگ غلطی سے یہ کہتے تھے کہ وہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا متبنّٰی ہے اس اظہار کے بعد کہ وہ متبنّٰی نہیں اِس امر کا کیا تعلق تھا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت کا ذکر کیا جاتا اور پھر اِس بات کا کیا تعلق تھا کہ آپ ؐ کی ختمِ نبوت کا ذکر کیا جاتا۔ کیا اگر زید رضی اﷲ عنہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے دیتے اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو ختم نبوت کا مسئلہ مخفی رہ جاتا۔ کیا اتنے اہم اور عظیم الشان مسائل یونہی ضمناً بیان ہؤا کرتے ہیں؟ اِس کے علاوہ جیسا کہ ہم اُوپر لکھ چکے ہیں کسی مَرد کے باپ ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ نبوت کا کوئی تعلق نہیں۔ پس ہمیں قرآن کریم پر غور کرنا چاہئے کہ کیا کسی اَور جگہ کوئی ایسی بات بیان ہوئی ہے جس سے اگر بالغ مَردوں کے باپ ثابت نہ ہوں تو لفظ مُشتبہ ہو جاتا ہے کیونکہ لٰکِنْ کا لفظ عربی زبان میں اور اس کے ہم معنی لفظ دُنیا کی ہر زبان میں کسی شُبہ کے دُور کرنے کے لئے آتے ہیں۔ اِس اُلجھن کو دُور کرنے کے لئے ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں صاف لکھا ہؤا نظر آتا ہے کہ:-

اِنَّآ اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ šفَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ šاِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُš (سورۃ الکوثر)

ہم نے تجھ کو کوثر عطا فرمایا ہے پس تو اﷲ تعالیٰ کی عبادتیں اور قربانیاں کر۔ یقینا تیرا دُشمن ہی نرینہ اولاد سے محروم ہے، تُو نہیں۔یہ آیت  مکّی زندگی میں نازل ہوئی تھی اس میں ان مُشرکینِ مکّہ کا ردّ کیا گیا تھا جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرزندکی وفات ہو جانے پر طعنہ دیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اس کی تو نرینہ اولاد نہیں۔ آج نہیں تو کل اس کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ (البحر المحیط)

اِس سُورۃ کے نزول کے بعد مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اولاد ہو گی اور زندہ رہے گی لیکن ہؤا یہ کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندہ رہنے والی اولادِ نرینہ تو ان کے خیال کے مطابق ہوئی نہیں اور جن دشمنوں کے متعلق ھُوَ الْاَبْتَرُ کہا گیا تھا ان کی اولادِ نرینہ زندہ رہی۔ چنانچہ ابو جہل کی اولاد بھی زندہ رہی، عاص کی اولاد بھی زندہ رہی، ولید کی اولاد بھی زندہ رہی (گو آگے چل کر ان کی اولاد مسلمان ہو گئی اور ان میں سے بعض لوگ اکابر صحابہ ؓ میں بھی شامل ہوئے) جب حضرت زید ؓ کا واقعہ پیش آیا اور لوگوں کے دلوں میں شُبہات پیدا ہوئے کہ زید ؓ کی مطلّقہ سے جو آپ ؐکا متبنّٰی تھا آپ ؐ نے شادی کر لی ہے اور یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے کیونکہ بہو سے شادی جائز نہیں تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جو سمجھتے ہو کہ زید (رضی اﷲ عنہ) محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں یہ غلط ہے۔ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تو کسی بالغ جوان مَرد کے باپ ہیں ہی نہیں اور ”مَاکَانَ” کے الفاظ عربی زبان میں صرف یہی معنی نہیں دیتے کہ اِس وقت باپ نہیں بلکہ یہ معنی بھی دیتے ہیں کہ آئندہ بھی باپ نہیں ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے ”کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًاš”(سورۃ نساء) یعنی اﷲ تعالیٰ عزیز و حکیم تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اِس اعلان پر قدرتاً لوگوں کے دلوں پر ایک اَور شُبہ پیدا ہونا تھا کہ مکّہ میں تو سورۃ کوثر کے ذریعہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے دشمن تو اولادِ نرینہ سے محروم رہیں گے مگر آنحضرت (صلی اﷲ علیہ وسلم) محروم نہیں رہیں گے لیکن اب سالہا سال کے بعد مدینہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) نہ اب کسی بالغ مَرد کے باپ ہیں نہ آئندہ ہوں گے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ سُورۃ کوثر والی پیشگوئی (نعوذ باﷲ) جھوٹی نکلی اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت مشکوک ہے۔

اِس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ یعنی ہمارے اِس اعلان سے لوگوں کے دلوں میں یہ شُبہ پیدا ہؤا ہے کہ یہ اعلان تو (نعوذ باﷲ) محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتا ہے لیکن اس اعلان سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے۔ باوجود اِس اِعلان کے محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) اﷲ کے رسُول ہیں بلکہ خاتم النّبییّن ہیں یعنی نبیوں کی مُہر ہیں۔ پچھلے نبیوں کے لئے بطور زینت کے ہیں اور آئندہ کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی مُہر اس پر نہ لگی ہو۔ ایسا شخص آپ ؐ کا رُوحانی بیٹا ہو گا اور ایک طرف سے ایسے رُوحانی بیٹوں کے محمد رسُول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی اُمّت میں پیدا ہونے سے اور دوسری طرف اکابرِ مکّہ کی اولاد کے مسلمان ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سُورۃ کوثر میں جو کچھ بتایا گیا تھا وہ ٹھیک تھا۔ ابو جہل، عاص اور ولید کی اولاد ختم کی جائے گی اور وہ اولاد اپنے آپ کو محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے منسوب کر دے گی اور آپ ؐ کی رُوحانی اولاد ہمیشہ جاری رہے گی اور قیامت تک ان میں ایسے مقام پر لوگ فائز ہوتے رہیں گے جس مقام پر کوئی عورت کبھی فائز نہیں ہو سکتی یعنی نبوت کا مقام۔ جو صرف مَردوں کے لئے مخصوص ہے۔

پس سورۃ کوثر کو سورہ احزاب کے سامنے رکھ کر ان معنوں کے سوا اور کوئی معنے ہو ہی نہیں سکتے۔ اگر خاتم النّبییّن کے یہ معنے کئے جائیں کہ محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن وہ اﷲ کے رسول ہیں اور آئندہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ تو یہ آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے اور سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا اور کفّار کا وہ اعتراض جس کا سورۃ کوثر میں ذکر کیا گیا ہے پختہ ہو جاتا ہے۔

آیت خاتم النّبییّن کی تفسیر قرآنِ مجید کی دوسری آیات کی رُو سے

قرآن عظیم ایک کامل و مکمل کتاب ہے جس کا اعجاز یہ ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے منفرد مقام ختمِ نبوت ہی کا ذکر نہیں کیا بلکہ متعدد جگہوں پر اس کی تفسیر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

اس سلسلہ میں ہم قرآن شریف کی مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں:

1سورۃ الحج میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:-

اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلَآئِکَۃِ رُسُلًاوَّ مِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ(الحج : 76)

اﷲ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے کچھ افراد کو رسول بنانے کے لئے چُن لیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ یقینا دعاؤں کو سُنتا اور حالات کو دیکھتا ہے۔

اِس آیت سے پہلے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مخاطبین کا ذکر ہے۔ آپ سے پہلے کے لوگوں کا ذکر نہیں ہے اور اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ملائکہ اور انسانوں میں سے رسول چُنتا ہے اور چُنتا رہے گا یقینا اﷲ تعالیٰ سُننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ اِس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں یعنی آپ کے زمانہ ٔ  نبوت میں اَور انسان بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول کا نام پانے والے کھڑے ہوں گے۔

2- سورۂ  فاتحہ میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دُعا سکھلائی ہے:-

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ

 یا اﷲ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ اُن لوگوں کا راستہ جن پر تیرے انعام ہوئے ہیں۔

یہ دُعا پانچ وقت فرضاً اور اس کے علاوہ کئی اَور وقت نفلاً مسلمان پڑھتے ہیں۔ اب سوال ہے کہ منعم علیہ گروہ کا رستہ کیا ہے؟ قرآن شریف نے خود اس کی تشریح فرمائی ہے۔ فرمایا:-

وَلَھَدَیْنَاھُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا(النساء:69)

اگر مسلمان رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیصلوں پر عمل کریں اور بشاشت کے ساتھ ان کی فرمانبرداری کریں تو ہم ان کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دیں گے۔

پھر اس صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دینے کا طریقہ یوں بیان کیا ہے:-

وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ والصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآءِوَ الصّٰلِحِیْنَ ج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا šذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ ط وَکَفٰی  بِاللّٰہِ عَلِیْمًا š

اور جو شخص بھی اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرے فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ تو وہ ان لوگوں کے گروہ میں شامل کئے جائیں گے جن پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں کے گروہ میں اور صدیقوں کے گروہ میں۔ شہیدوں کے گروہ میں اور صالحین کے گروہ میں اور یہ لوگ سب سے بہتر ساتھی ہیں۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک فضل ہے اور اﷲ تعالیٰ تمام امور کو بہتر سے بہتر جانتا ہے۔ اِس آیت میں صاف بتایا گیا ہے کہ مُنعم علیہ گروہ کا رستہ وہ رستہ ہے جس پر چل کر انسان نبیوں میں اور صدیقوں میں اور شہیدوں میں اور صلحاء میں شامل ہوتا ہے۔

بعض لوگ اِس جگہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہاں ”مَعَ” کا لفظ ہے اور معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مُنعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے خود مُنعم علیہ گروہ میں شامل نہیں ہوں گے حالانکہ اِس آیت کے یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اس صورت میں اِس آیت کے یہ معنی بن جائیں گے کہ یہ لوگ مُنعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے لیکن اس گروہ میں شامل نہیں ہوں گے یعنی نبیوں کے ساتھ ہوں گے لیکن نبیوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ صدیقوں کے ساتھ ہوں گے مگر صدیقوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ شہیدوں کے ساتھ ہوں گے لیکن شہیدوں میں شامل نہیں ہوں گے اور صالحین کے ساتھ ہوں گے لیکن صالحین میں شامل نہیں ہوں گے۔ گویا ان معنوں کی رُو سے اُمّتِ محمدیہ ؐ صرف نبوت سے ہی محروم نہیں ہوئی بلکہ صدیقیت سے بھی محروم ہو گئی اور رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ ابوبکر صدیق ہے وہ نعوذ باﷲ غلط ہے۔ وہ شہداء کے درجہ سے بھی محروم ہو گئی اور قرآن میں جو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم شہداء کے مقام پر ہیں وہ بھی غلط ہے۔شُھَدَآءَ عَلَ النَّاس(البقرہ :144) اور صالحین میں بھی اس اُمّت کا کوئی آدمی داخل نہیں ہوتا اور جو یہ خیال ہے کہ اُمّتِ محمدیہ میں بہت سے صلحاء گزرے ہیں یہ بھی بالکل غلط ہے۔ نعوذ باﷲ۔

کیا کوئی عقلمند آدمی جس کو قرآن اور حدیث پر عبور ہو ان معنوں کو مان سکتا ہے؟ مَعَ کے معنی ساتھ کے نہیں ہوتے مَعَ کے معنی شمولیت کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں مومنوں کو یہ دُعا سکھلائی گئی ہے:

تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ(آل عمران: 194)

اے اﷲ ہم کو ابرار کے ساتھ موت دے اور ہر مسلمان اِس کے یہی معنی کرتاہے کہ اے اﷲ مجھے ابرار کے ساتھ شامل کر کے موت دے یہ معنی کوئی نہیں کرتا کہ یا اﷲ جس دن کوئی نیک آدمی مَرے اُسی دن مَیں بھی مَر جاؤں۔

اِسی طرح قرآن کریم میں ہے:-

اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِیْرًا š اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْاوَ اَصْلَحُوْاوَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْادِیْنَھُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاšالنساء : 146،147)

یعنی منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تُو کسی کو ان کا مددگار نہ دیکھے گا۔ ہاں جو توبہ کرے اور اصلاح کرے اور خدا تعالیٰ کی تعلیم کو مضبوطی سے پکڑے اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنی اطاعت مخصوص کرے تو وہ مومنوں میں شامل کئے جائیں گے اور اﷲ تعالیٰ جلد مومنوں کو بہت بڑا اَجردے گا۔

اِس جگہ ” مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ‘ کے الفاظ ہیں مگر مَعَ، مِنْ کے معنوں میں استعمال ہؤا ہے۔ اسی طرح سورۃ الحجر آیت 33 میں آیا ہے:-

مَا لَکَ اَلَّا تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ š

اے ابلیس! کیوں تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہؤا۔

مگر سورۃ الاعراف ع 2میں ہےلَمْ یَکُنْ مِّنَ السَّاجِدِیْنَابلیس سجدہ کرنے والوںمیں شامل نہ تھا۔ پس ”مَعَ” قرآن کریم میں ”مِنْ” کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم کی مشہور لُغت ”مُفردات القرآن” مصنفہ امام راغب ؒ میں بھی لکھا ہے:-

وَقَوْلُہ، فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ، اَیْ اِجْعَلْنَا فِیْ زُمْرَتِھِمْ اِشَارَۃً اِلٰی قَوْلِہٖ فَاُوْلٰۤئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْھِمْ۔

(مفرداتِ راغب صفحہ 435 زیر لفظ کَتَبَ)

یعنی فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ میں ”مَعَ” کے یہ معنی ہیں کہ ہم کو زُمرۂ شاہدین میں داخل فرما جس طرح کہ آیت فَاُوْلٰۤئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْھِمْ میں مَعَ کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے مُنعم علیہم کے زُمرہ میں شامل ہوں گے۔

نیز تفسیر بحرِ محیط میں امام راغب ؒ کے اِس قول کی مزید تشریح اِن الفاظ میں کی گئی ہے:-

قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ اَنْعَمَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْفِرَقِ الْاَرْبَعِ فِی الْمَنْزِلَۃِ وَالثَّوَابِ اَلنَّبِیَّ بِالنَّبِیِّ وَالصِّدِّیْقَ بِالصِّدِیْقِ وَالشَّھِیْدَ بِالشَّھِیْدِ وَالصَّالِحَ بِالصَّالِحِ۔

 (تفسیر البحر المحیط لابی حیان الاندلسی زیر آیت النساء :70)

یعنی امام راغب ؒ کے نزدیک اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین میں شامل کئے جائیں گے ۔ یعنی اِس اُمّت کا نبی، نبی کے ساتھ ۔ صدیق، صدیق کے ساتھ۔ شہید ، شہید کے ساتھ۔ صالح، صالح کے ساتھ۔

3- اِسی طرح مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایاہے:-

یٰبَنِیْ ٓاٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ لا فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ š

 (الاعراف: 36)

اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں جو میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائیں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہوئے ان کی باتوں پر کان دھریں گے اور اصلاح کے طریق کو اختیار کریں گے ان کو آئندہ کسی قسم کا خوف نہ ہو گا اور نہ ہی گزشتہ غلطیوں پرانہیں کسی قسم کا غم ہو گا۔

اس آیت میں صاف بتایا گیا ہے کہ اُمّتِ محمدیہ ؐ میں رسول آتے رہیں گے۔ اسی طرح قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:-

وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ(المرسلٰت: 12)

اور جب رسول ایک وقتِ مقررہ پر لائے جائیں گے۔

یعنی آخری زمانہ میں اﷲ تعالیٰ تمام رسولوں کو بروزی رنگ میں دوبارہ ظاہر کرے گا۔ شیعہ لوگ اِسی سے استدلال کرتے ہیں کہ امام مہدی کے زمانہ میں رسول لائے جائیں گے اور وہ ان کی اتباع کریں گے۔

چنانچہ تفسیر ” قُمّی ” میں لکھا ہے:-

مَابَعَثَ اﷲُ نَبِیًّا مِّنْ لَّدُنْ اٰدَمَ اِلَّا وَیَرْ جِعُ اِلَی الدُّنْیَا فَیَنْصُرُ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ (تفسیر القُمِّی زیر آیت آل عمران:82)

اﷲ تعالیٰ نے آدم سے لے کر آخر تک جتنے نبی بھیجے ہیں وہ ضرور دُنیا میں واپس آئیں گے اور امیر المؤمنین مہدی کی مدد کریں گے۔

اِس سے ثابت ہوتاہے کہ شیعوں کے نزدیک رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سارے رسول آئیں گے اور پھر بھی آپ ؐکی ختمِ نبوت نہیں ٹوٹے گی۔

بہرحال قرآن کریم کی آیتوں میں سے چند آیات بطور نمونہ درج کر دی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی اور کفش برداری میں اور حضور ؐ کے دین کی اشاعت کے لئے اُمّتِ محمدیہ میں اُمّتی نبی آسکتے ہیں جو آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے، قرآن کے زندہ کتاب ہونے اور اسلام کے زندہ مذہب ہونے پر ابدی اور فیصلہ کُن دلیل ہیں۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔

خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ کے معنی لُغتِ عربی کی رُو سے

خَاتَمْ کا لفظ لُغوی اعتبار سے زبانِ عرب میں جن حقیقی یا مجازی معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جماعتِ احمدیہ ان سب کی رُو سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خَاتَمَ النّبِیِّیْن یقین کرتی ہے۔ مثلاً

آخری نبی۔  آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ کی رُو سے حضرت سرورِ کونین محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کا خاتم النّبییّن ہونا بایں معنی ثابت وواضح ہے کہ آپ ؐ شریعت لانے والے نبیوں میں سے آخری ہیں۔ آپ ؐ کی شریعت ہمیشہ قائم و دائم ہے کبھی منسوخ نہ ہو گی۔ خاتم النّبییّن کے یہ معنی جُملہ فرقوں میں مسلّم اور اجماعی ہیں۔ جماعتِ احمدیہ بھی اِن معنوں پر ایمان رکھتی ہے۔ جماعتِ احمدیہ کے موجودہ امام حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب مقامِ ختمِ نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:-

”حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے مقامِ محمدیت  میں منفرد ہیں۔ آپ ؐ کے سوا کسی شخص کو یہ مقام حاصل نہیں ہے۔ آپ خاتم النّبییّن ہیں اور رُوحانی رفعتوں کے لحاظ سے آپ آخری نبی ہیں۔ آپ اُس وقت سے آخری نبی ہیں جس وقت ابھی آدم ؑ کو نبوت تو کیا انہیں یہ مادی وجود بھی عطا نہ ہؤا تھا۔ غرض سب نبوتیں نبوتِ محمدیہ کے تحت حاصل کی گئی ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اسی نبوت کی خاطر اور اسی مقامِ محمدیت کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا تھا۔ اس لئے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رُوحانی رفعت ساتویں آسمان تک پہنچنے کے باوجودختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کی روحانی رفعت پہلے آسمان تک پہنچنے کے باوجود ختمِ نبوت میں خلل انداز ی نہیں کر رہی۔ حضرت رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ میرے رُوحانی فرزند یعنی علمائے باطن جو مجھ سے قرآنی علوم حاصل کر کے قرآن کریم کی شریعت کو زندہ اور تابندہ رکھیں گے اور ہر صدی میں آتے رہیں گے وہ بھی انہی انبیاء کی طرح ہیں جن میں سے کوئی پہلے آسمان تک پہنچا، کوئی دوسرے پر، کوئی تیسرے پر، کوئی چوتھے پر، کوئی پانچویں پر، کوئی چھٹے پر، اور ایک ایسا بھی پیدا ہو گا جو انتہائی عاجزی اورعشق کے سارے مراحل طے کرنے کے بعد اور محبت کی انتہائی رفعتوں کو پالینے کی وجہ سے ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم ؑ کے پہلو میں جا پہنچے گا اور سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ پائے گا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رُوحانی رفعت ساتویں آسمان تک پہنچنے پرختمِ نبوت کے منافی نہیں پڑتی اسی طرح حضرت نبی ٔ  اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس عظیم رُوحانی فرزند کی رُوحانی رفعت ساتویں آسمان تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقامِ محمدیت میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کرتی۔

 دوسرے یہ تصویر، یہ حقیقتِ معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی کو رُوحانی رفعتیں سات آسمانوں میں محصور ہونے کی وجہ سے مقامِ ختمِ نبوت میں کوئی خلل نہیں ڈالتیں کیونکہ وہ اَرفع مقام اس کے اوپر کا مقام ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے اپنی اپنی استعداد کے مطابق کوشش کرو۔ ہمیں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ اُمّتِ محمدیہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک فرزندِ جلیل پیدا ہو گا جو ساتویں آسمان تک پہنچ جائے گا تاہم اس کا مقام حضرت رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے”۔

 (الفضل 17/اپریل 1973ء)

مزید تفصیل کےلئے پمفلٹ ”مقامِ محمدؐیت کی تفسیر” ضمیمہ نمبر 8 ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت بانی  ٔ    سلسلہ احمدیہ اپنی کتاب ”ازالہ ٔ  اوہام” میں فرماتے ہیں:-

”ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ مرتبہ پر آسمان میں جس سے بڑھکر اور کوئی مرتبہ نہیں تشریف فرما ہیں عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی اوراُمّت کے سلام وصلوٰۃ برابر آنحضرت ؐ کے حضور میں پہنچائے جاتے ہیں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ اَکْثَرَ مِمَّا صَلَّیْتَ عَلٰی اَحَدٍ مِنْ اَنْبِیَائِکَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔

نبیوں کا سردار: نبوت ایک روحانی کمال ہے۔ نبی ایک صاحبِ مرتبت وجود ہوتا ہے۔ صاحبِ کمال و مرتبت وجودوں میں خاتَم وہی ہوتا ہے جو اس کمال میں آخری درجہ کو حاصل کرنے والا ہوتا ہے۔

اِس حقیقت کے ثبوت میں برصغیر پاک و ہند اور بلادِ عربیہ کی اکتالیس مثالیں درج ذیل کی جاتی ہیں:

1۔ابو تمام (804ء /188 ھ 845ء/231ھ) شاعر کو خاتم الشعراء لکھا ہے۔

(وفیات الاعیان لعلامہ احمد بن محمد بن ابی بکر بن خلکان جلد 2 صفحہ18 منشورات الرضی قُم)

