Monday, 9 May 2016

قائلینِ وفاتِ مسیح





۱۔ مشہور و معروف بزرگ مالکی مسلک کے پیشوا حضرت امام مالک ؒ (۹۰ھ تا۱۷۹ھ)کے متعلق لکھا ہے:
’’وَالْاَکْثرُ ان عیسٰی لم یَمُت وقال مالک مَات‘‘
(مجمع بحار الانوار صفحہ ۲۸۶ از علامہ شیخ محمد طاہر زیر مادہ حکم مطبع لمنشی نول کشور)
یعنی اکثر لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے لیکن حضرت امام مالکؒ کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔
۲۔ رئیس المحدثین حضرت علامہ ابن قیم متوفی (۷۵۱ھ) ’’زاد المعاد‘‘ میں جسمانی رفع کے عقیدے کا رد کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔
’’وامّا ما یُذکر عن المسِیح انہ رفع الی السّماء ولہ ثلاثۃٌ وثلاثون سنۃً فھذا لا یعرف لہٗ اثر متصل یجِب المصِیر الیہ‘‘
(زاد المعاد فی ھدی خیرالعباد الجزء الاول از امام علامہ شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن عبدالملک المشہور بابن قیم صفحہ۲۰ طبع بالمطبعۃ المیمنیۃ بمصر)
ترجمہ:’’وہ جومسیح علیہ السلام کے متعلق روایت ہے کہ جب انہیں آسمان پر اٹھایا گیا تو ان کی عمر تینتیس برس کی تھی، تو اس کے متعلق کوئی متصل سند کی حدیث نہیں ملتی کہ جس پر اعتماد کی جا سکے۔‘‘
(ترجمہ از سید رئیس احمد جعفری زادالمعاد مترجم جلد اول ۔ نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی ۔ دسمبر۱۹۸۶ء)
اسی کتاب میں دوسری جگہ علامہ ابن قیم فرماتے ہیں:۔
’’فالانبیائُ انّما اسْتقرّت ارواحُھم ھناک بعد مفارِقۃِ الابدانِ‘‘
(زاد المعاد الجزء الاول صفحہ۳۰۴)
یعنی معراج کی رات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابنیاء سے ملاقات کی تو یہ ان انبیاء کی روحیں تھیں جنہوں نے جسم عنصری سے جدا ہو کر آسمانوں میں قرار پکڑا تھا۔
اسی طرح علامہ ابن قیم اپنی کتاب ’’مدارج السالکین ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ولو کان موسٰی وعیسٰی علیھماالسلام حیَّیْنِ لکانا من اَتْبَاعِہ‘‘
(مدارج السالکین الجزء الثانی صفحہ۴۹۶- لابن قیم (۶۹۱تا ۷۵۱ھ ) دارالکتب العلمیۃ بیروت ۔ لبنان ۔ الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۰۸ھ ۔ ۱۹۸۸ء)
اور اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو لازما ًآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہوتے۔
۳۔ ساتویں صدی ہجری کے عظیم بزرگ صوفی، الشیخ الاکبر العارف باللہ مصنف’’فتوحات مکیہ(متوفی ۶۳۸ھ)‘ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔
’’رَفْعُ عیسیٰ  علیہ السلام اتِّصالُ روحِہ عند المُفارقۃِ عن العالم السّفلِی بالعالم العَلویِّ‘‘
(تفسیر القرآن الکریم للشیخ الاکبر العارف باللہ العلامہ محی الدین ابن عربیؒ ۔ المتوفی سنۃ ۶۳۸ھ ۔ تحقیق وتقدیم الدکتور مصطفی غالب۔ المجلد الاول صفحہ ۲۹۶ زیر آیت بل رفعہ اللہ الیہ)
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع دراصل ان کی روح کے عالم سفلی سے جدا ہو کر عالم علوی میں قرار پکڑنے کا نام ہے۔
پھر اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔
’’وجب نُزولُہ فی آخرِالزّمان بتعلّقہ ببدنٍ آخَر‘‘
(تفسیر ابن عربی حوالہ مذکور)
