Friday, 16 January 2015

مقامِ خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم اورحضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کی عارفانہ تحریرات

حضرت بانی ٔسلسلہ عالیہ احمدیہ جس شدّت، عقیدت اور معرفتِ تامّہ کے ساتھ خاتم الانبیاء و الاَصفیاء حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن یقین کرتے تھے اس کا اندازہ خود آپ ؑ کی تحریرات کے مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اِس ضمن میں آپؑ کی متعدد تحریرات سے بعض اقتباسات پیش ہیں۔آپؑ فرماتے ہیں:
’’مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اس کا لاکھواں حصہ بھی دُوسرے لوگ نہیں مانتے۔ اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وُہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے، مگر اُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا۔ بجزان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں‘‘۔
 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 227،228 جدید ایڈیشن)
’’ہماری کوئی کتاب بجُز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجُز محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجُز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا نبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکُتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجُز خادمِ اسلام ہونے کے اَور کوئی دعویٰ بالمقابل نہیں ہے اور جو شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے وہ ہم پر اِفتراء کرتا ہے۔ ہم اپنے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ فیضِ برکات پاتے ہیں اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں فیضِ معارف ملتا ہے۔ سو مناسب ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے خلاف کچھ بھی دِل میں نہ رکھے، ورنہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا جواب دِہ ہو گا۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں ہیں تو ہمارا سب کاروبار عبث اور مردود اور قابلِ مؤاخذہ ہے۔
                                                             خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان 7/اگست 1899ء‘‘
 (مکتوباتِ احمدیہ جلد دوم صفحہ 249جدید ایڈیشن)
إنِّی أرٰی فِی وَجْھِکَ الْمُتَھَلِّلٖ
شأنًا یَفُوقُ شَمَائِلَ الانسانٖ
وَجْہُ الْمُھَیْمِنِ ظاھرٌ فی وَجْھِہ
و شُؤُنُہ لَمَعتْ بِھٰذا الشَّانٖ
فاق الْوَرٰی بِکَمالِہٖ و جمالِہٖ
و جلالِہٖ و جَنَانِہ الریّانٖ
لَا شَکَّ أنَّ مُحَمَّدًا خیرُالْوَرٰی
رِیْقُ الکِرامِ و نُخْبَۃُ الاَعْیانٖ
تمّتْ عَلیہ صِفَاتُ کُلِّ مَزِیّۃٍ
خُتِمتْ بِہٖ نَعْماءُ کُلِّ زَمانٖ
ھُوَ خیر کُلِّ مُقَرّبٍ مُتَقدِّم
والفضلُ بِالْخَیْراتِ لا بِزَمانٖ
یا رَبِّ صَلِّ علٰی نَبِیِّکَ دائمًا
فی ھٰذِہِ الدُّنْیا و بَعْثٍ ثانٖ
 (آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ591تا 593)
’’ سورۃ اٰل عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔‘‘
 (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 279،280 حاشیہ)
” ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہوگا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ”۔
 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 419)
”چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ، نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو”۔
(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2صفحہ 71حاشیہ)
’’ وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا ۔۔۔۔۔۔ وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مَرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔
اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحییٰ اور ذکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرب اور وجیہ اور خداتعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اُس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ‘‘۔
 (اتمام الحجّہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)
 ”مجھے سمجھا یا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُرحکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں”۔
 (اربعین نمبر 1روحانی خزائن جلد17 صفحہ 345)
 ” وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی اشد محتاج تھی اور جو جو تعلیم دی گئی۔ وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی۔ اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللّٰہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علتِ غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا”۔
 (براہین احمدیہ ہرچہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ112،113)
 ” اعظم اور اکبر حصہ روح القدس کی فطرت کا حضرت سیدنامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔دنیا میں معصوم کامل صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوا ہے”۔
 (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 324حاشیہ در حاشیہ)
 ”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی”۔
(سراجِ منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ82)
 ’’سبحان اﷲ ثم سبحان اﷲحضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے نبی ہیں۔ اللہ اللہ کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ اُمّت۔ جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ وَحَبِیْبِکَ سَیِّدِ الْاَنْبِیَآءِ وَاَفْضَلِ الرُّسُل وَخَیْرِالْمُرْسَلِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ‘‘۔
       (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 272حاشیہ نمبر11)
 ”مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لئے خدانے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذُرّیّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کُنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے نُور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں”۔
 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118، 119)
 ” اے نادانو!! اور آنکھوں کے اندھو! !!ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سیّدومولیٰ (اس پر ہزار ہاسلام) اپنے افاضہ کے رُو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں۔ کیونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہوگیا۔ اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مُردے ہیں۔ کوئی اُن میں زندگی نہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس اُمت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے۔ بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ انسان کو مسیح بناسکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا”۔
 (چشمہ مسیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 389)
”آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جمیع اَخلاق کے متمم ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ ؐ کے اخلاق کا قائم کیا ہے”۔
