Thursday, 1 March 2018

درمکنون یعنی غلافوں میں لپٹے ہوئے موتی





بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا  عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
اس وقت تک ذکر حبیب کے موضوع پر خدا کے فضل سے میری دو تقریریں ہو چکی ہیں۔ پہلی تقریر جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۱۹۵۹ء میں ہوئی تھی جو ’’سیرت طیبہ‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام   بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے تین مخصوص خصائل پر روشنی ڈالی گئی تھی یعنی (۱) محبت الٰہی اور     (۲) عشق رسول ؐ اور (۳) شفقت علیٰ خلق اللہ۔ اس کے بعد دوسری تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۰ء میں ہوئی جس کا عنوان ’’دُرِّ منثور‘‘ تھا ۔ اس تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض متفرق اخلاق و عادات اور روحانی کمالات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ حضور کی بعض علمی تحقیقاتوں اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر ڈالنے والے واقعات کا بیان تھا۔ سو الحمد للہ کہ یہ دونوں تقریریں خدا کے فضل سے کافی مقبول ہوئیں اور ان کا عربی اور انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہو کر بیرونی ممالک میں پہنچ چکا ہے۔
اس سال مجھے پھر ذکر حبیب کے موضوع پر ہی تیسری تقریر کے لئے کہا گیا ہے مگر گذشتہ ایام میں مجھے ذیابیطس کا اتنا شدید حملہ رہا ہے کہ میں بلڈ شوگرکی زیادتی کی وجہ سے چلنے پھرنے سے ہی عملاً معذور ہوگیا تھا۔ اور صرف پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چند قدم چل سکتا تھا۔ دراصل یہ موذی مرض ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے اگر سوار چوکس اور محتاط ہوکر بیٹھے اور غافل نہ ہو تو یہ گھوڑا قابو میں رہتا ہے اور سوار کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا ورنہ غفلت کی حالت میں بے قابو ہو کر سوار کو اوندھے منہ گرانے کے درپے ہوجاتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور ہمدرد ڈاکٹروں کے لمبے علاج کا نتیجہ تھا کہ بالآخر اس بیماری کے حملہ سے نجات ملی اور میں اس مضمون کے بیان کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ لیکن اس عرصہ میں اتنا وقت گزر گیا کہ میں اس مضمون کے لئے خاطر خواہ تیاری نہیں کرسکا اور اب تک بھی ضعف کی صورت میں اس بیماری کا نتیجہ چل رہا ہے۔ بہرحال اب جو مواد بھی میسر ہے وہ اپنے حاضرین کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہ ِالْعَظِیْمِ  عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیْہِ اُنِیْبُ۔








(۱)
میں نے اس سال کی تقریر کا نام’’دُرِّ مَکنون‘‘ رکھا ہے یعنی’’ غلافوں میں لپٹے ہوئے موتی‘‘ ۔ اس نام میں یہ اشارہ کرنامقصود ہے کہ گو اس وقت دنیا نے حضرت مسیح موعود ؑبانیٔ سلسلہ احمدیہ کو قبول نہیں کیا لیکن وقت آتا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے بیش بہا موتیوں پر سے پردے اترنے شروع ہوں گے اور لوگو ں کی آنکھوں میں بھی نور کی جھلک پیدا ہوگی تو پھر دنیا ان کی قدر و قیمت کو پہچانے گی کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہمیشگی کی ضمانت لے کر آئے ہیں اور اس کے بعد جوں جوں زمانہ گزرے گا توں توں ان کی قدر و قیمت کی بلندی اور ان کے افادہ کی وسعت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ حضرت مسیح موعود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے درد و کرب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ :-
امروز قوم من نشناسد مقام من
روزے بگریہ یاد کند وقتِ خوشترم
(ازالۂ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۴)
’’یعنی آج میری قوم نے میرے مقام کو نہیں پہچانا لیکن وہ دن آتا ہے کہ میرے مبارک اور خوش بخت زمانہ کو یاد کرکر کے لوگ رویا کریں گے۔‘‘
یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ قوم سے جماعتِ احمدیہ مراد نہیں کیونکہ وہ تو حضرت  مسیح موعود پر ایمان لا کر حضورؑ  کو شناخت کر چکی اور پہچان چکی ہے گو مختلف احمدیوں کی شناخت کے معیار میں بھی فرق ہے بلکہ اس جگہ قوم سے دوسرے مسلمان اور عیسائی اور ہندو اور بدھ اور سکھ اور دنیا کی تمام دوسری اقوام مراد ہیں جو اس وقت تک آپ کی شناخت سے محروم ہیں۔یہ وہی دردناک ڈرامہ ہے جو ہر مرسل ربانی اور مامورِیز دانی کے منکروں نے اپنے اپنے وقت میں کھیلا کہ جب کسی روحانی مصلح نے خدا کی طرف سے ہوکر اصلاح خلق کا دعویٰ کیا اور اس کا دل دنیا کی ناپاکیوں پر پگھل کر خدا کے حضور جھکا اور دنیا میں ایک پاک تبدیلی کا متمنی ہوا تو اس کی قوم نے اس کی مخالفت کی اور اس پر ہنسی اڑائی اور اس کے مقابلہ پر ڈٹ گئی اور اسے تباہ کرنے کے درپے ہوگئی لیکن جب مخالفت کا ابتدائی زمانہ گزرگیا تو بعد کی نسلوں میں آہستہ آہستہ مدعی کی صداقت  کا شعور پیدا ہونےلگا اور اوّلاً عمومی قدر شناسی اور بعدہٗ معین تصدیق کے جذبات ابھرنے شروع ہوئے اور دن بدن ترقی کرتے گئے ۔ چنانچہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ اپنے نامور پیشرو حضرت مسیح ناصری کی مثال دے کر فرماتے ہیں اور غور کرو کس شان سے فرماتے ہیں کہ :-
’’مجھ سے پہلے ایک غریب انسان مریم کے بیٹے سے یہودیوں نے کیا کچھ نہ کیا اور کس طرح اپنے گمان میں اُس کو سولی دے دی مگر خدا نے اس کو سولی کی موت سے بچایا......اور یا (بعد میں) وہ وقت آیا کہ ...... وہی یسوع مریم کا بیٹا اس عظمت کو پہنچا کہ اب چالیس ۰۴      کروڑ انسان اُس کو سجدہ کرتے ہیں اوربادشاہوں کی گردنیں اُس کے نام کے آگے جھکتی ہیں۔ سو مَیں نے اگرچہ یہ دُعا کی ہے کہ یسوع ابن مریم کی طرح شرک کی ترقی کا مَیں ذریعہ نہ ٹھہرایا جاؤں اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایسا ہی کرے گا  لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔ اور میرے فرقہ کے لوگ اِس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے۔ اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔ بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھادے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں تجھے برکت پربرکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔٭
سو اے سننے والو ! ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔ مَیں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا۔ اور مَیں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا۔ اور مَیں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔ یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔ پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مُشتِ خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا ۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۴۰۸ تا ۴۱۰)
اوپر والے کشف میں جو آئندہ ہونے والے بادشاہوں کو گھوڑوں پر سوار دکھایا گیا ہے اس میں یہ لطیف اشارہ کرنا مقصودہے کہ یہ بادشاہ یونہی نام کے بادشاہ نہیں ہوں گے بلکہ جاہ و حشمت والے صاحب اقتدار بادشا ہ ہوں گے جن کے ہاتھوں میں طاقت کی باگیں ہوں گی۔ بہرحال یہ سب کچھ انشاء اللہ اپنے وقت پر روحانی اسباب اور قلوب کی فتح کے ذریعہ پورا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدائے ارض و سما کی تقدیر ہرگز ٹل نہیں سکتی۔ وہ ایک پتھر کی لکیر ہے جو کبھی مٹائی نہیں جاسکتی جس کی صداقت کو دنیا حضرت آدم ؑ سے لے کر اس وقت تک ہزاروں  لاکھوں دفعہ آزما چکی ہے ۔ مگر ذرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انکساری اور کسر نفسی ملاحظہ کرو کہ دنیا کے سامنے تو خدائی وعدوں پر بھروسہ کرکے یوں گرجتے ہیں کہ جیسے ایک شیر ببر اپنے شکار کے سامنے گرجتا ہے مگر جب خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنے آپ کو ایک نالائق مزدور اور مشت خاک کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں ۔حق یہ ہے کہ اس دہرے تصور میں خدائی مرسلوں کی کامیابی اور ان کے غلبہ کا ابدی راز مضمر ہے۔
(۲)
مگر جہاں خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور ماموروں کی نصرت فرماتا ہے اور ان کی ترقی اور غلبہ کے متعلق اپنے وعدہ کو غیر معمولی حالات میں پورا کرنے کا رستہ کھولتا ہے اور اپنی قدرت نمائی سے تمام روکوں کو دور کرتا چلا جاتا ہے وہاں دوسری طرف وہ مومنوں کی جماعت سے انتہائی قربانی کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور گویا ایک موت کی وادی میں سے گزار کر انہیں کامیابی کا منہ دکھانا چاہتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں احباب غور سے سنیں کہ ان الفاظ میں ان کی ترقی کی کلید ہے:
خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایاکہ
’’ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دےگا۔“ یہ انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور ربِّ جلیل کا کلا م ہے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اُن حملوں کے دن نزدیک ہیں مگر یہ حملے تیغ و تبر سے نہیں ہوں گے اور تلواروں اور بندوقوں کی حاجت نہیں پڑے گی بلکہ روحانی اسلحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اترے گی .....سچائی کی فتح ہو گی اور اسلام کے لئے پھر اُ س تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔ لیکن ابھی ایسا نہیں۔ ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلّتیں قبول نہ کرلیں۔ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے ؟ہمارا اسی راہ میں مرنا۔ یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی ، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔‘‘      (فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۹ تا ۱۱)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری توجہ اور ساری کوشش عمر بھر اسی بات میں صرف ہوئی کہ آپ اپنی جماعت کو اسلام کے لئے مرنا سکھا دیں۔ چنانچہ آپ کی اس تعلیم کے ماتحت آپ کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام کی خدمت میں اس طرح زندگی بسر کی کہ گویا دنیا کے لحاظ سے زندہ درگور ہوگئے اور’’ از جہاں و باز بیروں از جہاں ‘‘ کا نقشہ پیش کیا ۔ اور کثیر التعداد لوگوں نے رسمی اور ظاہری وقف کے ذریعہ بھی اسلام کی خاطر موت کی زندگی قبول کی اور دنیوی ترقیوں کو خیر باد کہا اور بعض نے صداقت کی خاطر جسمانی موت کا مزا بھی چکھا اور شہادت کا درجہ پایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں طبعاً ان کی جسمانی جدائی پر صدمہ محسوس کیا وہاں ایک سچے روحانی مصلح کی حیثیت میں ان کی غیر معمولی قربانی پر روحانی مسرت کا بھی اظہار فرمایا۔ چنانچہ جب صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب مرحوم کو کابل کی حکومت نے احمدیت کی صداقت قبول کرنے کی بناء پر نہایت ظالمانہ طریق پر زمین میں کمر تک گاڑکر سنگسار کردیا  تو حضرت مسیح موعود نے اس کی اطلاع ملنے پر لکھا کہ :-
’’اے عبد اللطیف ! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا ۔ اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۰)
(۳)
اس مقصد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو۲ بنیادی باتوں پر انتہائی زور دیا ۔ ایک خدا تعالیٰ کی کامل توحید پر ایمان لانا اور دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم   کی رسالت پر ایمان لا کر آپ کے ساتھ کامل محبت اور آپ کی اطاعت کا سچا عہد کرنا۔ اور یہی وہ دو باتیں ہیں جن کی کلمۂ طیبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ میں تعلیم دی گئی ہے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانے کے بغیر انسان حقیقی توحید کا سبق کبھی نہیں سیکھ سکتا۔ نیچر کا مطالعہ اور عقلی دلیلیں انسان کو صرف اس حد تک لے جاتی ہیں کہ کوئی ’’خدا ہونا چاہیے‘‘ لیکن اس کے آگے یہ مقام کہ ’’خدا واقعی موجود ہے ‘‘رسولوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہونا چاہیے اور ہے میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ جہاں ہونا چاہیے کا مقام محض شک یا زیادہ سے زیادہ گمان غالب کا مقام ہے وہاں ’’ہے ‘‘کا مقام مستحکم یقین کا مقام ہے اور ان دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
پھر رسولوں میں سے اپنے آقا اور مطاع اور محبوب حضرت خاتم النبیّین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ  کا دل خاص طور پر اس پختہ یقین سے معمور تھا کہ چونکہ پہلے تمام نبی اور رسول صرف خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لئے آئے تھے اور اس کے مقابل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے اس لئے کامل توحیدِ الٰہی کا سبق دنیا کو صرف آپ ہی کے وجودِ باجود کے ذریعہ حاصل ہوا ہے اور پہلا کوئی نبی ایسا مکمل سبق نہیں دے سکا ۔ چنانچہ ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی محبت کے ساتھ فرماتے ہیں:-
سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر
لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے
پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے
اس پر ہر اک نظر ہے بدر الدجیٰ یہی ہے
پہلے تو رہ میں ہارے پار اس نے ہیں اتارے
میں جاؤں اس کے وارے بس ناخدا یہی ہے
(قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵۶)
الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے دین و مذہب کے یہی دو بڑے ستون تھے ۔ ایک توحیدِ الٰہی اور دوسرے رسالتِ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) انہی کے ذریعہ آپ نے اپنی جماعت کی اخلاقی اور روحانی تربیت فرمائی اور انہی کے ذریعہ آپ دنیا بھر میں اصلاح کا کام سر انجام دینا چاہتے تھے۔ اور آپ کا سارا تبلیغی اور تربیتی جہاد انہی دوعظیم الشان نکتوں کے اردگرد گھومتا ہے ۔ خدا ایک ہے۔ اپنی ذات میں ایک اور اپنی صفات میں ایک اور ہر جہت سے وحدہٗ لا شریک اور اس کے علم ا ور قدرت کی کوئی حد بندی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم خدا کے آخری صاحبِ شریعت نبی اور خاتم النبیّین ہیں جن کو قرآن جیسی کامل کتاب دی گئی۔ جو وحشی انسانوں کو مہذب انسان اور مہذب انسانوں کو با اخلاق انسان اور با اخلاق انسانوں کو باخدا انسان اور باخدا انسانوں کو خدا نما انسان بنانے کے لئے آسمان سے نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ ذاتِ باری تعالیٰ اور اس کے پاک کلام کے متعلق فرماتے ہیں۔ دوست غور سے سنیں کہ کن زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں:-
’’ یقیناً سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب (یعنی اپنے آسمانی آقا)کا منہ دیکھ سکیں۔ میں جوان تھا۔ اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔ 
اے عزیزو! اے پیارو! کوئی انسان خدا کے ارادوں میں اس سے لڑائی نہیں کر سکتا۔ یقیناً سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔ پھر بعد اس کے اس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہرگز نہ چاہا کہ آئندہ اس الہام پرمہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کرے ..... انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتہ ملے اسی طرف دوڑے اور جہاں اس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو، اسی راہ کو اختیار کرے۔ دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اترتی اور زمین پر پڑتی ہے۔ اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اترتا ہے..... کامل اور زندہ خدا وہ ہے جو اپنے وجود کا آپ پتہ دیتا رہا ہے اور اب بھی اس نے یہی چاہا ہے کہ آپ اپنے وجود کا پتہ دیوے۔ آسمانی کھڑکیاں کھلنے کو ہیں۔ عنقریب صبح صادق ہونے والی ہے۔ مبارک وہ جو اٹھ بیٹھیں اور اب سچے خدا کو ڈھونڈیں..... خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کانورہے۔ اُسی سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب (سرچشمہ)ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔ سچا زندہ خدا وہی ہے۔ مبارک وہ جو اس کو قبول کرے۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۴۲ تا ۴۴۴)
چنانچہ اپنی ایک نظم میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:-
ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف
جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا 
چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا
دوسری جگہ حضرت افضل الرسل سید ولد آدم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی قوت قدسیہ اور آپ کے انفاسِ طیبہ کی برکات اور فیوض کے متعلق اپنے ایک عربی قصیدہ میں فرماتے ہیں:-
یَا قَلْبِیَ اذْکُرْ أَحْـمَدَا 
عَیْنَ الْہُدٰی مُفْنِی الْعِدَا