یعنی آپؑ کا نزول آخری زمانے میں ایک دوسرے جسم کے ساتھ تعلق پکڑکر ہونا ضروری ہے۔ گویا وہ اسرائیلی مسیح کی آمد کے نہیں بلکہ غیر اسرائیلی مسیح کی آمد کے منتظر ہیں۔
۴۔پانچویں صدی کے مجدد، مشہور و معروف عالم دین، بلند پایہ محدث اور فقیہہ علامہ ابن حزم (متوفی۴۵۶ھ) اپنی کتاب ’’المحلّی‘‘ میں وفات مسیح کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’وان عیسٰی علیہ السلام لم یُقْتَل ولم یُصْلب ولکن توفاہ اللہ عزوجل ثم رفعہ الیہ ۔ وقال عزوجل (وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوہُ) وقال تعالیٰ(اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیّ) وقال تعالیٰ عنہ انہ قال (وکَنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلیٰ  کُلِّ شَیْٔ  قَدِیْرٌ) وقال تعالیٰ (اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا ) فالوفاۃ قسمان : نوم، وموت فقط، ولم یرد عیسیٰ  علیہ السلام بقولہ (فلما توفیتنی)وفاۃ النوم فصح انہ انما عنی وفاۃ الموت‘‘۔
(المحلّی لابی محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم المتوفی سنۃ ۴۵۶ھ۔ الجزء الاول صفحہ۲۳ مسئلہ نمبر۴۱)
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے اور نہ صلیب پر مارے گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی اور پھر اپنے حضور رفعت بخشی۔ اور خدائے عزوجل کے قرآن مجید میں یہ فرمان ہیں  (وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوہُ)(اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیّ) (وکَنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلیٰ  کُلِّ شَیْٔ  قَدِیْرٌ) (اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا ) وفات کی فقط دو اقسام ہیں: نیند اور موت(اس کے علاوہ اور کوئی قسم بیان نہیں ہے۔) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول فلما توفیتنیمیںنیند مراد نہیں ہے۔ پس واضح ہوتا ہے کہ یہاں صرف طبعی موت مراد ہے۔
علامہ ابن حزم اسی کتاب کے مسئلہ نمبر ۴۳ میں واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات جن انبیاء سے ملاقات کی تھی، یہ ان کی روحیں تھیں نہ کہ مادی اجسام، چنانچہ فرماتے ہیں:۔
’’ففِی ھذاالْخبر مکانُ الارْواحِ وان ارواحُ الانْبِیائِ فی الجنّۃ‘‘
(المحلّی لابن حزم صفحہ ۲۵ مسئلہ نمبر ۴۳)
یعنی معراج والی حدیث میں ارواح کے ساتھ ملاقات کرکے روحوں کی جگہ کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ یقیناانبیاء کی روحیں جنت میں ہیں۔
اسی طرح حضرت امام ابن حزم ؒ کے بارے میں حضرت امام جلال الدین سیوطیؒ نے لکھا ہے :۔
’’وتمسّک ابن حزم بظاھر الآیۃ وقال بمَوتہ۔‘‘
(حاشیہ بین السطور جلالین مع کمالین صفحہ۱۰۹ زیر آیت فلما توفیتنی)
یعنی امام ابن حزم نے اس آیت کو ظاہر پر حمل کیا ہے اور توفی کا معنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت بیان فرمایا ہے۔
۵۔علامہ ابن الوردی فرماتے ہیں:۔
’’وقالت فِرقۃٌ نزولُ عیسیٰ  خروجُ رجلٍ یَشبہُ عیسیٰ  فی الفضلِ والشّرفِ کما یُقال لِلرَّجُلِ الْخَیْرِ ملَک وللشریر شیطَانٌ تشبیھا بھما ولا یُراد الاعیانُ ‘‘
