Saturday, 9 July 2016

عدالت میں معاہدہ کی حقیقت

اعتراض : مرزا صاحب نے مجسٹریٹ سے ڈر کر عدالت میں لکھ دیا کہ میں کوئی ایسی پیشگوئی جو کسی کی موت کے متعلق ہو۔بغیر فریق ثانی کی اجازت کے شائع نہ کروں گا۔
جواب : ڈر کر ایسا کرنے کا اعتراض درست نہیں کیونکہ یہ معاہدہ تو حضرت اقدسؑ کے پرانے دستور کے مطابق ہوا تھا کیونکہ اس معاہدہ سے تیرہ سال پہلے آپ نے اشتہار 20؍فروری 1886 ء میں بعض لوگوں کے ذکر میں لکھا تھا:۔
’’اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ1886 ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے۔اور موجبِ دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جاوے اور کسی کو اس کے وقتِ ظہور سے خبر نہ دی جائے‘‘۔
(اشتہار مذکور مندرجہ تبلیغِ رسالت جلد1 صفحہ58 مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 95)
پھر خاص عدالتی معاہدہ کے متعلق لکھتے ہیں:۔
’’یہ ایسے دستخط نہیں ہیں جن سے ہمارے کاروبار میں کچھ بھی حرج ہو۔بلکہ مدت ہوئی کہ میں کتاب انجام آتھم کے صفحہ اخیر میں بتصریح اشتہار دے چکا ہوں کہ ہم آئندہ ان لوگوں کو مخاطب نہیں کریں گے جب تک خود ان کی طرف سے تحریک نہ ہو۔بلکہ اس بارے میں ایک اشتہار بھی شائع کر چکا ہوں جو میری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے…مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ ان لوگوں نے محض شرارت سے یہ بھی مشہور کیا ہے کہ اب الہام کے شائع کرنے کی ممانعت ہو گئی اور ہنسی سے کہا کہ اب الہام کے دروازے بند ہو گئے۔مگرذرہ حیاء کو کام میں لا کر سوچیں کہ اگر الہام کے دروازے بند ہو گئے تھے تو میری بعد کی تالیفات میں کیوں الہام شائع ہوئے۔اسی کتاب تریاق القلوب کو دیکھیں کہ کیا اس میں الہام کم ہیں‘‘۔
     (تریاق القلوب روحانی خزائن جلد15صفحہ314حاشیہ)
پھر اس معاہدہ سے چھ سال قبل حضورؑ نے تحریر فرمایا:۔
’’اس عاجز نے اشتہار20 ؍فروری1886 ء میں… اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضاء و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔سواس اشتہار کے بعد اندر من نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے‘‘۔
 (اشتہار20 فروری 1893 ء تبلیغ رسالت جلد3 صفحہ4  مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 304)
پھر20 ؍فروری1899 ء کے اشتہار میں یعنی معاہدہ عدالت کے چار دن پہلے سے جو 24 ؍فروری1899 ء کو ہوا تحریر فرماتے ہیں:۔ ’’میرا ابتداء ہی سے یہ طریق ہے کہ مَیں نے کبھی کوئی انذاری پیشگوئی بغیر رضامندی مصداقِ پیشگوئی کے شائع نہیں کی‘‘۔
(تبلیغ رسالت جلد8 صفحہ28 )
پس جو احتیاط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انذاری پیشگوئیوں کے متعلق پہلے سے کر رکھی تھی۔بالکل اسی کے مطابق عدالت میں معاہدہ ہواہے تو پھر عدالت سے ڈر کر معاہدہ کرنے کا الزام باطل ہوا۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