2۔ ابو الطیّب (915ء /303 ھ 965ء /354 ھ) کو خاتم الشعراء کہا گیا ہے۔

(مقدمہ دیوان المتنبی مصری صفحہ ی)

3۔ ابو العلاء المُعَرَّی (973ء /363ھ1057ء /449ھ) کو خاتم الشعراء قرار دیا گیا۔

(حوالہ مذکورہ حاشیہ صفحہ ی)

4۔ شیخ علی حزیں (1701ء /1113ھ 1767ء /1180ھ) کو ہندوستان میں خاتم الشعراء سمجھا جاتا ہے۔

(حیاتِ سعدی صفحہ101 ۔ از مولانا الطاف حسین ستمبر1946ء تاجران کتب علوم مشرقیہ کشمیری بازار لاہور)

5۔حبیب شیرازی کو ایران میں خاتم الشعراء سمجھا جاتا ہے۔

(حیاتِ سعدی صفحہ 74 حاشیہ از مولانا الطاف حسین صاحب ستمبر 1946ء تاجران کتب علوم مشرقیہ کشمیری بازار لاہور)

6۔ حضرت علی خاتم الَاوصیاء ہیں۔

(تفسیر صافی۔ سورہ احزاب:40 ۔ از انتشارات کتاب فروشی اسلامیہ تہران)

7۔ امام شافعی (767ء/150٫ھ 820ء/204ھ) خاتم الاَولیاء تھے۔

 (التحفۃ السنیّہ صفحہ 45)

8- شیخ ابن العربی (1164ء /560 ھ 1240ء /638ھ) خاتم الاَولیاء تھے۔

(سرورق فتوحاتِ مکیہ الجزء الاوّل مطبوعہ دارالکتب العربیۃ الکبریٰ بمصر)

9۔ کافور خاتم الکرام تھا۔ (شرح دیوان المتنبی صفحہ 304)

10۔ امام محمد عبدہ مصری خاتم الائمہ تھے۔

(تفسیر الفاتحہ صفحہ 148)

11۔السیّد احمد السنوسی خاتم المجاہدین تھے۔

(اخبار الجامعۃ الاسلامیہ فلسطین 27/محرم1352 ھ)

12۔ احمد بن ادریس کو خاتمۃ العلماء المحققین کہا گیا۔

(العقد النفیس)

13۔ ابو الفضل الالوسی کو خاتم المحققین کہا گیا ہے۔

(سرورق تفسیر رُوح المعانی الجزء الاوّل مکتبہ امدادیہ ملتان)

14۔ شیخ الازہر سلیم البشری کو خاتم المحققین قرار دیا گیا ہے۔

 (الحراب صفحہ 372)

15۔ امام سیوطی (وفات 1505ء /911ھ) کو خاتمۃ المحققین لکھا گیا ہے۔

(سرورق تفسیر اِتقان الجزء الاوّل الطبعۃ الثالثہ مطبوعہ حجازی بمصر 1360ھ)

16۔ حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی کو خاتم المحدثین لکھا جاتا ہے۔

(عجالہ نافعہ از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی صفحہ 271 آرام باغ کراچی)

17۔ الشیخ شمس الدین خاتمۃ الحفاظ تھے۔

 (التجرید الصریح مقدمہ صفحہ 4)

18۔ سب سے بڑا ولی خاتم الاَولیاء ہوتا ہے۔

(تذکرۃ الاولیاء اٹھاونواں باب صفحہ 249 در علمی پرنٹنگ پریس لاہور)

19۔ ترقی کرتے کرتے ولی خاتم الاَولیاء بن جاتا ہے۔

(فتوح الغیب صفحہ 22 ترجمہ فارسی از عبدالحق دہلوی مطبع محمدی لاہور)

20۔ الشیخ نجیب کو خاتمۃ الفقہاء مانا جاتا ہے۔

 (اخبار الصراط المستقیم یا فا 27/رجب 1354ھ)

12۔ شیخ رشید رضا کو خاتمۃ المفسرین قرار دیا گیا ہے۔

 (الجامعۃ الاسلامیہ 9/جمادی الثانی 1354ھ)

22۔ الشیخ عبدالحق (1554ء /958ھ 1642ء /1052ھ) خاتمۃ الفقہاء تھے۔

(تفسیر الاکلیل سرورق)

23۔ الشیخ محمد نجیب خاتمۃ المحققین تھے۔

 (الاسلام مصری۔ شعبان 1354 ھ)

24۔ افضل ترین ولی خاتم الولایۃ ہوتا ہے۔

(مقدمہ ابنِ خلدون صفحہ 324 مطبوعہ مطبعۃ مصطفی محمد بمصر )

25۔شاہ عبدالعزیز (1159ھ۔1236ھ) خاتم المحدثین و المفسرین تھے۔

(ہدیۃالشیعہ صفحہ4مطبع فیض مطبع ہاشمی رونق افزائ)

26۔ انسان خاتم المخلوقات الجسمانیہ ہے۔

 (تفسیر کبیر جلد 6صفحہ 22 مطبوعہ مصر)

27۔الشیخ محمد بن عبداﷲ خاتمۃ الحفاظ تھے۔

(الرسائل النادرہ صفحہ30)

28۔ علامہ سعد الدین تفتازانی خاتمۃ المحققین تھے۔

 (شرح حدیث الاربعین صفحہ1)

29۔ابن حجر العسقلانی خاتمۃ الحفاظ ہیں۔

 (طبقات المدلسین سرورق)

30۔ مولوی محمد قاسم صاحب (1148ھ ۔ 1297ھ) کو خاتم المفسرین لکھا گیا ہے۔

(اسرارِ قرآنی ٹائٹیل پیج مطبع مجتبائی دہلی ماہ اگست 1903ء )

31- امام سیوطی خاتمۃ المحدثین تھے۔

(ہدیۃ الشیعہ صفحہ210 مطبع فیض مطبع ہاشمی رونق افزاء مطبوع)

32۔ بادشاہ خاتم الحکام ہوتا ہے۔

(حجۃ الاسلام صفحہ 53۔ از مولانا محمد قاسم مطبوعہ مطبع احمدی علی گڑھ)

33۔ حضرت عیسیٰ خاتم الاصفیاء الائمۃ ہیں۔

(بقیۃ المتقدمین صفحہ 184)

34۔ حضرت علی خاتم الاوصیاء تھے۔

(منار الہدٰی الشیخ علی البحرانی صفحہ 109 مطبوعہ مطبع گلزار حسنی فی بمبئی)

35۔ الشیخ الصدّوق کو خاتم المحدّثین لکھا ہے۔

(کتاب من لا یحضرہ الفقیہ سر ورق طبع المطبع الجعفریۃ لکھنؤ)

36۔ ابو الفضل شہاب الالوسی (1371ء /773ھ 1450ء /854ھ) کو خاتم الادباء لکھا ہے۔

(سرورق رُوح المعانی لعلامہ شہاب الدین آلوسی۔ طبعۃ الاولیٰ بمصر1301ھ)

37۔صاحبِ رُوح المعانی نے الشیخ ابراہیم الکورانی کو خاتمۃ المتأخرین قرار دیا ہے۔

(تفسیر رُوح المعانی جلد 5 صفحہ 453الطبعۃ الاولیٰ بمصر 1301ھ )

38۔ مولوی انور شاہ صاحب کاشمیری کو خاتم المحدثین لکھا گیا ہے۔

(کتاب رئیس الاحرار از مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی صفحہ 99)

39۔حضرت فرید الدین عطار (1116ء /513ھ1223ء /620ھ) حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے متعلق کہتے ہیں

ختم کردہ عدل و انصاف او بحق

در فراست بردہ از مردان سبق

(منطق الطیر صفحہ 25 مطبوعہ مطبع منشی نول کشورلکھنؤ)

40۔ جناب مولانا حالی ؔ حضرت شیخ سعدی ؒ کے متعلق لکھتے ہیں:

”ہمارے نزدیک جس طرح طعن و ضرب اور جنگ و حرب کا بیان فردوسی پر ختم ہے اسی طرح اخلاق، نصیحت و پند، عشق و جوانی، ظرافت ومزاح، زُہد و ریا وغیرہ کا بیان شیخ پر ختم ہے”۔

 (رسالہ حیاتِ سعدی ؒ صفحہ 108)

41۔ حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی (1148ھ۔1297ھ) تحریر فرماتے ہیں:-

”سو جس میں اس صفت کا زیادہ ظہور ہو جو خاتم الصِّفات ہو یعنی اس سے اُوپر اَور صفت ممکن الظہور یعنی لائق انتقال و عطائے مخلوقات نہ ہو وہ شخص مخلوقات میں خاتم المراتب ہو گا اور وہی شخص سب کا سردار اور سب سے افضل ہو گا”۔

 (رسالہ انتصار الاسلام صفحہ 48۔از محمد قاسم صاحب میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)

 اِن استعمالات سے ظاہر ہے کہ اہلِ عرب اور دوسرے محققین علماء کے نزدیک جب بھی کسی ممدُوح کو خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء یا خاتم المحدثین یا خاتم المفسرین کہا جاتا ہے تواس کے معنی بہترین شاعر، سب سے بڑا فقیہہ اور سب سے بلند مرتبہ محدّث یا مفسرّ کے ہوتے ہیں۔

 اِن معنوں کے رُو سے خاتم النّبییّن کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا ہر کمال ختم ہے۔ آپ ؐ سے بڑا یا آپ ؐ کے برابر کوئی نبی نہیں ہؤا اور نہ ہو سکتا ہے۔ گویا آپ ؐ افضل الانبیاء اور سیّد المرسلین ہیں اور آپؐ سب نبیوں کے کمالات کے جامع ہیں۔ خاتم النّبییّن کے اِن معنوں پر علمائے اُمّت کا اِتفاق رہا ہے اور جماعتِ احمدیہ خاتم النّبییّن کے یہ معنی بھی ہر پہلو سے تسلیم کرتی ہے۔ چنانچہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:-

 ”میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کُل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی، ہر گز نہ کر سکتے۔ ان میں وہ دِل وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی ؐ کو ملی تھی۔ اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اﷲ سُوءِ ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتراکرے گا۔ مَیں نبیوں کی عزت و حُرمت کرنا اپنے ایمان کا جُزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم کی فضیلت کُل انبیاء علیہم السلام پر میرے ایمان کا جُزوِ اعظم اور میرے رگ و ریشہ میں ملی ہوئی بات ہے یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں”۔

    (الحکم 17/جنوری 1901ء صفحہ 2،3)

نبیوں کو ختم کرنے والے:۔ اگر ”نبیوں کو ختم کرنے والا” کے معنی کئے جائیں تب یہ غور طلب اَمر ہو گا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے کس طرح نبیوں کو ختم فرمایا۔ جسمانی اور مادی زندگی کے ختم کرنے کا سوال نہ تھا وہ سب نبی تو پہلے ہی فوت ہو چکے تھے جو ایک نبی حضرت عیسیٰ ؑزندہ سمجھے جاتے تھے وہ حضرت خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد بھی زندہ قرار دیئے جاتے ہیں۔ باقی رہا معنوی طور پر ختم کرنا تو یہ درست ہے کہ حضرت خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم نے سب نبیوں کو بلحاظ کمالات ختم کر دیا ہے یعنی آپ سب نبیوں سے کامل تر ، بلندتر اور اعلیٰ تر ہیں اور آپؐ کی شان یہ ہے کہ آپؐ پر فقط نبوت ہی نہیں جملہ کمالاتِ رُوحانی بھی ختم ہو گئے ہیں جیسا کہ حضرت بانی  ٔسلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں

ختم شُد بر نفسِ پاکش ہر کمال

لا جَرم شُد ختم ہر پیغمبرے

آپ اپنی کتاب ”توضیح مرام” میں مزید فرماتے ہیں:-

” سیّدنا و مولانا سیّد الکل و افضل الرسل حضرت خاتم النبیّٖن محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اُسی ذات کامل الصفات پر ختم ہوگیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے”۔

(توضیح مرام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 62)

نبیوں کی مُہر:۔               عربی میں خاتَم مُہر کو کہتے ہیں۔ جماعتِ احمدیہ آنحضرتؐ کو نبیوں کی مُہر بھی یقین کرتی ہے۔ چنانچہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:-

” اللہ جلّ شانہ، نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ علماء اُمّتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری اُمّت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہونگے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر اُنکی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرّہ کچھ دخل نہ تھا”۔

 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 100 حاشیہ)

اِس کے ساتھ ہی حضرت بانی  ٔسلسلہ احمدیہ نے نہایت پُر زور رنگ میں یہ اعلان بھی فرمایا ہے کہ مُہرِ محمدی کے یہ اثرات صرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی ہی سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:-

” پس مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوںکہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لئے خدانے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذُرّیّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کُنجی اُس کو دی گئی ہے ”۔

 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118، 119)

حضرت بانی ٔسلسلہ احمدیہ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کے اِس پہلو پر جو کچھ لکھا ہے اس کی تائید و تصدیق عہدِ حاضر کے علماء بھی کر رہے ہیں۔ چنانچہ دیوبندی مَسلک کے مشہور عالم مولانا محمد محمود الحسن صاحب اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے ترجمۂ قرآن میں لکھا ہے:-

”جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالَمِ اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی رُوحِ محمدی صلعم پر ختم ہوتا ہے۔ بدیں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ؐ رُتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النّبییّن ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے آپؐ ہی کی مُہر لگ کر ملی ہے”۔

 (قرآن شریف مترجم از مولانا محمود الحسن صفحہ 550 مدینہ پریس بجنور)

اِسی طرح مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا قاری محمد طیّب صاحب فرماتے ہیں:-

”حضور کی شان محض نبوت ہی نہیں نکلتی بلکہ نبوت بخشی بھی نکلتی ہے کہ جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہؤا فرد آپ کے سامنے آگیا نبی ہو گیا”۔

 (آفتابِ نبوت کامل صفحہ109 ناشر ادارہ عثمانیہ 32۔انار کلی لاہور)

خلاصہ:-مختصر یہ کہ قرآن و حدیث اور لغتِ عرب غرضیکہ جس نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو جاتی ہے کہ آج مسلمانانِ عالَم میں جماعتِ احمدیہ ہی کو یہ فخر و اعزاز حاصل ہے کہ ہر لحاظ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن تسلیم کرتی ہے اور اس مقدس عقیدہ پر علیٰ وجہ البصیرت ایمان رکھتی ہے۔ (مزید وضاحت کے لئے پمفلٹ ”ہم مسلمان ہیں” ،”ہمارا مؤقف”، ”عظیم رُوحانی تجلیات” بطور ضمیمہ نمبر 9،10،11شامل ہیں)۔

حضرت بانی ٔ سلسلہ فرماتے ہیں

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں

دل سے ہیں خدّام ختم المرسلیں

شرک اور بدعت سے ہم بیزارہیں

خاکِ راہِ احمد مختار ہیں

سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے

جان و دل اس راہ پر قربان ہے

دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا

ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا

 (ازالہ ٔ اَوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 514)

تفسیر آیت خَاتَمَ النَّبِییّن احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

1۔آیت ”خَاتَمَ النَّبِییّنَ” کے بعد رسولِ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے معنی کو سمجھنے کے لئے ایک نہایت محکم کلید اُمّت کے ہاتھ میں دی ہے۔ واضح رہے کہ ٥ ہجری میں آیت خَاتَمَ النَّبِییّن کا نزول ہؤا اور ٩ ہجری میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا صاحبزادہ ابراہیم تولّد ہؤا اور فوت ہو گیا اس کی وفات پر نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-

2۔لَوْعَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔

(ابن ماجہ کتاب الجنائزباب ماجاء فی الصلٰوۃ علی ابن رسول اﷲ ۔۔۔۔۔۔)

کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور سچا نبی ہوتا۔

حضور ؐ کا یہ ارشاد آیت خَاتَمَ النَّبِییّن کے نزول کے بعد ہے اور اس سے خَاتَمَ النَّبِییّن کی واضح تفسیر ہو جاتی ہے۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ خَاَتَمَ النَّبِییّن کا لفظ صدیق نبی یا اُمّتی نبی ہونے میں روک نہیں۔ اگر حضور ؐ کے نزدیک خَاتَمَ النَّبِییّن کے معنی یہ ہوتے کہ آپؐ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا تو حضور اِس موقع پر یُوں فرماتے کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ بھی رہتا تب بھی نبی نہ بن سکتا کیونکہ مَیں خَاتَمَ النَّبِییّن ہوں مگر حضور ؐ نے یوں فرمایا کہ اگرچہ مَیں خَاتَمَ النَّبِییّن ہوں لیکن اگر میرا بیٹا زندہ رہتا تو وہ ضرورنبی بن جاتا۔ گویا صاحبزادہ ابراہیم کے نبی بننے میں اس کی وفات روک تھی نہ کہ آیت خَاتَمَ النَّبِییّن ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسی ہی بات ہے کہ کسی ہونہار طالبِ علم کے فوت ہو جانے پر کہا جائے کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ضرور ایم۔اے کر لیتا۔ یہ فقرہ اسی صورت میں کہا جائے گا جب لوگوں کے لئے ایم۔اے پاس کرنا ممکن ہو۔ اگر ایم۔اے کا درجہ ہی بند ہو چُکا ہو اور کسی شخص کا ایم۔اے بننا ممکن نہ ہو تو ہونہار طالبِ علم کی وفات پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ایم۔اے بن جاتا۔

حدیث نبوی ؐ لَوْعَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا کی صحت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔ امام شہاب لکھتے ہیں:-

”اَمَّا صِحَۃُ الْحَدِیْثِ فَـلَا شُبْھَۃَ فِیْھَا لِاَنَّہ، رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَغَیْرَہ، کَمَا ذَکَرَہ، اِبْنُ حَجْرٍ”۔

(الشہاب علی البیضاوی جلد7 صفحہ 175)

اہلِ سُنت و الجماعت کے مشہور حنفی امام مُلّا علی القاری ؒ اِس حدیث کو تین طریقوں سے مروی اور قوی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:-

”لَوْعَاشَ اِبْرَاھِیْمُ وَصَارَنَبِیًّا وَکَذَالْوَصَارَعُمَرُ نَبِیًّا لَکَانَا مِنْ اَتْبَاعِہٖ عَلَیْہِ السَّلامُ کَعِیْسٰی وَالْخِضْرِ وَاِلْیَاسَ عَلَیْھِمُ السَّلامُ فَـلَا یُنَاقِضُ قَوْلَہ، تَعَالٰی خَاتَمَ النَّبِیِیّنَ اِذِالْمَعْنٰی اَنَّہ، لَا یَأْتِیْ نَبِیٌّ بَعْدَہ، یَنْسَخُ مِلَّتَہ، وَلَمْ یَکُنْ مِنْ اُمَّتِہٖ”۔

یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے ۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ نبی بن جاتے تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متبع یا اُمّتی ہوتے جیسے عیسیٰ، خضر اور الیاس علیہم السلام ہیں۔ یہ صورت خاتم النّبییّن کے منافی نہیں کیونکہ خاتم النّبییّن کے تو یہ معنے ہیں کہ اب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ ؐ کی شریعت کو منسوخ قرار دے اور آپ ؐ کا اُمّتی نہ ہو۔

(موضوعاتِ کبیر ملّا علی القاری صفحہ 58،59مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی)

2۔ مسلم شریف کی حدیث میں آنے والے مسیح موعود کو چار مرتبہ لفظ نبی اﷲ کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)

 3۔ حضور ؐ کی یہ حدیث ایک مشہور حدیث ہے:-

”اَبُوْبَکْرٍ اَفْضَلُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَبِیٌّ”۔

 (کنوز الحقائق للامام المناوی صفحہ 6 مطبوعہ مصر)

کہ حضرت ابو بکر ؓ اُمّت میں سب سے افضل ہیں سوائے اِس کے کہ اُمّت میں کوئی نبی پیدا ہو۔

4۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے۔ آپ ؓ نے فرمایا:-

”قُوْلُوْ اِنَّہ، خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَانَبِیَّ بَعْدَہ،”۔

 (تکملہ مجمع بحار الانوار صفحہ 58 مطبوعہ مطبع العالی نول کشور)

کہ حضور کو خاتم النّبییّن تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ ہو گا۔

پھر ابن ماجہ کی حدیث جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے اس میں حضور نے فرمایا اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی بن جاتا۔

 اِن احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اُمّت میں ایک قسم کی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور وہ فنافی الرسُول ؐ کے ذریعہ سے نبوت کو پانے کا دروازہ ہے۔ بلا شُبہ ایسی احادیث کے مقابل دوسری احادیث بھی ہیں جن میں بظاہر بابِ نبوت کو مسدُود قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اصولی طور پر جملہ احادیث کا حل یہ ہے کہ جن احادیث میں نبوت کو بند قرار دیا گیا ہے اس سے مراد نئی شریعت والی یا مُستقل نبوت ہے اور جن احادیث میں نبوت کے اِمکان کا ذکر ہے اس جگہ غیر تشریعی اور اُمّتی نبوت مُراد ہے۔ اِس طرح سے جُملہ احادیث میں پوری تطبیق ہو جاتی ہے اور اِس لحاظ سے جملہ احادیث قرآنِ مجید کی آیات سے مطابق ہو جاتی ہیں۔(اِس تفصیلی پہلو پر کتاب ”القول المبین فی تفسیر خاتم النّبییّن” ملاحظہ فرمائی جائے جو بطور ضمیمہ نمبر 6 شامل کی گئی ہے۔)

پس جملہ احادیثِ نبویہ کو یکجائی طور پر دیکھنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد نئی شریعت لانے والے نبیوں یا مستقل نبیوں کی آمد بند ہے ہاں امّتی نبی اور تابع شریعتِ محمدیہ نبی کے آنے کا اِمکان موجود ہے۔ اِسی بناء پر جُملہ فرقے آنے والے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا تابع نبی مانتے ہیں۔ آنحضرت ؐ کا اُمّتی نبی یقین کرتے ہیں اور یہی جماعتِ احمدیہ کا عقیدہ ہے۔

بزرگانِ سَلف اور تفسیرِ ختمِ نبوت

جماعتِ احمدیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ اصولی اور بُنیادی طور پر ختمِ نبوت کی ان تمام تفاسیر کو بدل وجان تسلیم کرتی ہے جن سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اَرفع اور مُنفرد شان دوبالا ہوتی ہے اور جو بزرگانِ اُمّت نے گزشتہ تیرہ صدیوں میں وقتاً فوقتاً بیان فرمائیں۔