بَرًّا کَرِیْـمًا مُـحْسِنًا 
بَحْرَ الْعَطَایَا وَالْـجَدَا

بَدْرٌ مُنِیْرٌ زَاہِرٌ 
فِیْ کُلِّ وَصْفٍ حُـمِّدَا

إِحْسَانُہٗ یُصْبِی الْقُلُوْبَ 
وَحُسْنُہٗ یُرْوِی الصَّدٰی

اُطْلُبْ نَظِیْرَ کَمَالِہٖ 
فَسَتَنْدَّ مَنَّ مُلَدَّدَا

مَا إِنْ رَأَیْنَا مِثْلَہٗ 
لِلنَّائِـمِیْنَ مُسَہِّدَا 

نُوْرٌ مِّنَ اللّٰہِ الَّذِیْ 
أَحْیَ الْعُلُوْمَ تَـجَدُّدَا

اَلْمُصْطَفٰی وَالْمُجْتَبٰی 
وَالْمُقْتَدٰی وَالْمُجْتَدٰی

(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۷۰)
’’یعنی اے میرے دل تو احمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کو یاد کیا کر جو ہدایت کا سرچشمہ ہے اور حق کے دشمنوں کے لئے تباہی کا پیغام ہے۔وہ نیکیوں کا مجموعہ اور شرافت کا پتلا اور احسانوں کا مجسمہ ہے۔ وہ بخششوں کا سمندر ہے اور سخاوتوں کا بحر بیکراں ہے۔ وہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن اور ضیا پاش ہے۔ اور وہی ہر تعریف اور ہر توصیف کا مستحق ہے۔ اس کے احسان دلوں کو گرویدہ کرتے ہیں اور اس کا حسن آنکھوں کی پیاس کو بجھاتا ہے اس کے کمالات کی نظیر تلاش کر کے دیکھ لو تم حیران اور مایوس ہو کر نادم ہوجاؤ گے مگر اس کی نظیر نہیں ملے گی ۔ حق یہ ہے کہ ہم نے دنیا بھر میں اس جیسا سوتوں کو جگانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ وہ خدا کی طرف سے ایک نور بن کر نازل ہوا اور خدا نے اس کے ہاتھ سے دنیا کو روحانی علوم میں نئی زندگی بخشی۔ وہ خدا کا برگزیدہ ہے اور چنیدہ ہے اور پیشوائے عالم ہے اور وہی تو ہے جو تمام فیوض کا منبع ہے۔‘‘

(۴)
اسلام کی سکھائی ہوئی کامل اور بے داغ توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وسیع اور ارفع اخلاقِ فاضلہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک فطرت پر اتنا گہرا اثر تھا کہ آپ کے لئے ساری دنیا بلا امتیاز قوم و ملت ایک خاندان کا رنگ اختیار کر گئی تھی اور آپ سب کو حقیقۃً اپنے عزیزوں کی طرح سمجھتے تھے اور دشمنوں تک سے محبت رکھتے اور ان کے دلی خیر خواہ تھے چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں:۔
’’بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے بھی دعا نہ کی جائے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا..... حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے..... شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے (ہم نے ) دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو۔ ایک بھی ایسا نہیں۔ اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں ..... پس تم جومیرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہیے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے کہ فَاِنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس (اور اُن کے ساتھ ملنے جلنے والا) بدبخت نہیں ہوتا ‘‘۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۹۶ و ۹۷ ماخوذ از الحکم ۱۷ ؍ اگست ۱۹۰۲ء)
خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سن لیں کہ وہ دنیا میں اسی طرح دشمنوں کے بھی دوست بن کر رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں جس طرح کہ ان کا امام سب کا دوست تھا۔ جس نے دشمنوں کے لئے بھی ہمیشہ دعا کی۔ تو جب دشمنوں کے متعلق احمدیت کی یہ تعلیم ہے تو پھر خود سوچ لو کہ دوستوں او ربھائیوں کے ساتھ محبت اور اخوت اور قربانی کا معیار کیسا بلند ہونا چاہیے۔ بے شک ہر سچے احمدی کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ دنیا سے بدی کو مٹانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ مگر’’ بدی‘‘ اور ’’بد ‘‘ میں بھاری فرق ہے۔ اسلام بدی کو پورے زور کے ساتھ مٹاتا ہے مگر بد کو مٹانے کی بجائے نصیحت اور موعظۂ حسنہ اور دعا کے ذریعہ اصلاح کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی صحیح رستہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام جیسے بد گو دشمن اسلام کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میں اسے بچانا چاہتا تھا مگر وہ میری نصیحت کو رد کرکے ہلاکت کے گڑھے میں جاگرا۔
(۵)
دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں بلا امتیاز قوم و ملت بنی نوع انسان کی ہمدردی اور دلداری کا جذبہ اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ وہ ایک پہاڑی چشمہ کی طرح جو اوپر سے نیچے کو بہتا ہے ہمیشہ اپنے طبعی بہاؤ میں زور کے ساتھ بہتا چلا جاتاتھا۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی مرحوم جو حضرت مسیح موعود کے ایک بہت پرانے اور مقرب صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ منی پور آسام کے دور دراز علاقہ سے دو (غیر احمدی) مہمان حضرت مسیح موعود کا نام سن کر حضور کو ملنے کے لئے قادیان آئے اور مہمان خانہ کے پاس پہنچ کر لنگر خانہ کے خادموں کو اپنا سامان اتارنے اور چارپائی بچھانے کو کہا ۔ لیکن ان خدام کو اس طرف فوری توجہ نہ ہوئی اور وہ ان مہمانوں کو یہ کہہ کر دوسری طرف چلے گئے کہ آپ یکہ سے سامان اتاریں چارپائی بھی آجائے گی۔ ان تھکے ماندے مہمانوں کو یہ جواب ناگوار گزرا اور وہ رنجیدہ ہو کر اسی وقت بٹالہ کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔ مگر جب حضور کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضور نہایت جلدی ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا بھی مشکل ہوگیا ان کے پیچھے بٹالہ کے رستہ پر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے ۔ چند خدام بھی ساتھ ہوگئے ۔ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں بھی ساتھ ہولیا۔ حضور اس وقت اتنی تیزی کے ساتھ ان کے پیچھے گئے کہ قادیان سے دو اڑھائی میل پر نہر کے پُل کے پاس انہیں جالیا اور بڑی محبت اور معذرت کے ساتھ اصرار کیا کہ واپس چلیں اور فرمایا آپ کے واپس چلے آنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے آپ یکہ پر سوار ہوجائیں میں آپ کے ساتھ پیدل چلوں گا مگر وہ احترام اور شرمندگی کی وجہ سے سوار نہ ہوئے اور حضور انہیں اپنے ساتھ لے کر قادیان واپس آگئے اور مہمان خانہ میں پہنچ کر ان کا سامان اتارنے کے لئے حضور نے خود اپنا ہاتھ یکہ کی طرف بڑھایا مگر خدام نے آگے بڑھ کر سامان اتار لیا۔ اس کے بعد حضور ان کے پاس بیٹھ کر محبت اور دلداری کی گفتگو فرماتے رہے اور کھانے وغیرہ کے متعلق بھی پوچھا کہ آپ کیا کھانا پسند کرتے ہیں اور کسی خاص کھانے کی عادت تو نہیں؟ اور جب تک کھانا نہ آگیا حضور ان کے پاس بیٹھے ہوئے بڑی شفقت کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔ دوسرے دن جب یہ مہمان واپس روانہ ہونے لگے تو حضور نے دودھ کے دو گلاس منگوا کر ان کے سامنے بڑی محبت کے ساتھ پیش کئے اور پھر دو اڑھائی میل پیدل چل کر بٹالہ کے رستہ والی نہر تک چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ گئے اور اپنے سامنے یکہ پر سوار کراکے واپس  تشریف لائے۔    (اصحاب احمد جلد ۴)
اس واقعہ میں دلداری اور انکساری اور اکرامِ ضیف اور جذباتِ اخوت کا جو بلند معیار نظر آتا ہے اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ مگر میں اس موقع پر ربوہ کے افسر مہمان خانہ ا ور دیگر عملہ کو ضرور توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس لطیف روایت کو ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اور مرکز میں آنے والے مہمانوں کو خدائی مہمان سمجھ کر ان کے اکرام اور آرام کا انتہائی خیال رکھیں اور ان کی دلداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور مرکز کے مہمان خانہ کو ایک روحانی مکتب سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اس مکتب کا خادم تصور کریں اور اگر کسی مہمان کی طرف سے کبھی کوئی تلخ بات بھی سننی پڑے تو اسے کامل صبر اور ضبطِ نفس کے ساتھ برداشت کریں اور اپنے ماتھے پر بل نہ آنے دیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تک زندہ رہے حضور ؑ نے لنگر خانہ کے انتظام کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھا تاکہ انجمن کی طرف منتقل ہونے کے نتیجے میں کسی خدائی مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور مہمان خانہ کے دینی ماحول میں فرق نہ آنے پائے۔ سو اب یہ مہمان خانہ جماعت کے ہاتھ میں ایک مقدس امانت ہے اور خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ مرکزی کارکن اس امانت کو کس طرح ادا کرتے ہیں ۔ یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ اب کچھ عرصہ سے مہمان خانہ کے انتظام میں کافی اصلاح ہے ۔ مگر ’’نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز۔‘‘
(۶)
دلداری اور غریب نوازی کا ایک اور واقعہ بھی بہت پیارا اور نہایت ایمان افروز ہے۔ یہی منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے۔ اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔ اتنے میں چند معزز مہمان آکر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور ان کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑا حتّٰی کہ وہ ہٹتے ہٹتے جوتیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔ اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھالیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہوکر فرمایا ’’آؤ میاں نظام دین ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں‘‘ یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کوٹھڑی کے اندر اکٹھے بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا ۔ اس وقت میاں نظام دین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور جو لوگ میاں نظام دین کو عملاً پرے دھکیل کر حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے تھے وہ شرم سے کٹے جاتے تھے۔
اس لطیف روایت سے تکبر اور نخوت کے خلاف اور دلداری اور مساوات اور اخوت اور غریب نوازی کے حق میں جو عظیم الشان سبق حاصل ہوتا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمال دانائی سے یہ سبق اپنے قول سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے دیا جو قول کی نسبت ہمیشہ زیادہ اثر رکھتا ہے۔ آپ کی غریب نواز آنکھ نے دیکھا کہ ایک خستہ حال دریدہ لباس مہمان کو آہستہ آہستہ نام نہاد ’’بڑے لوگوں ‘‘ نے دانستہ یا نا دانستہ جوتیوں کی طرف دھکیل دیا ہے تو اس غیر اسلامی نظارے سے آپ کے دل کو سخت چوٹ لگی اور اس غریب شخص کے جذبات کا خیال کرکے آپ کا دل بے چین ہوگیا۔ اور آپ نے فوراً سالن کا پیالہ اور روٹیاں اٹھائیں اور اس مہمان کو ساتھ لے کر قریب کے حجرہ میں تشریف لے گئے اور وہاں اس کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ بے شک جس شخص کو خدا نے دنیا میں عزت دی ہے ہمارا فرض ہے کہ عام حالات میں اس کے ظاہری اکرام کا خیال رکھیں لیکن یہ اکرام ایسے رنگ میں نہیں ہونا چاہیے کہ جس میں کسی غریب شخص کی تذلیل یا دل شکنی کا پہلو پیدا ہو۔ قرآن مجید کا یہ ارشاد کتنا پیارا اور مساوات کی تعلیم سے کتنا لبریز ہے کہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقَاکُمْ(سورۂ حجرات آیت ۱۴) ’’ یعنی اے مسلمانو! خدا کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز شخص وہی ہے جو زیادہ متقی اور زیادہ نیک ہے۔‘‘ کاش ہماری جماعت اس ارشاد کو اپنا طرۂ امتیاز بنائے اور دنیا میں حقیقی اخوت اور مساوات کا نمونہ قائم کرے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم حدیث میں اپنی امت کے غریبوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اگر نیکی پر قائم ہوں گے تو امیروں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (ترمذی ابواب الزہد)۔ یہ ایک استعارے کا کلام ہے جس سے ظاہری غریب اور دل کے غریب دونوں مراد ہیں اور پانچ سو سال سے ایک لمبا عرصہ مراد ہے جس کی اصل حقیقت کو صرف خدا جانتا ہے کیونکہ آخرت کی زندگی میں دنیا کے سالوں کے مطابق شمار نہیں ہوگا۔ وہاں کے وقت کا پیمانہ دنیا کے وقت کے پیمانے سے بہت مختلف ہے ۔ مگر بہر حال اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ ہمارے آسمانی آقا کو غریب پروری اور غریب نوازی بہت مرغوب ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ میں یہ صفت بہت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔
(۷)
یہ مختصر سے دو واقعات ہیں جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جمالی صفات کی بڑی دلچسپ اور روشن مثالیں ہیں اور ایسی مثالوں سے آپ کی حیات طیبہ بھری پڑی ہے۔ جن میں سے بعض گزشتہ سالوں کی تقریروں میں بھی بیان کی جاچکی ہیںلیکن جہاں آپ کی زندگی کا غالب پہلو جمالی تھا جو محبت اور نرمی اور شفقت اور نصیحت سے تعلق رکھتا تھا اور چاند کی طرح دلکش اور دلنواز تھا وہاں کبھی کبھی جہاں ایمانی غیرت کا سوال پیدا ہوتا تھا آپ کی جلالی صفات بھی سورج کی تیز شعاعوں کی طرح بھڑک اٹھتی تھیں۔ میں اس تعلق میں اس جگہ دو ایسے واقعات بیان کرتا ہوں جو بظاہر بہت چھوٹے ہیں مگر حقیقۃً روحانی بمب شیل کا حکم رکھتے ہیںاور ان سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو خدائی الہام پر کس قدر بھروسہ اور خدائی نصرت پر کتنا اعتماد تھا۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں گورداسپور میں حضرت مسیح موعود کے خلاف مولوی کرم دین ساکن بھیں کی طرف سے ایک طولانی مقدمہ چل رہا تھا اور کھدّر پوش ہندو مجسٹریٹ مقدمہ کو لمبا کرکرکے اور قریب قریب کی تاریخیں ڈال ڈال کر حضرت مسیح موعود کو تنگ کررہا تھا اور افواہ گرم تھی کہ وہ بزعمِ خود پنڈت لیکھرام کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔ ایک دن اس نے بھری عدالت میں حضرت مسیح موعود سے سوال کیا کہ کیا خدا کی طرف سے آپ کو کوئی ایسا الہام ہوا ہے کہ  اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ یعنی میں اس شخص کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کا ارادہ کرتا ہے۔ آپ نے بڑے وقار کے ساتھ فرمایا ۔
ہاں یہ میرا الہام ہے اور خدا کا کلام ۔ اور خدا کا مجھ سے یہی وعدہ ہے کہ جو شخص مجھے ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا وہ خود ذلیل کیا جائے گا۔
مجسٹریٹ نے کہا ’’اگر میں آپ کی ہتک کروں تو پھر؟‘‘ آپ نے اسی وقار کے ساتھ فرمایا ۔
’’خواہ کوئی کرے   وہ خود ذلیل کیا جائے گا۔‘‘
مجسٹریٹ نے آپ کو مرعوب کرنے کی غرض سے دو تین دفعہ یہی سوال دہرایا اور آپ ہر دفعہ جلالی انداز میں یہی جواب دیتے گئے کہ ’’ خواہ کوئی کرے‘‘ اس پر مجسٹریٹ حیران اور مرعوب ہوکر خاموش ہوگیا۔ (اصحاب احمد جلد ۴ روایت نمبر ۴۹)
دوست یاد رکھیں کہ یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب ملک میں انگریز کی حکومت تھی ہاں وہی انگریز جس کی خوشامد کا جماعت احمدیہ کو جھوٹا طعنہ دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مجسٹریٹ محض انگریز حکومت کے کھونٹے پر ہی ناچتا تھا۔ مگر باوجود اس کے جب ایمانی غیرت اور حق کی تائید کا سوال پیدا ہوا تو حضرت مسیح موعود سے بڑھ کر ننگی تلوار کوئی نہیں تھی۔ آپ نے اپنی ایک نظم میں کیا خوب فرمایا ہے کہ 
بکارِ دیں نہ ترسم از جہانے
کہ دارم رنگِ ایمان محمدؐ
(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۴۹)
’’ یعنی میں دین کے معاملہ میں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کیونکہ میں خدا کے فضل سے اپنے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ رکھتاہوں۔‘‘
(۸)
اس موقع پر ضمناً نہایت مختصر طور پر اس سراسر غلط اور بے بنیاد الزام کے متعلق بھی کچھ کہنا غیر مناسب نہ ہوگا جو کئی ناواقف لوگ نادانستہ اور کئی مخالف لوگ دیدہ و دانستہ حضرت مسیح موعود بانیٔ سلسلہ احمدیہ پر انگریزوں کی مزعومہ خوشامد کے متعلق لگایا کرتے ہیں اور اس پس منظر کو قطعی طور پر بھول جاتے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود نے پاک و صاف نیت سے اپنے زمانہ کی انگریز حکومت کی تعریف فرمائی ہے۔ یہ  پس منظر مختصر طور پر دو خاص پہلوؤں سے تعلق رکھتا ہے جو ہر انصاف پسند محقق کو ہمیشہ ملحوظ رہنے چاہئیں۔ اول یہ کہ پنجاب میں بلکہ ہندوستان بھر میں انگریزوں کی حکومت سے پہلے کافی طوائف الملوکی کا زمانہ گزرا ہے اور خصوصیت سے پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے نسبتاً مستحکم زمانہ کو چھوڑ کر بڑی دھاندلی رہی ہے جس میں دیہاتی علاقوں میں مسلمانوں کو نماز کے لئے اذان تک دینا قریباً قریباً ناممکن تھا اور کئی مسجدیں سکھ گوردواروں میں تبدیل کرلی گئی تھیں حتّٰی کہ خود قادیان میں اس وقت تک بھی دو قدیم مسجدیں گوردوارہ کی شکل میں موجود ہیں۔ اور عام بد امنی اور مذہبی رواداری کے فقدان کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ یہ سب پر آشوب نظارے حضرت مسیح موعود کی آنکھوں کے سامنے تھے ۔ ایسے روح فرسا منظر کے بعد امن کا سانس ہمیشہ خاص بلکہ خاص الخاص شکر گزاری کا موجب ہوا کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود سے زیادہ شکر گزار انسان کون ہوسکتا ہے؟ دوسرے یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھے بلکہ آپ حضرت مسیح ناصری کی طرح خالصۃً جمالی رنگ میں مذہبی اور روحانی اصلاح کی غرض سے مبعوث کئے گئے تھے۔ اور طبعاً آپ کی آنکھ ہر بات کو روحانی اور اخلاقی اصلاح کی نظر سے ہی دیکھتی تھی۔ اور چونکہ مذہبی آزادی دینے کے معاملہ میں حکومت انگریزی کی پالیسی بلا ریب بہت قابل تعریف تھی اور یورپ کی کوئی دوسری حکومت اس معاملہ میں انگریزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ حتیٰ کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسا آزاد ملک اب تک بھی مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کے معاملہ میں انگریز قوم کی برابری نہیں کرسکتا اس لئے طبعاً ایک روحانی اور مذہبی مصلح کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود ؑنے انگریز حکومت کی تعریف فرمائی اور یہ تعریف اپنے پس منظر اور اپنے مخصوص ماحول کے لحاظ سے بالکل جائز اور درست تھی۔ بلکہ ان حالات میں تعریف نہ کرنا یقیناً ناشکری اور بددیانتی کا فعل ہوتا ۔ بہرحال جو شخص ان دو پہلوؤں کو جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں مدّ ِنظر رکھ کر نیک نیتی کے ساتھ حضرت  مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا مطالعہ کرے گا وہ اس بات کو یقیناً آسانی سے سمجھ لے گا کہ حضرت مسیح موعود نے جو کچھ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے کی انگریز کی حکومت کے متعلق لکھا تھا وہ ہرگز ہرگز خوشامد کے رنگ میں نہیں تھا بلکہ وہ صرف انگریزوں کے زمانہ کے قیام امن اور ان کی مذہبی آزادی کی پالیسی کی اصولی تعریف کے طور پر لکھا تھا۔ورنہ مذہباً حضرت مسیح موعود نے مسیحیت کے باطل عقائد اور عیسائی پادریوں کے دجل اور مغربی ملکوں کی زہر آلود مادیت کے خلاف جو کچھ اظہار فرمایا ہے وہ اس قدر ظاہر و عیاں ہے کہ کسی تشریح کا محتاج نہیں ۔ چنانچہ ایک جگہ اپنی ایک عربی نظم میں بڑی غیرت اور جوش کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں:-
اُنْظُرْ اِلَی  الْمُتَنَصِّرِیْنَ وَذَانِھِمْ
 وَ انْظُرْ اِلیٰ مَا بَدَأَ مِنْ اَدْرَانِھِمْ
مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ تَشَذُّرًا
وَ یُنَجِّسُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ اَوْثَانِھِمْ
حَلَّتْ بِاَرْضِ الْمُسْلِمِیْنَ جُنُوْدُھُمْ
فَسَرَتْ غَوَائِلُھُمْ اِلٰی نِسْوَانِھِمْ
یَا رَبَّ اَحْـمَدَ یَا اِلٰہَ مُحَمَّدٍ 
اِعْصِمْ عِبَادَکَ مِنْ سُـمُوْمِ دُخَانِھِمْ
یَا رَبِّ سَحِّقْھُمْ کَسَحْقِکَ طَاغِیًا
وَ اَنْزِلْ بِسَاحَتِھِمْ لِھَدْمِ مَکَانِھِمْ
یَا رَبِّ مَزِّقْھُمْ وَ فَرِّقْ شَـمْلَھُمْ
یَا رَبِّ قَوِّدْھُمْ اِلٰی ذَوْبَانِھِمْ

(نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۱۲۳تا۱۲۶)
’’یعنی مسیحیوں کی طرف دیکھو اور ان کے جھوٹے عقائد کو بھی دیکھو اور پھر ان ناپاکیوں کی طرف بھی دیکھو جو ان کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں ۔ وہ اپنے ظلموں اور زیادتیوں کے ساتھ ہر بلندی سے کمزور قوموں کی طرف دوڑتے چلے آتے ہیں اور اپنے عقائد کے بتوں کے ذریعہ خدا کی زمین کو ناپاک کررہے ہیں ۔ بلکہ ان کے لشکروں نے مسلمانوں کی زمینوں میں بھی ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور ان کے دجالی فتنے مسلمان عورتوں تک میں سرایت کررہے ہیں ۔ اے احمد کے آقا! اے محمد کے معبود و مسجود خدا تو اپنے بندوں کو ان کے خطرناک زہروں سے محفوظ رکھ ۔ اے میرے رب تو ان کی طاقت کو اس طرح توڑ دے جس طرح کہ تو سرکش لوگوں کو توڑا کرتا ہے اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے میدان میں اتر آ۔ اے میرے رب تو ان کے جتھے کو بکھیر کر ان کی جمعیت کو منتشر کردے اور ان کو تباہی کی طرف گھسیٹ گھسیٹ کر اس طرح پگھلا کر رکھ دے جس طرح کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے۔‘‘
کیا مسیحیوں کے عقائد اور عیسائی پادریوں کے طور و طریق کے متعلق ایسے غیرت مندانہ خیالات ظاہر کرنے والا شخص انگریزوں کی عیسائی حکومت کا خوشامدی سمجھا جاسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ہرگز نہیں ۔
باقی رہا انگریز کے زمانہ میں انگریزی حکومت کی وفاداری کا سوال ۔ سو یہ ایک اصولی سوال ہے جسے خوشامد کے سوال کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں اور نہ اس سوال کو انگریزوں کے ساتھ کوئی خصوصی تعلق ہے۔ ایک پاکباز مسلمان بلکہ ایک نائبِ رسول روحانی مصلح ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ قطع نظر مذہب و ملت کے ہر مسلمان کو اپنے ملک کی حکومت کا وفادار شہری بن کر رہنا چاہیے۔ یہ وہی زریں تعلیم ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی مکی زندگی میں جبکہ آپ قریش کی قبائلی حکومت کے ماتحت تھے اور حضرت موسیٰ نے اپنی مصری زندگی میں جبکہ وہ فرعون کی حکومت کے ماتحت تھے اور حضرت عیسیٰ نے اپنی فلسطینی زندگی میں جبکہ وہ قیصر روما کے ماتحت تھے پوری پوری دیانت داری کے ساتھ عمل کیا اور اسی کی اپنے متبعین کو تلقین فرمائی ۔ اور یہی وہ پر امن تعلیم ہے جو قرآن حکیم نے اس اصولی آیت میں سکھائی ہے۔
اَطِیْعُوا اللہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ۔
(سورۂ نساء آیت ۶۰)
’’یعنی اے مومنو! خدا کی اطاعت کرو اور خدا کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اپنے حاکموں کی بھی اطاعت کرو جو تم پر مقرر ہوں۔‘‘
اس واضح تعلیم کے ماتحت جماعت احمدیہ جو اب خدا کے فضل سے ایک عالمگیر جماعت ہے اور ایشیا کے اکثر ممالک اور مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ کے اکثر ممالک اور آسٹریلیا اور انڈونیشیا اور یورپ کے کئی ممالک اور شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ اور جزائر غرب الہند تک میں پھیل چکی ہے جہاں جہاں بھی ہے قطع نظر حکومت کے مذہب وملت کے اپنے اپنے ملک کی سچی وفادار اور دلی خیر خواہ ہے اور جو شخص ہماری نیت کو شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے خواہ وہ کوئی ہو وہ یا تو جھوٹا ہے یا دھوکہ خوردہ ہے ۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔وَاللہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ شَھِیْدٌ وَ لَعْنَۃُ اللہِ عَلیٰ مَنْ کَذَبَ۔
(۹)
میں ایک ضمنی مگر ضروری بات کی وجہ سے اپنے مضمون سے ہٹ گیا۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جلالی شان کی بعض مثالیں بیان کررہا تھا۔ چنانچہ ایک واقعہ مقدمہ مولوی کرم دین سکنہ بھیں سے تعلق رکھنے والا جو ملک کی ہندو عدالت میں پیش آیا بیان کرچکا ہوں۔ دوسرا جلالی نوعیت سے تعلق رکھنے والا واقعہ بھی اسی عدالت کا ہے ۔ مسٹر چندو لعل مجسٹریٹ نے ایک دن عدالت میں لوگوں کا زیادہ ہجوم دیکھ کر عدالت کے کمرے سے باہر کھلے میدان میں عدالت کی کارروائی شروع کی اور نہ معلوم کس خیال سے عدالت کی کارروائی کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا ’’کیا آپ کو نشان نمائی کا دعویٰ ہے؟‘‘ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا ’’ہاں خدا میرے ہاتھ پر نشان ظاہر فرماتا ہے ۔‘‘ مجسٹریٹ کے اس سوال میں طعن اور استہزاء کا رنگ تھا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جواب دے کر تھوڑی دیر سکوت فرمایا گویا خدا کی طرف توجہ فرمارہے ہیں اور اس کی نصرت کے طالب ہورہے ہیں اور پھر بڑے جوش اور غیرت کے ساتھ فرمایا :-
’’جو نشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں‘‘
مجسٹریٹ حضور کا یہ جواب سن کر سناٹے میں آگیا اور اسے سامنے سے کسی مزید سوال کی جرأت نہیں ہوئی اور حاضرین پر بھی اس کا خاص اثر ہوا۔
(اصحاب احمد جلد ۴ روایت ۴۸)
یہ واقعہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی اور بہت سےدوسرے لوگوں کا چشم دید اور گوش شنید ہے جن میں سے بعض غالباً اب تک زندہ ہوں گے۔ افسوس ہے کہ مجسٹریٹ کو اس موقع پر بات شروع کر کے اسے آگے چلانے کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ اس نے ازخود نشان نمائی کا ذکر چھیڑنے کے بعد حضرت مسیح موعود کے جلالی جواب پر نشان طلبی کی جرأت کی ورنہ نا معلوم دنیا کتنا عظیم الشان نشان دیکھتی! مگر کیا خود نشان طلب کرنے کے بعد پھر حق کی آوازسن کر مرعوب ہوجانا اپنی ذات میں ایک نشان نہیں؟ یقیناً اس وقت کے لحاظ سے یہی ایک عظیم الشان نشان تھا کہ مکذب نے از خود ایک نشان مانگا مگر پھر حضرت مسیح موعود کے جواب سے ڈر کر خاموش ہوگیا۔
اس جگہ یہ اصولی بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ نشان نمائی اور معجزات اور کرامات کا دکھانا دراصل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور رسول یا ولی صرف خدا کی قدرت کا آلۂ کار بنتا ہے ورنہ اسے از خود معجزہ نمائی کی طاقت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی لئے قرآن فرماتا ہے کہ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللہِ  (سورۂ انعام) ’’یعنی معجزات خدا کے اختیار میں ہیں ‘‘ وہ جب اور جس طرح چاہتا ہے اپنے رسولوں کے ذریعہ نشان ظاہر کرتا ہے مگر بعض اوقات خدا تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ وقتی طور پر اپنے نبیوں اور رسولوں میں معجزہ نمائی کی طاقت ودیعت فرما دیتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے معجزہ شق القمر میں یا جنگ بدر میں کافروں پر کنکروں کی مٹھی بھر کر پھینکنے کے وقت ہوا جب کہ محض آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ کے اشارے سے خارق عادت معجزے کی صورت پیدا ہوگئی۔ ایسے معجزات اصطلاحی طور پر اقتداری معجزات کہلاتے ہیں اور معجزات کی دنیا میں استثناء کا رنگ رکھتے ہیں ۔ سو معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر بھی حضرت مسیح موعود  ؑ کے ساتھ یہی ہوا کہ شروع میں آپ مجسٹریٹ کے سوال پر صرف یہ اصولی بات فرماکر خاموش ہوگئے کہ خدا میرے ہاتھ پر نشان ظاہر فرماتا ہے۔ لیکن جب خدائی غیرت جوش میں آئی اور اس نے اپنی خاص نصرت سے آپ کے اندر وقتی طور پر اقتداری معجزہ کی طاقت اور کیفیت ودیعت فرمادی تو آپ نے بڑے جوش اور جلال کے ساتھ فرمایا کہ ’’جو نشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں۔‘‘ مگر افسوس ہے کہ مجسٹریٹ کے مبہوت ہو کر خاموش ہوجانے کی وجہ سے ہم ایک بڑے نشان سے محروم ہوگئے۔
(۱۰)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اقتداری معجزات کی تشریح اپنی کتاب   ’’آئینہ کمالات اسلام ‘‘ میں فرمائی ہے جہاں آپ انسان کے روحانی سلوک کے تین مدارج یعنی فنا اور بقا اور لقا کا ذکر کرتے ہوئے لقا یعنی ملاقاتِ الٰہی کے درجہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ
’’یہ لقا کا مرتبہ تب سالک کیلئے کامل طور پر متحقّق ہوتا ہے کہ جب ربّانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو بتمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متوازی اور پوشیدہ کر دیوے۔ جس طرح آگ لوہے کے رنگ کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ نظر ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا..... اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الٰہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اُس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہوگئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا..... اب ان تحریرات سے ہماری غرض اس قدر ہے کہ لقا کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسر آتا ہے تو اس مرتبہ کے تموّج (یعنی خاص لہر)کے اوقات میں الٰہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں (گو درجہ میں خالص خدائی کاموں سے کسی قدر کم تر)اور ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا  ‘‘ 
(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۶۴ تا ۶۸)
لیکن حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بار بار صراحت فرمائی ہے کہ معجزات خواہ خدا کی طرف سے اس کی غیر محدود طاقتوں کے ذریعہ سے دکھائے جائیں جیسا کہ عموماً ہوتا ہے یا استثنائی حالات میں روحانی قوت کے تموج کے وقت میں اقتداری طور پر خود نبی سے ظاہر ہوں دونوں صورتوں میں خدا کی طرف سے یہ ضروری شرط ہے کہ وہ کسی صورت میں خدا کے وعدہ اور خدا کی کتاب (یعنی سنت اللہ) کے خلاف نہیں ہوتے ورنہ نعوذ باللہ خدا پر اعتراض آتا ہے کہ اس نے اپنے وعدہ اور اپنی سنت کے خلاف کیا ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود  ؑ فرماتے ہیں۔
’’تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے۔ جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا اس کے سوا کوئی خدا نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ جو شخص اُس پر ایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔ ہم نے اپنے خدا کی آفتاب کی طرح روشن وحی پائی۔ ہم نے اُسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں۔ کیا ہی قادر اور قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔ کیا ہی زبردست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اُس کے آگے کوئی بات اَنْہونی نہیں مگر وہی جو اُس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے سو جب تم دعا کرو تو اُن جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانون قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مہر نہیں کیونکہ وہ مردود ہیں اُن کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی ..... لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں۔‘‘
(کشتی نوح  روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۰،۲۱)
یاد رکھنا چاہیے کہ سنت اور وعدہ کی استثناء سے نعوذ باللہ خدا کی قدرتوں کی حدبندی مقصود نہیں کیونکہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ کی قدرتیں حقیقتاً غیر محدود ہیں جن کا حصر ممکن نہیں بلکہ سنت اور وعدے کی مستثنیات سے خداتعالیٰ کی ذات سے محض اس اعتراض کو دور کرنا مقصود ہے کہ وہ نعوذ باللہ اپنے کلام میں اپنی ایک سنت بیان فرماتا ہے اور پھر خود اس کے خلاف کرتا ہے۔ ایک وعدہ کرتا ہے اور پھر خود اس وعدہ کو توڑتا ہے ۔ ورنہ جہاں تک خدا کی ایسی قدرتوں کا سوال ہے جو حقیقۃً قدرت کہلانے کی حقدار ہیں اور ان کی وجہ سے خدا میں کوئی نقص لازم نہیں آتا اور اس کے سبحان (یعنی بے عیب ) ہونے کی صفت میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا وہ یقیناً غیر محدود ہیں۔ حضرت مسیح موعود اپنے ایک شعر میں کیا خوب فرماتے ہیں کہ :-
نہیں محصور ہر گز راستہ قدرت نمائی کا 
خدا کی قدرتوں کا حَصْر دعویٰ ہے خدائی کا
(۱۱)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا سب سے بڑا عملی مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نیابت اور ظلیت میں اسلام کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کے عالمگیر غلبہ سے تعلق رکھتا تھا۔ چنانچہ آپ کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اسی مقدس جہاد میں گزرا اور یہ جہاد صرف ایک محاذ تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ کو اسلام کے غلبہ کی خاطر دنیا کے ہر مذہب کے خلاف برسرِ پیکار ہونا پڑا اور آپ نے خدا کے فضل سے ہر محاذ پر فتح پائی حتّٰی کہ آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں تک نے آپ کو ’’فتح نصیب جرنیل ‘‘ کے شاندار لقب سے یاد کیا۔ (اخبار وکیل امرتسرماہ جون ۱۹۰۸ء) لیکن اس جگہ آپ کی تمام مقدس جنگوں کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں اور نہ میرا یہ مختصر سا مقالہ اس تفصیل کا حامل ہوسکتا ہے مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس نے اپنے قرآنی وعدہ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ٭ کے عالمگیر نشان کی ایک موٹی اور بدیہی علامت کے طور پر ایک وقت میں ہی سارے مذاہب کو اپنے مسیحِ محمدی کی خاطر ایک محاذ پر جمع کردیا تاکہ دنیا بھر کے شکار ایک گولی کا نشانہ بن کر اسلام کے غلبہ کی متفقہ شہادت دے سکیں۔ اس واقعہ کی تفصیل نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف کتابوں اور اشتہاروں میں آچکی ہے بلکہ خود اس مخلوط کمیٹی کی رپورٹ میں بھی درج ہے جو جلسہ اعظم مذاہب کے انتظام کے لئے مقرر ہوئی تھی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں پر مشتمل تھی اور یہ ساری رپورٹیں ایک ہی حقیقت کی حامل ہیں اور وہ یہ کہ مذاہبِ عالم کے اس عظیم الشان جلسہ میں حضرت مسیح موعود کے مضمون کے ذریعہ اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہوا جو  فی الواقعہ بے مثال تھا ۔ میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی کی روایت کا خلاصہ درج کرتا ہوںجس کے بعض حصے ابھی تک حقیقۃً ’’در مکنون ‘‘(یعنی غلافوں کے اندر چھپے ہوئے موتیوں ) کا رنگ رکھتے ہیں کیونکہ اس واقعہ کی عمومی اشاعت کے باوجود یہ مخصوص حصے ابھی تک زیادہ معروف نہیں ہیں۔ 
حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۸۹۶ء کے نصف آخر کا زمانہ تھا کہ اچانک ایک اجنبی انسان سادھو منش بھگوے کپڑوں میں ملبوس شوگن چندر نامی قادیان میں وارد ہوا ۔ یہ شخص ایک اچھے عہدے پر فائز رہ چکا تھا اور اب اپنی بیوی بچوں کے فوت ہوجانے کے بعد دنیا سے کنارہ کش ہوکر صداقت اور خدا کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا اور اس بات کی تڑپ رکھتا تھا کہ اسے سچے رستے کا نشان مل جائے ۔ اسی جستجو میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام سن کر قادیان آیا اور بہت جلد قادیان کی مجالس کا ایک بے تکلف ممبر نظر آنے لگا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی باتیں سن کر اور خواہش معلوم کرکے فرمایا کہ ہماری تو بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ مذاہب کے اختلاف کا فیصلہ کرکے دنیا کو سچے خدا کا رستہ دکھائیں۔ سو اگر آپ لاہور جیسے مقام میں کسی ایسے جلسہ کا انتظام کراسکیں جس میں سارے مذہبوں کے نمائندے شامل ہو کر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں اور مخلوق خدا کو خدا کا رستہ دکھانے میں مدد دیں تو یہ ایک بہت بڑی نیکی اور خدمت کا کام ہوگا اور دنیا کو اپنے سچے آقا و مالک کا نشان پانے میں مدد ملے گی۔ اس پر سوامی شوگن چندر لاہور جا جا کر مختلف مذہبوں کے زعماء سے ملتے رہے اور حضرت مسیح موعود کی توجہ اور دعا کی برکت سے بالآخر ایک بین الاقوامی جلسے کی تجویز پختہ ہوگئی جس میں دین و مذہب کے اصولوں اور خدا کی ہستی اور خدا کی صفات کے متعلق پانچ ایسے بنیادی سوال مقرر کئے گئے جو ہر مذہب کی جان اور ہر دینی نظریۂ فکر کا نچوڑ ہیں۔ 
حضرت مسیح موعود نے ان سوالوں کے جواب میں ایک مفصل مضمون لکھا اور جلسہ سے کئی دن پہلے ایک اشتہار شائع کیا اور اس اشتہار میں بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ 
۱۔ میرا یہ مضمون سب پر غالب رہے گا ۔
۲۔ یہ مضمون خدا تعالیٰ کی کبریائی کا موجب ہوگا اور اس کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب خیبر کے یہودی قلعوں کی طرح مفتوح ہوں گے اور ان کے جھنڈے سرنگوں ہوجائیں گے۔
۳۔ جوں جوں اس مضمون کی اشاعت ہوگی دنیا میں قرآنی سچائی زور پکڑتی جائے گی اور اسلام کا نور پھیلتا جائے گا جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرلے۔
(مجموعہ اشتہارات جلد اول بار دوم صفحہ ۶۱۴،۶۱۵۔ اشتہار۲۱ ؍دسمبر ۱۸۹۶ء )
مذاہبِ عالم کا یہ عظیم الشان جلسہ ۲۶،۲۷،۲۸ اور ۲۹ دسمبر کی تاریخوں میں لاہور میں منعقد ہوا اور اس میں اسلام اور مسیحیت اور ہندومذہب اور سناتن دھرم اور آریہ مذہب اور سکھ مذہب اور برہمو سماج اور فری تھنکر اور تھیو سافیکل سوسائٹی وغیرہ کے نمائندوں نے اپنے اپنے عقائد اور خیالات بیان کئے اور سات آٹھ ہزار کی عظیم الشان نمائندہ پبلک نے جس میں ہر طبقہ اور ہر ملت کے تعلیم یافتہ اصحاب شامل تھے جلسہ میں شرکت کی اور سب مقررین نے اپنے اپنے مذہب اور اپنے اپنے نظریات کی خوبیاں سجا سجا کر پیش کیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لکھا ہوا مضمون حضور کے ایک مخلص حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے بلند اور بارعب آواز سے پڑھ کر سنایا اور اس وقت اس مضمون کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ حضرت بھائی عبد الرحمان صاحب بیان کرتے ہیں دوست خود انہی کے الفاظ میں سنیں۔ حضرت بھائی صاحب فرماتے ہیں کہ 
’’میںنے اپنے کانوں سے سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹر آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ سبحان اللہ پکاررہے تھے ۔ ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اِس طرح بے حِس و حرکت بیٹھا تھا کہ جیسے کوئی بے جان بُت ہو اور اگر ان کے سروں پر پرندے بھی آبیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی ۔ مضمون کی روحانی کیفیت دلوں پر حاوی تھی ۔ اور اس کے پڑھنے کی گونج کے سوا لوگوں کے سانس تک کی بھی آواز نہ آتی تھی حتّٰی کہ قدرتِ خداوندی سے اس وقت جانور تک بھی خاموش تھے اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہ ہورہی تھی۔ کاش! میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے اس وقت دیکھا اور سُنا اس کا عُشرِ عشیر ہی بیان کرسکتا..... کوئی دل نہ تھا جو اس لذت و سرور کو محسوس نہ کرتا تھا۔ کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرار و اعتراف نہ کرتی تھی..... نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اسے قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘             (اصحاب احمد جلد ۹ صفحہ ۲۵۲ تا ۲۶۱)
اس مضمون کے متعلق حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی مرحوم جنہوں نے جلسہ میں پڑھے جانے کے لئے اس مضمون کی صاف نقل تیار کی تھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ 
’’میں نے اس مضمون کی سطر سطر پر دعا کی ہے ۔‘‘
(اصحابِ احمد جلد نہم صفحہ۲۶۵)
دوست غور کریں کہ لکھنے والا خدا کا مامور و مرسل ہے اور مضمون وہ ہے جس کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ وہ سب پر غالب آئے گا مگر پھر بھی خدا کا یہ برگزیدہ مسیح قدم قدم پر اور سطر سطر پر خدا سے دعا کرتا اور اس کی نصرت کا طالب ہوتا ہے ۔ تو جب خدا کے مسیح کا یہ حال ہے تو پھر ہم عاجز بندوں کو اپنے کاموں میں کتنی دعاؤں اور کتنے خدائی سہاروں کی ضرورت ہے!! کاش ہم دعا کی قدر و قیمت کو پہچانیں اور اسے اپنی زندگیوں کا لازمہ بنائیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی روحانی زندگی نہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ لطیف مضمون ’’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے بلکہ انگریزی زبان کے علاوہ بعض دوسری زبانوں میں بھی اس کا ترجمہ ہوکر یورپ اور امریکہ اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں پہنچ چکا ہے اور جہاں جہاں بھی یہ کتاب پہنچی ہے نیک فطرت علم دوست طبقے نے اس کے مضامین کی غیر معمولی بلندی اور گہرائی سے متاثر ہوکر اس کی انتہائی تعریف کی ہے۔ (مثلاً دیکھو تبلیغ ہدایت صفحہ ۲۴۴ تا ۲۴۶) ۔کاش ہماری جماعت اس بے نظیر کتاب کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ دے تاکہ وہ خدائی نور جو اس مضمون کی تصنیف کے وقت آسمان سے نازل ہوا تھا جلد تر دنیا میں پھیل کر اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نام کو بلند کرنے اور قرآنی صداقت کو دنیا بھر میں پھیلانے کا رستہ کھول دے۔ اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ خدائے عرش اپنے مقدس مسیح کو پہلے سے فرما چکا ہے کہ 
’’بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منارِ بلند تر محکم افتاد۔‘‘ 
(تذکرہ صفحہ۱۰۲ و ۶۳۵)
سوامی شوگن چندر صاحب کے متعلق حضرت بھائی قادیانی صاحب اپنی روایت کے آخر میں بیان کرتے ہیں کہ یہ سوامی صاحب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان نشان کے سامان پیدا کئے جلسہ کی تمام کارروائی کے دوران میں اور پھر جلسہ کی رپورٹ کی اشاعت تک تو ملتے ملاتے رہے مگر اس کے بعد معلوم نہیں کہ وہ کیا ہوئے اور کہاں گئے گویا خدائی قدرت کا ہاتھ انہیں اسی خدمت کی غرض سے قادیان لایا تھا اور پھر پہلے کی طرح غائب کردیا ۔
(۱۲)
اسلام کی ہمہ گیر اور فاتحانہ تبلیغ کے لئے عربی زبان کا اعلیٰ درجہ کا علم ضروری ہے کیونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا تھا اور وہ ایک عجیب و غریب روحانی عالم کی حیثیت رکھتا ہے جس میں بے شمار خزانے مدفون ہیں جو غور کرنے والوں کے لئے وقتاً فوقتاً نکلتے رہتے ہیں اور خدا کے فضل سے آئندہ بھی قیامت تک نکلتے رہیں گے۔ اور گو قرآن کی محکم اور بنیادی تعلیم ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی مگر نئے نئے انکشافات کے ذریعہ خدا قرآن ہی کی برکت سے ہر قوم اور ہر زمانہ کی روحانی اور اخلاقی ضروریات کو پورا فرماتا رہے گا لیکن دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی زبان کا درسی علم بہت محدود تھا بلکہ ایک جگہ خود آپ نے اپنے درسی علم کے متعلق لکھا کہ محض شدبود تک محدود تھا (نجم الہدیٰ صفحہ۱۹) لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل و دماغ میں ایک عالمگیر مصلح کا جوہر پاکر حضور کو اپنی خاص تربیت میں لے لیا تو دوسرے کمالات بخشنے کے علاوہ قرآنی علوم کی اشاعت کے لئے عربی زبان میں بھی معجزانہ طریق پر کمال کا مرتبہ عطافرمایا حتّٰی کہ آپ نے عربی زبان میں کثیر التعداد اعلیٰ درجہ کی نہایت فصیح و بلیغ کتابیں لکھیں اور خدا سے اذن پاکر نہ صرف ہندوستان کے علماء کو چیلنج کیا کہ وہ میرے مقابلہ پر آکر عربی زبان میں ایسی کتابیں لکھ کر پیش کریں جو ادبی معیار کے لحاظ سے بھی اور اپنے حسنِ معانی اور روحانی اور اخلاقی لطائف و غرائب کے لحاظ سے بھی لاجواب ہوں بلکہ آپ نے مصر اور شام اور عرب کے علماء کو بھی چیلنج کیا کہ اگر انہیں میرے خدادا مشن کے متعلق شک ہے اور اس نصرت الہٰی کے متعلق شبہ ہے جو خدا کی طرف سے مجھے حاصل ہورہی ہے تو اور باتوں کو چھوڑ کر صرف اسی بات میں میرے دعویٰ کو آزما لیں کہ وہ میرے مقابلہ پر آکر عربی زبان میں جو خود ان کی اپنی زبان ہے میرے جیسا فصیح و بلیغ عربی کلام جو اسی طرح معنوی محاسن سے بھی لبریز ہو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ مگر کیا ہندوستان اور کیا مصر اور کیا شام اور کیا عرب سب کے سب اس خدائی چیلنج پر بالکل خاموش ہوگئے اور حضرت مسیح موعود کی عربی نظم و نثر کے مقابلہ پر اپنا کلام پیش کرنے سے  عاجز رہے۔
یہ ایک زبردست نشان اور ایک عظیم الشان علمی معجزہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر خدا نے ظاہر فرمایا کہ گویا ایک اُمّی کے مقابلہ پر علماء و فضلاء کے منہ بند کردئیے۔ دنیا جانتی ہے کہ عربی ادب کے میدان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتداء ً کوئی درجہ حاصل نہیں تھا بلکہ کسبی علم کے لحاظ سے تو آپ اپنے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح قریباً قریباً امی ہی تھے اور سوائے چند معمولی ابتدائی درسی کتابوں کے کوئی علم نہیں رکھتے تھے مگر جب خدا نے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے چنا اور دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا اور خود آپ کا استاد بنا تو پھر اس نے اسی اُمّی کو دنیا بھر کے عالموں اور فاضلوں کا استاد بنا دیا اور اپنی خاص قدرت بلکہ خاص الخاص معجزہ نمائی سے آپ کو عربی زبان میں ایسا کمال بخشا کہ آپ کے مقابلہ پر اہلِ زبان تک کی زبانیں گنگ ہوکر رہ گئیں۔چنانچہ ایک جگہ خدا کے اس خاص فضل و رحمت اور خدا کی اس خاص الخاص عنایت اور نصرت کا ذکر تے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں۔ دوست غور سے سنیں۔
’’اِنَّ کَمَالِیْ فِی اللِّسَانِ الْعَرَبِیِّ مَعَ قِلَّۃِ جَھْدِیْ وَ قُصُوْرِ طَلَبِیْ اٰیَۃٌ وَاضِحَۃٌ مِّنْ رَّبِّیْ لِیُظْھِرَ عَلَی النَّاسِ عِلْمِیْ وَ اَدَبِیْ۔ فَھَلْ مِنْ مُّعَارِضٍ فِیْ جُمُوْعِ الْمُخَالِفِیْنَ وَ اِنِّیْ مَعَ ذٰلِکَ عُلِّمْتُ اَرْبَعِیْنَ اَلْفًا مِّنَ اللُّغَاتِ الْعَرَبِیَّۃِ وَاُعْطِیْتُ بَسْطَۃً کَامِلَۃً فِی الْعُلُوْمِ الْاَدَبِیَّۃِ۔‘‘
(انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱صفحہ۲۳۴)
’’یعنی عربی زبان میں میرا کمال باوجود میری کوشش کی کمی اور میری سعی کی قلت کے خدا کی طرف سے ایک روشن نشان ہے تاکہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ لوگوں پر میری خداداد علمی اور ادبی قابلیت ظاہر فرمائے اور مجھے دنیا بھر کے لوگوں پر غالب کردے۔ اب کیا میرے سارے مخالفوں (کیا ہندوستان اور کیا مصراور عرب اور کیا شام) میں سے کوئی ہے جو میرے مقابلہ پر اس میدان میں کھڑا ہوسکے ؟ اس علمی اور ادبی کمال پر خدا کا مزید فضل یہ ہے کہ اس نے مجھے عربی زبان کی چالیس ہزار لغات کا معجزانہ رنگ میں علم عطا کیا ہے اور مجھے علوم ادبیہ میں کامل وسعت بخشی ہے اور مجھے علوم ادبیہ میں کامل نصرت بخشی ہے۔‘‘
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی زبان میں خدا تعالیٰ سے غیر معمولی نصرت پانا اور وحی و الہام کے ذریعہ اس زبان میں کمال حاصل کرنا اور خدا کی طرف سے چالیس ہزار عربی لغات کا سکھایا جانا ایک زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جس کی صداقت پر آپ کے سارے مخالفوں نے انتہائی مخالفت کے باوجود اپنی خاموشی بلکہ اپنے گریز کے ساتھ مہر لگا دی اور کوئی ایک فرد واحد بھی اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آگے نہیں آیا بلکہ آپ کا یہ دعویٰ تو ایسا شاندار دعویٰ تھا کہ اس پر سمجھدار غیر احمدی علماء تک نے واضح الفاظ میں آپ کی تصدیق کی اور آپ کی تعریف فرمائی ہے۔ چنانچہ برعظیم ہندوپاکستان کے ایک بڑے عالم او رغیر احمدی مفکر علامہ نیازفتح پوری اپنے اخبار ’’نگار ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ 
