Wednesday 4 January 2017

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کا ادبی سرقہ



مولانا محمد شفیع اوکاڑوی نے اپنی کتا ب ''ذکر جمیل'' جو کہ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سیرت کے بارے میں ہے ، ایک فارسی شعر کو علامہ اقبال کی طرف منسوب کر کے لکھا ہے لیکن اصل میں وہ علامہ اقبال کا لکھا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود اور امام مھدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی کتاب براھین احمدیہ سے لیا گیا ہے ، وہ فارسی شعر یہ ہے 'مصطفیٰ آئینۂ روئے خداست , منعکس دروے ہماں خوئے خداست' اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ ' مصطفیٰ تو خدا کے چہرہ کے آئینہ ہیں ، ان میں خدا کی صفات منعکس ہیں ' یہ ہے وہ خوبصورت کلام جو عشق رسول کی ایک بہترین مثال ہے ، لیکن افسوس کہ مولوی صاحب نے صرف دنیا سے خوف کر کے اس شعر کے لکھنے والے کا نام نہیں لیا اور اقبال کا نام لکھ کر سیرت نبوی کے نیک کام میں بھی جھوٹ سے کام لیا ۔




مکمل تحریر >>

فارسی الہام کا حوالہ اور سکین




بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے فرمایا ہے ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۵۹۸) کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو فارسی زبان میں الہام '' ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم '' ہوا۔ اس کا حوالہ دو؟یہ الہام کتاب کوثر النبی ؐباب الفاء میں ہے ، حوالہ پیش خدمت ہے ۔