اِنکارِ جہاد کے الزام کی حقیقت




(1)حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ پر آپ کے مخالفین کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ آپ نے ‘نعوذ باﷲ’اسلامی فریضہ جہاد کو منسوخ فرما دیا۔ یہ الزام بالکل بے بُنیاد ہے۔ جہادؔ اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے جس کی فرضیت اور اہمیت قرآن کریم اور احادیثِ نبوی سے واضح ہے۔ جہادؔ ایک جامع لفظ ہے جو وسیع مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ علمائے دین اور فقہاء نے جہاد کی بہت سی اقسام کو تسلیم کیا ہے۔ مثلاً جہاد بالنّفس، جہاد بالمال، جہاد بالعِلم، جہادِ اکبر، جہادِ کبیر اور جہادِ اصغر وغیرہ وغیرہ۔

جہاں تک جہادِ اصغر یعنی جہاد بالسّیف کا تعلق ہے حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ سے پہلے کے علمائے دین اور فقہاء نے جہاد کی اِس قسم کو جو قرآنی اِصطلاح میں ِقتال کہلاتی ہے مخصوص حالات اور شرائط کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔ بد قسمتی سے اُمّتِ مُسلمہ میں امتدادِ زمانہ کے ساتھ جہاد کا یہ غلط مفہوم راہ پکڑ گیا کہ اِسلام کو بذریعہ جنگ بزورِ شمشیر پھیلانا جہاد ہے۔

اِسلامی جہاد کی حقیقت سے متعلق حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے پُر معارف ارشادات پیش ہیں:-

 ”اب ہم اس سوال کا جواب لکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کو جہاد کی کیوں ضرورت پڑی اور جہاد کیا چیز ہے۔ سو واضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا پڑا تھا اور تمام قومیں اس کی دشمن ہو گئی تھیں جیسا کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہونہار اور راستباز اور با ہمّت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اس کی نسبت موجودہ قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور حسد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اُس مرد خدا کے ظہور سے ان کی آمدنیوں اور وجاہتوں میں فرق آتا ہے۔ اُن کے شاگرد اور مرید اُن کے دام سے باہر نکلنا شروع کرتے ہیں کیونکہ تمام ایمانی اور اخلاقی اور علمی خوبیاں اس شخص میں پاتے ہیں جو خدا کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اہل عقل اور تمیز سمجھنے لگتے ہیں کہ جو عزت بخیال علمی شرف اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے اُن عالموںکو دی گئی تھی اب وہ اس کے مستحق نہیں رہے اور جو معزز خطاب اُن کو دیئے گئے تھے جیسے نجم الاُمّۃ اور شمس الاُمّۃ اور شَیخ المَشَائخ وغیرہ اب وہ ان کے لئے موزوں نہیں رہے۔ سو ان وجوہ سے اہل عقل اُن سے مُنہ پھیر لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ایمانوں کو ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ ناچار ان نقصانوں کی وجہ سے علماء او رمشائخ کا فرقہ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں سے حسد کرتا چلا آیا ہے۔ وجہ یہ کہ خدا کے نبیوں اور ماموروں کے وقت ان لوگوںکی سخت پردہ دری ہوتی ہے کیونکہ دراصل وہ ناقص ہوتے ہیں اور بہت ہی کم حصہ نور سے رکھتے ہیں اور ان کی دشمنی خدا کے نبیوں اور راستبازوں سے محض نفسانی ہوتی ہے۔ اور سراسر نفس کے تابع ہو کر ضرر رسانی کے منصوبے سوچتے ہیں بلکہ بسااوقات وہ اپنے دلوں میں محسوس بھی کرتے ہیں کہ وہ خدا کے ایک پاک دل بندہ کو ناحق ایذا پہنچا کر خدا کے غضب کے نیچے آگئے ہیں اور ان کے اعمال بھی جو مخالف کارستانیوں کے لئے ہر وقت اُن سے سرزد ہوتے رہتے ہیں ان کے دل کی قصور وار حالت کو اُن پر ظاہرکرتے رہتے ہیں مگر پھر بھی حسد کی آگ کا تیز انجن عداوت کے گڑھوں کی طرف ان کو کھینچے لئے جاتا ہے۔ یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو نہ محض حق کے قبول کرنے سے محروم رکھابلکہ سخت عداوت پر آمادہ کر دیا۔ لہٰذا وہ اس فکر میں لگ گئے کہ کسی طرح اسلام کو صفحۂ دنیا سے مٹا دیں اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لئے اُن کے مخالفوں نے بباعث اس تکبّر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جو اپنے تئیں دولت میں ،مال میں ،کثرت جماعت میں ،عزت میں، مرتبت میں دوسرے فرقہ سے برتر خیال کرتے ہیں اُس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاؤ کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پودہ زمین پر قائم ہو بلکہ وہ ان راستبازوں کے ہلاک کرنے کے لئے اپنے ناخنوں تک زور لگا رہے تھے اور کوئی دقیقہ آزار رسانی کا اُٹھا نہیں رکھا تھا اور اُن کو خوف یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیر جم جائیں اور پھر اس کی ترقی ہمارے مذہب اور قوم کی بربادی کا موجب ہو جائے۔ سو اسی خوف سے جو اُن کے دلوں میں ایک رُعبناک صورت میں بیٹھ گیا تھا نہایت جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیاں اُن سے ظہور میں آئیں اور انہوں نے دردناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز تک جو تیرہ برس کی مدت تھی اُن کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے فخر اُن شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور یتیم بچے اور عاجز اور مسکین عورتیں کو چوں اور گلیوں میں ذبح کئے گئے اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شرّ کا ہر گز مقابلہ نہ کرو چنانچہ اُن برگزیدہ راستبازوں نے ایسا ہی کیا اُن کے خونوں سے کوچے سُرخ ہو گئے پر انہوں نے دم نہ مارا وہ قربانیوں کی طرح ذبح کئے گئے پر انہوں نے آہ نہ کی۔ خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں بار ہا پتھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا مگر اُس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دلی انشراح اور محبت سے برداشت کی اور ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور اُنہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا۔ تب اُس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پرظلم اور بے رحمی حد سے گذر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اُس کا غضب شریروں پر بھڑکا اور اُس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں مَیں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔ یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا اور اس حکم کی اصل عبارت جو قرآن شریف میں اب تک موجود ہے یہ ہے :۔اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْاوَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ  الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ”

 (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 3 تا 6)

” اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھانا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اٹھائیں اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔ یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہوکر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔ قرآن کے رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا۔ لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرمایا اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالیاورجمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں ”۔

 (انجامِ آتھم ۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 37)

”اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں ظاہری جنگ کی مطلق ضرورت اور حاجت نہیں۔ بلکہ آخری دنوں میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب تھے اور روحانی مقابلہ زیر نظر تھا۔کیونکہ اس وقت باطنی ارتداد اور الحاد کی اشاعت کے لئے بڑے بڑے سامان اور اسلحہ بنائے گئے ،اس لئے ان کا مقابلہ بھی اسی قسم کے اسلحے سے ضروری ہے۔ کیونکہ آجکل امن وامان کا زمانہ ہے اور ہم کو ہر طرح کی آسائش اور امن حاصل ہے ۔آزادی سے ہر آدمی اپنے مذہب کی اشاعت اور تبلیغ ا ور احکام کی بجا آوری کر سکتا ہے ۔ پھر اسلام جو امن کا سچاحامی ہے،بلکہ حقیقتاً امن اور سلمَ اور آشتی کا اشاعت کنندہ ہی اسلام ہے کیونکر اس زمانہ امن وآزادی میں اس پہلے نمونے کو دکھانا پسند کر سکتا تھا ؟پس آجکل وہی دوسرا نمونہ یعنی روحانی مجاہدہ مطلوب ہے ”۔

 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ37 جدید ایڈیشن)

” ابتدائے اسلام میں دفا عی لڑائیوں اور جسمانی جنگوں کی اس لئے بھی ضرورت پڑتی تھی کہ دعوت اسلام کرنے والے کا جواب ان دنوں دلائل وبراہین سے نہیں بلکہ تلوار سے دیا جاتا تھا ،اس لئے لاچار جواب الجواب میں تلوار سے کام لےنا پڑا ،لیکن اب تلوار سے جواب نہیں دیا جاتا، بلکہ قلم اور دلائل سے اسلام پر نکتہ چینیاںکی جاتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا ہے کہ سیف(تلوار)کا کام قلم سے لیاجائے اور تحریرسے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے، اس لئے اب کسی کو شایاں نہیں کہ قلم کا جواب تلوار سے دینے کی کوشش کرے۔ ع

گر حفظ مراتب نکنی زندیقی

 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 37 جدید ایڈیشن)

 ”اس وقت جو ضرورت ہے ۔وہ یقیناً سمجھ لو۔ سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جوشبہات وارد کیے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکاید کی رو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔ میں کب اس میدا ن کے قابل ہو سکتا تھا ۔یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو ۔میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا ۔جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کیے ہیں ،تو ان کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تو تعداد اور بھی بڑھ گئی ہو گی۔ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بنا ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ یہ اعتراضات تو کو تاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں، مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا ، وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہہ میں دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں۔ جو عدم بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھا ئی نہیں دیں اور درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نابینا معترض آکر اٹکا ہے ،وہیں حقائق ومعارف کامخفی خزانہ رکھا ہے”۔

 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ38 جدید ایڈیشن)

 ”سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یُونہی لڑائی کے لئے حُکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اِس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اﷲ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دینِ اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو اُن سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں”۔

(نورالحق حصّہ اوّل روحانی خزائن جلد 8 صفحہ62)

”اِس زمانہ میں جہاد رُوحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اِس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمۂ  اِسلام میں کوشش کریں۔ مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔ دینِ متین اِسلام کی خوبیاں دُنیا میں پھیلا دیں۔ یہی جہاد ہے۔ جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صُورت دُنیا میں ظاہر کر دے”۔

 (اخبار البدر قادیان 14/اگست 1902ء صفحہ 239 کالم 3)

”خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک ا عتراضات کا کیچڑ جو ان درخشاں جواہرات پر تھوپا گیا ہے۔ اس سے ان کو پاک صاف کروں۔ خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑی جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ ومقدس کرے۔

 الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں۔ کس قدر بیوقوفی ہو گی کہ ہم ان سے لٹھم لٹھا ہونے کو تیار ہو جائیں۔ مَیں تمہیں کھول کر بتاتا ہوں کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اِسلام کا نام لے کر جنگ و جدال کا طریق جواب میں اختیار کرے تو وہ اِسلام کا بدنام کرنے والا ہو گا اور اسلام کا کبھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت تلوار اُٹھائی جائے۔ اب لڑائیوں کی اغراض جیسا کہ میں نے کہا ہے فن کی شکل میں آکر دینی نہیں رہیں بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔ پس کس قدر ظلم ہو گا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے۔ اب زمانہ کے ساتھ حَرب کا پہلو بدل گیا ہے اِس لئے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دِل اور دماغ سے کام لیں اور نفوس کا تزکیہ کریں۔ راستبازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک اٹل قانون اور مستحکم اصول ہے اور اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں تو یہ ممکن نہیں۔ اﷲ تعالیٰ لاف و گزاف اور لفظوں کو نہیں چاہتا وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا ہے اور سچی طہارت کو پسند فرماتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْاوَالَّذِیْنَ ھُمْ مُحْسِنُوْنَ

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38،39 جدید ایڈیشن)

 ”قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا”۔

 (ستارۂ قیصرہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 120، 121)

”میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خدا توقرآن شریف میں فرماتا ہے۔لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِیعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبرکاحکم دیا۔ اور جبر کے کونسے سامان تھے”۔

 (پیغامِ صلح روحانی خزائن جلد 23صفحہ 468)

 ”مسیح موعو د دنیا میں آیا تا کہ دین کے نام سے تلوا ر اٹھا نے کے خیا ل کو دور کر ے اور اپنی حجج اور برا ہین سے ثابت کر د کھا ئے کہ اسلا م ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشا عت میں تلوار کی مد د کا ہر گز محتا ج نہیں ۔بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اُس کے حقائق اور معارف و حجج و برا ہین اور خدا تعالیٰ کی زند ہ تائیدات اور نشانات اور اس کاذاتی جذب ایسی ہی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہو ئی ہیں اس لیے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور ِشمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں ۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کےلیے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں ۔اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کردیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتاہے ۔ اب خداتعالیٰ چاہتاہے اور اس نے ارادہ فرمایاہے کہ ان تمام اعتراضوں کو اسلام کے پاک وجود سے دور کردے جو خبیث آدمیوں نے اس پر کئے ہیں۔تلوار کے ذریعے اسلام کی اشاعت کااعتراض کرنے والے اب سخت شرمندہ ہوں گے ”۔

 (ملفوظات جلد دوم صفحہ129 جدید ایڈیشن)

” اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔ اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں(١)دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خوداختیاری۔ (٢) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔ (٣) بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔ پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے”۔

 (مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ12)

 ” سوچنا چاہئیے کہ اگر مثلاً ایک شخص ایک سچے مذہب کو اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سچائی اور اس کی پاک تعلیم اور اس کی خوبیوں سے ہنوز ناواقف اور بے خبر ہے تو کیا ایسے شخص کے ساتھ یہ برتاؤ مناسب ہے کہ بلاتوقّف اس کو قتل کردیا جائے بلکہ ایسا شخص قابلِ رحم ہے اور اس لائق ہے کہ نرمی اور خلق سے اُس مذہب کی سچائی اور خوبی اور روحانی منفعت اُس پر ظاہر کی جائے نہ یہ کہ اس کے انکار کا تلوار یا بندوق سے جواب دیا جائے۔ لہٰذا اس زمانہ کے ان اسلامی فرقوں کا مسئلہ جہاد اور پھر اُس کے ساتھ یہ تعلیم کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک خونی مہدی پیدا ہوگا جس کا نام امام محمد ہوگا اور مسیح اس کی مدد کے لئے آسمان سے اترے گا اور وہ دونوں مل کر دنیا کی تمام غیر قوموں کو اسلام کے انکار پر قتل کردیں گے۔ نہایت درجہ اخلاقی مسئلہ کے مخالف ہے۔ کیا یہ وہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو انسانیت کے تمام پاک قویٰ کو معطل کرتا اور درندوں کی طرح جذبات پیدا کردیتا ہے اور ایسے عقائد والوں کو ہر ایک قوم سے منافقانہ زندگی بسر کرنی پڑتی ہے ۔

      (مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 8،9)

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں اور پھر بعد اس کے بھی کفار کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا اور بالخصوص مکہ کے تیرہ برس اس مصیبت اور طرح طرح کے ظلم اٹھانے میں گذرے کہ جس کے تصور سے بھی رونا آتا ہے لیکن آپ نے اس وقت تک دشمنوں کے مقابل پر تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے سخت کلمات کا سخت جواب دیا ۔۔۔۔۔۔ لہٰذا یہ خیال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کبھی دین پھیلانے کے لئے لڑائی کی تھی یا کسی کو جبراً اسلام میں داخل کیا تھا سخت غلطی اور ظلم ہے”۔

(مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 9،10)

2

 حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے متعلقہ اقتباسات کے بعد اب ہم آپ کے زمانہ سے پہلے کے بزرگانِ اسلام، آپ کے ہم عصر علمائے کرام اور آپ کے زمانہ کے بعد کے بعض مشہور علماء کے جہاد کے متعلق چند اِقتباسات پیش کرتے ہیں جن سے حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے مؤقف کی پُرزور تائید ہوتی ہے اور یہ حقیقت خوب کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ آج جن فرقوں کے علماء حضرت بانی ئ سلسلہ احمدیہ پر انکارِ جہاد کا الزام لگا رہے ہیں خود ان فرقوں کے علماء کی تحریرات کی رُو سے حضرت بانی ئ سلسلہ احمدیہ کا فیصلہ عین شریعتِ محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مطابق تھا اور سرِمُو بھی اس سے اِنحراف کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔

حضرت سیّد احمد صَاحب بریلوی ؒ  کا ارشاد

”سرکارِ انگریزی گو مُنکرِ اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدّی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرضِ مذہبی اور عبادتِ لازمی سے روکتی ہے۔ ہم ان کے مُلک میں علانیہ وعظ کہتے اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہیں۔ ہمارا اصل کام اشاعتِ توحید الٰہی اور احیائے سنن سیّد المرسلین ہے۔ سو ہم بِلا روک ٹوٹ اِس مُلک میں کرتے ہیں۔ پھرہم سرکارِ انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلافِ اصولِ مذہب طرفین کو خون بِلا سبب گرا دیں”۔

 (”سوانح احمدی” مرتبہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری صفحہ 71مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور)

2- حضرت مولانا شاہ اسماعیل صاحب شہید ؒ کا فتویٰ

حضرت مولانا اسماعیل صاحب شہید ؒ کے متعلق لکھا ہے:-

”مولانا اسماعیل شہید کا سکھوں سے اُن کے مذہبِ اسلام میں دست اندازی کے سبب جہاد رہا۔ اِس جہاد کی ترغیب کے لئے وہ خطبہ انہوں نے بنایا تھا۔ گورنمنٹ انگلشیہ سے نہ ان کا جہاد تھا اور نہ اس گورنمنٹ سے جہاد کا اس خطبہ میں صراحتاً یا کنایۃً ذکر ہے بلکہ اس گورنمنٹ سے وہ جہاد کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے”۔

 (اشاعۃ السُنہ جلد 9 نمبر ١ صفحہ 11،12)

3- مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کا فتویٰ

”جبکہ شرط جہاد کی اس دیار میں معدوم ہوئی تو جہاد کرنا یہاں سببِ ہلاکت اور معصیت ہو گا”۔

(فتاوٰی نذیر یہ کتاب الامارۃ و الجہاد جلد سوم صفحہ 258 ناشر اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)

4- خلیفۃ المسلمین کا فتویٰ

جناب مرتضیٰ احمد خاں میکش ”تاریخِ اقوامِ عالَم” میں لکھتے ہیں:-

”خلیفہ نے اِس مضمون کا فتویٰ لکھ کر انگریزوں کو دے دیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو انگریزوں سے نہیں لڑنا چاہئے کیونکہ وہ خلافتِ اسلامیہ کے حلیف اور مددگار ثابت ہو چکے ہیں”۔

(”تاریخ اقوامِ عالَم ”صفحہ 639 از مرتضیٰ احمد خان میکش ناشر مجلس ترقیٔ  ادب 2 نرسنگھ داس گارڈن کلب روڈ لاہور)

5 ”فتویٰ عُلماءِ اسلام” مطبع دخانی لاہور

”سرورق پر آیت ”اَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ’ لکھی ہے جس میں انگریزوں کو اولی الامر قرار دے کر ان کی اطاعت فرض قرار دی گئی ہے۔ اِس فتویٰ پر مندرجہ ذیل مشہور علمائے کرام کے دستخط ثبت ہیں:-

– جناب مفتی مولوی محمد عبداﷲ ٹونکی۔ میر مجلس مستشار العلمائ۔ لاہور

– جناب مولوی غلام محمد صاحب بگوی۔ امام مسجد شاہی و رکنِ اعظم انجمن مستشار العلماء لاہور

– جناب سیّد مولوی نذیر حسین صاحب محدّث دہلوی

– جناب ابو الصفاء مولوی قاضی میر احمد شاہ صاحب رضوانی پشاوری

– جناب مولوی محمد صاحب لدھیانوی

– جناب مولوی ابو محمد عبداﷲ الانصاری ناظم محکمہ دینیات مدرسۃ العلوم علی گڑھ

– جناب مولوی عبدالحی صاحب امین آبادی لکھنوی منتظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

– جناب مفتی محمد عبدالرحیم صاحب پشاوری

– جناب مولوی غلام محمد صاحب ہوشیارپوری رکنِ اعظم ندوۃ العلماء ۔ لکھنؤ

– جناب مُلّا حافظ عزت اﷲ صاحب ساکن زخی ۔ ضلع پشاور

– جناب ابو الحامد مولوی عبدالحمید صاحب لکھنوی

– جناب قاضی ظفر الدین صاحب ساکن گوجرانوالہ

– جناب ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی

– جناب مُلّا حافظ حامد شاہ صاحب خطیب جامع مسجد مہابت خاں پشاور

– جناب مولوی ابو محمد غلام رسول صاحب امرتسری

– جناب مولوی عبدالرحمان صاحب ابن مولوی غلام علی صاحب مرحوم قصوری

– جناب مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانوی

– جناب مولوی غلام احمد صاحب مدرّس اوّل مدرسہ نعمانیہ۔ لاہور

– جناب مولوی محمد حسین صاحب فیضیؔ مدرّس مدرسہ نعمانیہ۔ لاہور

– جناب مولوی سیّد احمد صاحب امام جامع مسجد دہلی

– جناب قاضی رفیع اﷲ صاحب ساکن بڈنی ضلع پشاور

– جناب مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی امرتسری

– جناب سیّد محمد عبدالسّلام الدھلوی نبیرہ حضرت جناب مولانا شمس العلماء سیّد محمد نذیر حسین صاحب مدظلّہ العالی المحدث دہلوی

– جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب دہلوی ابن مولوی محمد حسین صاحب فقیر

– جناب سیّد محمد ابو الحسن الدھلوی نبیرہ خورد جناب مولاناشمس العلماء سیّد محمد نذیر حسین صاحب مد ظلّہ العالی المحدّث دہلوی

– جناب مولوی مداح بشیر و نذیر ابن مولوی محمد حسین صاحب المتخلص بفقیر

– جناب مولوی خلیل احمد صاحب مدرّس اوّل مدرسہ سہارنپور

– جناب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی

– جناب محمود حسن صاحب مدرّس اوّل مدرسہ دیوبند

اِس فتویٰ میں جو انجمن اسلامیہ پنجاب کے استفتاء پر مندرجہ بالا علماءِ کرام نے دیا تھا صاف طور پر لکھا ہے کہ:-