’’حضرت مرزا صاحب کی عربی دانی سے مخاطب کا انکار کرنا حیرت کی بات ہے شاید آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا صاحب کے عربی کلام نظم و نثر کی فصاحت و بلاغت کا اعتراف خود عرب کے علماء اور فضلاء نے کیا ہے حالانکہ انہوں نے کسی مدرسہ میں عربی ادبیات کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کا یہ کارنامہ بڑا زبردست ثبوت ان کے فطری اور وہبی کمالات کا ہے۔‘‘           (اخبار’’ نگار‘‘ لکھنؤ ستمبر ۱۹۶۱ء)
اس جگہ جو کچھ عرب ممالک کے متعلق بیان کیا گیا ہے اس میں حَاشَا وَ کَلّا ہرگز عرب اقوام کی تحقیر مقصود نہیں۔ عرب تو خدا کے فضل سے دین کے معاملہ میں ہمارے اولین استاد ہیں اور ہم نے بلکہ دنیا بھر نے دین کا پہلا سبق عربوں سے ہی سیکھا تھا اور عرب قوم میں ہی تاریخ عالم کا وہ افضل ترین انسان یعنی حضرت خیر الرسل سید وُلد ِآدم صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہوا جس کے سامنے سب اوّلین و آخرین کی گردنیں خم ہوتی ہیں مگر اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ خدا ساری قوموں کا خدا ہے اور اس کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کو بدل بدل کر تقسیم کرتا ہے پس اگر اس زمانہ میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے خادموں اور خوشہ چینوں میں سے ایک ہندی خادم کو اصلاح خلق کے لئے چنا ہے تو اس پر عربوں کو برا ماننے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ وسیع اسلامی اخوت کے مطابق یہ نعمت بھی دراصل اُنہی کے ایک بھائی کے حصہ میں ہی آئی ہے۔پس میں اپنے عرب بھائیوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ اسلام کی پہلی بار ش سے سیراب ہوئے ۔ اب آؤ اور اسلام کی آخری بارش سے بھی حصہ پاؤ اور انشاء اللہ ضرور ایسا ہوگا کیونکہ خدا نے پہلے سے اپنے مسیح کو یہ خوشخبری دے رکھی ہے کہ 
’’یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ صُلَحَآءُ الْعَرَبِ وَاَبْدَالُ الشَّامِ‘‘
 (تذکرہ ایڈیشن دوم صفحہ ۱۶۸)
’’یعنی اے خدا کے مسیح وہ وقت آتا ہے کہ عرب کے نیک لوگ اور شام کے اولیاء تیری صداقت کو پہچان کر تجھ پر درود بھیجیں گے۔‘‘
(۱۳)
 اس موقع پر یہ بات بھی خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے کہ چونکہ یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور قرآنی پیشگوئی کے مطابق اس زمانہ میں زمین اپنے اَثْـقَال یعنی تمام وزنی باتیں باہر نکال نکال کر منظر عام پر لارہی ہے(سورہ زلزال آیت ۳) اس لئے خدا تعالیٰ نے اس زمانے کے موعود کے لئے بھی یہی پسند فرمایا ہے کہ اسے زیادہ تر علمی معجزا ت سے ہی نوازا جائے اور پرانے زمانے کی ظاہری چمک دمک والی باتوں سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔ حتّٰی کہ حضرت سرور کائنات فخر رسل صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک زمانہ میں بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضاء والے معجزات کی بجائے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور قرآن کے عجیب و غریب روحانی اور اخلاقی محاسن والا معجزہ پیش کیا اور یا ان عظیم الشان پیشگوئیوں پر اپنے افضل الرسل کی صداقت کی بنیاد رکھی جو آج سے تیرہ سو سال قبل سے شروع ہوکر آج تک پوری ہو ہو کر اسلام کی سچائی پر مہر لگاتی چلی آئی ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قریش مغلوب ہوں گے اور مکہ فتح ہوگا اور مکہ فتح ہوکر رہا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سارے عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگی اور اسلام کی حکومت قائم ہوکر رہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے ماننے والوں کے ہاتھوں سے کسریٰ اور قیصر کی حکومتیں خاک میں ملیں گی اور وہ خاک میں مل کر رہیں اور ان کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قرآن کی روحانی تاثیرات سے میرے پیرو علم و معرفت میں آسمان کے ستارے بنیں گے اور وہ ستاروں سے بھی آگے پہنچے۔ اور دنیا کے لئے چاند اور سورج کا مرتبہ پایا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بوئے ہوئے بیج سے سینکڑوں سال تک اولیاء اور صلحاء کی ایک ایسی جماعت پیدا ہوتی گئی جس نے آسمانِ ہدایت میں گویا کہکشاں کا سا سماں باندھ دیا اور بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ایک لمبے زمانہ کے بعد میری امت میں تنزل کے آثار پیدا ہوں گے اور یاجوج ماجوج اور غاروں میں چھپے ہوئے صلیبی علم بردار اپنی نیند سے بیدار ہوکر سر اٹھائیں گے اور مسلمانوں کو کچلنے کے لئے ہر بلندی سے بھاگے آئیں گے اور آج وہ بھاگے آرہے ہیں ۔ یہ سب کچھ اور ان کے ساتھ بیشمار دوسری باتیں پوری ہوئیں اور اس طرح مسلمانوں کے تنزل میں بھی اسلام کی صداقت کا سورج چمکا کیونکہ یہ تنزل بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئی کے عین مطابق ہے۔
مگر ہمارا آقا کوئی بے وفا آقا نہیں تھا جو اپنے گرتے ہوئے خادموں کا ہاتھ چھوڑ کر الگ ہوجاتا۔ اس نے جہاں مسلمانوں کے تنزل کی پیشگوئی فرمائی تھی وہاں اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ جب آخری زمانہ میں مسلمانوں پر غیر معمولی تنزل آئے گا تو خدا تعالیٰ میری امت میں سے ایک مثیل مسیح اور مہدی پیدا کرے گا جو گرتے ہوئے مذہب کو سنبھال کر اور گرتی ہوئی قوم کو سہارا دے کر انہیں پھر اوپر اٹھا لے گا اور اس کے ذریعہ اسلام نہ صرف خطرہ سے بچ جائے گا بلکہ بالآخر دنیا میں ایک انقلابی صورت پیدا ہوگی اور مغرب کے مادہ پرست لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی غلامی کا دم بھرنے لگیں گے۔ اس وقت یوں نظر آئے گا کہ گویا مشرق سے طلوع کرنے والا سورج مغرب سے چڑھ رہا ہے(بخاری کتاب الفتن) پس اے تاریکی کو دیکھنے والے لوگو! گھبراؤ نہیں ۔ بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اب اس کے بعد روشنی آنے والی ہے ۔ 
مغرب کے عیسائی ممالک کے اس غیر معمولی انقلاب کی بہترین تصویر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف میں بیان ہوئی ہے جہاںخدا تعالیٰ نے اس انقلاب کا ایک روشن فوٹو کھینچ کر رکھ دیا ہے ۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں 
’’ میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحر ذخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جارہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا۔‘‘
(تذکرہ صفحہ۴۸۲۔ مطابق الحکم ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۳ء)
مغربی استبداد کی موجودہ حالت کی کوئی تصویر اس سے بہتر نہیں کھینچی جاسکتی اور پھر لطف یہ ہے کہ جہاں اس بحر ذخار کے متعلق مغرب سے مشرق کی طرف بہنے کا ذکر ہے وہاں اسے سانپ سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایک ڈسنے والا مہلک جانور ہے ۔ لیکن جہاں اس کے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کی طرف بہنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اس تشبیہ کو ترک کرکے اسے صرف ایک پانی کے دھارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ وہ لطیف اشارے ہیں جن سے خدا کا کلام ہمیشہ معمور ہوا کرتا ہے۔ اور بخدا میں اس پھوار کی ٹھنڈک ابھی سے عالمِ تخیل میں محسوس کررہا ہوں جو آگے چل کر ہماری آئندہ نسلوں کو ہمارے ہونے والے مغربی بھائیوں کے پاک انفاس کی طرف سے پہنچنے والی ہے۔ بہرحال یہ خدا کا دکھایا ہوا نظارہ ہے جو ضرور ایک دن پورا ہوگا۔ حضرت  مسیح موعود  ؑ فرماتے ہیں: -
قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے
جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ایک حدیث میں بھی آخری زمانے کے اس عظیم الشان انقلاب کی بڑی خوشکن تصویر کھینچی ہے جو کمزور دلوں کو ڈھارس دینے اور مضبوط دلوں کو خوشی کے جذبات سے لبریز کرنے کے لئے کافی ہے۔ فرماتے ہیں
                                                کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔ (بخاری) 
’’یعنی اے مسلمانو! تمہارے لئے وہ دن کیسا خوشی کا دن ہوگا کہ جب میری امت کا مسیح ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہیں میں سے تمہارا   امام ہوگا۔‘‘
مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کا ہر کام ابتداء میں ایک بیج کے طور پر ہوتا ہے جسے لوگ دیکھ کر شروع میں بالکل حقیر سمجھتے اور اس پر ہنسی اڑاتے ہیں مگر بالآخر وہی چھوٹاسا بیج آہستہ آہستہ ایک بڑا تناور درخت بن جاتا ہے جس کی شاخوں کے نیچے قومیں آرام پاتیں اور پناہ لیتی ہیں ۔ حضرت عیسیٰ کے آغاز کو دیکھو کہ شروع میں ان کے مشن کی ابتداء کس قدر کمزور اور کتنی مایوس کن تھی مگر اب ان کے پیرو ساری دنیا پر سیلِ عظیم کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ بلکہ حضرتِ سرورِ کائنات فخرِ رسل ہی کے آغاز کو دیکھو کہ یہ بنی نوع آدم کا سالارِ اعظم شروع میں مکی کی گلیوں میں کس کمزوری اور کس مپرسی کی حالت میں پھرتا تھا اور مکہ کے قریش اس پر ہنسی اڑاتے تھے مگر جب یہ بظاہر چھوٹا سا بیج عرب کی زمین میں سے پھوٹ کر نکلا تو کس طرح دیکھتے ہی دیکھتے تمام معلوم دنیا پر رحمت کا بادل بن کر چھاگیا۔ یہی ترقی انشاء اللہ اسلام کے لئے احمدیت کے دور میں مقدر ہے۔ جو لوگ زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس جلال اور کس یقین کے ساتھ فرماتے ہیں:-
’’دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہےبلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا ۔ اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا ۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں ۔ یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں‘‘
(تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۱۸۲)
اوردوسری جگہ فرماتے ہیں
’’میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے ۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۷)
(۱۴)
بعض درمیانی باتوں کے ذکر کے بعد میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی دانی کے اعجاز کے بیان کی طرف لوٹتا ہوں۔ میں بیان کرچکا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ   نے اپنی خاص الخاص تائید و نصرت سے حضرت مسیح موعود کو حضور کی درسی تعلیم کی کمی اور عربی علم کی ظاہری بے بضاعتی کے باوجود عربی زبان میں کمال عطا کیا اور معجزانہ طور پر چالیس ہزار عربی لغات کے علم سے نوازا تو اس کے بعد حضور نے عربی میں کثیر التعداد فصیح و بلیغ کتابیں تصنیف فرمائیں جو عدیم المثال نظم و نثر کے محاسن سے معمور تھیں جن کا جواب لانے سے ہندوستان اور عرب کے علماء اور فصحاء عاجز تھے مگر ابھی تک حضور نے عربی زبان میں کبھی تقریر نہیں فرمائی تھی اور نہ اس کے لئے کوئی موقع ہی پیش آیا تھا۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے ۱۹۰۰ء مطابق ۱۳۱۷ھ میں اس کا بھی ایک بہت عمدہ موقع پیدا کردیا ۔ یہ عربی تقریر جو حضور نے عید الاضحیٰ کے موقع پر فرمائی’’ خطبۃ الہامیۃ ‘‘کے نام سے چھپ چکی ہے اور باوجوداس کے کہ یہ تقریر ایک گھنٹے سے زائد وقت میں بغیر کسی قسم کی تیاری کے بالکل فی البدیہ طور پر کی گئی عربی کلام کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جسے پڑھ کر عرب ممالک کے ادیب بھی عش عش کر اٹھتے ہیں ۔ اس عجیب و غریب واقعہ کے متعلق سلسلہ کے اخبارات اور کتب میں کسی قدر تفصیلی بیانات شائع ہوچکے ہیں مگر میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے قدیم نو مسلم صحابی حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی کی چشم دید اور گوش شنید روایت کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔
حضرت بھائی صاحب روایت کرتے ہیں کہ عید الاضحی ۱۹۰۰ء سے ایک دن قبل جو حج کا دن تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اوّل) کو کہلا بھیجا کہ میں یہ حج کا دن خاص دعاؤں میں گذارنا چاہتا ہوں اس لئے جو دوست دعا کی درخواست دینا چاہیں آپ ان کے نام لکھ کر اور فہرست بنا کر مجھے بھجوادیں۔ چنانچہ حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس دن کثرت  کے ساتھ حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓ کی وساطت سے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کی درخواستیں پہنچیں اور بعض اصحاب نے براہ راست بھی دعا کی درخواست لکھ کر حضور کی خدمت میں بھجوائی۔ اور چونکہ اس زمانہ میں عید کے موقع پر بیرونی مقامات سے بھی کافی دوست عید پڑھنے اور حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے مشرف ہونے کے لئے قادیان آجایا کرتے تھے وہ بھی اس غیبی تحریک میں شامل ہوگئے ۔ اور یہ دن قادیان میں خاص دعاؤں اور غیر معمولی تضرعات اور بڑی برکات میں گزرا۔
دوسرا دن عید کا تھا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز سے پہلے فرمایا کہ   اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ 
’’آج تم عربی میں تقریر کرو۔ تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا۔ کَلَامٌ اُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبٍّ کَرِیْمٍ۔ (یعنی تمہاری اس تقریر میں خدائے کریم کی طرف سے فصاحت اور برکت عطا کی جائے گی)‘‘
(تذکرہ صفحہ ۳۵۷)
چنانچہ پہلے عید کی نماز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے ایک مختصر سا خطبہ اردو میں دیا جس میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو باہم اتفاق و اتحاد اور محبت کی نصیحت فرمائی اور پھر حضور نے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو اپنے قریب آکر بیٹھنے کے لئے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ 