(الحکم 10/مارچ 1904ء صفحہ 8 کالم 2)
 ” صراط مستقیم فقط دین اسلام ہے اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اَتم واکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں”۔
 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1صفحہ 557 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)
 ” اللہ جلّ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی”۔
 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ100 حاشیہ)
”آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خاتَم النّبییّن ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اِس اُمّت میں بڑی بڑی استعدادیں رکھ دی ہیں یہاں تک کہ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ بھی حدیث میں آیا ہے۔ اگرچہ محدّثین کو اِس پر جرح ہو مگر ہمارا نُورِ قلب اِس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بلاچُون و چرا اس کو تسلیم کرتے ہیں اور بذریعہ کشف بھی کسی نے اِس حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اگر کی ہے تو تصدیق ہی کی ہے”۔
(الحکم 17/24/اگست 1904ء صفحہ3 کالم نمبر3)
” تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔ کمال کو پہنچ گئیں”۔
 (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد10 صفحہ 367)
 ” بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار وبر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تأخّر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہوگئے اور چونکہ آپ صفاتِ الٰہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفاتِ جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی ”۔
(لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207)
 ” وجودِ با جود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہریک نبی کے لئے متمم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا۔ وہ چمک اٹھا۔ اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کرکے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود باجودپر ختم ہوگئے۔ وھذا فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔
 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد1صفحہ 292 حاشیہ نمبر11)
 ”جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرت کی تجلّیات کا پورا اور کامل حصّہ اُس کو ملا۔ اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اُس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحبِ خاتم ہے بجُز اُس کی مُہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی اُمّت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجُزاُس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مُہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے اُمّتی ہونا لازمی ہے۔ اور اُس کی ہمّت اور ہمدردی نے اُمّت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا۔ اوراُن پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیضِ وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص اُمّتی نہ ہو اُس پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو سو خدا نے اِن معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔ لہٰذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا اُمّتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پا سکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہو سکتا ہے کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی ہے مگر ظلّی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیضِ محمدی سے وحی پاناوہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفتِ الٰہیہ جو مدارِ نجات ہے مفقود نہ ہو جائے‘‘۔
    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ29 ،30)
 ”مَیں بڑے یقین اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے۔ وہ شخص جھوٹا اور مُفتری ہے جو آپ ؐ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اورآپ ؐ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا اور چشمۂ  نبوت کو چھوڑتا ہے۔ مَیں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سوا آپ ؐ کے بعدکسی اَور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ ؐ کی ختمِ نبوت کو توڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس وہی مُہرِ نبوتِ محمدی نہ ہو‘‘۔
 (الحکم 10/جون1905ء صفحہ 2)
 ” خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرمادیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جلّ شانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مَردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے۔ سو اِس آیت کے پہلے حصّہ میں جو امر فوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لٰکن کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہِ راست فیوض نبوت منقطع ہوگئے۔ اور اب کمال نبوت صرف اُسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا ”۔
 (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 91 صفحہ 213،214)
 ” کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضر ت صلی١للہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہ، کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَلْ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَسَیِّدِنَا اِنِّیْ نَبِیٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰی وَجْہِ الْحَقِیْقَتِہ وَالْاِفْتِرَاءِ وَتَرَکَ الْقُرْآنَ وَاَحْکَامَ الشَّرِیْعَتِہ الْغَرَّاءِ فَھُوَ کَافِرٌ کَذَّابٌ۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیاکلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے”۔
 (انجامِ آتھم روحانی خزائن جلد 11صفحہ 27، 28 حاشیہ)
 ”ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول
”من نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب”
اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بِلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی”۔
(ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 210 211,)
” اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیّٖن ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تومعصیت ہے اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اور حدیث لَانَبِیَّ بَعْدِیْ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلّی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمدکی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اس کے معنی یہ ہیں کہ لَیْسَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِ الدُّنْیَا وَلٰـکِنْ ھُوَاَبٌ لِرِجَالِ الْاٰخِرَتہِ لِاَنَّہ، خَاَتَمُ النّبِیِّیْن وَلَا سَبِیْلَ اِلٰی فُیُوضِ اللّٰہ مِن غَیْرِتَوَسُّطِہٖ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا لہٰذا خاتم النبیّٖن کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسیٰ ؑکے اُترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنی لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کرغیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ اور نبی کارسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفّٰی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اوریہ آیت روکتی ہےلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ ط۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ اُمت مکالمات و مخاطبات الٰہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَمَنِ ادَّعٰی فَقَدْکَفَرَ۔ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبییّن کامفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبییّن پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبییّن میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلّی طورپر محمداور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمدؐ خاتم النبییّن ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اُسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسیٰ بغیر مُہر توڑنے کے آ نہیں سکتا ”۔
      (ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 تا 209)
 ”یاد رہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعداس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحبِ شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعتِ آنحضرت صلعم وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعتِ نبوی ؐ سے نعمتِ وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوتِ مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ وَلَاسَبِیْلَ اِلَیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَتِہ وَمَنْ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ مِنْ اُمَّتِہ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَادَّعٰی اَنَّہ، نَبِیٌّ صَاحِبُ الشَّرِیْعَتِہ اَوْمِنْ دُوْنِ الشَّرِیْعَتِہ وَلَیْسَ مِنَ الْاُمَّتِہ فَمَثَلُہ، کَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَّرَہُ السَّیْلُ الْمُنْھَمِرُ فَاَلْقَاہُ وَرَائَہ، وَلَمْ یُغَادِرْحَتّٰی مَاتَ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی رُوحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حُکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیلِ نفوس کی جاتی ہے اور وحیٔ الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جلّ شانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہے ہےمَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اﷲ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لٰکِنْ کا لفظ زبانِ عرب میں اِستدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارکِ مافات کے لئے۔ سو اِس آیت کے پہلے حصّہ میں جو امر فوت شُدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور پر کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لٰکِنْ کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ ؐ کے بعد براہِ راست فیوضِ نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمالِ نبوت صرف اُس شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباعِ نبوی ؐ کی مُہر رکھتا ہوگا اور اِس طرح پر وہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کا بیٹا اور آپ ؐ کا وارث ہو گا۔ غرض اِس آیت میں ایک طَور سے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طَور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُمیں ہے دُور کیا جائے ماحصل اِس آیت کا یہ ہؤا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو، اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقامِ نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغِ نبوتِ محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحبِ کمال ایک جہت سے تو اُمّتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتسابِ انوارِ محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اِس طَور سے بھی تکمیل نفوسِ مستعدہ اُمّت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باﷲ، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دونوں طور سے اَبتر ٹھہرتے ہیں نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند نہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور مُعترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام اَبتر رکھتا ہے۔
اب جبکہ یہ بات طے ہو چکی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوتِ مُستقلہ جو براہِ راست ملتی ہے اس کا دروازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی اُمتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمدیّہ کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا”۔
        (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 213 تا 215)
 ”تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گذر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدؐیہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اِس کے سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اِس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدؐیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اِس میں فیض ہے اِس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے مکالمہ مخاطبہ کا اُس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اِس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدؐیہ کی اس میں ہتک ہے ہاں اُمّتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اُس پر صادق آ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدؐیہ کی ہتک نہیں بلکہ اُس نبوت کی چمک اِس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیّت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔ اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا   گیا کہکُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّتٍہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اُن کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ اُمّت محمدؐیہ ناقص اور ناتمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔ اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اُس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔ مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فرد اُمت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور اُمّتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے ایسے طور پر کہ اُن کا وجود اپنا وجود نہ رہا۔ بلکہ اُن کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہوگیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ نبیوں کی طرح اُن کو نصیب ہؤا”۔
 (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ311، 312)
”اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں ”۔
   (تجلیاتِ الٰہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411،412)

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