(خریدۃ العجائب وفریدۃ الغرائب صفحہ۲۶۳ تالیف سراج الدین ابی حفص عمر بن الوردی (۶۸۹ھ تا۷۴۹ھ ) الطبعۃ الثانیۃ طبع بمطبعۃ بمصر زیر عنوان ذکر نزول عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام )
اور ایک گروہ کہتا ہے کہ نزول عیسیٰ سے مراد ایسے شخص کی آمد ہے جو فضیلت اور شرف میں عیسیٰ سے مشابہ ہو ۔ اور جس طرح اچھے آدمی کو فرشتہ اور برے کو شیطان کہہ دیتے ہیں اور اس سے مراد فرشتہ وشیطان نہیں بلکہ ان سے مشابہت ہوتی ہے۔
علامہ ابن الوردی صاحب ، خود مفتی صاحب کی طرح حیات مسیح اور ان کے دنیا میں دوبارہ آمد کے قائل ہیں اس لیے انہوں نے خود اس قول کی تصدیق نہیں کی لیکن پھر بھی وہ اس امر کو تسلیم کر رہے ہیں کہ مسیح ناصری کی وفات اور مثیل مسیح کا عقیدہ ان کے زمانے میں امت میں موجود تھا۔
۶۔مشہور عالم دین شیخ محمد اکرم صاحب صابری اپنی کتاب ’’اقتباس الانوار‘‘(تالیف۱۱۳۰ھ)میں لکھتے ہیں:۔
’’ایک فرقے کا عقیدہ یہ ہے کہ مہدی آخرالزمان حضرت عیسیٰ بن مریم ہوںگے‘‘
(اقتباس الانوار صفحہ ۱۶۶ از شیخ محمد اکرم قدوسیؒ مترجم کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری۔(اشاعت دوم ۱۴۰۹ھ))
شیخ محمد اکرم صاحب کا چونکہ اپنا عقیدہ حیات مسیح کا ہے اس لیے انہوں نے اس روایت کے ضعف کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال اس حوالے سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے زمانے میں ایک فرقہ اسرائیلی مسیح کی دوبارہ آمد کا قائل نہیں تھا۔
۷۔مشہور شیعہ عالم قمی (متوفی۳۸۱ھ) وفات مسیح کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’ولَم یقدِروا علی قتْلہ وصلبہ لانھم لو قدروا علی ذالک کان تکْذیبا لقولہ تعالیٰ ولٰکن رَّفع اللّہ الیہ بعد ان توفّاہ‘‘
(اکمال الدین واتمام النعمۃ جلداول صفحہ۳۳۲ تالیف شیخ الطائفہ صدوق علیہ الرحمۃ ۔ کتابفروشی اسلامیہ، تہران)
اور وہ (یعنی یہودی مسیح کے قتل اور ان کو صلیب دینے پر قدرت نہ پا سکے کیونکہ اگر وہ اس پر قادر ہو جاتے تو اللہ کی بات جھوٹی نکلتی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو طبعی طور پر وفات دی اور اس کے بعد ان کو رفعت بخشی۔
۸۔ مفسر قرآن علامہ الاستاذ شیخ مفتی محمد عبدہ (۱۸۳۹تا۱۹۲۵ء) مفتی مصر اپنی تفسیر ’’تفسیر القرآن الکریم‘‘ میں زیر آیت یعیسیٰ  انی متوفیک لکھتے ہیں:۔
’’فالْمتبادر فی الآیۃ انی ممیتک وجاعلُک بعد الموتِ فی مکانٍ رفیع عندی کما قال فی ادریس علیہ السلام وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا۔ ھذا ما یفھمہ القاری الخالی الذھن من الرّوایات والاقوال لانہ ھوالمتبادرُمن العبارۃ وقد ایدناہ بالشواھد من الآیات ولکن الْمفسّرین قد حوّلوا الکلام عن ظاھرہ لیَنطبقَ علی ما اعطتْھم الروایات من کَون عیسیٰ  رفع الی السّماء بجسدِ ہ ‘‘
(تفسیرالقرآن الحکیم لاستاذ مفتی محمد عبدہٗ جز ثالث صفحہ۳۱۶ زیر آیت انی متوفیک)