’’اب جو کچھ میں بولوں گا وہ چونکہ خاص خدائی عطا سے ہے آپ لوگ اسے توجہ سے لکھتے جائیں تاکہ وہ محفوظ ہوجائے ورنہ بعد میں شاید میں خود بھی نہیں بتا سکوں گا کہ میں نے کیا کہا تھا۔‘‘
(اصحاب احمد جلد ۹ روایت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی)
اس کے بعد حضور مسجد اقصیٰ قادیان کے درمیانی دروازہ میں ایک کرسی پر مشرق کی طرف منہ کرکے بیٹھ گئے اور عربی زبان میں اپنی تقریر شروع کی جس کا پہلا فقرہ یہ تھا کہ یَا عِبَادَ اللہِ فَکِّرُوْا فِیْ یَوْمِکُمْ ھٰذَا یَوْمَ الْاَضْحٰی فَاِنَّہٗ اُوْدِعَ اَسْرَارًا لِّاُولِی النُّھیٰ ۔‘‘
’’یعنی اے خدا کے بندو! اپنے اس دن کے معاملے میں غور کرو جو حج اور عید کی قربانیوں کا دن ہے کیونکہ خدا کی طرف سے اس دن میں عقلمندوں کے لئے بڑی بڑی حکمتیں ودیعت کی گئی ہیں‘‘ ۔ حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھنے اور تقریر شروع کرنے کے بعد یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا اب حضور کسی دوسری دنیا میں چلے گئے ہیں ۔ حضور کی آنکھیں قریباً بند تھیں اور چہرۂ مبارک اس طرح پر منور نظر آتا تھا کہ گویا انوارِ الٰہیہ نے اسے پوری طرح ڈھانپ کر غیر معمولی طور پر روشن اور     ضیا پاش کررکھا ہے۔ اس وقت حضور کے چہرہ پر نظر نہیں جمتی تھی اور حضور کی پیشانی سے نور کی اتنی تیز شعائیں نکل رہی تھیں کہ ہر دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں۔ زبانِ مبارک تو بظاہر حضور ہی کی چلتی ہوئی نظر آتی تھی مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ گویا وہ بے اختیار ہو کر کسی غیبی طاقت کے چلانے سے چل رہی ہے۔ حضرت بھائی صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت کی حالت لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ اس وقت کے انقطاع الی اللہ اور توکل اور ربود گی اور بے خودی اور محویّت کا یہ عالَم تھا کہ اس کی تصویر کھینچنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔
حضور کی اس فصیح و بلیغ معجزانہ عربی تقریر کے بعد جو کتاب خطبۂ الہامیہ کے ابتدائی اڑتیس صفحوں میں چھپ چکی ہے حاضرین کی خواہش پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اسی مجلس میں اس تقریر کا اردو میں ترجمہ کرکے سنایا ۔ ترجمہ کے دوران میں اللہ تعالیٰ کے کسی خاص القا یا اندرونی جذبہ کے ماتحت حضرت مسیح موعود ایک فقرہ پر کرسی سے اٹھ کر بے اختیار سجدے میں گرگئے اور حضور کے ساتھ ہی سارے حاضرین نے بھی اپنی پیشانی اپنے آسمانی آقا کے سامنے زمین پر رکھ دی۔
(اصحاب ِ احمد جلد ۹ صفحہ ۲۶۷) 
اس فی البدیہ اعجازی تقریر کے متعلق حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں
’’سبحان اللہ اُس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا ۔خود بخود بنے بنائے فقرے میرے مُنہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا ..... یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدانے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیرپیش نہیں کر سکتا۔ ‘‘
(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۶)
(۱۵)
مجھے اِس وقت خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت کا ایک اور واقعہ بھی یاد آیا ہے جوہے تو بظاہر بہت چھوٹا سا مگر اس میں خدائی تائید و نصرت کا عجیب و غریب جلوہ نظر آتا ہے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں کسی شوخ مخالف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی حوالہ طلب کیا اور بحث میں حضور کو بزعمِ خود شرمندہ کرنے کی غرض سے اسی وقت دمِ نقد اس حوالہ کے پیش کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ وہ حوالہ تو بالکل درست اور صحیح تھا مگر اتفاق سے اس وقت یہ حوالہ حضرت مسیح موعود کو یاد نہیں تھا اور نہ اس وقت آپ کے حاضر الوقت خادموں میں سے کسی کو یاد تھا۔ لہٰذا وقتی طور پر شماتت کا اندیشہ پیدا ہوا ۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے وقار کے ساتھ صحیح بخاری کا ایک نسخہ منگوایا اور اسے ہاتھ میں لے کر یونہی جلد جلد اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور پھر ایک ورق پر پہنچ کر فرمایا یہ لو حوالہ موجود ہے۔ دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ حضور نے کتاب کے صفحات پر نظر تک نہیں جمائی اور حوالہ نکل آیا ۔ بعد میں کسی نے حضرت مسیح موعود سے پوچھا کہ حضور یہ کیا بات تھی کہ حضور پڑھنے کے بغیر ہی صفحے الٹتے گئے اور آخر ایک صفحہ پر رک کر حوالہ پیش کردیا ۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹا نے شروع کئےتو مجھے یوں نظر آتا تھا کہ اس کتاب کے سارے صفحے بالکل خالی اور کورے ہیں اور ان پر کچھ لکھا ہوا نہیں اس لئے میں ان کو دیکھنے کے بغیر جلد جلد اُلٹاتا گیا۔ آخر مجھے ایک ایسا صفحہ نظر آیا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ خدا کے فضل و نصرت سے یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے اور میں نے بلا توقف مخالف کے سامنے یہ حوالہ پیش کردیا اور یہ وہی حوالہ تھا جس کا فریق مخالف کی طرف سے مطالبہ تھا۔
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ۔ روایت نمبر ۳۰۶ صفحہ ۲۸۲باختلاف الفاظ)
دوستو ! سنو اور غور کرو کہ ہمارے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کیسی خارق عادت نصرت شاملِ حال تھی کہ جب مخالفوں کے ساتھ بحث کے دوران میں شماتت کا خطرہ پیدا ہوا تو ایک وفادار دوست اور مربی کے طور پر خدا تعالیٰ فوراً حضرت مسیح موعود کی مدد کو پہنچ گیا اور کشفی رنگ میں ایسا تصرف فرمایا کہ حضور کو کتاب کے سارے صفحے خالی نظر آئے اور صرف اسی صفحہ پر ایک تحریر نظر آئی جہاں مطلوبہ حوالہ درج تھا ۔ یہ باتیں اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہیں کہ اسلام کا خدا ایک زندہ ، حیّ و قیوم ، قادر و متصرّف خدا ہے جو اپنی غیر معمولی قدرت نمائی سے اپنے خاص بندوں کو اپنے اعجازی نشان دکھاتا رہتا ہے۔
مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کے مامور و مرسَل نعوذباللہ مداری نہیں ہوتے کہ یونہی تماشے کے طور پر ایسے شعبدے دکھاتے پھریں بلکہ جب کوئی حقیقی ضرورت پیدا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ فوراً سامنے آکر اپنے بندوں کے بوجھ اُٹھا لیتا ہے اور ان کی حفاظت فرماتا اور ان کی مدد کرتا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نہایت پیارا شعر ہے کہ جب حق کےدشمن خدا کے ماموروں اور مرسلوں کو تنگ کرتے اور ذلیل کرنے کے درپَے ہوتے ہیں اور صداقت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس وقت خدا اپنی غیر محدود غیبی طاقتوں کے ساتھ آگے آجاتا ہے اور 
کہتا ہے یہ تو بندۂ عالی جناب ہے 
مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے
(براہینِ احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۶)
(۱۶)
اس قسم کی غیر معمولی غیبی نصرت کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دو نہیں ۔ دس بیس نہیں بلکہ سینکڑوں ملتی ہیں۔ مگر چونکہ سنت اللہ کے مطابق اس قسم کے عام واقعات عموماً محدود قسم کی پرائیویٹ مجلسوں میں یا خاص دوستوں میں ظاہر ہوتے ہیں اس لئے جہاں حضرت مسیح موعود نے اپنی کتابوں میں اپنے خاص معجزات کا ذکر کیا ہے وہاں اس قسم کے عام خوارق کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ البتہ حاضر الوقت احمدیوں کی روایتوں کے ذریعہ بعض باتیں ضرور منظرِ عام پر آگئی ہیں۔ چنانچہ جو واقعہ اب میں بیان کرنے لگا ہوں وہ بھی اسی قسم کے چھوٹے چھوٹے واقعات میں سے ہے جو مرسلِ یزدانی کی روحانی توجہ اور خدا تعالیٰ کی غیبی نصرت کی شعاعوں سے معمور ہیں۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی بیان کرتے ہیں کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد لدھیانہ میں ٹھہرا ہوا تھا تو ایک صوفی منش شخص نے چند سوالات کے بعد حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا کہ ’’کیا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت بھی کراسکتے ہیں؟‘‘ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا کہ 
’’اس کے لئے مناسبت شرط ہے‘‘ 
اور پھر میری طرف منہ کرکے فرمایا
’’یا جس پر خدا کا فضل ہوجائے‘‘
حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اسی رات مجھے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت ہوئی۔ (اصحابِ احمد جلد ۴ صفحہ ۹۲)  منشی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اور توجہ سے مجھے کئی دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت ہوئی ۔ چنانچہ منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود مجھے خواب میں اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے گئے۔ میں مزارِ مبارک کی جالیوں کے اندر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ  و سلم کی زیارت کرنا چاہتا تھا مگر معلوم ہوا کہ یہ جالی میرے قد سے زیادہ اونچی ہے اس پر حضرت مسیح موعود نے میری دونوں بغلوں میں اپنے ہاتھوں کا سہارا دے کر مجھے اونچا کردیا اور اس وقت میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کھلی ہوئی ہے اور آپ میرے سامنے اپنے پورے روحانی جمال کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں ۔ ایک اور موقع پر بھی مجھے حضرت مسیح موعود نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ حضور اس کی بیعت قبول فرمائیں۔ چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ بیعت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ازراہِ نصیحت فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ 
’’تمام نیکیوں کو اختیار کرواور تمام بدیوں سے بچ کررہو۔‘‘
(اصحابِ احمد جلد ۴ صفحہ۱۲۸)
یہ وہ عظیم الشان روحانی تاثیر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک توجہ سے پیدا ہوئی اور اس کے نتیجے میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے لئے رسولِ مقبول کی زیارت کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور گویا حضرت مسیح ِ موعود کے دل کی خواہش اور آنکھ کے اشارے نے منشی صاحب موصوف پر روحانی فیوض کا غیر معمولی دروازہ کھول دیا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ 
آنانکہ خاک را بنظر کیمیا کنند
آیا بوَد کہ گوشۂ چشمے بما کنند
’’یعنی خدا کے بعض پاک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اپنی ایک نظر سے مٹی کو سونا بنادیتے ہیں ۔ کاش کسی ایسے بزرگ کی اچٹتی ہوئی نظر ہم پر بھی پڑجائے۔‘‘
وہ برگزیدہ لوگ جنہوں نے اس قسم کے نشانات مشاہدہ کئے اور اس قسم کے نظارے دیکھے خدا کے فضل سے کسی آزمائش اور کسی امتحان کے وقت لغزش نہیں کھا سکتے کیونکہ وہ بات جو دوسروں کے لئے محض شنید ہے وہ ان لوگوں کے لئے دید ہے ۔ حضرت مسیح موعود سے منشی ظفر احمد صاحب کی ملاقات غالباً ۱۸۸۳ء میں ہوئی اور فوت وہ اگست ۱۹۴۱ء میں ہوئے۔ یہ قریباً ۶۰ سال کا زمانہ بنتا ہے ۔ اس طویل عرصہ میں مرحوم کا ہر قدم ایمان اور اخلاص اور محبت اور قربانی میں مسلسل بلندی کی طرف اٹھتا چلا گیا اور کبھی کوئی لغزش نہیں آئی۔ حالانکہ اس زمانہ میں خدائی سنت کے مطابق احمدیہ جماعت پر مصائب کے زلزلے بھی آئے ، حوادث کی آندھیاں بھی چلیں ، ابتلاؤں کے طوفانوں نے بھی اپنا زور دکھایا مگر یہ خدا کا بندہ آگے ہی آگے قدم اٹھاتا چلا گیا اور بالآخر سب کچھ دیکھ کر اور سارے عجائباتِ قدرت کا نظارہ کرکے اپنے محبوب آقا کے قدموں میں پہنچ گیا ۔ اور یہ بات صرف حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے ساتھ ہی خاص نہیں تھی بلکہ جس نے بھی حضرت مسیح موعود کی صحیح صحبت اٹھائی اور خدائی نشانات دیکھے اور ایمان کی حلاوت کا حقیقی مزہ چکھا (اور ایسے لوگ ہزاروں ہیں ) وہ حق و صداقت کی ایک آہنی دیوار بن گیا جسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے ہلانے اور گرانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ کاش جماعت کی آئندہ نسلیں بھی حضرت مسیح موعود کے صحابہ والا ورثہ پائیں اور خدا کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی رضا کے رستہ پر گامزن ہوں تاکہ صلحاء کے ایک لمبے سلسلہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کا روحانی ورثہ قیامت تک چلتا چلا جائے۔ اے کاش کہ ایسا ہی ہو۔
(۱۷)
انہی منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی ایک اور بڑی دلچسپ روایت ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں مقیم تھےتو میں اور خان محمد خاں صاحب مرحوم کپور تھلہ کے ایک غیر احمدی رئیس اور عالمِ دین ڈاکٹر صادق علی صاحب کو ساتھ لے کر لدھیانہ گئے ۔ کچھ وقت کے بعد حضرت مسیح موعود حسبِ طریق بالوں میں مہندی لگوانے لگے تو اس وقت ایک تعلیم یافتہ آریہ بھی حضور کی ملاقات کے لئے  آگیا ۔ وہ ایم۔ اے پاس تھا اور بہت تیز اور طرار تھا۔ حضور ابھی مہندی لگوا ہی رہے تھے کہ اس آریہ نے اسلام کی تعلیم پر کوئی اعتراض کیا ۔ حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر صادق علی صاحب سے فرمایا کہ آپ ان صاحب سے ذرا گفتگو کریں تو میں اس عرصہ میں مہندی لگوا لوں۔ 
چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اس آریہ کے اعتراض کا جواب دیا مگر اس نے ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے جواب میں ایسی سجا سجا کر تقریر کی کہ ڈاکٹر صاحب عالمِ دین ہونے کے باوجود اس کے سامنے خاموش ہوگئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ دیکھا تو غیرت میں آکر فوراً مہندی لگوانی بند کردی اور اس آریہ سے مخاطب ہوکر اس کے اعتراض کا جواب دینا شروع کردیا۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضور کی تقریر دلائل کے لحاظ سے قریباً قریباً وہی تھی جو ڈاکٹر صادق علی صاحب نے کی تھی مگر حضورؑ کا انداز ایسا مؤثر اور اتنا دلنشین تھا اور حضور کی تقریر روحانی تاثیر میں اس طرح ڈوبی ہوئی تھی کہ وہ آریہ بے تاب ہوکر حضور کے سامنے سجدے میں گر گیا ۔ حضور نے اپنے ہاتھ سے اسے اٹھایا اور سجدہ کرنے سے منع کیا ۔ اس کے بعد یہ آریہ حضرت مسیح موعود ؑ کو دونوں ہاتھوں سے ہندوانہ طریق پر بڑے ادب کے ساتھ سلام کرتے ہوئے حضور کی طرف پیٹھ پھیرنے کے بغیر پچھلے پاؤں پیچھے ہٹتے ہوئے باہر چلا گیا۔
(اصحابِ احمد جلد ۴  صفحہ ۹۴)
یہ عجیب و غریب روایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غیر معمولی علمی رعب اور آپ کی خدا داد روحانی تاثیر کی بڑی دلچسپ مثال ہے۔ ڈاکٹر صادق علی صاحب گو احمدی نہیں تھے مگر کپور تھلہ کے رئیس تھے اور علماء کے زمرہ میں شمار ہوتے تھے مگر جہاں وہ اس آریہ کا جواب سن کر ساکت ہوگئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند منٹ کی تقریر نے اس آریہ پر ایسا جادو کا اثر کیا کہ وہ حضور کے سامنے بے تاب ہوکر سجدے میں گرگیا۔ حالانکہ منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضور کی تقریر بحیثیت مجموعی انہی دلائل پر مبنی تھی جو ڈاکٹر صادق علی صاحب نے بیان کئے تھے مگر جہاں ڈاکٹر صادق علی صاحب کے الفاظ بے روح اور بے جان تھے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہر ہر لفظ اس روحانی جذب و اثر سے معمور تھا جو خدا کے ماموروں اور مرسلوں کو خاص طور پر عطا کیا جاتا ہے ۔ بیشک بے باکی سے انکار کرنے والے اور خدا کے رسولوں کے سامنے گستاخانہ طریق پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کرنے والے بھی ہر زمانے میں ہوتے چلے آئے ہیں اور ہمارے آقا سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھی ابو جہل اور امیہ اور عتبہ اور شیبہ وغیرہ جیسے بدباطنوں کی مثالیں پائی جاتی ہیں ۔ مگر جس شخص میں ذرا بھی سعادت کا مادّہ ہو اور اس کے دل کی آنکھیں بالکل ہی اندھی نہ ہوچکی ہوں وہ علیٰ قدرِ مراتب خدائی ماموروں اور مرسلوں کی روحانی تاثیرات سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ آریہ بھی اپنے پرانے قومی تعصبات کی وجہ سے مسلمان تو نہیں ہوسکا مگر اس کا دل مفتوح ہو کر حضرت مسیح موعود کے قدموں میں گرچکا تھا اور اس کے بعد اسے کبھی حضرت مسیح موعود کے سامنے آنے اور آنکھیں اونچی کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔
اسی روایت میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی اس وقت کی تقریر کا ڈاکٹر صادق علی صاحب پر بھی ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضور سے علیحدگی میں مل کر بیعت کی درخواست کی اور اصرار کیا کہ میری بیعت ضرور قبول فرمائی جائے۔ مگر حضرت مسیح موعود نے یہ خیال کرکے کہ ڈاکٹر صاحب غالباً کسی وقتی جذبہ کے ماتحت ایسا کہہ رہے ہیں عذر کردیا اور فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں اور اچھی طرح سوچ سمجھ لیں۔ ایسا عذر حضرت مسیح موعود کی طرف سے رحیمانہ شفقت کی بناء پر ہوا کرتا تھا کیونکہ جب آپ یہ محسوس کرتے تھے کہ کوئی شخص جلدی میں پورے سوچ بچار کے بغیر بیعت کرنے لگا ہے تو آپ اس ڈر سے کہ وہ بعد میں بیعت کا عہد توڑ کر اور ارتداد کا رستہ اختیار کرکے خدائی عذاب کا نشانہ نہ بن جائے بیعت قبول کرنے سے انکار فرمادیا کرتے تھے کہ جلدی نہ کرو اور اچھی طرح سوچ سمجھ لو ۔ پھر ان میں سے سعید الفطرت لوگ تو کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ آکر بیعت کرلیتے تھے مگر بعض لوگ مخالفانہ اثر کے ماتحت رُک جاتے تھے۔
اس جگہ ایک جملۂ معترضہ کے طور پر میں اپنے دوستوں سے یہ معذرت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے گزشتہ چند روایتیں ہائی بلڈ پریشر کی حالت میں لکھی ہیں جس کے علاوہ میرے سینہ میں اور بائیں بازو میں کافی درد بھی لاحق رہا ہے اس لئے میں ان روایتوں کے بیان کرنے میں پوری توجہ سے کام نہیں لے سکا اور سکون اور یکسوئی کی حالت میسر نہیں آئی ۔ اور چونکہ یہ عوارض کم و بیش اب تک چل رہے ہیں اس لئے اب میں اپنا بقیہ مضمون بڑے اختصار کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کروں گا ۔ دراصل میری غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکرِ خیرکے ذریعہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے دلوں میں پاک تبدیلی پیدا کرنا اور دوسری طرف غیر از جماعت اصحاب کو یہ بتانا ہے کہ خدا کے فضل سے سلسلۂ احمدیہ کا مقدس بانی نہ صرف اعلیٰ ترین اخلاق کا حامل تھا بلکہ روحانی لحاظ سے بھی ایسے بلند مقام پر فائز تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ   و سلم کے زمانے کے بعد اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ اس غرض کے لئے وہ چند روایتیں کافی ہیں جو میں نے اس جگہ بیان کی ہیں اس لئے میں اب صرف دو تین اور باتیں بیان کرکے اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ ’’اگر در خانہ کس اس حرفے بس است‘‘
(۱۸)
جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت اور حضور کی روحانی توجہ کے نشانات بے شمار ہیں اور حضور کے زمانہ میں قریباً ہر احمدی نے ایسے غیر معمولی نصرتوں کے نشانات دیکھے اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت کے ایمان افروز نظارے مشاہدہ کئے ہیں۔ چنانچہ میں اس جگہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی ایک اور دلچسپ روایت بیان کرتا ہوں جس میں نہ صرف دعا کی قبولیت کاخاص منظر نظر آتا ہے بلکہ شفاعت کے مسئلہ پر بھی بڑی روشنی پڑتی ہے ۔ یہ واقعہ جو میں بیان کرنے لگا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کے اخباروں میں مذکور ہوچکا ہے مگرمیں اس جگہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی روایت بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔
حضرت مولوی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرّب صحابی تھے اور نہایت زیرک اور معاملہ فہم بزرگ تھے بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ کا چھوٹا لڑکا عبد الرحیم خان سخت بیمار ہوگیا۔ چودہ دن تک ایک ہی بخار لازمِ حال رہا ۔ اور اس پر حواس میں فتور اور بیہوشی بھی لاحق ہوگئی اور ٹائیفائڈ کا خطرناک حملہ ہوا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفۂ اول) علاج فرماتے تھے ۔ اور چونکہ وہ نہایت ماہر اور نامور طبیب تھے اور غیر معمولی ہمدردی بھی رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے علم کی پوری قوت اور وسیع طاقت سے کام لیا مگر بالآخر ضعف اور عجز کا اعتراف کرکے سپر انداز ہوجانے کے سوا کوئی راہ نظر نہ آئی اور بچہ دن بدن اور لحظہ بلحظہ کمزور ہوکر قبر کی طرف جھکتا چلا جاتا تھا۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بڑی بے تابی کے ساتھ عرض کیا گیا کہ عبد الرحیم خان کی زندگی کے آثار اچھے نہیں اور حالت بظاہر مایوس کن ہے ۔ حضور پہلے سے ہی دعا فرمارہے تھے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی طرف سے اس خیال کا اظہار ہونے پر حضور نے زیادہ توجہ سے دعا کرنی شروع کی اور حضور کے دل میں اس بچے کے متعلق بہت درد پیدا ہوا ۔ حضور دعا فرما ہی رہے تھے کہ حضور پر خدا کی یہ فیصلہ کُن وحی نازل ہوئی کہ 
’’تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر‘‘
(الحکم ۱۷/۲۴ نومبر ۱۹۰۳ءصفحہ ۱)
حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ کی یہ قہری وحی نازل ہوئی تو میں بے حد مغموم ہوا اور اس وقت میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے کہ 
’’یا الٰہی اگر یہ دعا کا موقع نہیں تو میں اس بچے کے لئے شفاعت کرتاہوں۔‘‘
اس پر خدا کی طرف سے یہ جلالی وحی نازل ہوئی کہ 
مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ۔
’’یعنی خدا کے حضور اجازت کے بغیر کون شفاعت کرسکتا ہے؟‘‘
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت ہیبت طاری ہوئی کہ میں نے بلا اذن شفاعت کی ہے مگر ایک دو منٹ کے بعد ہی پھر خدا کی وحی نازل ہوئی کہ 
اِنَّکَ اَنْتَ الْمَجَاز 
’’یعنی تجھے شفاعت کی اجازت دی جاتی ہے‘‘
اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفاعت کے رنگ میں دعا فرمائی اور اس کے نتیجہ میں بیمار بچہ لحظہ بہ لحظہ صحتیاب ہونا شروع ہوگیا۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہر ایک شخص جو اس بچہ کو دیکھتا تھا اس کا دل خدا تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا تھا کہ لاریب حضور کی دعا سے ایک مردہ زندہ ہوگیا ہے۔
دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے کہ ماہر طبیب بچے کی حالت دیکھ کر اس کی صحت کے متعلق مایوسی کا اظہار کرتے اور سِپر ڈال دیتے ہیں بلکہ دعا ہونے پر خدا تعالیٰ خود بھی فرماتا ہے کہ ’’تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر‘‘ مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کی اجازت سے شفاعت کرتے ہیں تو یہ شفاعت خدا کے ہاں مقبول ہوتی ہے اور گویا ایک مردہ زندہ ہوکر قبر سے باہر آجاتا ہے ۔ سچ ہے کہ 
قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے 
اِس روایت سے شفاعت کے مسئلہ پر بھی دلچسپ روشنی پڑتی ہے ۔ شفاعت بھی گو ایک قسم دعا ہی کی ہے مگر وہ عام دعا سے بہت بالا اور ارفع چیز ہے ۔ دراصل شفاعت کے معنی دو چیزوں کے باہمی جوڑ کے ہیں ۔ دعا کرنے والا تو صرف سوالی بن کر خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے مگر شفاعۃ کرنے والا اپنے خاص تعلق کا واسطہ دے کر اور اپنے آپ کو خدا سے پیوست کرکے خدا سے ایک چیز مانگتا ہے ۔ اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اس لئے خدا نے اجازت کے بغیر شفاعت جائز نہیں رکھی ۔ کیونکہ جب خدا کا کوئی خاص مقرب بندہ اپنے تعلق کا واسطہ دے کر خدا سے شفاعت کے رنگ میں کوئی چیز مانگتا ہے تو اُس وقت خدا تعالیٰ کی محبت غیر معمولی طور پر جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندے کے اکرام کی وجہ سے انکار نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن چونکہ انسان بعض اوقات دعا میں غلطی بھی کرسکتا ہے اور خدا سے ایسی چیز مانگ سکتا ہے جو اس کی کسی مصلحت کے خلاف ہے اس لئے خدا نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت یہ شرط مقرر کررکھی ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہ کی جائے۔
اسی روایت کو دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شفاعت سے روک کر اپنا قانون بھی پورا کر لیا اور پھر فوراً ہی اجازت دے کر اپنے محبوب مسیح کی عزّت بھی قائم کردی۔ یہ ایک بہت بڑا امتیاز ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نوازا گیا۔ چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اس روایت کے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ 
’’اے احمدیو! تمہیں مبارک ہو کہ یہ دولت خدا تعالیٰ نے تمہارے حصے میں رکھی تھی ۔ پس خدا کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو۔‘‘
(الحکم ۱۷۔۲۴ نومبر ۱۹۰۳، بدر نمبر ۴۱،۴۲۔مورخہ ۲۹؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۲۱)
اِس روایت سے تقدیر کے مسئلہ پر بھی بڑی لطیف روشنی پڑتی ہے اور اس قرآنی آیت کی تفسیر گویا مجسم ہوکر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے کہ اَللہُ غَالِبٌ عَلیٰ اَمْرِہٖ ’’یعنی خدا اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے اور خاص حالات میں اپنے فیصلہ کو بدل سکتا ہے۔‘‘ چنانچہ باوجود اس کے کہ میاں عبد الرحیم خاں کے متعلق خدا نے وقتی حالات کے ماتحت خود فرمایا تھا کہ ’’تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفاعت پر اپنی اس تقدیر کو بدل دیا اور بچے کو گویا موت کے منہ سے نکال لیا۔ دوستو ! سوچو اور غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا لایا ہوا مذہب کتنا پیارا اور کتنا دلکش ہے کہ اس نے ہر حالت میں سچے مسلمانوں کو مایوسی میں مبتلا ہونے سے بچایا ہے اور بظاہر غیر ممکن حالات میں بھی خدائی فضل و رحمت کا جھنڈا بلند رکھا ہے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْ اعَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِــیْمًا۔
(۱۹)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کا ایک اور غیر معمولی واقعہ بھی مجھے یاد آگیا جو خود مجھ سے ایک احمدی دوست عطا محمد صاحب پٹواری نے عرصہ ہوا بیان کیا تھا ۔ منشی صاحب بیان کرتے تھے کہ میں دین کی طرف سے بالکل غافل اور بے بہرہ تھا بلکہ دین کی باتوں پر ہنسی اڑایا کرتا تھا۔ شراب پیتا تھا اور رشوت بھی لیتا تھا ۔ اور جب میرے حلقہ کے بعض احمدی مجھے تبلیغ کرتے تو میں انہیں مذاق کیا کرتا تھا ۔ آخر جب ایک دن ایک احمدی دوست نے مجھے اپنی تبلیغ کے ذریعہ بہت تنگ کیا تو میں نے انہیں جواب دیا کہ میں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کراتا ہوں۔ اگر میرا وہ کام ہوگیا تو میں سمجھوں گا کہ وہ سچے ہیں۔ چنانچہ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ آپ مسیحِ موعود اور ولی اللہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں قبول ہوا کرتی ہیں میری اس وقت تین بیویاں ہیں اور باوجود اس کے کہ میری شادی پر بارہ سال گزرچکے ہیں ان تینوں میں سے کوئی اولاد نہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ میری سب سے بڑی بیوی سے خوبصورت اور صاحبِ اقبال لڑکا پیدا ہو۔  آپ اس کے لئے دعا کریں۔