مکمل تحریر >>

محمدی بیگم کے بیٹے کا ایک اہم تاریخی مضمون

بسم اﷲ الرحمن الرحیم 
احباب کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ! 
پیشتر اس کے کہ میں اپنا اصل مدعا ظاہر کروں، یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ وﷲ میں کسی لالچ یا دنیوی غرض یا کسی دباؤکے ماتحت جماعت احمدیہ میں داخل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ایک لمبے عرصہ کی تحقیق حق کے بعد اس بات پر ایمان لایا ہوں کہ حضرت مرزا صاحبؐ اپنے ہر دعویٰ میں صادق اور مامور من اﷲ ہیں۔ اور اپنے قول و فعل میں ایسے صادق ثابت ہوئے ہیں کہ کسی حق شناس کو اس میں کلام نہیں ہو سکتا۔ آپ کی تمام یپشگوئیاں ٹھیک ٹھیک پوری ہوئیں۔ یہ الگ سوال ہے کہ بعض لوگ تعصب یا نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض پیشگوئیوں کو پیش کر کے عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں۔ مثلاً ان میں سے ایک پیشگوئی مرزا احمد بیگ صاحب وغیرہ کے متعلق ہے اس پیشگوئی کو ہر جگہ پیش کر کے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کا پورا ہونا ثابت کرو۔ حالانکہ وہ بھی صفائی کے ساتھ پوری ہو گئی۔ میں اس پیشگوئی کے متعلق ذکر کرنے سے پیشتر یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک انذاری پیشگوئی تھی اور ایسی انذاری پیشگوئیاں خدا تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعہ اس لئے کرایا کرتا ہے کہ جن کے متعلق ہوں ان کی اصلاح ہو جائے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ ہم انبیاء کو نشانات اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ ڈر جائیں۔
اس میں اﷲ تعالیٰ نے یہ اصل بیان فرما دیا ہے کہ ایسی انذاری پیشگوئیاں لوگوں کی اصلاح کی غرض سے کی جاتی ہیں۔ جب وہ قوم اﷲ تعالیٰ سے ڈر جائے اور اپنی اصلاحیت کی طرف رجوع کرے تو اﷲ تعالیٰ اپنا معلق عذاب بھی ٹال دیتا ہے، جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ نیز حضرت موسیٰؑ کی قوم کے حالات وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْھِمْ الرِّجْزُ(اعراف :۱۳۵)  سے ظاہر ہے۔ اس صورت میں انذاری پیشگوئی کا لفظی طور پر پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ یہی نقشہ یہاں نظر آتا ہے کہ جب مرزا صاحبؐ کی قوم او ررشتہ داروں نے گستاخی کی، یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ہستی سے انکار کیا، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن پاک کی ہتک کی اور اشتہار دے دیا کہ ہمیں کوئی نشان دکھایا جائے تو اس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ کے مامور کے ذریعہ پیشگوئی فرمائی۔ اس پیشگوئی کے مطابق میرے نانا جان مرزا احمد بیگ صاحب ہلاک ہو گئے، اور باقی خاندان ڈر کر اصلاح کی طرف متوجہ ہو گیا۔ جس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ اکثر نے احمدیت قبول کر لی۔ تو اﷲ تعالیٰ نے اپنی صفتِ غفور الرحیم کے ماتحت قہر کو رحم سے بدل دیا۔
چونکہ اس پیشگوئی کا تعلق میرے والد صاحب ( مرزا سلطان محمد بیگ صاحب آف پٹی ) کے ساتھ بھی تھا اس لیے وہ بھی خوف میں مبتلا ہوئے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے  مرزا صاحب سے حسن عقیدت کے متعلق مختلف اوقات پر اپنا اظہار خیال بذریعہ خطوط فرمایا نہ صرف خیال ظاہر فرما دیا بلکہ معاندین سلسلہ کے اکسانے پر انہیں صاف جواب دے دیا۔ مثلاً ہندوئوں عیسائیوں اور مسلمانوں نے ہزاروں روپے کا لالچ دے کر اس بات کی کوشش کی۔ کہ آپ اس امر کا اعلان کر دیں کہ وہ پیشگوئی کی وجہ سے نہیں ڈرے لیکن آپ نے ہر گز ان کی بات نہ مانی۔
احمدیت کے متعلق ان کی حسن عقیدت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جس طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کے والد ابو طالب بعض دینوی مشکلات کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے تھے ۔ لیکن حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ، کو بیعت کر لینے سے نہیں روکا تھا۔ اسی طرح جب میں بھی خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیزکی بیعت کرکے احمدیت میں داخل ہوا تو آپ بجائے کسی قسم کی طعن و تشنیع کرنے کے خوش ہوئے۔ اگرچہ میرے والد صاحب کا تا حال احمدیت میں داخل نہ ہونا پیشگوئی کے پورے ہونے میں کسی طرح بھی مانع نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم خدا تعالیٰ نے یہ روک بھی دور کر دی۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی فالحمدللہ علی ذلک ۔ 
میں پھر زور دار الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔
میں ان لوگوں سے جن کو احمدیت قبول کرنے میں یہ پیشگوئی حائل ہے عرض کرتا ہوں کہ وہ مسیح الزمان پر ایمان لے آئیں۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، یہ وہی مسیح موعود ہیں جن کی نسبت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی اور ان کا انکار نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا انکار ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا ہی درست فرمایا ہے۔ ؂
صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے 
ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار 
اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا 
پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار 
خاکسار مرزا محمد اسحٰق بیگ، پٹی ضلع لاہور۔ حال وارد چک نمبر ۱۶۵۔ ۲ بی ‘‘