ترجمہ: اس آیت کا مفہوم ظاہر ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے موت دینے والا ہوں اور موت کے بعد اپنی جناب میں ایک عزت ورفعت والی جگہ میں رکھنے والا ہوں۔ جس طرح حضرت ادریس علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا کہ ہم نے اسے عزت والے مقام پر جگہ دی …… ہر قاری جو روایات اور اقوال سے خالی الذہن ہو اس آیت کا یہی مفہوم سمجھتا ہے اور یہی اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہم اس مفہوم کے حق میں آیات قرآنیہ کو بطور گواہ لائے ہیں ۔ لیکن مفسرین نے اس کلام کو ظاہر سے پھیرا ہے۔ تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی رفع الی السماء کے متعلق جو ان کے پاس روایات ہیں ان کی تطبیق کر سکیں۔
اسی آیت کی تفسیر میں اس سے آگے مفتی محمد عبدہ صاحب لکھتے ہیں:۔
’’والطّریقۃ الثّانیۃ ان الآیۃ علی ظاھرھا وان التوفی علی معناہ الظّاھر الْمتبادر وھو الْاماتَۃ العادیّۃ وان الرفع یکون بعدہ وھو رفْع الروح‘‘
(حوالہ مذکورہ صفحہ۳۱۷)
اور دوسرا طریق یہ ہے کہ آیت کے مفہوم کو ظاہر ا ً  مانا جائے۔ اس صورت میں توفی کے ظاہر و باہر معنی طبعی موت ہی ہیں اور یقینا رفع جو اس توفی کے بعد ہے وہ صرف روح ہی کا رفع ہے۔
۹۔علامہ احمد المصطفیٰ المراغی جو ازہر یونیورسٹی کے رئیس تھے، وفات مسیح کے قائل ہیں۔ چنانچہ اپنی تفسیر میں انی متوفیک کے تحت انہوں نے علماء کے دو اقوال لکھے ہیں۔دوسرا قول یہ لکھاہے:۔
’’ان الآیۃ علی ظاہرھا ، وان التّوفی ھوالاماتۃ العَادیۃ ، وان الرفع بعدہ للرّوح … والمعنی ۔ انی ممیتک وجاعلُک بعد الموت فی مکانٍ رفیعٍ عندی کما قال فی ادریس علیہ السلام ورفعْناہُ مکَانًا علیّا ۔ وحدیث الرّفع والنّزول آخر الزمان حدیث آحادٌ یتعلق بامرٍ اعتقادیّ ، والامور الاعتقادیّۃ لا یوخذ فیھا الّا بالدّلیل القاطعِ من قرآنٍ او حدیثٍ متواترٍ ، ولا یُوجدھنا واحدٌ منھما ‘‘
(تفسیر المراغی تالیف احمد مصطفی المراغی زیر آیت متوفیک)
 یعنی آیت سے ظاہری معنی مراد ہیں اور توفی سے طبعی موت مراد ہے۔ اور اس موت کے بعد رفع سے روحانی رفع مراد ہے۔ اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں تجھے موت دینے والا ہوں طبعی موت کے بعد بلندمقام میں رکھنے والا ہوں جس طرح حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں آیت مذکور ہے کہ ہم نے ان کو بلند مقام پر رفعت دی۔  اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور آخری زمانے میں نزول کی احادیث احاد ہیں۔ جو اعتقادی امور سے متعلق ہیں اور اعتقادی امور کی بنیاد تو قرآن کریم یا احادیث متواترہ کے قطعی دلائل پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور یہاں ان دونوں میں سے یعنی قرآن کریم اور احادیث متواترہ میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ 
۱۰۔علامہ سید محمد رشید رضامفتی مصر (۱۸۶۵ء تا ۱۹۳۵ ء ) مدیر رسالہ المنار مصری ، انہوں نے اپنے استاد مفتی مصر محمد عبدہ سے علم حاصل کیا اور ’’الارشاد والالدعوۃ‘‘ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے ۔ حکومت مصر نے ان کی قابلیت کی وجہ سے ان کو مفتی مصر مقرر کر دیا۔یہ اپنی تفسیر ’’تفسیر القرآن الحکیم‘‘ میں زیر آیت انی متوفیک وفاتِ مسیح کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’فالمتبادر فی الآیۃ انّی ممیتکَ وجاعلُک بعد الموت فی مکان رفیع عنْدی کما قال فی ادریس علیہ السلام وَرَفَعْنَا ہُ مَکَانًا عَلِیًّا‘‘