(1) ”مذہبِ اسلام کی رُو سے کسی آدمی کو ناحق مار ڈالنا ناجائز، حرام اور سخت بدترین گناہوں میں سے ہے خواہ وہ آدمی مسلم ہو یا غیر مسلم ہو، عیسائی ہو یا یہودی، ہندو ہو یا پارسی وغیرہ وغیرہ۔

(2) برٹش گورنمنٹ اور اس کی تمام رعایا میں باہمی حفاظت و سلامت کی بابت حقیقی یا ضمنی طور پر قطعی معاہدہ ہو چُکا ہے۔

(3) یہ یقینی بات ہے کہ جو شخص گورنمنٹ کی قوم یا اس کی رعایا میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ بمقتضائے حدیث مذکور ”مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ” جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا”۔

6- اہلحدیث رہنما مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے فتویٰ کی رُو سے:

(الف) ”اہلِ اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے”۔

 (رسالہ اشاعۃ السنّہ جلد 6 نمبر 10 صفحہ 287)

(ب) ”مفسدہ 1857ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گنہگار اور بحکمِ قرآن و حدیث وہ مُفسد، باغی اور بَد کردار تھے”۔

(رسالہ اشاعۃ السنّہ جلد 9 نمبر 10)

(ج) ”اِس گورنمنٹ سے لڑنا یا ان سے لڑنے والوں کی (خواہ اُن کے بھائی مسلمان کیوں نہ ہوں) کسی نوع سے مدد کرنا صریح غدر اور حرام ہے”۔

(رسالہ اشاعۃ السنّہ جلد 9نمبر 10 صفحہ 83 تا 84)

7- جناب مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ

”فقیر نے ”اِعْلَامُ الْاِعْلَامِ بِأَنَّ ہِنْدُوسْتَان دَارُالسَّلَام” میں بد لائلِ ساطعہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستان دارالسّلام ہے اور اسے دارالحرب کہنا ہر گز صحیح نہیں”۔

(نصرۃ الابرار صفحہ 29 مطبع صحافی لاہور ایچسن گنج میں چھَپا۔ 17/ربیع الاوّل 1306 ھ ۔1888ء)

8- جناب سرسیّد احمد خان صاحب کا بیان

سرسیّد احمد بانی دارالعلوم علی گڑھ اپنی کتاب ”اسباب بغاوتِ ہند” میں لکھتے ہیں:-

”جب کہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مستأمن تھے کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے۔ بیس تیس برس پیشتر ایک بہت بڑے نامی مولوی محمد اسماعیل نے ہندوستان میں جہاد کا وعظ کیا اور آدمیوں کو جہاد کی ترغیب دی۔ اس وقت اس نے صاف بیان کیا کہ ہندوستان کے رہنے والے جو سرکارِ انگریزی کے امن میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے”۔

 (اسباب بغاوتِ ہند مصنفہ سرسید احمد خاں صفحہ 105 ناشر اُردو اکیڈمی سندھ۔ مشن روڈ، کراچی)

9- مکّہ معظمہ کے مُفتیوں کا فتویٰ

۔جمال دین ابن عبداﷲ شیخ عمر حنفی مفتی مکّہ معظمہ

2۔ حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکّہ معظمہ

3۔ احمد بن ذنبی شافعی مفتی مکّہ معظمہ نے ہندوستان کے دارالسّلام ہونے کا فتویٰ دیا تھا”۔

(کتاب ”سیّد عطاء اﷲ شاہ بخاری” صفحہ 141 مؤلفہ شورش کاشمیری)

10- مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر ”زمیندار” لاہور لکھتے ہیں:

”مذہبی آزادی اور امن و امان کی موجودگی میں بھی اگر کوئی بدبخت مسلمان گورنمنٹ سے سرکشی کی جرأت کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں”۔

(اخبار ”زمیندار” لاہور۔ 11/نومبر 1911ء بحوالہ ”ظفر علی خان کی گرفتاری” از خان کابلی 27/مارچ 1937ء مطبوعہ لیتھو پرنٹنگ پریس لاہور)

3

حضرت بانی ٔسلسلہ احمدیہ پر انکارِ جہاد کا الزام واضح طور پر آپ کی تعلیم ، مجاہدانہ زندگی اور فرمودات کے منافی ہے۔ آپ کی ساری زندگی اسلام کی مدافعت، تبلیغ اور جہادکبیر یعنی جہاد بالقرآن میں صَرف ہوئی۔ آپ نے اپنے وقت میں اسلام کی تائید میں ہندو مذہب اور عیسائیت کی خطرناک یلغار کے خلاف ایک عظیم جہاد کیا۔ کاسرِ صلیب ہونے کی حیثیت سے آپ نے عیسائیوں کے گمراہ کُن پراپیگنڈہ اور تثلیث کی باطل عمارت کو دلائل و براہین کے ساتھ پاش پاش کر دیا۔ اِس ضمن میں آپ کے چند اقتباسات پیش ہیں جن سے بخوبی واضح ہو جائے گا کہ آپ نے اسلام کی تائید میں عیسائیت کے خلاف جو عظیم الشان جہاد کیا اس کے پیچھے کتنا قوی اور والہانہ جذبہ کارفرما تھا۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:-

 ” خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اس کو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اس کو توڑے مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ۔ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے سو سنہ عیسوی کی بیسویں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے”۔

 (تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521)

” ایک متقی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اس چودھویں صدی کے سر پر جس میں ہزاروں حملے اسلام پر ہوئے ایک ایسے مجدد کی ضرورت تھی کہ اسلام کی حقیّت ثابت کرے۔ ہاں اس مجدد کا نام اس لئے مسیح ابن مریم رکھا گیا کہ وہ کسر صلیب کے لئے آیا ہے اور خدا اس وقت چاہتا ہے کہ جیسا کہ مسیح کو پہلے زمانہ میں یہودیوں کی صلیب سے نجات دی تھی اب عیسائیوں کی صلیب سے بھی اس کو نجات دے۔ چونکہ عیسائیوں نے انسان کو خدا بنانے کے لئے بہت کچھ افترا کیا ہے۔ اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ مسیح کے نام پر ہی ایک شخص کو مامور کرکے اس افترا کو نیست و نابود کرے۔ یہ خدا کا کام ہے اور ان لوگوں کی نظر میں عجیب”۔

(انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11صفحہ 321)

 ”اس زمانہ میں پادریوں کا متعصب فرقہ جو سراسر حق پوشی کی راہ سے کہا کرتا تھا کہ گویا ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا ان کو خدا تعالیٰ نے سخت شرمندہ کرنے والا جواب دیا اورکھلے کھلے نشان اس اپنے بندہ کی تائید میں ظاہر فرمائے۔

 ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اورکوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سیّد و مولیٰ خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والا صفیاء اور سیّد المعصومین والا تقیاء حضرت محبوبِ جناب احدیت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ قابل شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ گویا آنجناب سے کوئی پیشگوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔ اور اب یہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے علاوہ ان ہزارہا معجزات کے جو ہمارے سرور و مولٰی شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اِس کثرت سے مذکور ہیں جو اعلیٰ درجہ کے تواتر پر ہیں ۔ تازہ بتازہ صدہا نشان ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ ہم نہایت نرمی اور انکسار سے ہر ایک عیسائی صاحب او ر دوسرے مخالفوں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ بات سچ ہے کہ ہرایک مذہب جو خداتعالیٰ کی طرف سے ہوکر اپنی سچائی پر قائم ہوتا ہے اس کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ اس میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں کہ جو اپنے پیشوا او رہادی اور رسول کے نائب ہوکر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا۔ کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی جس کی پیروی کی جائے جس کو شفیع اور منجیّ سمجھا جائے وہ اپنے روحانی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو اور عزت اور رفعت اور جلال کے آسمان پر اپنے چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ ایسا بدیہی طور پر مقیم ہو۔ اور خدائے ازلی ابدی حیّ قیوم ذو الاقتدار کے دائیں طرف بیٹھنا اُس کا ایسے پُرزور الٰہی نوروں سے ثابت ہوکہ اس سے کامل محبت رکھنا اور اس کی کامل پیروی کرنا لازمی طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہو کہ پیروی کرنے والا رُوح القدس اور آسمانی برکات کا انعام پائے اور اپنے پیارے نبی کے نوروں سے نور حاصل کرکے اپنے زمانہ کی تاریکی کو دُور کرے اور مستعد لوگوں کو خدا کی ہستی پر وہ پختہ اور کامل اور درخشاں اور تاباں یقین بخشے جس سے گناہ کی تمام خواہشیں اور سفلی زندگی کے تمام جذبات جل جاتے ہیں۔ یہی ثبوت اِس بات کا ہے کہ وہ نبی زندہ اور آسمان پرہے۔ سوہم اپنے خدائے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اُس نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے روحانی فیضوں سے جو سچی تقویٰ اور سچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرماکر ہم پر ثابت کردیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔ اِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰۤاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسلِیْمًا”۔

(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد15 صفحہ 137 تا 139)

 ”مسیح موعود کے وجود کی علت غائی احادیث نبویہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ عیسائی قوم کے دجل کو دور کرے گا اور ان کے صلیبی خیالات کو پاش پاش کر کے دکھلا دے گا۔ چنانچہ یہ امر میرے ہاتھ پر خداتعالیٰ نے ایسا انجام دیا کہ عیسائی مذہب کے اصول کا خاتمہ کر دیا۔ میں نے خداتعالیٰ سے بصیرت کاملہ پاکر ثابت کر دیا کہ وہ لعنتی موت کہ جو نعوذ باللہ حضرت مسیح کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس پر تمام مدار صلیبی نجات کا ہے وہ کسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ اور کسی طرح لعنت کا مفہوم کسی راستباز پر صادق نہیں آ سکتا۔ چنانچہ فرقہ پادریان اس جدید طرزکے سوال سے جو حقیقت میں ان کے مذہب کو پاش پاش کرتا ہے ایسے لاجواب ہوگئے کہ جن جن لوگوں نے اس تحقیق پر اطلاع پائی ہے وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی تحقیق نے صلیبی مذہب کو توڑ دیا ہے۔ بعض پادریوں کے خطوط سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس فیصلہ کرنے والی تحقیق سے نہایت درجہ ڈر گئے ہیں اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس سے ضرور صلیبی مذہب کی بنیاد گرے گی۔ اور اس کا گرنا نہایت ہولناک ہوگا”۔

(کتاب البریّہ روحانی خزائن جلد13 صفحہ 262 ، 263حاشیہ)

 ”مَیں ہر دَم اِس فِکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے میرا دِل مُردہ پرستی کے فِتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔ اِس سے بڑھ کر اَور کون سا دِلی درد کا مقام ہو گا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مُشتِ خاک کو ربّ العالمین سمجھا گیا ہے۔ مَیں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے۔ غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنے خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔ مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔ خدا قادر فرماتا ہے کہ اگر مَیں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں۔ سو اَب اس نے چاہا ہے کہ ان دونو کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو موت کا مزہ چکھادے۔ سو اَب دونو مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب اِستعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔ نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہو گا۔ اَب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہو گا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نُور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔ قریب ہے کہ سب ملّتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حَربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کُند ہو گا جب تک دجّالیّت کو پاش پاش نہ کر دے۔ وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں مُلکوں میں پھیلے گی۔ اس دن نہ کوئی مصنوعی کفّارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔ اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کُفر کی سب تدبیروںکو باطل کردے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مُستعد رُوحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نُور اُتارنے سے۔ تب یہ باتیں جو مَیں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی”۔

(تبلیغِ رسالت جلد ششم صفحہ 8،9)

 ”اے مسلمانو سنو ! اور غور سے سنو ! کہ اسلام کی پاک تاثیروں کے روکنے کے لئے جس قدر پیچیدہ افترا اس عیسائی قوم میں استعمال کئے گئے اور پُر مکر حیلے کام میں لائے گئے اور اُن کے پھیلانے میں جان توڑ کر اور مال کو پانی کی طرح بہا کر کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے بھی جن کی تصریح سے اس مضمون کو منزّہ رکھنا بہتر ہے اِسی راہ میں ختم کئے گئے۔ یہ کرسچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں کہ جب تک اُن کے اِس سحر کے مقابل پر خدا تعالیٰ وہ پُر زور ہاتھ نہ دکھاوے جو معجزہ کی قدرت اپنے اندر رکھتا ہو اور اُس معجزہ سے اِس طلسمِ سحر کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادُو ئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو َمخلصی حاصل ہونا بالکل قیاس اور گمان سے باہر ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے اس جادو کے باطل کرنے کے لئے اِس زمانہ کے سچے مسلمانوں کو یہ معجزہ دیا کہ اپنے اس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی برکاتِ خاصّہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کر مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور اور روحانی معارف و دقائق ساتھ دیئے تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بُت توڑ دیا جائے جو سحر فرنگ نے تیار کیا ہے۔ سو اے مسلمانوں !اس عاجز کا ظہور ساحرانہ تاریکیوں کے اُٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔ کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دنیا میں آتا۔ کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور ان ہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھاوے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو”۔

 (فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ5،6)

 ”چونکہ مَیں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں اِس لئے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دُنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے۔ میرے دِل پر اس قدر صدمہ پہنچاتا رہا ہے کہ مَیں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گزرا ہو۔ بلکہ اگر ہم و غم سے مَرنا میرے لئے ممکن ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اس نبی پرایمان نہیں لاتے جو سچی ہدایت اور راہِ راست لے کر دُنیا میں آیا ہے۔ ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس غم کے صدمات سے مَیں ہلاک نہ ہو جاؤ ں ۔۔۔۔۔۔ اور میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ مَیں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لُوں اور میری رُوح ہر وقت دُعا کرتی ہے کہ اے خدا ! اگر مَیں تیری طرف سے ہوں اور اگرتیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دِن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اُٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باﷲ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ ایک زمانہ گزر گیا کہ میرے پنج وقت کی یہی دُعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کرلیں اور تثلیث کے اِعتقاد سے توبہ کریں”۔

 (تبلیغِ رسالت جلد ہشتم صفحہ 71، 72)

اُنظُرْ إلی المتنـصّرین وذانِـہمْ

عیسائیوں کو دیکھو اور ان کے عیبوں کو

وانظُرْ إلی ما بـدأ مِن أدرانہمْ

اور ان میلوں کو دیکھ جو ان سے ظاہر ہوئیں

مِن کل حدب ینسِلون تشذّرًا

وہ اپنی زیادتیوں اور تعدیوں کی وجہ سے ہریک بلندی سے دوڑے ہیں

وینجّسون الأرض من أوثانہم

اور اپنے بتوں سے زمین کو ناپاک کر رہے ہیں

نشکو إلی الرحمن شرَّ زمانہم

ہم ان کے زمانے کے شر سے خدا تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں

ونعوذ بالقدّوس من شیطانہم

اور ان کے شیطان سے پاک پروردگار کی پناہ میں آتے ہیں

یا رَبِّ خُذْہم مثلَ أخذِک مفسدًا

اے خدا تو ان کو پکڑ جیسا کہ تو ایک مفسد کو پکڑتا ہے

قد أفسدَ الآفاقَ طولُ زمانہم

ان کے طول زمانہ نے دنیا کو بگاڑ دیا

یا ربَّ أحمدَ یا إلٰـہَ محمّدٍ

اے احمد کے رب اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے الہٰ

اِعصِمْ عبادک من سموم دخانہم

اپنے بندوں کو ان کے دھوؤں کی زہروں سے بچا لے

سبُّوا نبیَّک بالعناد وکذّبوا

تیرے نبی کو انہوں نے عناد سے گالیاں دیں اور جھٹلایا

خیرَ الورٰی فانظرْ إلی عدوانہم

وہ نبی جو افضل المخلوقات سے ہے سو تو ان کے ظلم کو دیکھ

یا ربّ سحِّقْہم کسحقک طاغیًا

اے میرے رب ان کو ایسا پیس ڈال جیسا کہ تو ایک طاغی کو پیستا ہے

وَانْزِلْ بساحتہم لہدم مکانہم

اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے صحن خانہ میں اتر آ

یا رب مَزِّقْہم وفَرِّق شَمْلَہم

اے میرے رب ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور ان کی جمعیت کو پاش پاش کر دے

یا ربِّ قَوِّدْہم إلی ذوبانہم

اے میرے رب ان کو ان کے گداز ہونے کی طرف کھینچ

 (نور الحق حصّہ اوّل روحانی خزائن جلد 8صفحہ 123تا 126)

5

حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے دینِ حق کی حمایت میں عیسائی مذہب کے خلاف جو عظیم الشان قلمی جہاد کیا اس کی مثال کہیں اَور نظر نہیں آتی۔

 آپ ایک ایسے فتح نصیب جرنیل تھے جس کے مقدّر میں ہر محاذ پر غلبہ لکھا گیا اور کیا دوست اور کیا دُشمن بے اختیار آفرین صَد آفرین پکار اُٹھے۔

آپ کے اس عظیم الشان جہاد سے متعلق بعض اعترافات پیش خدمت ہیں۔

حضرت خواجہ غلام فرید صاحب سجادہ نشین چاچڑاں شریف فرماتے ہیں:-

حضرت مرزا صاحب تمام اَوقات خدائے عزّوجلّ کی عبادت میں گزارتے ہیں یا نماز پڑھتے ہیں یا قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں یا دوسرے ایسے ہی دینی کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور دینِ اسلام کی حمایت پر اِس طرح کمرِ ہمت باندھی ہے کہ ملکۂ  زمان لنڈن کو بھی دینِ محمدی (اسلام) قبول کرنے کی دعوت دی ہے اور رُوس اور فرانس اور دیگر ملکوں کے بادشاہوں کو بھی اسلام کا پیغام بھیجا ہے اور ان کو تمام تر سعی و کوشش اِس بات میں ہے کہ وہ لوگ عقیدۂ تثلیث و صلیب کو جو کہ سراسر کُفر ہے چھوڑ دیں اور اﷲ تعالیٰ کی توحید اختیار کریں اور اس وقت کے علماء کا حال دیکھو کہ دوسرے تمام جھوٹے مذاہب کو چھوڑ کر ایسے نیک مَرد کے دَرپَے ہو گئے ہیں جو کہ اہلِ سُنّت و الجماعت میں سے ہے اور صراطِ مُستقیم پر قائم ہے اور ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور یہ اس پر کُفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ ان کا عربی کلام دیکھو جو انسانی طاقتوں سے بالا ہے اور ان کا تمام کلام معارف و حقائق اور ہدایت سے بھرا ہؤا ہے وہ اہلسُنّت و الجماعت اور دین کی ضروریات سے ہرگز مُنکر نہیں ہیں۔

      (ترجمہ از فارسی اشاراتِ فریدی جلد 3 صفحہ 69،70 مطبع مفید عام آگرہ 1320ھ)

اخبار ”وکیل” امرتسر

مسلمان اخبارات میں سب سے زور دار ، مؤثر اور حقیقت افروز ریویو اخبار ”وکیل” امرتسر کا تھا جو مولانا ابوالکلام آزادؔ کے قلم سے نکلا۔ اُنہوں نے لکھا:-

 ”وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادُو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی اُنگلیوں سے اِنقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مُٹھّیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دُنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شورِ قیامت ہو کر خفتگانِ خوابِ ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اِس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مٹانے کے لئے اُسے امتدادِ زمانہ کے حوالہ کر کے صبر کر لیا جائے۔ ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دُنیا میں اِنقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے یہ نازشِ فرزندانِ تاریخ بہت کم منظرِ عام پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دُنیا کے کسی حصہ میں اِنقلاب کر کے دکھاجاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

 ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مُہتم بالشّان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پَست اور پامال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے۔۔۔۔۔۔۔

میرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبولِ عام کی سَند حاصل کر چکا ہے اور اِس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اِس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پُورا کر چُکا ہے ہمیں دِل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اِس لئے کہ وہ وقت ہر گز لَوحِ قلب سے نَسْیًا مَنْسِیًّا نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظِ حقیقی کی طرف سے عالَمِ اسباب و وسائِط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سِسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے تھے۔ ایک طرف حملوں کے اِمتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دُنیا اِسلام کی شمعِ عرفانِ حقیقی کو سرِ راہ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دینا چاہتی تھی اور عقل و دَولت کی زبردست طاقتیں اس حملہ آور کی پُشت گری کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعفِ مدافعت کا یہ عالَم تھا کہ توپوں کے مقابلہ پرتیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا ۔۔۔۔۔۔ کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حِصّہ مرزا صاحب کو حاصل ہؤا۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پَرخچے اُڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زَد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلِسم دُھوآں ہو کر اُڑنے لگا ۔۔۔۔۔۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بارِ احسان رکھے گی انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صَف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرضِ مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا جو اُس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایتِ اسلام کا جذبہ اُن کے شعارِ قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا”۔

(بحوالہ بدر 18/جون 1908ء صفحہ 2،3 ۔ایضًا اخبار ”مِلّت” لاہور7/جنوری 1911ء صفحہ 13 تا 15 بحوالہ اخبار الحکم جلد 15 صفحہ 1)

”صادق الاَخبار” ریواڑی

”صادق الاخبار” ریواڑی نے لکھا کہ:-

 ”مرزا صاحب نے اپنی پُر زور تقریروں اور شاندار تصانیف سے مخالفینِ اسلام کو ان کے لَچر اعتراضات کے دندان شِکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکن کر دیا ہے اور کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایتِ اسلام کا کما حقّہ، ادا کر کے خدمتِ دینِ اسلام میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اِنصاف متقاضی ہے کہ ایسے اُولو العزم حامی  اسلام اور معین المسلمین فاضل اجل عالمِ بے بدل کی ناگہانی اور بے وقت مَوت پر افسوس کیا جائے”۔

(بحوالہ بدر 20/اگست 1908ء صفحہ 6 کالم 1،2)

”کرزن گزٹ” دہلی

”کرزن گزٹ” دہلی کے ایڈیٹر مرزا حیرت ؔدہلوی نے لکھا کہ:-

”مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اِسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بُنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔ نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اِس بات کا اِعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا ۔۔۔۔۔۔ اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اِس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندیٔ ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کا پُر زور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔”۔

(بحوالہ سلسلہ احمدیہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 189)