مکمل تحریر >>

Sunday 11 December 2016

علامہ نیاز فتحپوری اور جماعت احمدیہ


میں اور احمدی جماعت

(نیازفتحپوری)
جب سے میں نے احمدی جماعت کے متعلق اظہار خیال شروع کیا ہے اسی وقت سے مجھے یقین ہے کہ دنیا کو سب سے پہلے یہی جستجو ہوگی کہ وہ شخص جو اپنے عقائد کے لحاظ سے دہریہ یا ملحد قسم کا انسان ہے کیوں احمدی جماعت کی موافقت کر رہا ہے اور مرزا غلام احمد صاحب کیا کیوں اس قدر معترف ہے اور اسی کے ساتھ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس جستجو میں کتنی بد گمانیاں پیدا ہوگئیں ۔ چنانچہ اس دوران میں جو خطوط ہندوستان پاکستان کے دور دراز گوشوں سے موصول ہوئے اُن سے میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے ۔
نمونہ کے طورپر ایک خطہ ملاحظہ ہو یہ خط چمن کے ایک صاحب شیخ عبدا للہ کا ہے لکھتے ہیں کہ
’’ اخبار والے ہمیشہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی ایسا مضمون ہاتھ آجائے کہ خریداروں میں زبردست اضافہ ہو جائے ۔ اس لئے آپ کی موجودہ قلابازی پر کوئی تعجب نہیں ۔ پہلے بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ دہریہ ہیں اب یہ خیال ہے کہ آپ مرزائی قادیانی ہوگئے ہیں یا ان سے کوئی رشوت عظیم کھائی ہے لہذا آپ کی باتیں کوئی وز ن نہیں رکھتیں جب تک آیات قرآنی اور حادیث اس کی تائید میں نہ ہوں ۔ آئندہ اگر نگار میں قادیانی مذہب کی حمایت کا ارادہ ہو تو قرآن و حدیث سے لیس ہو کر میدان میں آئیں ‘‘
اس سلسلہ میں تین الزام مجھ پر عائد کئے جاتے ہیں ایک یہ کہ اس سے میرا مقصود صرف نگار کی توسیع اشاعت ہے ۔ دوسرے یہ کہ میں احمدی ہوگیا ہوں لیکن بدنامی کے اندیشہ سے اسے کھل کر ظاہر نہیں کرتا۔ تیسرے یہ کہ تبلیغ احمدیت کے لئے مجھے احمدی جماعت کی طرف سے (ان کے الفاظ میں ) ’’کوئی رشوت عظیم‘‘ ملی ہے ۔
ان میں کوئی خیال ایسا نہیں جو انوکھا ہو ۔ کیوں کہ دنیائے صحافت و تبلیغ میں ایسی متعدد مثالیں موجودہیں کہ محض ذاتی اغراض کی بناء پر لوگوں نے اپنا Greed بدل دیا ۔ مذہب بدل دیا، اپنی وطینت و قومیت بدل دی ۔ لیکن جس حد تک نگار اور میری ذات تعلق ہے اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہناچا ہتا کہ 
 گفتہ بودی ہمہ زرق اندوفریب اندروفسوس 
سعدی آں نیست ولیکن چوتو فرمائی ہست
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ نگار کا ایک خاص حلقہ ہے ۔ ان حضرات کا جو ادب سیاست و مذہب ہر چیز میں آزادی فکر و خیال کے حامی ہیں اسی لئےاس وقت بھی جب پورے ہندوستان میں میرے اور نگار کے خلاف الزام دہریت و الحاد کا طوفان برپا تھا ۔ نگار کی اشاعت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ایک اچھی خاصی جماعت میری ہمنوا ہوگئی ۔