اس خط کے جواب میں مجھے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے لکھا کہ حضور ؑ فرماتے ہیں کہ 
’’آپ کے لئے دعا کی گئی ۔ خدا تعالیٰ آپ کو خوبصورت اور صاحبِ اقبال لڑکا عطا کرے گا اور اسی بیوی سے عطا کرے گا جس سے آپ کو خواہش ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ آپ زکریاؑ والی توبہ کریں۔‘‘
منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے تھے کہ میں چونکہ دین سے بالکل بے بہرہ تھا میں نے ایک واقف کار احمدی سے پوچھا کہ زکریا  ؑ والی توبہ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ زکریاؑ والی توبہ سے یہ مراد ہے کہ ’’بے دینی چھوڑ دو، حلال کھاؤ، نماز روزہ کے پابند ہوجاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو‘‘۔ چنانچہ میں نے سچی نیت سے توبہ کرکے اس نصیحت پر عمل کرنا شروع کیا اور میری حالت دیکھ کر لوگ تعجب کرتے تھے کہ اس ’’شیطان‘‘ پر کیا جادو چلا ہے کہ اس نے ساری بدیوں سے یک لخت توبہ کرلی ہے۔
اس پر چار پانچ ماہ کا عرصہ گزرا ہو گاکہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا ۔ میں نے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ پہلے تو صرف یہی مصیبت تھی کہ اولاد نہیں ہوتی تھی اور آپ نے میرے اُوپر دو بیویاں کیں ۔اب دوسری مصیبت یہ شروع ہوگئی ہے کہ میرے ایام ماہواری بھی بند ہو گئےہیں اور اولاد کی امید بالکل ہی باقی نہیں رہی ۔ میں نے کہا تم کسی دائی کو بلا کر دکھاؤ تاکہ وہ کوئی دوائی دے اور ایام ماہواری پھر جاری ہوجائیں ۔ چنانچہ اس نے ایک دائی کو بلایا جس نے اسے دیکھ کر سخت حیرانی کے ساتھ کہا کہ ’’میں تو تجھے ہاتھ نہیں لگاتی کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے اور تیرے پیٹ میں بچہ ہے حالانکہ تُو تو بانجھ تھی‘‘۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور میں نے لوگوں سے کہنا شروع کیاکہ دیکھ لینا اب میرے گھر لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت اور صاحبِ اقبال ۔   آخر ایک دن رات کے وقت میری بڑی بیوی کے گھر بچہ پیدا ہوا اور جو بہت خوبصورت تھا ۔میں اسی وقت قادیان کی طرف بھاگ گیا اور میرے ساتھ کئی اور لوگ بھی قادیان گئے اور ہم نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ لڑکاجس کا نام شیخ عبد الحق ہے ۔خدا کے فضل سے اب تک زندہ ہے اور بہت مخلص احمدی ہے اور ایک معمولی دیہاتی پٹواری کے گھر میں پیدا ہونے کے باوجود خدا نے اسے ایسا با اقبال کیا کہ ایگزیکٹو انجنئیرکے معزز عہدہ تک پہنچ گیا اور خدا کے فضل سے خوش شکل اور خوب رو بھی ہے اور ہماری جماعت کے ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے اسے دیکھا ہوگا ۔
دوست غور کریں کہ یہ کتنا غیر معمولی نشانِ قدرت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی برکت سے ظاہر ہوا۔ بچے تو دنیا میں پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں اور بعض اوقات شادی کے کئی کئی سال بعد پیدا ہوتے ہیں مگر اس واقعہ میںیہ غیر معمولی خصوصیت ہے کہ یہ بچہ بعینہ ان چار شرائط کے مطابق پیدا ہوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی تھیں اور وہ شرائط یہ ہیں
(اول) سالہا سال کی مایوسی کے بعد بچہ پیدا ہوا۔
(دوم) جیسا کہ دعا کے نتیجہ میں ظاہر کیا گیا تھا یہ بچہ بڑی بیوی کے بطن سے پیدا ہوا حالانکہ دو چھوٹی نسبتاً جوان بیویاں گھر میں زندہ موجود تھیں۔
(سوم) یہ بچہ خدا کی طرف سے اچھی شکل و صورت لے کر پیدا ہوا حالانکہ والد کی شکل معمولی رسمی سی تھی۔
(چہارم)   پھر یہ بچہ ایسا صاحبِ اقبال نکلا کہ ایک معمولی دیہاتی پٹواری کے گھر جنم لے کر ایگزیکٹو انجنئیرکے معزز عہدہ تک پہنچ گیا اور دینی لحاظ سے بھی بہت  مخلص نکلا۔
ان چار شرائط کا بیک وقت پورا ہونا یقیناً خدا کی قدرت کا ایک بہت نادر نمونہ ہے۔
پھر اس دعا کی یہ روحانی برکت بھی ظاہر ہوئی کہ نہ صرف منشی عطا محمد صاحب کو اس کے ذریعہ توبہ اور ہدایت نصیب ہوئی بلکہ ان کے گاؤں کے بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اس نشان کے ذریعہ ہدایت کا رستہ کھول دیا۔ وَ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَظِیْمِ۔
(سیرۃ المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ۲۲۰۔۲۲۲روایت ۲۴۱)
حق یہ ہے کہ احمدیت کی تاریخ دعاؤں کی قبولیت کے نشانوں سے بھری پڑی ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ نیکی اور تقویٰ اختیار کرکے اس قسم کی قدرت نمائیوں کے لئے اپنے اندر اہلیت اور صلاحیت پیدا کریں۔اسلام کا خدا زندہ اور قادر مطلق خدا ہے وہ کسی زمانہ میں بھی اپنے نیک بندوں کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے نہیں ہٹا۔ مگر بعض لوگ خود ہی اپنی سستیوں اور غفلتوں کی وجہ سے اس کی رحمت کے سایہ سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ کاش جماعتِ احمدیہ قیامت تک اس خدائی نعمت سے محروم نہ ہو اور اس کے اندر ہمیشہ ایسے صالح اور پاکباز لوگ پیدا ہوتے رہیں جو دعاؤں کی قبولیت کے ذریعہ جماعت میں روحانیت کو زندہ اور مذاہب کی کشمکش میں اسلام کو غالب رکھیں ۔ اے خدا تو ایسا ہی کر!
(۲۰)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان تو بے شمار ہیں جن کے ذکر سے آپ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور ہزاروں لاکھوں لوگ ان کے گواہ ہیں۔ مگر میں اس جگہ صرف ایک مزید واقعہ کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔
میں اپنی گذشتہ سال کی تقریر میں بیان کرچکا ہوں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفات ہوئی تو اس وقت حضور کا گھر روپے پیسے سے بالکل خالی تھا ۔ اور حضور اپنا آخری روپیہ بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی کے ذریعہ اس گاڑی بان کو دے چکے تھے جس کی گاڑی میں حضورؑ وفات سے قبل شام کے وقت سَیر کے لئے تشریف لے گئے تھے (درِّ منثور روایت نمبر ۲۹) ۔ اس کے بعد اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور حضورؑ کا یہ الہام پورا ہوا کہ اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ۔ یعنی ’’ اب کوچ کا وقت آگیا ہے۔ کوچ کا وقت آگیا ہے‘‘ اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام بھی ہوا کہ ’’ڈرو مت مومنو!‘ ‘ یعنی اے احمدیو! ہمارے مسیح کی وفات سے جماعت کو طبعاً سخت دھکّا پہنچے گا مگر تم ڈرنا نہیں اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا پھر انشاء اللہ سب خیر ہے۔
اس کے بعد جب ۲۶مئی ۱۹۰۸ء کو صبح دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفات ہوئی تو جیسا کہ میں بتاچکا ہوں اس وقت ہمارا گھر دنیوی مال و زر کے لحاظ سے بالکل خالی تھا۔ ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کی روایت ہے (اور یہ بات مجھے خود بھی مجمل طور پر یاد ہے) کہ ہماری اماّں جان یعنی حضرت امّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے اس وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں ان نہ بھولنے والے الفاظ میں نصیحت فرمائی کہ 
’’بچو ! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔ انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔‘‘
(روایات نواب مبارکہ بیگم صاحبہ)
یہ کوئی معمولی رسمی تسلی نہیں تھی جو انتہائی پریشانی کے وقت میں غم رسیدہ بچوں کو ان کی والدہ کی طرف سے دی گئی بلکہ یہ ایک خدائی آواز اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شاندار الہام کی گونج تھی کہ اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ  ۔   یعنی ’’کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟‘‘ اور پھر اس وقت سے لےکر آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں نے ہمارا اس طرح ساتھ دیا ہے اور اللہ کا فضل اس طرح ہمارے شاملِ حال رہا ہے کہ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ 
اگر ہر بال ہوجائے سخن ور
تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر
  حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں ہماری دستگیری فرمائی ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل نیکی اور تقویٰ اور اخلاص اور خدمتِ دین کے مقام پر قائم رہے گی تو حضور کی دردمندانہ دعائیں جن کا ایک بہت بھاری خزانہ آسمان پر جمع ہے قیامت تک ہمارا ساتھ دیتی چلی جائیں گی۔ اپنے بچوں کی آمینوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خصوصیت کے ساتھ اپنی اولاد کے لئے اس درد و سوز اور اس آہ و زاری کے ساتھ دعائیں کیں ہیں کہ میں جب بھی انہیں پڑھتا ہوں تو اپنے نفس میں شرمندہ ہوکر خیال کرتا ہوں کہ شاید ہماری کمزوریاں تو ان دعاؤں اور ان بشارتوں کی حقدار نہ ہوں مگر پھر کہتا ہوں کہ خدا کی دین کو کون روک سکتا ہے ؟ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس عجیب و غریب شعر کو یاد کرتا ہوں کہ 
تیرے اے میرے مربی! کیا عجائب کام ہیں 
گرچہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار
خدا کرے کہ ہم ہمیشہ نیکی اور دینداری کے رستہ پر قائم رہیں اور جب دنیا سے ہماری واپسی کا وقت آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت امّاں جان رضی اللہ عنھا کی روحیں ہمیں دیکھ کر خوش ہوں کہ ہمارے بچوں نے ہمارے بعد اپنے آسمانی آقا کا دامن نہیں چھوڑا ۔ دوستوں سے بھی میری یہی درخواست ہے کہ جہاں وہ اپنی اولاد کے لئے دین و دنیا کی بہتری کی دعا کریں (اور کوئی احمدی کسی حالت میں بھی اس دعا کی طرف سے غافل نہیں رہنا چاہیے) وہاں وہ ہمارے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ صدق و سداد پر قائم رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دعاؤں کو جو حضور نے اپنی اولاد کے لئے فرمائی ہیں اور نیز ان دعاؤں کو جو حضور نے اپنی جماعت کے متعلق فرمائی ہیں اور پھر ان بشارتوں کو جو خدا کی طرف سے حضور کو اپنی اولاد اور اپنی جماعت کے متعلق ملی ہیں بصورتِ احسن پورا فرمائے اور ہماری کوئی کمزوری ان خدائی بشارتوں کے پورا ہونے میں روک نہ بنے اور ہم سب خدا کے حضور سرخرو ہوں۔ اٰمِیْن یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن ۔
(۲۱)
میں نے ابھی ابھی بیان کیا ہے کہ اگر جماعت احمدیہ ایمان اور اخلاص اور قربانی کے مقام پر قائم رہے تو وہ خدا کے فضل سے ان تمام بشارتوں سے حصّہ پائے گی جو خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی خاص وحی کے ذریعہ جماعت کی آئندہ ترقی کے متعلق دی ہیں۔ بے شک خدائی سنت کے مطابق درمیان میں بہت سے ابتلاء آئیں گے اور کئی قسم کے فتنے سر اٹھائیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تحدی کے ساتھ فرماتے ہیں کہ جو لوگ آخر تک صبر اور استقلال سے کام لیں گے اور اپنی وفاداری میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہونے دیں گے وہ خدا کے فضل سے بالآخر کامیاب اور غالب ہوں گے اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی چنانچہ میں اس جگہ حضور کے رسالہ الوصیۃ سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں دوست غور سے سنیں کہ یہ الفاظ ایک طرح سے حضورؑ کے آخری الفاظ ہیں جو جماعت کے لئے وصیت کے رنگ میں لکھے گئے ۔ حضورؑ لکھتے ہیں
’’خدا فرماتا ہے کہ مَیں اِس جماعت کو جو تیرے  پَیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے۔ وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایا..... ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہرہوں گے..... وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے۔ پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔ اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے .....یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کردے گا ۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا ۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہوجائے گا ۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے.....مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔  ‘‘
(رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۵ تا ۳۰۹)
دوستو اور عزیزو ! آپ نے حضرت مسیح موعود  ؑ کی وصیت والے کلام کا اقتباس سُن لیا ۔ اب اس پر عمل کرنا اور اس کی روح پر قائم رہنا ہم سب کا مشترکہ کام ہے۔ خدا کرے کہ ہم اس ذمّہ داری کو ایسے رنگ میں ادا کرنے کی توفیق پائیں جو قیامت کے دن خدا کی رضا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سرخروئی کا موجب ہو۔ اور ہماری ناچیز کوششوں میں خدا ایسی فوق العادت برکت ڈالے کہ ان کے ذریعہ اسلام کو پھر وہ شان و شوکت اور وہ چمک دمک اور وہ غلبہ اور سر بلندی حاصل ہوجائے جو اسے پہلے زمانے میں حاصل ہوئی تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تاکہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قدم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں آگے ہی آگے اٹھتا چلا جائے ۔ اور خدا کا یہ فرمان کامل آب و تاب کے ساتھ پورا ہو کہ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰ ۔ اٰمِیْن یَا اَرْحَـمَ الرَّاحِـمِیْنَ  ۔  وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْـحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ 

اسلام اور احمدیت کا ادنیٰ خادم
خاکسار 
    مرزا بشیر احمد
   ربوہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۶۱ء



0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