چوہدری افضل حق صاحب مُفکّرِ اَحرار

”آریہ سماج کے معرضِ وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جَسدِ بے جان تھا جس میں تبلیغی حِسّ مفقود ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ ہاں ایک دِل مسلمانوں کی غفلت سے مُضطرب ہو کر اُٹھا۔ ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشرواشاعت کے لئے بڑھا ۔۔۔۔۔۔ اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دُنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے”۔

(”فتنۂ ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیاں” از چوہدری افضل حق صاحب طبع دوم صفحہ 24 مطبع کو آپریٹو سٹیم پریس وطن بلڈنگز لاہور)

مولانا سَیّد حبیب صاحب مُدیرِ ”سیاست”

فرماتے ہیں:-

”اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے اِکّے دُکّے جو عالمِ دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموسِ شریعتِ حقّہ کے تحفظ میں مصرف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہؤا اُس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اُترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اُپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیّہ کر لیا۔ مَیں مرزا صاحب کے ادّعائے نبوت وغیرہ کی قلعی کھول چکا ہوں لیکن بقولیکہ

عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو

مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اِس فرض کو نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفینِ اسلام کے دانت کھٹّے کر دیئے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں”۔

 (تحریکِ قادیان مصنفہ سیّد حبیب صاحب صفحہ209 بار اوّل ستمبر 1933ء مقبول عام پریس لاہور)

اِس حصّۂ  مضمون کے آخر پر ہم یہ گزارش کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اِسلام کے اِس عظیم بطلِ جلیل کے متعلق جس کی زندگی سرتا پا دینِ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خاطر جہاد میں وقف تھی اور عیسائیت کے خلاف جس کی شہرہ آفاق مذہبی جنگوں نے عالَمِ عیسائیت میں تہلکہ مچا رکھا تھا ہاں وہی فتح نصیب جرنیل جس کے متبعین آج تک اس عظیم جہاد میں مصروف ہیں اور آئے دن نئے محاذوں پر عیسائیت کو شکستِ فاش دے رہے ہیں۔ اِسلام کے یہ دیوانے دُنیا کے کونے کونے میں عیسائیت سے برسرِ پیکار ہیں اور کیا یورپ اور کیا امریکہ اور کیا افریقہ کا تاریک برِّاعظم ہر میدان کا رزار میں کلیسیا جن کے حملوں سے لرزاں ہے اور عیسائی دُنیا رعشہ بَراَندام نظر آتی ہے جن کے لبوں کی جُنبش سے صلیب ٹوٹتی ہے اور جن کے قدموں کی چاپ عیسائیت کے لئے پسپائی کا پیغام ہے۔ افسوس ! صد افسوس!! کہ اسلام کے اِس بطلِ جلیل اور اس فتح نصیب جرنیل پر بھی بعض ظالم زبانیں طعن و تشنیع کے یہ چرکے لگاتی ہیں کہ وہ نعوذ باﷲ عیسائی حکومتوں کا آلۂ  کار تھا۔

ہم اِس بارہ میں صرف اتنا کہہ کر یہ معاملہ اپنے علیم و خبیر اور غیور خدا پر چھوڑتے ہیں کہ

اے مظفّر! تجھ پر سلام۔ تیرا مقام حاسدوں کی طعن و تشنیع سے بہت بلند ہے۔ اَے محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم کے نُور سے منوّر چودھویں صدی کے چاند! حاسدوں کے تھوک تیری رفیع الشّان کائنات کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔

بعض دیگر الزامات کا جائزہ



بعض دیگر الزامات

احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کو معقول اور صحیح ثابت کرنے کے لئے بعض دیگر الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں جن میں سے دو خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں:-

اوّلؔ: احمدی دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نہ نماز پڑھتے ہیں نہ ان کا جنازہ ادا کرتے ہیں نہ ان سے شادی بیاہ کا تعلق قائم کرتے ہیں۔

دومؔ: احمدی قرآنِ مجید میں لفظی اور معنوی تحریف کے مُرتکب ہوئے ہیں۔

امرِ اوّل کے متعلق نہایت اَدب سے عرض ہے کہ جماعتِ احمدیہ اِس معاملہ میں ایک مظلوم جماعت ہے جس پر شروع ہی سے علماء حضرات نے فتاوٰی لگا رکھے ہیں۔ چنانچہ ١٨٩٢ء میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے متعلق فتویٰ دیا کہ

”نہ اس کو ابتداءً سلام کریں ۔۔۔۔۔۔ اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں”۔

(اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 85)

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتویٰ دیا کہ

”قادیانی کے مرید رہنا اور مسلمانوں کا امام بننا دونوں باہم ضدّین ہیں یہ جمع نہیں ہو سکتیں”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ

”اس کو اور اس کے اتباع کو امام بنانا حرام ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا کہ

”اس کے خلف نماز جائز نہیں”۔

(فتویٰ شریعت غراء صفحہ9)

مولوی عبدالسمیع صاحب بدایونی نے فتویٰ دیا کہ

”کسی مرزائی کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں۔ مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا ہندوؤں اور یہود و نصارٰی کے پیچھے۔ مرزائیوں کو نماز پڑھنے یا دیگر مذہبی احکام ادا کرنے کے لئے اہلسُنّت و الجماعت اور اہلِ اِسلام اپنی مسجدوں میں ہر گز نہ آنے دیں”۔

(صاعقہ ربّانی پر فتنہ قادیانی مطبوعہ 1892ء صفحہ9)

مولوی عبدالرحمن صاحب بہاری نے فتویٰ دیا کہ

”اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل و مردُود ہے ۔۔۔۔۔۔ ان کی امامت ایسی ہے جیسی کسی یہودی کی امامت”۔

(فتویٰ شریعت غراء صفحہ4)

مفتی محمد عبداﷲ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ

”اس کے اور اس کے مریدوں کے پیچھے اِقتداء ہر گز درست نہیں”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 25)

مولوی عبدالجبار صاحب عمر پوری نے فتویٰ دیا کہ

”مرزا قادیانی اسلام سے خارج ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر گز امامت کے لائق نہیں”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 20)

مولوی عزیز الرحمن صاحب مفتی دیوبند نے فتویٰ دیا کہ

”جس شخص کا عقیدہ قادیانی ہے اس کو امام الصلوٰۃ بنانا حرام ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

مشتاق احمد صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا کہ

”مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعتِ اسلام سے جُدا ہے اور اس کو امام بنانا ناجائز ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 24)

مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی نے فتویٰ دیا کہ

”اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم بعینہٖ وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے”۔

(حسام الحرمین صفحہ 95)

مولوی محمد کفایت اﷲ صاحب شاہجہان پوری نے فتویٰ دیا کہ

”ان کے کافر ہونے میں شک و شُبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور امامت ہر گز جائز نہیں”۔

(فتویٰ شریعت غرّاء صفحہ6)

جنازے کے متعلق اِن حضرات کے فتوے یہ ہیں:

مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا کہ

”ایسے دجّال کذّاب سے اِحتراز اختیار کریں ۔۔۔۔۔۔ نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں”۔

(اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6)

مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ

”اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے”۔

 (اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 101)

قاضی عبید اﷲ بن صبغۃ اﷲ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ

”جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے ۔۔۔۔۔۔ اور مرتد بغیر توبہ کے مَر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا”۔

(فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی و نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام)

مفتی محمد عبداﷲ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ

”جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو علانیہ توبہ کرنی چاہئے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدیدِ نکاح کرے”۔

(فتویٰ شریعت غرّاء صفحہ12)

پھر اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں بھی دفن نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے تاکہ:

”اہلِ قبور اس سے ایذاء نہ پائیں”۔

 (اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 101)

قاضی عبید اﷲ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ ان کو

”مقابر اہلِ اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے کُتّے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا”۔

(فتویٰ 1839ء منقول از فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی و نزول عیسیٰ علیہ السلام)

اِسی طرح انہوں نے یہ بھی فتوے دیئے کہ کسی مسلمان کے لئے احمدیوں کو لڑکیاں دینا جائز نہیں چنانچہ شرعی فیصلہ میں لکھا گیا کہ

”جو شخص ثابت ہو کہ واقع ہی وہ قادیانی کا مرید ہے اس سے رشتہ مناکحت کا رکھنا ناجائز ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فتویٰ دیا گیا کہ

”جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہوں وہ بھی کافر ہیں اور اُن کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے”۔

(فتویٰ مولوی عبداﷲ و مولوی عبدالعزیز صاحبان لدھیانہ از اشاعت السنّہ جلد نمبر 13 صفحہ 5)

گویا احمدیوں کی عورتوں سے جبراً نکاح کر لینا بھی علماء کے نزدیک عین اسلام تھا۔ اسی طرح یہ فتویٰ دیا کہ

”جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے اور شرعاً مُرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ان کے پیدا ہوتے ہیں وہ ولدِ زنا ہوں گے”۔

(فتویٰ در تکفیر منکرِ عروج جسمی و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مطبوعہ 1311ھ)

تحریک احمدیت کے مخالف علماء نے صرف فتاویٰ ہی نہیں دیئے بلکہ ان پر سختی سے عمل کرانے کی ہمیشہ کوشش کی جیسا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مرید مولوی عبدالاحد صاحب خانپوری کی کتاب ”مخادعت مسیلمہ قادیانی” (مطبوعہ 1901ء) کی مندرجہ ذیل اشتعال انگیز تحریر سے ظاہر ہے کہ

”طائفہ مرزائیہ بہت ذلیل و خوار ہوئے۔ جمعہ اور جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اُس میں بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حُکماً رو کے گئے ۔۔۔۔۔۔ نیز بہت قسم کی ذِلّتیں اُٹھائیں۔ معاملہ اور برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔ عورتیں منکوحہ اور مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔ مُردے اُن کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے”۔ (صفحہ 2)

اَب معزز ارکانِ اسمبلی غور فرما سکتے ہیں کہ اگر سالہا سال تک تکالیف و مصائب کا نشانہ بننے کے بعد جماعتِ احمدیہ کے افراد کو ابتلاء اور فتنہ کے احتمال سے کوئی قدم اُٹھانا پڑا تو یہ اُن کی قابلِ رحم اور دردناک حالت پر تو دلالت کرتا ہے ان کے ”غیرمسلم” ہونے کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

اِس مسئلہ کے دوسرے پہلو بھی ہیں جن کی تفصیل مطبوعہ رسالہ میں درج ہے جو ذیل میں بجنسہٖ نقل کیا جاتا ہے:

اَحمدی مسلمان غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے

پاکستان میں آجکل اکثر علماء کا دلچسپ ترین مشغلہ یہ ہے کہ جیسے تیسے جماعتِ احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا جائے۔ اِس ضمن میں بکثرت ایسا لٹریچر شائع کیا جارہا ہے جو دلائل سے کہیں زیادہ اشتعال انگیز بے بُنیاد اِلزامات اور دُشنام طرازی پر مشتمل ہے اور تمام تر اُنہیں باتوں کا اِعادہ ہے جو 53-1952ء میں سادہ لَوح عوام میں شدید اشتعال انگیزی کی خاطر نشر کی گئیں۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق ؔ اِس نَوع کے لٹریچر کا ذکر اپنی کتاب ”حرفِ محرمانہ” میں حسبِ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں:-

”آج تک احمدیت پر جس قدر لٹریچر علمائے اسلام نے پیش کیا ہے اس میں دلائل کم تھے اور گالیاں زیادہ۔ ایسے دُشنام آلُود لٹریچر کو کون پڑھے اور مغلّظات کون سُنے”۔

(حرفِ محرمانہ صفحہ12 ۔ از ڈاکٹر غلام جیلانی برق)

1953ء میں جب اِن مغلّظات اور گالیوں نے عوام النّاس کے مزاج کو بھڑک اُٹھنے پر تیار کر دیا تو اچانک جناب مودُودی صاحب نے اِس صورتِ حال سے استفادہ کرنے اور اس آتش گیر مادہ کو اپنے مقصد کی خاطر اِستعمال کرنے کے لئے وہ تیلی دکھائی جسے ”قادیانی مسئلہ” کا نام دیا گیا۔ اِس رسالہ کی اشاعت کا مقصد بھی بعینہٖ وہی تھا جو قبل ازیں شائع ہونے والے لٹریچر کا تھا لیکن ظاہر یہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس میں ”دُشنام طرازی” اور ”مغلّظات” کم اور دلائل زیادہ ہیں۔ سادہ لَوح اور کم علم عوام کے نقطۂ  نگاہ سے تو یہ بات شاید درست ہو جو دلائل کو جانچنے کی اہلیّت نہیں رکھتے اور جس طرح مجمع باز عطائی حکیموں کے ہاتھوں وہ رنگ ملا پانی اکسیر سمجھ کر خرید لیا کرتے ہیں اسی طرح ”قادیانی مسئلہ” کو مدلّل رسالہ کے طور پر قبول کر لیا ہو تو ہم کہہ نہیں سکتے البتہ بعض مشہور غیر احمدی علماء کے نزدیک ان دلائل کی جو حیثیت تھی وہ جناب غلام احمد صاحب پرویزؔ مدیر ”طلوعِ اسلام” کے مندرجہ ذیل الفاظ سے ظاہر ہے:-

”سب سے زیادہ اہمیت مودُودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ” کو دی جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک اِس رسالہ کے دلائل اِس قدر پوچ ہیں کہ ان کا تجزیّہ کیا جائے تو وہ خود احمدیوں کے حق میں چلے جاتے ہیں”۔

(مزاج شناس رسول صفحہ 443 شائع کردہ ادارہ طلوع اسلام کراچی)

آج ہم اِن اِعتراضات میں سے جو اس رسالہ میں اُٹھائے گئے ہیں اور آجکل پھر بکثرت ان کا اعادہ کیا جارہا ہے ایک اہم مرکزی اِعتراض کو لیتے ہیں کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ اور چونکہ وہ ایسا نہیں کرتے لہٰذا ثابت ہؤا کہ وہ الگ اُمّت ہیں اور اِس لائق ہیں کہ غیر مُسلم اقلیّت قرار دے دیئے جائیں۔

اِس اِعتراض کا ایک جواب تو ہم نہایت اِختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اسی جواب میں دراصل ”قادیانی مسئلہ” کے اکثر و بیشتر اعتراضات کا جواب آجاتا ہے بلکہ اگر کوئی مُنصف مزاج قاری اِسلامی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے تو یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اگر ”قادیانی مسئلہ” اور اِس قماش کے دوسرے لٹریچر کے دلائل کو تسلیم کر لیا جائے تو قادیانی تو الگ رہے ہر دوسرے فرقہ کو از رُوئے انصاف غیر مُسلم اقلیّت قرار دینا بدرجہ اولیٰ فرض ہو جائے گا لیکن یہ محض ایک ضمنی سوال تھا اصل سوال جو اِس وقت ہمارے پیشِ نظر ہے وہ یہی ہے کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

تو سُنیے! کہ غیروں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی بیسیوں اہم وجوہات میں سے ایک وجہ مُقتدر اور مشاہیر، چوٹی کے مانے ہوئے غیر احمدی علماء کے وہ فتاوٰی ہیں جن میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے بڑی شدّت کے ساتھ روکا گیا ہے۔

(1)آپ ہی انصاف کیجئے کہ کیا ہم اُن دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھیں جن کے متعلق احمدیوں کا نہیں بلکہ غیر احمدی اکابر علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ:-

”وہابیہ دیوبندیہ اپنی عبارتوں میں تمام اَولیاء انبیاء حتّٰی کہ حضرت سَیّدالاوّلین و آخرین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اور خاص ذاتِ باری تعالیٰ شانہ، کی اہانت وہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مُرتد و کافر ہیں اور ان کا اِرتداد کُفر میں سخت سخت سخت اشدّ درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جو ان مُرتدوں اور کافروں کے اِرتداد و کُفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہیں جیسا مُرتد اور کافر ہے اور جو اس شک کرنے والے کے کُفر میں شک کرے وہ بھی مُرتد و کافر ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل ہی مُحترز، مُجتنب رہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں گھسنے دیں۔ نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں۔ نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔ یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں۔ مریں تو گاڑنے تو پنے میں شرکت نہ کریں۔ مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ دیں۔ غرض ان سے بالکل احتیاط و اجتناب کریں ۔۔۔۔۔۔

پس وہابیہ دیوبندیہ سخت سخت اشدّ مُرتد و کافر ہیں ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔ اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہو گی وہ حرامی ہو گی اور از رُوئے شریعت ترکہ نہ پائے گی”۔ (انّا ِﷲ و اِنّا الیہ راجعون۔ ناقل)

اِس اشتہار میں بہت سے علماء کے نام لکھے ہیں مثلاً سیّد جماعت علی شاہ حامد رضا خاں قادری نُوری رضوی بریلوی، محمد کرم دین بھیں، محمد جمیل احمد بدایونی، عمر النعیمی مفتی شرع اور ابو محمد دیدار علی مفتی اکبر آباد وغیرہ ۔۔۔۔۔۔

”یہ فتوے دینے والے صرف ہندوستان ہی کے علماء نہیں ہیں بلکہ جب وہابیہ دیوبندیہ کی عبارتیں ترجمہ کر کے بھیجی گئیں تو افغانستان و خیوا و بخارا و ایران و مصر و روم و شام اور مکّہ معظمہ و مدینہ منورہ وغیرہ تمام دیارِ عرب و کُوفہ و بغداد شریف غرض تمام جہاں کے علماء اہلِ سُنّت نے بالاتفاق یہی فتویٰ دیا ہے”۔

(خاکسار محمد ابراہیم بھاگلپوری باہتمام شیخ شوکت حسین مینیجر کے حسن برقی پریس اشتیاق منزل نمبر 63ہیوٹ روڈ لکھنؤ میں چھپا۔ سنِ اشاعت درج نہیں قیامِ پاکستان سے قبل کا فتویٰ ہے۔)

فتویٰ مولوی عبدالکریم ناجی داغستانی حرم شریف مکّہ:-

”ھُمُ الْکُفْرَۃُ الْفَجرۃُ قَتْلَھُمْ وَاجِبٌ عَلٰی مَنْ لَہ، حدٌ وَنَصْلٌ وافرٌ۔ بَلْ ھُوَ اَفْضَلُ مِنْ قَتْلِ اَلْفِ کَافِرِفَھُمُ الْمَلْعُوْنُوْنَ وَ فِیْ سِلْکِ الْغُبثَاءِ مُنْخَرِطُوْنَ فَلَعْنَۃُ اﷲِ عَلَیْھِمْ وَعَلٰی اَعْوَانِھِمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہ، عَلٰی مَنْ خَذَلَھُمْ فِیْ اَطْوَارِھِمْ”۔

توجمہ: وہ بدکار کافر ہیں۔ سلطان اِسلام پر کہ سزا دینے کا اختیار اور سنان و پیکان رکھتا ہے ان کا قتل واجب ہے بلکہ وہ ہزار کافروں کے قتل سے بہتر ہے کہ وہی ملعون ہیں اور خبیثوں کی لڑی میں بندھے ہوئے ہیں تو ان پر اور ان کے مددگاروں پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت اور جو انہیں ان کی بَداطواروں پر مخذول کرے اس پر اﷲ کی رحمت و برکت اسے سمجھ لو۔

(فاضل کامل نیکو خصائل صاحبِ فیض یزدانی مولوی عبدالکریم ناجی داغستانی حرم شریف مکّہ حسام الرحمین علیٰ منحر الکفر و المین صفحہ176 تا 179 مصنفہ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی مطبوعہ اہل سُنّت و الجماعت بریلی 1324ھ۔8-1906ء)

(2) پھر کیا ہم ان اہل حدیث کے پیچھے نماز پڑھیں جن کے متعلق بریلوی آئمہ ہمیں غیر مُبہم الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ:-

 ”وہابیہ وغیرہ مقلّدینِ زمانہ باتفاق علمائے حرمین شریفین کافر مُرتد ہیں۔ ایسے کہ جو اُن کے اقوالِ ملعونہ پر اطلاع پاکر انہیں کافر نہ جانے یا شک ہی کرے خود کافر ہے ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ۔ ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ اُن کا نکاح کسی مسلمان کافر مُرتد سے نہیں ہو سکتا۔ ان کے ساتھ میل جول، کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا، سلام، کلام سب حرام، ان کے مفصّل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

مُہر مُہر مُہر

دارالافتاء مدرسہ اہل سُنت و الجماعت آل رسول احمد رضا خاں شفیع احمد خاں رضوی سُنی حنفی قادری

بریلی بریلی

(فتاوٰی ثنائیہ جلد نمبر 2 صفحہ 409 مرتبہ الحاج مولانا محمد داؤد رازؔ خطیب جامعہ اہلحدیث شائع کردہ مکتبہ اشاعتِ دینیات مومن پورہ بمبئی)

نیز ملاحظہ فرمائیے:

 ”تقلید کو حرام اور مقلّدین کو مُشرک کہنے والا شرعاً کافر بلکہ مُرتد ہؤا ۔۔۔۔۔۔ اور حکامِ اہلِ اسلام کو لازم ہے کہ اس کو قتل کریں اور عُذر داری اس کی بایں وجہ کہ ”مجھ کو اس کا عِلم نہیں تھا” شرعاً قابلِ پذیرائی نہیں بلکہ بعد توبہ کے بھی اس کو مارنا لازم ہے۔ یعنی اگرچہ توبہ کرنے سے مسلمان ہو جاتا ہے لیکن ایسے شخص کے واسطے شرعاً یہی سزا ہے کہ اس کو احکامِ اہلِ اِسلام قتل کر ڈالیں۔ یعنی جیسے حدّزَنا توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی اسی طرح یہ حدّ بھی تائب ہونے سے دُور نہیں ہوتی اور علماء اور مفتیانِ وقت پر لازم ہے کہ بمجرّد مسموع ہونے ایسے امر کے اس کے کُفراور ارتداد کے فتوے دینے میں تردّد نہ کریں ورنہ زمرہئ مرتدّین میں یہ بھی داخل ہوں گے”۔

(”انتظام المساجد باخراج اہل الفِتن و المفاسد”صفحہ 5 تا 7 مطبوعہ جعفری پریس لاہور مصنفہ مولوی محمد ابن مولوی عبدالقادر لودھیانوی)

(3)پھر کیا ہم ان بریلویوں کے پیچھے نماز پڑھ کر کافر بن جائیں جن کے متعلق دیوبندی علماء ہمیں یہ شرعی حُکم سُناتے ہیں کہ:-