اسی لئے ظاہر ہے کہ اس صورت میں حمایت احمدیت میں میرا کچھ لکھنا ، نگار کے لئے باع نقصان ہی ہو سکتا تھا نہ کہ نفع بخش کیونکہ اس طرح لوگوں کو یہ خیا ل پیدا ہوسکتا تھا کہ میں مذہب کے باب میں رجعت پسند ہوگیا ہوں اور وہ نگار سے دست کش ہو جاتے بنابریں یہ قیاس کرنا کہ یہ سب کچھ میں توسیع اشاعت نگار کے لئے کررہا ہوں ۔ کسی طرح درست نہیں ہو سکتا ۔ اب رہا یہ پہلو کہ اس سے مقصود یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس طرح احمدیت جماعت میں نگار کے زیادہ خریدارپیدا ہو جائیں گے ۔ سو یہ بھی نہایت کمزور پہلوہے ۔ کیونکہ اول تو احمدی جماعت کو اس کی چنداں ضرورت ہی نہیں اور ان کا پروپنگیڈہ کرے دوسرے یہ کہ احمدی جماعت مشکل ہی سے باور کر سکتی ہے کہ میں کسی وقت احمدی ہو سکتا ہوں ، کیونکہ جس حد تک عقائد کا تعلق ہے میرے اور ان کے درمیان کافی اختلاف ہے ۔ رہی تیسری بات ’’رشوت عظیم‘‘ کی سو اس سلسلہ میں  سب سے پہلے یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں رشوت دینے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ جب کہ ان کے سارے کام بغیر رشوت کے ہی اچھی طرح چل رہے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ حقیقت کے لحاظ سے بھی یہ الزام غلط ہے اورمیرا یہ کہنا غلط نہیں ہوسکتا کیونکہ بصورت دیگر کم ازکم احمدی جماعت تو یقینا سمجھ جاتی  کہ میں کس قدر جھوٹا و لغو انسان ہوں کہ باوجود رشوت لینے کے میں اس سے انکار کر رہا ہوں اور میں ان کی نگاہ میں اپنے آپ کو ذلیل کرنا پسند نہ کرتا ۔
بہرحال اس قسم کی بد گمانیوں کی پرواکئے بغیر میں ایک بار پھر نہایت صداقت کے ساتھ یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں تو ان کی عملی زندگی کا یقینا مداح ہوں اور اگر میں بانی احمدیت کی تعریف کرتا ہوں تو اسی لئے کہ وہ مسلمانوں صحیح راستہ پر کھنیچ لائے اور احساس اجتماعی کا وہ زبردست ولولہ اپنی جماعت میں پیدا کر گئے جس کی نظیرمسلمانوں کی کسی دوسری جماعت میں نہں ملتی ۔ 
رہا یہ مطالبہ کہ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس جماعت کے معتقدات پر گفتگو کروں ۔۔۔۔ تو مجھے اس مطالبہ پر سخت حیرت ہے کیوں کہ جب تک پہلے یہ نہ ثابت کر دیا جائے کہ احمدی جماعت قرآن و حدیث کی تعلیمات سے منحرف ہے اس وقت تک قرآن و حدیث سے استدلال کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بلکہ میں تو الرغم اس الزام کے یہ دیکھتا ہوں کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کرنے کا جو جذبہ ان مین پایا جاتا ہے وہ دوسری مسلم جماعتوں میں نظر ہی نہیں آتا ۔ 
سب سے بڑا الزام جو ان پر قائم کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ختم نبوت کے قائل نہیں ۔ حالانکہ اس کے زیادہ لغو اور غلط بات اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی ۔ مرزا غلام احمد نہ صرف یہ کہ رسو ل خدا ﷺ کو خاتم النبین سمجھتے تھے ۔ بلکہ شریعت رسول کو بھی آخری شریعت تسلیم کرتے تھے ۔ حیرت ہی کہ لوگوں کو ان کی طرف سے کیوں یہ غلط خیال قائم ہو گیا اور ان کی تصنیفات کا مطالعہ کئے بغیر محض دوسروں کے کہنے پرکیوں یقین کر لیا گیا ۔ 