(تفسیر القرآن الحکیم الشہیربتفسیر المنار از علامہ محمد رشید رضا زیر آیت انی متوفیک المجلد الثالث صفحہ۳۱۶)
یعنی اس آیت سے ظاہر ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے طبعی موت دینے ولا ہوں اور طبعی موت کے بعد اپنی جناب میں ایک عزت و رفعت والی جگہ میں رکھنے ولا ہوں۔ جیسا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے عزت والے مقام پر جگہ دی۔
۱۱۔ علامہ محمود  شلتوت صاحب مفتی مصر نے نہایت وضاحت و صراحت اور شد و مد سے وفات عیسیٰ ٰ کا فتویٰ دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:۔
’’والمَعنی ان اللّہ توفی عیسٰی ورفعہ الیہ وطھّرہ من الذین کفرُوا ۔وقد فسّر الالوسی قولہ تعالیٰ ’’انّی متوفّیک‘‘ بوجوہٍ منھا ۔ وھواظھرھا۔ انی مستوفٍ اجلک وممیتک حتْفَ انفِک لا اسلّط علیک من یقْتُلک …… وظاہر ان الرّفع الذی یکون بعد التّوفیۃ۔ ھورفْعُ المکانۃ لا رفْع الجسد …… فمِن این تُؤْخذ کلمۃُ السّماء من کلمۃٍ(الیہ)؟ اللّھم ان ھذاالظّلم للتّعبیر القرآنیّ الواضح خضُوعا لقِصص وروایات لَّم یقم علی الظن بھا  فضلا عن الیقین ۔ برھان ولا شبہ برھان‘‘
(الفتاویٰ للامام الاکبر محمود شلتوت صفحہ۵۳،۵۴)
ترجمہ: انی متوفیک کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دی، عزت دی اور کافروں کے الزامات سے پاک کیا۔ علامہ الوسی نے اپنی تفسیر میں انی متوفیک کے کئی معنی کیے ہیں ان میں سے سب سے مضبوط معنی یہ ہیں کہ میں تیری عمر پوری کرکے تجھے طبعی طورسے وفات دوں گا۔ اور میں تجھ پر ایسے لوگوں کو مسلط نہیں کروں گا جو تجھے قتل کر دیں۔ پھر رفع کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔  ظاہر ہے کہ وہ رفع جو توفی کے بعد ہو سکتا ہے وہ رفع مرتبہ ہی ہے نہ کہ رفع جسمانی ۔ پھر رفع سماوی کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ  میں آسمان کا کوئی لفظ موجود نہیں ۔ پھر جسمانی رفع کے قائلین کی طرف سے آسمان کا لفظ کہاں سے لیا جاتا ہے۔ یقینا یہ قرآن کے ایک واضح مفہوم کے ساتھ زیادتی ہے ۔ محض ایسے قصے اور ظنی روایات قبول کرتے ہوئے جن پر کوئی دلیل تو کیا دلیل کا کوئی ادنی سا شائبہ بھی نہیں۔
۱۲۔ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والے (متوفی ۱۹۰۱ء) بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔ چنانچہ ’’اشارات فریدی‘‘ میں لکھا ہے:۔
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہو رہا تھا۔ ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا معروف موت کے بعد آپ کی روح مرفوع ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ باقی انبیاء اور اولیاء کی طرح مرفوع ہوئے ہیں۔ ‘‘
(اشارات فریدی مقابیس المجالس مترجم اردو کپتان واحد بخش سیال صفحہ۷۳۱ مقبوس نمبر ۶۰ بروز یکشنبہ ۲۰ ذیقعد ۶ا۱۳ھ)
۱۳۔ مشہور عالم دین اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل علامہ عبیداللہ سندھی صاحب (متوفی ۱۹۴۴ء) اپنی تفسیر ’’الہام الرحمن فی تفسیر القرآن‘‘(اردو ترجمہ) میں فرماتے ہیں:۔