”جو شخص اﷲ جلّ شانہ، کے سوا علمِ غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اﷲ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بیشک کافر ہے۔ اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت و مودّت سب حرام ہیں”۔

مُہر

(فتاوٰی رشید یہ کامل مبوّب از مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی صفحہ 337بار دوم دسمبر 1967ء سعید کمپنی ادب منزل کراچی)

یا جن کے بارہ میں مشہور دیوبندی عالم جناب مولوی سیّد حسین احمد صاحب مدنی سابق صدر مدرّس دارالعلوم دیوبند ہمیں یہ خبر دے رہے ہیں کہ:-

”یہ سب تکفیریں اور لعنتیں بریلوی اور اس کے اتباع کی طرف لَوٹ کر قبر میں ان کے واسطے عذاب اور بوقت خاتمہ ان کے موجب خروج ایمان و ازالہ تصدیق و ایقان ہوں گی ۔۔۔۔۔۔کہ ملائکہ حضور علیہ السلام سے کہیں گے اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَ ثُوْا بَعْدَکَ۔ اور رسولِ مقبول علیہ السلام دجّال بریلوی اور ان کے اتباع کو سحقاً سحقاً فرما کر اپنے حوض مورودو شفاعتِ محمود سے کُتّوں سے بَد تر کر کے دھتکار دیں گے اور اُمّتِ مرحومہ کے اجرو ثواب و منازل و نعیم سے محروم کئے جائیں گے”۔

(رجوم المذنبین علیٰ رؤس الشیاطین المشہور بہ الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب صفحہ111 مؤلفہ مولوی سیّد حسین احمد صاحب مَدنی ناشر کتب خانہ اعزازیہ دیو بند ضلع سہارنپور)

(4)  پھر کیا ہم ان پرویزیوں اور چکڑالویوں کے پیچھے نماز پڑھیں جن کے متعلق متفقہ طور پر بریلوی اور دیوبندی اور مودودی علماء یہ فتویٰ صادر فرماتے ہیں کہ:-

”چکڑالویّت حضور سرورِ کائنات علیہ التّسلیمات کے منصب و مقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کی مُنکر اور آپ کی احادیثِ مُبارکہ کی جانی دشمن ہے۔ رسول کریم کے ان کھلے ہوئے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔ جانتے ہو! باغی کی سزا کیا ہے؟ صرف گولی”۔

(ہفتہ وار ”رضوان” لاہور (چکڑ الویّت نمبر) اہل سُنّت و الجماعت کا مذہبی ترجمان 21-28/فروری 1953ء صفحہ3 پرنٹر سیّد محمود احمد رضوی کو آپریٹو کیپیٹل پرنٹنگ پریس لاہور دفتر رضوان اندرون دہلی دروازہ لاہور)

پھر ولی حسن صاحب ٹونکی اُن پر صادر ہونے والے شرعی احکامات اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں:-

”غلام احمد پرویزؔ شریعتِ محمدیہ کی رُو سے کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج۔ نہ اس شخص کے عقدِ نکاح میں کوئی مسلمان عورت رہ سکتی ہے اور نہ کسی مسلمان عورت کا نکاح اس سے ہو سکتا ہے۔ نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کا دفن کرنا جائز ہو گا اور یہ حُکم صرف پرویزؔ ہی کا نہیں بلکہ ہر کافر کا ہے اور ہر وہ شخص جو اس کے متبعین میں ان عقائدِ کفریہ کے ہمنوا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے اور جب یہ مُرتد ٹھہرا تو پھر اس کے ساتھ کسی قسم کے بھی اسلامی تعلقات رکھنا شرعاً جائز نہیں ہیں”۔

(ولی حسن ٹونکی غفراﷲ مفتی و مدرّس مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی محمدیوسف بنوری شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ ٹاؤن کراچی)

پرویزیوں کے متعلق جماعتِ اسلامی کے آرگن تسنیمؔ، کا فتویٰ یہ ہے کہ:-

”اگر یہ مشورہ دینے والوں کا مطلب یہ ہے کہ شریعت صرف اتنی ہی ہے جتنی قرآن میں ہے باقی اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شریعت نہیں ہے تو یہ صریح کُفر ہے اور بالکل اسی طرح کا کُفر ہے جس طرح کا کُفر قادیانیوں کا ہے بلکہ کچھ اس سے بھی سخت اور شدید ہے”۔

(مضمون مولانا امین احسن اصلاحی۔ روزنامہ تسنیمؔ لاہور 15/اگست 1952ء صفحہ12)

(5)  پھر کیا ہم ان شیعوں کے پیچھے نماز پڑھیں جن کے متعلق علماء عامۃ المسلمین اِن لرزہ خیز الفاظ میں تنبیہ کرتے ہیں:-

”بالجملہ ان رافضیوں تبرّائیوں کے باب میں حُکمِ یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفّار مرتدّین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مُردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔ معاذ اﷲ مَرد ر افضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے۔ اگر مَرد سُنّی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گا۔ اولاد ولد الزنا ہو گی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگرچہ اَولاد بھی سُنّی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مَہر نہیں۔ رافضی اپنے کسی قریب حتّٰی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔ سُنّی تو سُنّی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ ان کے مرد عورت، عالم، جاہل، کسی سے میل جول، سلام کلام سخت کبیرہ اشدّ حرام جو اِن کے ان ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے باجماع تمام اَئمہ دین خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔ مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوشِ ہوش سُنیں اور اس پر عمل کر کے سچّے پکّے سُنّی بنیں”۔

(فتویٰ مولانا شاہ مصطفی رضا خاں بحوالہ رسالہ ردّ الرفضہ صفحہ 23 شائع کردہ نوری کتب خانہ بازار داتا صاحب لاہور پاکستان مطبوعہ گزار عَالم پریس بیرون بھاٹی گیٹ لاہورؔ 1320 ھ)

”آج کل کے روافض تو عموماً ضروریاتِ دین کے مُنکر اور قطعاً مُرتد ہیں۔ ان کے مَرد یا عورت کا کسی سے نکاح ہو سکتا ہی نہیں۔ ایسے ہی وہابی، قادیانی، دیوبندی، نیچری، چکڑالوی، جُملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مَرد یا عورت کا تمام جہان میں جس سے نکاح ہو گا مسلم ہو یا کافر اصلی یا مُرتد انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہو گا اور اولاد ولد الزنا”۔

(الملفوظ حصّہ دوم صفحہ 97 مرتبہ مفتی اعظم ہند مطبوعہ برقی پریس دہلی)

(6)  پھر کیا جماعتِ اسلامی کے پیچھے نماز پڑھنے سے ہم اپنا اسلام بچا سکیں گے کہ جن کے متعلق کیا بریلوی اور کیا دیوبندی علماء یہ قطعی فتویٰ صادر فرماتے ہیں کہ:-

”مودودی صاحب کی تصنیفات کے اِقتباسات کے دیکھنے سے معلوم ہؤا کہ ان کے خیالات اِسلام کے مقتدیان اور انبیائے کرام کی شان میں گستاخیاں کرنے سے مملوہیں۔ ان کے ضالّ اور مُضِلّ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ میری جمیع مسلمانان سے اِستدعا ہے کہ ان کے عقائد اور خیالات سے مجتنب رہیں اور ان کو اسلام کا خادم نہ سمجھیں اور مغالطہ میں نہ رہیں۔

حضورِ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اصلی دجّال سے پہلے تیس دجّال اَور پیدا ہوں گے جو اس دجّال اصلی کا راستہ صاف کریں گے۔ میری سمجھ میں ان تیس دجّالوں میں ایک مودُودی ہیں”۔ فقط والسلام

محمد صادق عفی عنہ صدر مہتمم مدرسہ مظہر العلوم محلہ کھڈہ کراچی 28/ذوالحجہ 1371ھ۔ 19/ستمبر 1952ء

(حق پرست علماء کی مودُودیت سے ناراضگی کے اسباب صفحہ 97 مرتبہ مولوی احمد علی انجمن خدّام الدّین لاہوربار اوّل)

پھر ان کے پیچھے نماز کی حُرمت کا واضح اِعلان کرتے ہوئے جمعیت العلماء اسلام کے صدر حضرت مولانا مفتی محمود فرماتے ہیں:-

”مَیں آج یہاں پریس کلب حیدر آباد میں فتویٰ دیتا ہوں کہ مودُودی گمراہ کافر اور خارج از اسلام ہے۔ اس کے اور اس کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز اور حرام ہے اس کی جماعت سے تعلق رکھنا صریح کُفر اور ضلالت ہے۔ وہ امریکہ اور سرمایہ داروں کا ایجنٹ ہے۔ اَب وہ مَوت کے آخری کنارے پر پہنچ چکا ہے اور اب اسے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ اس کا جنازہ نکل کر رہے گا”۔

(ہفت روزہ زندگی 10/نومبر 1969ء منجانب جمعیۃ گارڈ لائل پور)

(9)کیا ہم احراری علماء کے پیچھے نماز پڑھیںجن کے متعلق واقفِ اسرار جناب مولوی ظفر علی خاں صاحب یہ اعلانِ عام فرما رہے ہیں کہ درحقیقت یہ لوگ اِسلام سے بیزار ہی نہیں بلکہ یقینا اسلام کے غدّار ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:

اﷲ کے قانون کی پہچان سے بے زار

اِسلام اور ایمان اور احسان سے بے زار

ناموسِ پیمبر کے نگہبان سے بے زار

کافر سے موالات ، مسلمان سے بے زار

اِس پر ہے یہ دعویٰ کہ ہیں اِسلام کے احرار

احرار کہاں کے یہ ہیں اِسلام کے غدّار

پنجاب کے احرار اِسلام کے غدّار

بیگانہ یہ بَدبخت ہیں تہذیبِ عرب سے

ڈرتے نہیں اﷲ تعالیٰ کے غضب سے

مِل جائے حکومت کی وزارت کسی ڈھب سے

سرکارِ مدینہ سے نہیں ان کو سروکار

پنجاب کے احرار اِسلام کے غدّار

(زمیندار 21/اکتوبر 1945ء صفحہ 6)

پھر مولانا مودُودی صاحب مولوی ظفر علی خان صاحب کی ایک گُونا تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اِس کارروائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہو گئیں ایک یہ کہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظِ ختمِ نبوت کا نہیں ہے بلکہ نام اور سہرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان و مال کو اپنی اغراض کے لئے جوئے کے داؤں پر لگا دینا چاہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ رات کو بالاتفاق ایک قرارداد طَے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساز باز کیا ہے اور ایک دوسرا ریزولیوشن بطور خود لکھ لائے ہیں ۔۔۔۔۔۔

مَیں نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور ان طریقوں سے کیا جائے اس میں کبھی خیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اغراض کے لئے خدا اور رسُول کے نام سے کھیلنے والے جو مسلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مُہروں کی طرح استعمال کریں اﷲ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے”۔

(روزنامہ تسنیمؔ لاہور 2/جولائی 1955ء صفحہ 3 کالم 4،5)

یہ محض نمونہ کے طور پر بڑے اِختصار کے ساتھ بہت سے طویل فتاوٰی میں سے چند اقتباسات پیش ہیں۔

یہ فتاویٰ آپ نے ملاحظہ فرما لئے۔ اﷲ تعالیٰ اُمّتِ مُسلمہ پر رحم فرمائے یقینا آپ دِل تھام کر اور سَر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے لیکن ہمیں اِس وقت صرف اِتنا پوچھنے کی اجازت دیجئے کہ کیا اِن دل دہلا دینے والے فتاوٰی کی موجودگی میں احمدیوں پر کوئی دُور کی بھی گنجائش اِس اِعتراض کی باقی رہ جاتی ہے کہ وہ مذکورہ بالافرقوں کے اَئمّہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

ﷲ کچھ اِنصاف سے کام لیجئے۔ کچھ تو خوفِ خدا کریں۔ آقائے دو جہاں عدلِ مجسّم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی ہی کی شرم رکھ لیجئے اور بتائیے کہ مذکورہ بالا اکثر فرقوں کے علماء جماعتِ احمدیہ سے جو یہ سراسر ظلم اور نا اِنصافی کی ہولی کھیل رہے ہیں یہ کہاں تک ایک مسلمان کو زیبا ہے، ایک غلامِ رحمتٌ للّعالمین کے شایانِ شان ہے؟ ان کے پیچھے نماز پڑھو تو کافر نہ پڑھو تو کافر۔ کوئی جائے تو آخر کہاں جائے؟ مسلمان رہنے کا کیا صرف یہی ایک راستہ باقی رہ گیا ہے کہ اکثریت کی طرح نماز کو بکلّی ترک ہی کر دیا جائے۔ آج کل کے علماء کا فیصلہ تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسلمانی باقی رکھنی ہے تو نماز چھوڑ دو ورنہ جس کے پیچھے نماز پڑھو گے پکّے کافر اور جہنمی قرار دیئے جاؤ گے۔ ایک بچنے کی راہ یہ رہ گئی تھی کہ کسی کے پیچھے بھی نماز نہ پڑھی جائے۔ تو احمدیوں پر یہ راہ بھی بند کر دی گئی اور یہ فتویٰ بھی دے دیا گیا کہ جو کسی دوسرے فرقہ کے پیچھے نماز پڑھے وہ بھی کافر اور غیر مُسلم اقلیّت پڑھے تب کافر نہ پڑھے تب کافر۔ آخر کوئی جائے تو کہاں جائے؟ یا بقول آتش ؔ ع

کوئی مَر نہ جائے تو کیا کرے؟

حکماء نے اس نَوع کے اِنصاف پر طَنز کرتے ہوئے ایک قِصّہ لکھا ہے کہ ایک بھیڑ کا بچّہ کسی ندی پر پانی پی رہا تھا کہ ایک بھیڑیا اُوپر کی سمت سے آیا اور ڈپٹ کر پوچھا کہ تمہیں پتہ نہیں کہ مَیں بھی پانی پی رہاتھا پھر تم نے اسے گدلا کرنے کی جرأت کیسے کی؟ بچے نے عرض کیا حضور مَیں تو نچلے حصّے سے پانی پی رہا تھا آپ کا پانی کیسے گدلا ہو سکتا ہے جو اُوپر کی طرف سے پی رہے تھے؟ بھیڑیے نے غضبناک ہو کر کہا اچھا تو آگے سے بکواس کرتے ہو؟ مجھے جھوٹا کہتے ہو، لعنتی! بس بس تمہاری سزا یہی ہے کہ تمہیں پھاڑ کھایا جائے۔

 کچھ ان علماء کو خدا کا خوف دلائیے۔ بھیڑیے اور بھیڑ کے بچّے کا یہ قصّہ آپ پڑھتے ہیں تو کبھی اس فرضی بھیڑ کے بچّے پر ترس کھانے لگتے ہیں اور کبھی بھیڑیے پر غصّہ آتا ہے لیکن آج آپ کی آنکھوں کے سامنے بھیڑ کے بچوں سے نہیں اَبنائے آدم سے یہ سلوک کیا جارہا ہے۔ کسی فرضی قصّہ میں نہیں روز مرّہ کی جیتی جاگتی دُنیا میں ایک دردناک حقیقت کے طور پر یہ ظلم دُہرایا جارہا ہے اور اِحتجاج کا ایک حَرف بھی آپ کی زبان تک نہیں آتا۔

ِﷲ اتنا تو کیجئے کہ اِن علماء سے کہئے کہ اگر یہی ظلم کی راہ اِختیار کرنی ہے اور اسی جنگل کے قانون کو اپنانا ہے اور ظاہری طاقت کے گھمنڈ نے خدا تعالیٰ کے قانونِ عَدل کو ہر قیمت پر کُچلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو کم از کم اِتنا پاس تو کریں کہ اِسلام کے مقدّس نام کو اس میں ملوث کرنے سے باز رہیں۔ اتنا کرم تو فرمائیں کہ ناموسِ رسُولِ عربی صلی اﷲ علیہ وسلم فداہ ابی و امّی کو اِس قضیہ میں آلُودہ نہ کریں۔ طاقت اور کثرت کے گھمنڈ کو ان کمزور اور بودے دلائل کے سہاروں کی کیا ضرورت ہے؟ ع

جب میکدہ چھُٹا ہے تو پھر کیا جگہ کی قید؟

 جب اسلامی اَقدار عَدل و اِنصاف کا خون کر کے بھی مقصد اپنے عزائم کو پورا کرنا ہے تو چھوڑیئے ان ”دلائل” اور اِن تنکوں کے سہاروں کو۔ دندناتے ہوئے میدانِ کربلا میں کُودیئے اور کرگُزریئے جو کر گُزرنا ہے اور پھراپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھ لیجئے کہ اِسلام کا خدا اور اِسلام کا رسول ؐ کِس کے ساتھ ہیں؟ اور مصائب اور شدائد کا میدان کِس کو حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا سچّا، مخلص اور جاں نثار عاشق اور فدائی غلام ثابت کرتاہے؟؟

اِنشاء اﷲ آپ دیکھ لیں گے اور وقت ثابت کر دے گا کہ ہر احمدی اپنے اِس دعویٰ میں سچّا ہے کہ

در کُوئے تو اگر سرِ عُشّاق راز نند

اوّل کسے کہ لافِ تعشق زَنَدمَنَم

ہاں اَے میرے پیارے رسول ؐ! اگر تیرے کُوچہ میں عُشّاق کا سَر قلم کرنے کا ہی دستور جاری ہو تو وہ پہلا شخص جو نعرہئ عِشق بلند کرے گا وہ مَیں ہوں گا! مَیں ہوں گا!!”

 (مبارک محمود رام گلی نمبر3 برانڈرتھ روڈ لاہور)

(2)ایک اور نہایت ظالمانہ اور مُفتریانہ الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ بانیٔ سلسلہ احمدیہ اور آپ کے ماننے والوں نے (معاذ اﷲ) قرآنِ مجید میں لفظی اور معنوی تحریف کی ہے حالانکہ حضرت بانی ٔسلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت ہی وہ واحد جماعت ہے جس کا عقیدہ ہے کہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت یا اس کا کوئی لفظ منسوخ نہیں ہو سکتا اور نہ اُسے تبدیل کیا جاسکتا ہے اور قرآن شریف ہمیشہ کے لئے محفوظ کتاب ہے۔

افسوس ہے کہ فی زمانہ بعض علماء نے محض اِشتعال انگیزی کی خاطر جماعتِ احمدیہ پرتحریف کا اِلزام لگایا اور سلسلہ احمدیہ کی بعض کتب سے سہوِ کتابت کے نتیجہ میں غلط طبع ہونے والی بعض آیات پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی ناپسندیدہ کوشش کی (نعوذ باﷲ) جماعتِ احمدیہ قرآن کریم میں تحریف کی مُرتکب ہوئی ہے لیکن وہ یہ بات بھُول گئے کہ جس قسم کے سہوِ کتابت کو پیش کر کے تحریف کا اِلزام لگایا جاتا ہے وہ قریباً ہر مصنّف کی کتابوں میں موجود ہے۔

سلسلہ احمدیہ کے آرگن ”الفضل” کی مختلف اشاعتوں میں مندرجہ ذیل علماء کی شائع کردہ کتابوں سے ایسے نمونے پیش کئے جاچکے ہیں جن میں قرآن کریم کی آیات سہوِ کتابت سے غلط طور پر شائع ہو گئی ہیں:

1۔سیّد عطاء اﷲ شاہ بخاری۔ (خطبات امیرِ شریعت صفحہ 37مطبوعہ مکتبہ ”تبصرہ” لاہور)

2۔ مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی ۔ (الملفوظ حصّہ اوّل صفحہ 121)

3۔ مفتی  اعظم دیوبند مولوی عزیز الرحمن صاحب دیوبندی ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد پنجم صفحہ 130 ناشر کتب خانہ امدادیہ دیوبند (انڈیا))

4۔ امام الہند مولانا ابو الکلام صاحب آزادؔ۔ (مضامین ”البلاغ” صفحہ 71۔ ناشر آئینہ اَدب چوک مینار انار کلی لاہور)

5۔ علّامہ مولانا سیّد محمد سلیمان صاحب ندوی۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور)

6۔ اخوان تحریک کے قائد حسن البنّائی۔ (ہفت روزہ المنیر لائلپور جنوری 1955ء)

7۔ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی(بہشتی زیور پہلا حصّہ 5۔ ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور)

8۔ صدر المدرّسین محمد امجد علی صاحب اعظمی رضوی سُنّی، برکاتی اجمیر شریف۔(بہار شریعت جلد ششم صفحہ 35، 102، 105، 129۔ناشر غلام علی اینڈ سنز لاہور حیدر آباد کراچی)

9۔ اخوان لیڈر حسن الہیضمی۔ (ہفت روزہ المنیر لائل پور۔ جنوری 1955ء)

10۔ مولوی عبدالرحیم صاحب اشرفؔ مدیر المنیر ۔(ہفت روزہ المنیر لائل پور۔ جنوری 1955ء)

11۔حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ(اربعین فی اصول الدین کا اُردو ترجمہ۔ ناشرین ملک فضل الدین وغیرہ لاہور)

12۔ مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیّب صاحب۔(تعلیماتِ اسلامی اور مسیحی اقوام صفحہ 170۔ شائع کردہ ندوۃ المصنّفین دہلی)

13۔ مولانا سیّد محمد داؤد صاحب غزنوی۔ (ہفت روزہ الاعتصام 4/اپریل 1958ء)

14۔ مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اوّل موہن پورہ بمبئی نمبر 11مکتبہ اشاعت دینیات)

15۔مولوی محمد بخش صاحب مُسلم لاہور۔ (کتاب الاخلاق)

16۔ مولوی عبدالرؤف صاحب رحمانی۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور11جنوری 1963)

17۔ مولوی محمد اسمٰعیل صاحب امیر اہلحدیث۔(ہفت روزہ الاعتصام لاہور 28/جنوری 1963ء)

18۔ علّامہ سیّد مناظر احسن صاحب گیلانی۔(طبقات مترجم علّامہ مناظر احسن گیلانی اللجنۃ العلمیہ حیدر آباد)

19۔ مولانا کوثر صاحب نیازی ”وفاقی وزیر اَوقاف و حج”(”اسلام ہمارا دین ہے” از کوثر نیازی صفحہ 73 فیروز سنز لاہور)