اس سلسلہ میں ضرور ایک بات بحث طلب ہے کہ مہدی موعود یا مثیل مسیح ہونے کے سلسلہ میں انہوں جو کچھ کہا ہے وہ کس حد تک قابل قبو ل ہے سو میں اس کا زیادہ اہمیت نہیں دیتا کیونکہ اگر میں ان روایات کو درست نہ سمجھوئوں جو مہدی موعود اور ظہور دجال کے متعلق بیان کی جاتیں ہیں تو بھی یہ حقیقت بدستور اپنی جگہ پرقائم ہے ۔ کہ مرزا صاحب نے اسلام کی بڑی گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔ اور اصل چیز یہی ہے۔
 جس حد تک عقائد کا تعلق ہے ۔ عامتہ المسلین اور ان کے درمیان کوئی اختلا ف نہیں ۔ دونوں خدا کی وحدانیت کے قائل ہیں ۔ دونوں رسول اللہ کو خاتم النبین سمجھتے ہیں ۔ دونوں قرآن کو خدا کا کلام جانتے ہیں ۔ دونوں استناد بل حدیث پر عامل ہیں ۔دونو ں بقاء روح ، حیاب بعد الموت ، حشر ونشر، جزاوو سزا ، بہشت دوزخ اور معجزہ وغیرہ کے قائل ہیں ۔
اس لئے عام مسلمانوں کو تو ان کے خلاف کہنے کا کچھ مواقع ہی نہیں ۔ رہی یہ بات کہ آپ کیوں یہ بات مانیں کہ مرزا صاحب مجدد تھے مہدی موعود تھے ۔ مثیل مسیح تھے وغیرہ وغیرہ ۔ سو اول تو اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اگر ہو بھی تو بھی آپ کا انکار کے لئے معقول وجہ موجود نہیں ۔ سوائے اس کے کہ آپ یہ کہیں کہ ایسا یقین کرنے کو ہمارا جی نہیں چاہتا برخلاف اس کے وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں متعدد روایات ایسی پیش کرتے ہیں جن کی صحت سے آپ کو بھی انکار نہیں اورپھر اس کو بھی جانے دیئجے ۔ خود مرزا صاحب کی زندگی اور ان کا کردار بجائے خود ان کے دعویٰ کا زبردست ثبوت ہے ۔ مشکل تو میرے لئے ہے کہ میرے نزدیک خدا ،رسول ، قرآن ، معجزہ، روح، معاد ، وحی الہام وغیرہ تمام مسائل کا مفہوم کچھ اورہے ۔ جو یقینا احمدی اور غیراحمدی دونوں جماعتو ں کے بالکل علیحدہ ہے ۔ لیکن آپ باوجود اس  کے کہ میرزا صاحب کو برا کہنے کی کوئی دلیل اپنے پاس نہیں رکھتے انکے مخالف ہیں ۔ اور میں ا ن کے بہت سے معتقدات کا اصولاً قائل نہیں ان سے محبت کرتاہوں ، ان کی بڑی عظمت اپنے دل مین پاتا ہوں ، میں ان کو بہت بڑا انسان سمجھتا ہوں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ غالباً اس لئے کہ آپ حقیقت کو ڈھونڈتے ہیں کتابوں میں ، میں اس کی جستجو کرتا ہوں دلوں میں ۔ اورمرزا غلام احمد کے دل میں نے اسی حقیقت  کو جلوہ گر پایا ۔ 
مجھے روایات مین نہ اُلجھائے ورنہ میں وہی عقل ہرزہ کار کی باتیں شروع کر دو نگا جو چالیس سال کی کوشش کے بعد بھی مجھے نہ انسان بنا سکیں کسی اور کو ، حالانکہ مرزا صاحب نے اپنی بہت سی سمجھ میں نہ آنے والی باتوں ہی سے نہ جانے کتنے حیوانوں کو انسان بنا دیا ۔
دلشتان مابین الخل و الخمر
(نگار ، دسمبر 1960 صفحہ 28 تا 30)