’’مُمِیْتُکَ : تجھے مارنے والا ہوں ۔ یہ جو حیات عیسیٰ لوگوں میں مشہور ہے یہ یہودی کہانی۔ نیز صابی من گھڑت کہانی ہے۔ مسلمانوں میں فتنہ عثمان کے بعد بواسطہ انصار بنی ہاشم یہ بات پھیلی اور یہ صابی اور یہودی تھے…… قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ عیسیٰ نہیں مرا اور وہ زندہ ہے اور نازل ہو گا۔ ‘‘
(الہام الرحمن فی تفسیر القرآن اردو ترجمہ صفحہ۲۴۰، ۲۴۱ زیر آیت انی متوفیک آل عمران :۵۶)
  ۱۴۔  غلام احمد پرویز ایڈیٹر طلوع اسلام کراچی اور اہل قرآن کے عظیم عالم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’باقی رہا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ آپ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ تو قرآن سے اس کی بھی تائید نہیں ہوتی، بلکہ اس میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے دوسرے رسولوں کی طرح اپنی مدت عمر پوری کرنے کے بعد وفات پائی۔‘‘
(شعلۂ مستور صفحہ۸۰)
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کی تائید قرآن کریم کی آیات سے نہیں ملتی ۔ بلکہ اس کے برعکس آپ کے’’ گذر جانے‘‘ اور وفات پا جانے کی شہادت قرآن میں موجود ہے۔ ‘‘
(شعلۂ مستور صفحہ۸۲،۸۳)
علاوہ ازیں موجودہ وقت میں اہل قرآن فرقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے انبیاء کی طرح وفات پاچکے ہیں اور اب تک آسمان پر زندہ نہیں ہیں۔
  ۱۵۔مشہور عالم لیڈر شیخ الہند مولانا ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸ء تا۱۹۵۸ء ) فرماتے ہیں:۔
’’بلاشبہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک مسیحی عقیدہ ہے اور اسلامی شکل ولباس میں نمودار ہوا ہوا ہے۔‘‘
(نقش آزاد صفحہ۱۰۲ مولف غلام رسول مہرطابع شیخ نیاز احمد، مطبع علمی پرنٹنگ پر یس ہسپتا ل روڈ لاہور ناشر کتاب منزل لاہور )
۱۶۔مسلمانانِ برصغیر کے عظیم راہنماسید احمد خان صاحب (۱۸۱۷ء تا۱۸۹۸ء)بانیٔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تحریر فرماتے ہیں:۔
’’ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے…… مگر چونکہ علماء اسلام نے بہ تقلید بعض فرق نصاریٰ کے قبل اس کے کہ مطلب قرآن مجید پر غور کریں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اس لیے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر محقق تسلیم کے مطابق کرنے کی بے جا کوشش کی ہے۔‘‘
(تفسیر القرآن مع تحریر فی اصول التفسیر از سر سید احمد خان صاحب تفسیر سورۃ آل عمران حصہ دوم صفحہ۴۱،۴۳)
مذکورہ حوالہ جات مفتی صاحب کے حیات مسیح پر نام نہاد اجماع کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ بزرگان دین اور علمائے امت کے ان اقتباسات سے روز روشن کی طرح ثابت ہو رہا ہے۔ کہ ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے ببانگ دہل وفات مسیح کا اعلان کیا۔ اور وفات مسیح کے قائلین میں اگر ان لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے جو ان بزرگوں اور علماء کے پیرو کارتھے تو بلاشبہ یہ تعداد لاکھوں ، کروڑوں تک جا پہنچتی ہے۔ 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