20۔ مُلّا واحدی صاحب دہلوی۔ (حیاتِ سرورِ کائنات جلد دوم مؤلفہ ملا واحدی صفحہ 303)

21۔ مفتی محمود صاحب جنرل سیکرٹری جمعیتِ اسلام۔(اذانِ سحر مولانا مفتی محمود کے انٹرویو اور تقاریر کا مجموعہ۔ ناشر عزیز پبلیکیشنز لاہور)

22۔ مولانا محمود احمد صاحب (مدیر رضوان)(ہفتہ وار ”رضوان” لاہور 28/فروری 1953ء)

23۔ مفتی محمد نعیم الدین صاحب (مجموعہ افاضاتِ صدر الافاضل۔ ناشر ادارہ نعیمیہ رضویہ لاہور)

24۔ مولانا سیّد ابو الاعلیٰ صاحب مودودی(الجہاد فی الاسلام صفحہ 200 مؤلفہ مولانا مودودی صاحب طبع دوم 1948ء شائع کردہ اچھرہ لاہور)

25۔ مولانا شمس الحق صاحب افغانی بہاولپور (ہفت روزہ ”لولاک” لائلپور 7/جون 1968ء)

26۔ جناب غلام جیلانی صاحب برقؔ (حرفِ محرمانہ۔ احمدیت پر ایک نظر)

اگر سہوِ کتابت کو تحریف کہنا درست ہے تو کیا اِن سب علماء حضرات کو قرآنِ مجید میں تحریف کرنے والے قرار دیا جائے گا۔ اِس سلسلہ میں ہم ایک پمفلٹ بھی شائع کرتے ہیں جس کا عنوان ہے:

”حضرت بانی  ٔسلسلہ احمدیہ اور تحریفِ قرآن کے بُہتان کی تردید” (ضمیمہ نمبر 12)

معنوی تحریف کا اِلزام بھی سراسر بے بُنیاد ہے۔ علماء نے قرآن مجید کے مختلف تراجم کئے ہیں اور تفسیریں لکھی ہیں اگر اِس اختلاف کو تحریف قرار دیا جائے تو پھر سب مُفسّرین اور علماء کو تحریف کا مُرتکب قرار دینا پڑے گا۔

یاد رکھنا چاہئے کہ قرآنی معارف اور حقائق پاک اور مُطہر لوگوں پر کھلتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:-

”لَا یَمَسُّہ، اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ”

اگر روحانی حقائق و معارف کو تحریف کا نام دیا جائے تو تمام اَولیائے اُمّت کو تحریف کرنے والے قرار دیا جائے گا۔ ”العیاذ باﷲ”


معزز ارکانِ اسمبلی کی خدمت میں ایک اہم گزارش



جماعتِ احمدیہ پر عائد کردہ اِلزامات کا مختصر جائزہ لینے کے بعد معزز ارکانِ اسمبلی کی خدمت میں نہایت دردمند دِل کے ساتھ ہم یہ انتباہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مذہب کے نام پر پاکستان کے مسلمانوں کو باہم لڑانے اور صفحۂ  ہستی سے مٹانے کی ایک دیرینہ سازش چل رہی ہے جس کا انکشاف بزمِ ثقافتِ اِسلامیہ کے صدر خلیفہ عبدالحکیم صاحب نے درج ذیل الفاظ میں مُدّتوں قبل کر رکھا ہے۔ لکھتے ہیں:-

”پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک مُلّائے اعظم اور عالمِ مقتدر سے جو کچھ عرصہ ہؤا بہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں، مَیں نے ایک اِسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا اُنہوں نے فتویٰ دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجبُ القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجبُ التّعزیر ہیں۔ ایک اَور فرقے کی نسبت پُوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں۔ فرمایا کہ وہ سب واجبُ القتل ہیں۔ یہی عالم ان تیس بتیس علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اِسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقے کو تسلیم کر لیاجائے سوا ایک کے جس کو اِسلام سے خارج سمجھا جائے۔ ہیں تو وہ بھی واجبُ القتل مگر اِس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں۔ موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ انہیں میں سے ایک دوسرے سربراہ عالمِ دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اﷲ ایک فرقے کے خلاف شروع کیا ہے اِس میں کامیابی کے بعد انشاء اﷲ دوسروں کی خبر لی جائے گی”۔

(”اقبال اور مُلّا”از ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ایم۔اے ، پی ۔ایچ ڈی صفحہ19 یکے از مطبوعات بزمِ اقبال لاہور)

 ”ختمِ نبوت” کے مقدس نام پر اس اَرضِ پاک میں جو تحریک چلائی جارہی ہے اُس کا پس منظر مندرجہ بالا تحریر سے خوب واضح ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جناب ابُو الاعلیٰ صاحب مودُودی نے ١٩٥٣ء کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک خصوصی بیان میں یہ حیرت انگیز اعتراف کیا:-

”اِس کارروائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہو گئیں۔ ایک یہ کہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظِ ختمِ نبوت کا نہیں ہے بلکہ نام اور سہرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان و مال کو اپنی اغراض کے لئے جُوئے کے داؤ پر لگا دینا چاہتے ہیں، دوسرے یہ کہ رات کو بالاتفاق ایک قرارداد طَے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساز باز کی ہے اور ایک دوسرا ریزولیوشن بطورِ خود لکھ لائے ہیں۔ مَیں نے محسوس کیا کہ جو کام اِس نیت اور طریقوں سے کیا جائے اُس میں کبھی خیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اغراض کے لئے خدا اور رسُول کے نام سے کھیلنے والے جو مسلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مُہروں کی طرح اِستعمال کریں اﷲ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔ الخ”۔

(روزنامہ ”تسنیم” لاہور 2/جولائی 1955ء)

اِس پس منظر میں اگر پاکستان کے گزشتہ دَور اور موجودہ پیدا شدہ صُورتِ حال پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہو گا کہ اگرچہ موجودہ مرحلہ پر صرف جماعتِ احمدیہ کو غیر مسلم اقلیّت قرار دینے پر زور ڈالا جارہا ہے مگر دشمنانِ پاکستان کی دیرینہ سکیم کے تحت اُمّتِ مُسلمہ کے دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتنوں کا ایک وسیع راستہ یقینا کھل چکا ہے اور ١٩٥٣ء کے بعد سے ہی احمدیوں کے علاوہ بعض دوسرے فرقوں کو بھی غیر مُسلم اقلیت قرار دینے کی آوازیں بلند ہونی شروع ہو چکی ہیں۔ چنانچہ شروع مارچ ١٩٥٣ء میں کراچی کے دَرودیوار پر ایک اِشتہار بعنوان ”مطالبات” چسپاں تھا جو بجنسہٖ ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

مطالبات

فِرقۂ دیوبندؔیہ کو علیحدہ اقلیتی فرقہ تسلیم کیا جائے

 چند علماء کی مجلس شوریٰ کے وضع شدہ ”اِسلامی حکومت کے بُنیادی اصول” نظر سے گزرے جس کی دفعہ ٩ میں اسلامی فرقوں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ان کی تفصیل ندارد۔ بظاہر اِس نظر اندازی کی وجہ دَورِ برطانیہ کے پیدائشی اقلیتی فرقہ کی تخلیقی و سیاسی اغراض کو تکمیل اور اس کو پاکستان کے اکثریتی فرقہ میں مُدغم دکھا کر اس کے ہاتھوں اکثریت کے عقائد پائمال کرانا معلوم ہوتی ہے اِس لئے ہم کھلے الفاظ میں حکومتِ پاکستان پر یہ واضح کر دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ خدّامِ اَولیاء اﷲ یعنی اہلسُنّت و الجماعت فرقہ پاکستان کی اکثریت ہے جو مذہب اور مَسلک آج اس کا ہے وہی عہدِ شہابُ الدّین غوری سے تاشاہ عالم بادشاہِ دہلی مملکتِ اِسلامیہ ”غیر مُنقسم” ہند کا مذہب و مَسلک رہا ہے۔

پاکستان کے اِس مُسلّم اکثریت کے عقائد ہیں:-

حضورِ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا اَدب اور آداب  تعیّن کے ساتھ ایصالِ ثواب معینہ تاریخوں پر نذرو نیاز، بزرگانِ اسلام کے مقررہ تاریخوں میں اعراس، محافلِ میلاد اور اس میں قیام کے ساتھ صلوٰۃ و سَلام وغیرہ وغیرہ داخل ہیں۔

لیکن دَورِ برطانیہ کا پیدائشی اقلیتی فرقہ اکثریت کے مذکورہ بالا مُعتقدات کو شِرک اور بِدعت قرار دیتا ہے اور سمجھتا ہے اور ابتدائی جو پابندیاں ابنِ سعود کی جانب سے مُعتقداتِ قدیمہ کی بجاآوری پر عائد تھیں ویسی پابندیاں اکثریت کے عقائدِ بالا کی بجاآوری پر یہ اقلیتی فرقہ بھارت اور پاکستان میں عائد کرنا جائز سمجھتا ہے۔ اس اقلیتی فرقہ کی تخلیق ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہدِ حکومت میں ہوئی اور اس کے بانی مولوی اسمٰعیل صاحب دہلوی ہیں جنہوں نے انگریزوں پر جہاد ناجائز قرار دیا مگر انگریزوں کے ایماء سے سکھوں پر جہاد فرمایا اور امکانِ کذب اور امکانِ نظیر نعوذ باﷲ خدا کے جھوٹ بولنے اور رسول ؐ کے مثل پیدا ہونے کے خود تراشیدہ عقائد وضع فرمائے۔

1858ء میں ملکہ وکٹوریہ کے سامنے ہندوستان کو عیسائی بنانے کی جو اسکیم پیش کی گئی تھی اس کی ایک دفعہ یہ ہے:-

”ہندوستان کے بُت پرستوں ”یعنی غیر عیسائیوں” کو ان کے سیاسی اور مذہبی میلوں میں جمع نہ ہونے دو”۔

 اِس اسکیم کے بعد مولوی اسمٰعیل صاحب کے معطلہ مِشن میں نئی روح داخل ہوئی اوران کے وضع کردہ عقائد اور حدود و خطوط پر قصبہ دیوبند میں ان کے قائم کردہ فرقہ کی تشکیلِ جدید عمل میں آئی۔ ”بدیں وجہ” اَب وہ دیوبندی فرقہ کے نام سے موسُوم ہیں مگر یہ فرقہ تعداد میں کم ہے اِس لئے خود کو اہلسُنّت و الجماعت میں داخل کہتا ہے حالانکہ اس کے عقائد اہلسُنّت و الجماعت سے قطعی جُدا ہیں۔ یعنی جس طرح سکھ ہندوؤں سے نکلے مگر ہندو نہیں ہیں یا انگلینڈ کے پروٹسٹنٹ رومن کیتھولک سے نکلے مگر رومن نہیں اسی طرح دیوبندی فرقہ اہلسُنّت و الجماعت سے نکلا مگر اہلسُنّت و الجماعت نہیں۔ اقلیتی فرقہ دیوبندیہ کے نمائندگانِ خصوصی مفتی محمد شفیع صاحب، مولانا سیّد سلیمان ندوی صاحب، مولوی احتشام الحق صاحب، مسٹر ابو الاعلیٰ مودُودی وغیرہم ہیں مگر اکثریت کے عقائد اور اس کے حقوق کی نظراندازی اصولِ جمہوریت کی توہین کے مترادف ہے اِس لئے اکثریت کی جانب سے حسبِ ذیل مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔

1۔جمہوریۂ  پاکستان کے امیر کے مسلمان ہونے کی دفعہ میں اس کا اکثریت کا ہم عقیدہ ہونا لازمی شرط قرار دیا جائے۔

2۔اہلسُنّت و الجماعت سے دیو بندی فرقہ کو علیحدہ فرقہ تسلیم کیا جائے۔

3۔ دیوبندی فرقہ کی اہلسُنّت و الجماعت کے مُعتقدات اور اَوقاف میں مداخلت قانوناً ممنوع قرار دی جائے۔

اِن مطالبات کا مقصد پاکستان میں فرقہ بندی کو ہَوا دینا نہیں بلکہ ان کا مقصد پاکستان سے ہمیشہ کے لئے فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرانا اور اکثریت کا تحفظ و اظہار نفس الامری کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہنری ہشتم کے عہدِ حکومت میں بعض چہیتے پروٹسٹنٹ پادریوں نے خود کو رومن ظاہر کرتے ہوئے اور رومن مذہب کی ترقی کے لئے حکومتِ الٰہیہ اور نظامِ عیسوی کے نغمے بلند فرما کر ہی پارلیمنٹ کے ذریعہ رومن کیتھولک مذہب کو ”انگلینڈ کی سرزمین سے ختم کرایا تھا”۔ اگر اہلسُنّت و الجماعت کے سر پر دیوبندی فرقہ کو مسلّط کیا گیا تو اس کے معنٰی ہنری ہشتم اور رومن کیتھولک کی تجدید کے ہوں گے۔

الدّاعیان الی الخیر

(آگے حضرت مولانا مخدوم سیّد ناصر جلالی سرپرست جمعیت العلماءِ پاکستان کے علاوہ بہت سے بریلوی علماء کے دستخط ثبت ہیں)

(بحوالہ ماہنامہ طلوعِ اسلام مئی1953ء صفحہ 64،65)

شیعی رسالہ ”المنتظر” لاہور نے 1970ء میں لکھا کہ:-

”جمعیت کا منشور مرتب کرنے والوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے سوا دوسرے اسلامی فرقوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کے لئے بھی دفعہ شامل کر دی ہے۔ ختم نبوت کا تو بہانہ ہے ورنہ لفظ ”وغیرہ” میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ مُفتی محمود اور غلام غوث ہزاروی اِسلام کے کسی بھی فرقہ کو غیر اسلامی بنا کر رکھ دیں گے”۔

 (”المنتظر” لاہور 5/فروری 1970ء صفحہ 10)

”المنتظر” نے جس خطرہ کا اظہار کیا تھا وہ دو سال بعد حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا دستاویزی ثبوت ”خلافتِ راشدہ کانفرنس” ملتان کی مندرجہ ذیل قرارداد ہے:-

”خلافتِ راشدہ کانفرنس ملتان کا یہ عظیم الشان اجلاس حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ جب شیعوں نے مسلمانوں سے علیحدہ اَوقاف اور علیحدہ نصابِ تعلیم کا مطالبہ کر کے مِلّت سے علیحدگی کا ثبوت دیا ہے اور اِس طرح عملاً یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ عامۃُ المسلمین سے جُدا ایک مستقل اقلیّت ہیں اور حکومت نے بھی ان کی اس علیحدگی کو تسلیم کر لیا ہے تو شیعوں کو ہر شعبہ میں علیحدہ کر دیا جائے۔ آئین سازاداروں اور ملازمتوں میں بھی ان کو تناسبِ آبادی کے لحاظ سے حصّہ دیا جائے۔ آج سُنّی بیچارہ عموماً ادنیٰ ملازم ہے اور اکثر اعلیٰ اور بااختیار پوسٹوں پر شیعہ ہی نظر آتے ہیں۔ سوادِ اعظم کا پُرزور مطالبہ ہے کہ حکومت اس علیحدہ پسند فرقہ کو ملازمتوں وغیرہ میں بھی علیحدہ کر دے اور کلیدی اسامیوں اور اعلیٰ ملازمتوں میں اس کی تعداد کے تناسب سے حصّہ دے۔

محرّک : حضرت مولانا دوست محمد صاحب قریشی

مؤید: حضرت مولانا قائم الدین صاحب”۔

( ہفت روزہ ”ترجمانِ اسلام” لاہور 31/مارچ1972ء صفحہ 5 کالم نمبر 5)

فرقہ اہلِ حدیث کے علماء مندرجہ بالا قرار داد کے حق میں عملاً اِعلان کر چکے ہیں اور احمدیوں کی طرح شیعہ اصحاب کو بھی ختمِ نبوت کا مُنکر گردان رہے ہیں۔ چنانچہ مولانا حنیف ندوی لکھتے ہیں:-

”نبوت کے ساتھ ساتھ حضرات شیعہ کے نزدیک ایک بالکل متوازی نظام امامت کا بھی جاری ہے یعنی جس طرح انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت ضروری ہے اسی طرح ائمہ کا لقب ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ واقعہ و عمل کے اعتبار سے اجرائے نبوت اور اجرائے امامت میں کوئی فرق نہیں رہتا”۔

(مرزائیت نئے زاویوں سے از مولانا محمد حنیف ندوی صفحہ 126 ، 127 طارق اکیڈمی فیصل آباد ۔لاہور)

پاکستان کے مختلف فرقوں کےعقائد جودوسرے فرقوں کے نزدیک محلِ نظر ہیں



معزز ارکانِ اسمبلی کو معلوم ہونا چاہئے کہ کافر گری کی وہ تلوار جو آج ہمیں کاٹ کر الگ پھینکنے کی کوشش میں اُٹھائی جارہی ہے وہی شیعہ، دیوبندی مَسلک کے مسلمانوں ہی کو نہیں، پاکستان کے ہر مکتبِ فکر کو زیادہ بھیانک اور شدید صورت میں کاٹ پھینکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اِس واضح حقیقت کے ثبوت میں مختلف فرقوں پر وارد کئے جانے والے اُن اعتراضات کا ایک مختصر خاکہ بطور نمونہ درج کرنا کافی ہو گا جن کی بناء پر ان فرقوں پر بھی فردِ جرم عائد کی جاتی ہے۔

یہ معاملہ ممبرانِ قومی اسمبلی کی صوابدید پر چھوڑا جاتا ہے کہ کس حد تک ان عقائد کی بناء پر ان فرقوں کو غیر مسلم قرار دینے کا جواز یا عدم جواز پایا جاتا ہے۔

بریلوی فرقہ

1۔آنحضرت ؐ کو خدا تعالیٰ کادرجہ دیتے ہیں۔(شمعِ توحید صفحہ 5 مصنفہ مولانا ثناء اﷲ صاحب امرتسری)

2۔ خدا کے علاوہ بزرگوں کو مشکل کُشا سمجھتے اور مدد مانگتے ہیں۔ (انوار الصوفیہ لاہور اگست 1915ء صفحہ 32۔حمیدیہ سٹیم پریس لاہور)

3۔ علی پور سیّداں کو سیّد القُریٰ سمجھتے ہیں۔ (انوار الصوفیہ جون 1915ء صفحہ 19)

4۔ ختمِ نبوت کے مُنکر ہیں۔ (انسانِ کامل باب 36 مؤلفہ سیّد عبدالکریم جیلی)

5۔ سلسلہ وحی و الہام کو جاری سمجھتے ہیں۔

(میخانہ درد صفحہ 134،135۔ از خواجہ سیدناصر نذیر حیدر برقی پریس میں چھپا۔ فتوحاتِ مکیہ جلد 4 صفحہ 196۔ الباب الرابع والثلاثون ۔۔۔۔۔۔)

 6۔اصطلاحاتِ اسلامی مثلاً آنحضرت، اُمّ المؤمنین، رضی اﷲ عنہ، کا خطرناک استعمال اپنے بزرگوں کے لئے کرتے ہیں۔

(نظم الدررفی سلک السیر مؤلفہ مُلّا صفی اﷲ صاحب صفحہ 18۔ در مطبع فاروقی دہلی)

7۔ انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیتے ہیں۔ (نصرت الابرار صفحہ 129 مطبوعہ 1888ء)

8۔ انگریز کے خود کاشتہ پودے ہیں۔ (چٹان 15/اکتوبر 1962ء)

9۔ انگریزوں کے جاسُوس ہیں۔ (چٹان 5/نومبر 1962ء صفحہ 8)

10۔ سیّد جماعت علی شاہ کوہادی اور شافع سمجھتے ہیں۔(انوار الصوفیہ لاہور ستمبر 1913ء صفحہ 23 و اگست1915ء صفحہ 32)

11۔ سیّد جماعت علی شاہ کو حضور کے برابر سیّدوں کے سیّد۔ مظہرِ خدا۔ نورِ خدا۔ شاہِ لولاک اور ہادیئ کُل قرار دیتے ہیں۔

 (انوار الصوفیہ ستمبر 1912ء صفحہ15 و ستمبر1911ء صفحہ17 و جولائی 1912ء صفحہ 8)

12۔ آنحضرت ؐ کو عرش تک حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی نے پہنچایا۔

(گلدستہ کرامات در ذکر حضرت عبدالقادر جیلانی صفحہ 18 مطبوعہ مطبع افتخار دہلی)

13۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آنحضور ؐ عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہیں۔(رسالہ العقائد صفحہ 24 مؤلفہ ابو الحسنات سیّد محمد احمد قادری)

14۔ جبرائیل قیامت تک نازل ہوتے رہیں گے۔

(دلائل السلوک صفحہ 127 مؤلفہ مولانا اﷲ یار خاں چکڑالہ ضلع میانوالی بار اوّل ادارہ نقشبندیہ چکوال)

15 حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی توہین کرتے ہیں۔

(ارشادِ رحمانی و فضلِ یزدانی از مولوی محمد علی صاحب مونگیری صفحہ 51، 52 گلدستہ کرامات صفحہ 104)

دیوبندی فرقہ

1۔خدا تعالیٰ کو جھُوٹ بولنے پر قادر سمجھتے ہیں۔

(فتاویٰ رشید یہ از مولانا رشید احمد گنگوہی صفحہ 408 ناشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

2۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا علم بچوں، مجنونوں اور جانوروں کے علم کے برابر سمجھتے ہیں۔

(حفظ الایمان مصنّفہ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مطبوعہ دیوبند صفحہ ٩۔ انجمن ارشاد المسلمین لاہور)

3۔ شیطان کا علم حضور علیہ السلام سے وسیع تر تھا۔(براہین قاطعہ مصنفہ خلیل احمد۔ مصدقہ رشید احمد گنگوہی صفحہ 51)

4۔ حاجی امداد اﷲ صاحب کو رحمۃٌ للعالمین کہتے ہیں۔(افاضات الیومیہ از مولانا اشرف علی تھانوی جلد١ صفحہ 126۔ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)

5۔ دیوبندیوں نے معاذ اﷲ حضور علیہ السلام کو جہنم میں گرنے سے بچایا۔(بلغۃ الحیران بحوالہ دیوبندی مذہب صفحہ 8)

6۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اُردو سیکھنے میں دیوبندیوں کے شاگرد ہیں۔(براہینِ قاطعہ بحوالہ دیوبندی مذہب صفحہ 26)

7۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا گنبدِ خضراء ناجائز اور حضرت امام حسین اور حضرت مجدّد الف ثانی کے روضے ناجائز اور حرام ہیں۔

 (فتاویٰ دیوبند جلد ١ صفحہ 14)

8۔ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی بانی  ٔاِسلام کے ثانی ہیں۔(مرثیہ تحریر کردہ مولانا محمود الحسن صفحہ 6 مطبوعہ مطبع بلالی ساڈھورہ ضلع انبالہ)

9۔ دیو بندی ختمِ نبوت کے مُنکر ہیں۔ (رسالہ تحذیر النّاس از مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی صفحہ 28 مطبوعہ خیر خواہ سرکار پریس سہارنپور)

10۔ خانہ کعبہ میں بھی گنگوہ کا رستہ تلاش کرتے ہیں۔ (مرثیہ از مولانا محمود الحسن صفحہ 9۔ ناشران محمد حسین اینڈ سنز شیخوپورہ)

11۔ حضرت فاطمۃ الزہرا کی توہین کرتے ہیں۔ (افاضات الیومیہ جلد 6 صفحہ 37)

12۔ رضی اﷲ عنہ اور امیر المؤمنین کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔(رسالہ تبیان داد ولی شریف فروری 1954ء صفحہ9)

13۔دیوبندیوں کا کلمہ لا الٰہ اِلّا اﷲ اشرف علی رسول اﷲ اور درُود اللّٰھمّ صلّ علیٰ سیّدنا و نبیّنا و مولانا اشرف علی۔

(رسالہ الامداد مولانا اشرف علی بابت ماہ صفر 1336 ھ صفحہ 35۔ از مطبع امداد المطابع تھانہ بھون جلوہ نمودن گرفت)

14۔ ماں کے ساتھ زنا عقلاً جائز سمجھتے ہیں۔(افاضات الیومیہ از مولوی اشرف علی صاحب تھانوی جلد ششم صفحہ31 ناشر ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)

15 دیوبند انگریزی کے وفادار رہے۔ (فتاویٰ رشیدیّہ)

مندرجہ بالا اکثر حوالہ جات ”دیوبندی مذہب” مؤلفہ مولانا غلام مہر علی شاہ صاحب سے لئے گئے ہیں۔



اہلِ حدیث

1۔انگریزوں کے خلاف جہاد کو غدر اور حرام سمجھتے ہیں۔(رسالہ اشاعت السُنہ جلد 9نمبر10صفحہ 308 حیاتِ طیّبہ صفحہ 296 مصنّفہ حیرت دہلوی)

2۔ قرآن پر حدیث کو مقدم جانتے ہیں۔ (رسالہ اشاعت السُنہ جلد 13 نمبر 10صفحہ 296)

3۔ کروڑوں محمد ؐ پیدا ہو سکنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ (تقویت الایمان صفحہ 42)

4۔ کئی خاتم النّبییّن کے قائل ہیں۔(ردّ قول الجاہلین فی نصر المؤمنین مؤلفہ مولانا محمد صدیق نیشاپوری مطبع مطلع نور کانپورصفحہ 3 ۔1291ھ )

5۔ آنحضرت ؐ کی شان میں گستاخی کے مُجرم ہیں۔(صراطِ مُستقیم مترجم صفحہ 201 ناشر شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور)

6۔ پنڈت نہرو کو رسُول السلام اور گاندھی کو امام مہدی اور بالقوہ نبی سمجھتے ہیں۔

(تاریخ حقائق صفحہ60 مؤلفہ مولانا محمد صادق صاحب خطیب زینۃ المساجد گوجرانوالہ ماہ طیبہ مارچ 1957)

7۔ ختمِ نبوت کے مُنکر ہیں۔ (اِقتراب السّاعۃ ابوالخیر نور الحسن صفحہ 162)

8۔ سلسلہ وحی و الہام کو جاری سمجھتے ہیں۔(اثبات الالہام و البیعہ صفحہ 148 و سوانح مولوی عبداﷲ صاحب غزنوی مصنفہ مولوی عبدالجبار غزنوی)

9۔ ہمیشہ انگریزوں کی خوشامد کرتے رہے۔ (ترجمان وہابیہ از سید محمد صدیق حسن خان صاحب صفحہ 61، 62۔ درمطبع محمدی واقع لاہور)

10۔ ١٩٥٧ء کی جنگِ آزادی کو غدر کہتے ہیں۔(الحیاۃ بعد الممات صفحہ 125۔ مؤلفہ حافظ عبدالغفارناشر مکتبہ شعیب کراچی نمبر1)

11۔ حکومتِ برطانیہ ان کے نزدیک اِسلامی سلطنتوں سے بہتر ہے۔(اشاعت السُنّہ جلد 9 نمبر 7 صفحہ 195، 196)

12۔ سلطنتِ برطانیہ کے دائمی غلام ہونے کے لئے دُعائیں کرتے رہے۔(اشاعت السُنّہ جلد 9 صفحہ 205، 206)

13۔ انگریز کا خود کاشتہ پودا۔ (رسالہ طوفان 7/1962ء)

14۔ انگریز اولوالامر ہیں۔ (داستان تاریخ اُردو مصنّفہ حامد حسین قادری صفحہ 498 بحوالہ سید عطاء اﷲ شاہ بخاری از شورش کاشمیری 148)

15۔ ہندوستان سے باہر بھی انگریزوں کی ایجنٹی کرتے رہے۔

(ترجمان وہابیہ صفحہ 61،62۔ از سیّد محمد صدیق حسن خان صاحب مطبوعہ مطبع محمدی لاہور)

16۔ ترکی حکومت کو پارہ پارہ کیا۔ (تاریخ حقائق صفحہ 78تا 81 ۔از مولانا محمد صادق خطیب گوجرانوالہ)

17۔ جہاد کے خلاف فتویٰ دے کر جہالت حاصل کی۔

(ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک صفحہ 29 ۔ از مولانا مسعود احمد ندوی مکتبہ شاۃ ثانیہ حیدر آباد دکن)



جماعتِ اِسلامی

1۔ قرآنی سورتوں کے نام جامع نہیں ہیں۔

 (تفہیم القرآن حصّہ اوّل از مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صفحہ 44 زیر عنوان سورۃ البقرۃ مکتبہ تعمیر انسانیت موچی دروازہ لاہور)

2۔ اِسلام فاشزم اور اشتراکیت سے مماثل نظام ہے جس میں خارجیت اور انارکزم تک کی گنجائش ہے۔

 (اسلام کا سیاسی نظام بحوالہ طلوعِ اسلام 1963ء صفحہ 13)

3۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کردیا۔

(حقیقتِ جہاد از مولانا مودودی صفحہ 65 تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)

4۔ فرشتے تقریباً وہی چیز جس کو ہندوستان میں دیوی دیوتا قرار دیتے ہیں۔(1)

(تجدید و احیائے دین تالیف ابو الاعلیٰ مودودی صفحہ 10 حاشیہ طبع چہارم مکتبہ جماعت اسلامی پٹھانکوٹ پنجاب)

5۔ قرآنِ مجید میں نہ تصنیفی ترتیب پائی جاتی ہے نہ کتابی اسلوب۔

(تفہیم القرآن دیباچہ صفحہ20۔ تالیف ابو الاعلیٰ مودودی مکتبہ تعمیر انسانیت موچی دروازہ لاہور)

6۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے غلطیاں صادر ہوئیں۔ (ترجمان القرآن جلد 33 نمبر 2 صفحہ 99)

7۔حضرت عمر ؓ کے قلب سے جذبۂ  اکابر پرستی محو نہ ہو سکا۔(ترجمان القرآن جلد 12عدد 4صفحہ 295بحوالہ مودُودیّت کا پوسٹمارٹم صفحہ 38)

8۔ حضرت خالد بن ولید غیر اسلامی جذبہ کے حدود کی تمیز نہ کر سکے۔

(ترجمان القرآن جلد 12 عدد ٤ صفحہ 295 بحوالہ مودُودیت کا پوسٹمارٹم صفحہ 38)

9۔ اِسلامی تصوّف کے بنیادی نظریے میں بڑی بھاری غلطی موجود ہے۔(ترجمان القرآن جلد 37 عدد 1 صفحہ 10)

10۔ بخاری شریف کی حدیثوں کو بِلا تنقید قبول کر لینا صحیح نہیں۔(ترجمان القرآن جلد 39صفحہ 117 ۔اکتوبر 1952ء)

11۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے لے کر مصطفی کمال تک کی تاریخ کو اسلامی کہنا مسلمانوں کی غلطی ہے۔ (ترجمان القرآن جلد 2نمبر ١ صفحہ 7)

12۔ اہل حدیث۔ حنفی۔ دیوبندی۔ بریلوی۔ شیعہ۔ سُنّی جہالت کی پیدا کی ہوئی اُمّتیں ہیں۔

(خطبات صفحہ 76 از مودُودی صاحب باب سوم صفحہ 128 اسلامک پبلیکیشنز لمٹیڈ لاہور)

13۔مسلمان قوم کے نو سَو ننانوے فی ہزار افراد حق و باطل سے ناآشنا ہیں۔

(مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش از مولانا مودودی حصّہ سوم صفحہ 107۔ دفتر ترجمان القرآن پٹھانکوٹ بار سوم)

14۔ امام مہدی ایک نیا مذہبِ فِکر پیدا کرے گا۔

(تجدید و احیائے دین صفحہ 33 تالیف ابو الاعلیٰ مودودی مکتبہ جماعت اسلامی پٹھان کوٹ پنجاب)

15۔ جمہوری اصول پر مبنی اسمبلیوں کی رُکنیّت بھی حرام اور ان کے لئے ووٹ ڈالنا بھی حرام ہے۔

(رسائل و مسائل از ابو الاعلیٰ مودودی حصّہ اوّل صفحہ 274۔ اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ لاہور)

16۔ پاکستان، ناپاکستان، جنت الحمقاء اور مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہے جو مسلمانوں کی مرکب حماقت سے قائم ہوئی۔

(مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش صفحہ 129 تا 132۔ از ابو الاعلیٰ مودودی مکتبہ جماعت اسلامی پٹھانکوٹ طبع اوّل حصّہ سوم)

17۔قائد اعظم رجلِ فاجر۔ (ترجمان القرآن فروری 1946ء صفحہ 140 تا 154)

18۔ جہادِ کشمیر ناجائز ۔ (نوائے وقت 30/اکتوبر1948ء و ترجمان القرآن جون1948ء)

مندرجہ بالا اکثر حوالہ جات رسالہ ”مودُودی شہ پارے” میں درج ہیں۔

چکڑالوی اور پرویزی فرقہ

1۔حدیثوں کی شرعاً سند نہیں مانتے۔

2۔ لفظ اﷲ سے قرآنی معاشرہ مُراد لیتے ہیں۔(نظامِ ربوبیت صفحہ 172 از جناب غلام احمد پرویز شائع کردہ ادارہ طلوع اسلام کراچی)

3۔قرآنی حکومت نماز اور زکوٰۃ کی جُزئیات میں رَدّ و بَدل کی مجاز ہے۔

( فردوسِ گُم گشتہ صفحہ 351۔ خدا اور سرمایہ دار صفحہ 136 شائع کردہ ادارہ طلوعِ اسلام لاہور)

4۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النّبییّن نہیں بلکہ قرآن مجید خاتم النّبییّن ہے۔

(رسالہ اشاعت القرآن لاہور 15/جون 1924ء صفحہ 31)

5۔ ہرعامل قرآن مہدی ہے۔ (رسالہ اشاعت القرآن لاہور 15/نومبر 1924ء صفحہ 21)

6۔معراج کے مُنکر ہیں۔(نوادرات صفحہ 17 ۔ از علّامہ اسلم جیرا جپوری شائع کردہ ادارہ طلوع اسلام رابسن روڈ کراچی)

7۔ برطانوی حکومت کے خوشامدی ہیں۔ (رسالہ اشاعت القرآن 15/جون 1924ء صفحہ 29،32)

شیعہ مذہب

1۔حضرت علی ؓ خدا ہیں۔ (تذکرۃ الائمۃ صفحہ 91)

2۔ حضرت علی ؓ خدا ہیں اور محمد ؐ اس کے بندے ہیں۔ (مناقب مرتضوی حیات القلوب جلد 2 باب 49)

3۔ خدا تعالیٰ نے تمام کائنات ائمۃ تشیع کے تصّرف اور اطاعت پر مأمور کر دی ہے۔(ناسخ التواریخ جلد ششم کتاب دوم صفحہ 348)

4۔ حضرت علی ؓ فرزندِ خدا ہیں۔ (رسالہ نورتن صفحہ 26)

5۔ ہم امیر المؤمنین کو حلّال مشکلات اور کاشف الکروب مانتے ہیں۔

(شیعہ مذہب میں وہابیت کی روک تھام کے لئے دوسرا مقالہ ظہورِ علی بمقامِ قاب قوسین صفحہ 15،16)

6۔ جب تک کوئی شخص ایک تیسرے جُز یعنی اولوالامر کی اطاعت کا اِقرار نہیں کرتا اس وقت تک وہ مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

(معارفِ اسلام لاہور علی و فاطمہ نمبر اکتوبر 1968ء صفحہ 74)

7۔ قرآن دراصل حضرت علی ؓ کی طرف نازل ہؤا تھا۔ (رسالہ نورتن صفحہ 37)

8۔ حضرت علی ؓ جمیع انبیاء سے افضل ہیں۔ (غنیۃ الطّالبین اور حق الیقین لعلامہ محمد باقر مجلسی باب 5)

9۔ اگر حضرت علی ؓ شبِ معراج میں نہ ہوتے تو حضرت محمد ؐ رسول اﷲ کی ذرہ قدر بھی نہ ہوتی۔

(جلاء العیون مجلسی از خلافتِ شیخین صفحہ 16،17 بار دوم ماہ نومبر 1901ء)

10۔ اصل قرآن امام مہدی کے پاس ہے جو چالیس پارے کا ہے موجودہ قرآن بیاضِ عثمانی ہے جس میں کامل دس پارے کم ہیں۔

(اسباق الخلافت تفسیر لوامع التنزیل جلد 4مصنفہ سیّد علی الحائری لاہوری تفسیر صافی جز 22 صفحہ 411)

11۔ حضرت عزرائیل حضرت علی ؓ کے حکم سے اَرواح قبض کرتے ہیں۔(تذکرۃ الائمۃ صفحہ 91)

12۔حضرت ابا بکر ؓ و حضرت عمر ؓ دونوں حضرت فاطمہ کے جمال پر فریفتہ تھے اور اسی سبب سے ہجرت کی۔

(کتاب کامل بھائی اور کتاب خلافتِ شیخین بار دوم صفحہ 31 ماہ نومبر1901ء کرزن پریس دہلی)

13۔ حضرت عمر ؓ ایسے مرض میں مُبتلا تھے جس سے ان کو لواطت کے بغیر راحت نہیں ہوتی تھی۔(الزہرا بحوالہ شیعہ سُنّی اتحاد صفحہ 4)

14۔ حضرت ابو بکر ؓ سے مسجدِ نبوی میں منبرِ نبوی پر سب سے اوّل بیعتِ خلافت شیطان نے کی۔

(کتاب امامی امام اعظم طوسی شیعی و خلافتِ شیخین بار دوم کرزن پریس دہلی ماہ نومبر 1901ء صفحہ 25)

15۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں وقال الشّیطان آیا ہے وہیں ثانی (عمر) مُراد ہے۔(بحوالہ مقبول قرآن امامیہ صفحہ 512)

16۔ حضرت ابو بکر ؓ۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کافر فاسق تھے۔ (حیات القلوب جلد دوم لعلامہ محمد باقر مجلسی باب 51)

17۔ شیطان حضرت علی ؓ کی شکل پر متمثل ہو کر مارا گیا۔ (تذکرۃ الائمۃ صفحہ 91)

18۔ سوائے چھ اصحاب کے ۔۔۔۔۔۔ باقی جمیع اصحاب الرسول مُرتد اور منافق تھے۔

(کتاب وفات النّبی سلیم ابن قسیر الہلال مجالس المؤمنین مجلس سوم قاضی نور اﷲ حیات القلوب باب 15صفحہ 11)

19۔ عمر ؓ نے کُتیا کی شکل اختیار کر کے چھ بچوں کو جنم دیا اور انتہائی ذلیل ہوئے۔(کتاب عیسائیت اور اسلام مسلمان بادشاہوں کے تحت صفحہ 242)

20۔ حضور اقدس پر انتہائی ناپاک اِلزام ۔۔۔۔۔۔(خلاصۃ المنہج قلمی جلد اوّل زیر آیت سورۃ النساء)

21۔حضرت علی ؓ اور ان کے باقی ائمۃ جمیع انبیاء سے افضل ہیں۔ (حق الیقین مجلسی باب 5)

22۔ ہمارے گروہ کے علاوہ تمام لوگ اولادِ بغایا ہیں۔(الفروع مِن الجامع الکافی جلد 3 کتاب الرّوضہ صفحہ 135)

23۔ اگر میّت شیعہ نہ ہو اور دشمن اہلِ بیت ہو اور نماز بضرورت پڑھنا پڑے تو بعد چوتھی تکبیر کہے۔ اللّٰھمّ ۔۔۔۔۔۔ اے اﷲ تُو اس کو آگ کے عذاب میں داخل کر۔(تحفۃ العوام صفحہ 395 حصہ دوم واجبات غسل و کفن وغیرہ کے بیان میں۔ مطبوعہ حیدری پریس لاہور)

نوٹ: مندرجہ بالااکثر حوالہ جات ”قاطع انف الشیعۃ الشنیعہ اور شیعہ سُنّی اِتحاد کی مخلصانہ اپیل” سے ماخوذ ہیں۔

شیعوں کی طرف سے انگریز کی کافرانہ حکومت کی حمائت اور جہاد کی مخالفت

1۔موعظہ تحریفِ قرآن مرتبہ سید محمد رضی الرضوی صفحہ 67، 68۔ ینگ مین سوسائٹی نارووال بابت ماہ اپریل 1923ء

2۔ڈبلیو۔ ڈبلیو، ہنٹر کی کتاب ہمارے ہندوستانی مسلمان صفحہ 178،180

3۔ موعظہ تقیہ صفحہ 46،47۔بار سوم ماہ مارچ 1923ء

4۔ اخبار وکیل امرتسر 28/اکتوبر 1917ء میں بیان آغا خان



وَحدتِ اِسلامیّہ کی بقاء کی واحد صُورت

ہمارے نزدیک عالَمِ اسلام خصوصاً پاکستان پہلے ہی مذہب کے نام پر شورشوں سے بہت نقصان اُٹھا چکا ہے اِس لئے معزز ایوان کا فرضِ اوّلین ہے کہ وہ احمدی مسلمانوں کے خلاف موجودہ فسادات اور ہنگامہ آرائی کے پیشِ نظر فرقہ پرستی کے خوفناک نتائج پر غور کرے۔ مولانا عبدالمجید سالکؔ نے ١٩٥٢ء میں حکومتِ پاکستان کو یہ مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ:-

”ہمارا کام صرف اِتنا ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ کے ہر قائل کو مسلمان سمجھیں اور مسلمان کی تکفیر کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیں بلکہ وقت آگیا ہے کہ اسلامی حکومت تکفیرِ مُسلمین کو قانوناً جُرم قرار دے دے تا معاشرہ اِسلامی اس لعنت سے ہمیشہ کے لئے پاک ہو جائے”۔

(روزنامہ ”آفاق” 5/دسمبر 1952ء)

حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا پُردَرد اِنتباہ



اِس محضر نامہ کو حضرت بانی  ٔسلسلہ احمدیہ کے ایک پُر شوکت بیان پر ختم کیا جاتا ہے۔ آپ نے اُمّتِ مُسلمہ کے علماء اور زُعماء کو دَرد بھرے دِل سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:-

”دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے۔ اورسراسربد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے ۔۔۔۔۔۔

اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دُعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دُعا نہیں سُنے گا اور نہیں رُکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔ اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں۔ پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو کاذبوں کے اور مُنہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔ میں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہو اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے۔ وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لئے مجھے پیدا کیا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ میں اس میں سُستی کروں اگرچہ آفتاب ایک طرف سے اور زمین ایک طرف سے باہم مل کر کچلنا چاہیں۔ انسان کیا ہے محض ایک کیڑا۔ اور بشر کیا ہے محض ایک مضغہ۔ پس کیونکر میں حیّ و قیّوم کے حکم کو ایک کیڑے یا ایک مضغہ کے لئے ٹال دوں۔ جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اِسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔ خدا کے مامورین کے آنے کے لئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے لئے بھی ایک موسم۔ پس یقینا سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔ خدا سے مت لڑو! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو”۔

 (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17صفحہ 49،50)

”مَیں محض نصیحتًا ﷲمخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پربددعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں پھر اگر مَیں کاذب ہوں گاتو ضرور وہ دُعائیں قبول ہو جائیں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔

لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑجائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گِریں کہ ناک گِھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سُنی نہیں جائیں گی کیونکہ مَیں خدا سے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔ میری رُوح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔ مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا۔ مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔ مَیں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔ ۔۔۔۔۔۔اے خدا! !تو اس اُمت پر رحم کر۔ آمین”۔

(”اربعین” نمبر 4 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471تا 473)

دُعا


دُعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنی جناب سے مُعزّز ارکانِ اسمبلی کو ایسا نُورِ فراست عطا فرمائے کہ وہ حق و صداقت پر مبنی اُن فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن و سُنّت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں اور پاکستان ترقی و سر بلندی اور عروج و اقبال کے اُس عظیم الشّان مقام تک پہنچ جائے جس کا تصوّر جماعتِ احمدیہ کے دوسرے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے ١٩٤٧ء میں درج ذیل الفاظ میں پیش کیا تھا:-

”ہم نے عَدل اور انصاف پر مبنی پاکستان کو اِسلامک یُونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے۔ یہی اِسلامستان ہے جو دُنیا میں حقیقی اَمن قائم کرے گا اور ہر ایک کو اُس کا حق دلائے گا، جہاں رُوس اور امریکہ فیل ہؤا صرف مکّہ اور مدینہ ہی اِنشاء اﷲ کامیاب ہوں گے”۔

 (روزنامہ الفضل 23/مارچ 1956ء)

واٰخر دعوٰنا ان الحمد ِﷲ ربّ العٰلمین

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