انتخاب از : ملاحظات نیاز فتحپوری





مکمل تحریر >>

Wednesday 9 November 2016

علامہ اقبال اور ضرور ت مصلح


تحریر فرمودہ: مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل (مرحوم )

علامہ اقبال پروفیسر نکلسن کو اپنے مکتوب میں رقمطراز ہیں :
’’ہمیں ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جو ہمارے معاشری مسائل کی پیچیدگیاں سلجھائے  اور بین الملّی اخلاق کی بنیاد مستحکم و استوار کردے‘‘۔
( دیکھئے مکاتیب اقبال صفحہ ۴۶۰ تا۴۶۴)  
اور پھر اسی خط میں پروفیسر مکینزی کی کتاب انٹروڈکشن ٹو سوشیالوجی  کے دو پیراگراف لکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ دو پیراگراف کس قدر صحیح ہیں۔ انہیں لفظ بلفظ نقل کردیتاہوں:
(۱)’’غالباً ہمیں پیغمبر  سے بھی زیادہ عہد نو کے شاعر کی ضرورت ہے  یا ایک ایسے شخص کی جوشاعری اور پیغمبری  کی دوگونہ صفات  سے متصف ہو‘‘۔
  (۲) ’’ہمیں ایسے شخص کی ضرورت ہے  جو درحقیقت روح القدس کاسپاہی ہو‘‘ ۔
یہ پیراگراف درج کرنے کے بعد علامہ اقبال تحریر فرماتے ہیں  :
’’میرے افکار  کامطالعہ کریں ۔ ہمارے عہدنامے اور پنچائتیں جنگ و پیکار   کو صفحہ ہستی سے  محو نہیں کر سکتیں کوئی بلند مرتبہ شخصیت ہی ان مصائب کا خاتمہ کر سکتی ہے اور اس شعر میں مَیں نے اسی کو مخاطب کیاہے   ؎
باز در عالم بیار ایاّمِ صلح
جنگجوئیاں را بدہ پیغامِ صلح
(مکاتیب اقبال جلد ۱ صفحہ ۴۶۰ تا ۴۶۴)   
کہ پھر دنیا میں صلح کے ایا م لا اورجنگجو قوموں کو صلح کا پیغام دے ۔
        پھر مکاتیب اقبال جلد ۱ صفحہ ۴۱ میں لکھتے ہیں :
’’کاش کہ مولانا  نظامی کی دعا اس زمانے میں مقبول ہو اور رسول اللہ صلعم پھرتشریف لائیں اور ہندی مسلمانوں پر اپنا دین بے نقاب کریں‘‘۔
یہ ضرورت نبوت کے قائل ہونے کا علامہ اقبال جیسے  آدمی کی طرف سے واضح اعتراف ہے  ۔ ان کے نزدیک  دنیامیں روحانی انقلاب  پیدا کرنا علماء کے بس کی بات نہیں کیونکہ اپنے زمانہ کے علماء   کی حالت کا نقشہ وہ یوں کھینچتے ہیں  ؎
مولوی بیگانہ از اعجازِ عشق
 ناشناس نغمہ ہائے سازِ عشق
(اسرار ورموز صفحہ ۶۸)   
مولوی عشق کے معجزے سے بیگانہ ہے اور عشق کے ساز کے نغموں سے ناشناس ہے ۔ واعظوں،  شیوخ اور صوفیاء کا حال دگرگوں یوں بیان کرتے ہیں     ؎
شیخ در عشقِ بتاں اسلام باخت
رشتۂ تسبیح را  زنّار ساخت
(اسرار ورموز صفحہ ۷۹)    
شیخ نے بتانِ مجازی کے عشق میں اسلام  کو ہار دیاہے اور تسبیح کے رشتہ کو زناّر بنا دیاہے ۔
واعظاں ہم صوفیاں منصب پرست
اعتبارِ ملّتِ بیضا شکست
 واعظ اور صوفی منصب پرست ہو گئے ہیں اور انہوں نے ملتِ بیضا کااعتبار توڑ دیاہے۔
واعظ ما چشم بر بتخانہ دوخت
مفتی ٔ دینِ مبیں فتویٰ فروخت
ہمارے واعظ نے نگاہ بتخانہ پرجمادی ہے تو مفتیٔ دین  نے فتویٰ فروخت کرنا شروع کر دیاہے۔
چیست یاراں بعد ازیں تدبیرِ ما
رخ سُوئے میخانہ دارد پیر ما 
اے دوستو ! اس کے بعد اب ہماری کیا تدبیر  ہو سکتی ہے  ۔ ہمارے پیر صاحب تومیخانہ کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔(اسرار و رموز صفحہ ۷۹)
اس کا علاج یہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی توجہ روحانی سے آپؐکاکوئی ظل اور بروز ظاہر ہوکر روحانی انقلاب کی نئے سرے سے  بنیاد رکھتا ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے عین وقت پر مسیح موعود کو بھیج کر  امت محمدیہ کی دستگیری  فرمائی ۔ حضرت مرزا صاحب ؑ فرماتے ہیں  ؎
وقت تھا وقت ِ مسیحا  نہ کسی اور کاوقت
میں نہ آتاتوکوئی اور ہی آیا ہوتا
(ماخوذ از کتاب ’’شان خاتم النبیین‘‘ صفحہ ۸۱۔۸۳)





مکمل تحریر >>